Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
83 - 1581
مسئلہ ۱۷۰: ۱۳شعبان المعظم ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعانِ مروجہ کی اولاد حرامی ہے یا حلالی؟ اگر حرامی ہے تو عنداللہ حرامی عورت کا نکاح سنی مرد سے ہوجائےگا یا نہیں؟ او اس کی اولاد بطنی میں کچھ نقصان واقع ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب : ان میں مرد یا عورت جس کا عقیدہ کفریہ ہو اولاد حرامی ہے،
اذلانکاح لمرتد ولالمر تدۃ اصلا حتی مع مثلہ فی الارتداد۲؎ کما نص علیہ فی الائمۃ الامجاد۔
مرتد مرد اور عورت کابالکل کسی سے نکاح نہیں ہوسکتا حتی کہ ان جیسے مرتدسے بھی ، جیساکہ ا س پر ائمہ بزرگوار نے تصریح کی ہے۔ (ت)
 ( ۲؎ فتاوٰی ہندیہ    القسم السابع المحرمات بالشرک    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۸۲)
ہاں اگرزن وشوہر دونوں عقائد کفریہ سے پاک ہیں تو اولاد حلالی ہے۔ اور حرامی عورت رافضیہ کا نکاح سنی سے ہوسکتا ہے جبکہ وہ خود عقیدہ کفر یہ نہ رکھتی ہو، اس صورت میں اس کی اولاد بطنی میں کوئی نقصان نہیں ،اور اگر وہ خود بھی اپنے ماں باپ کی مثل کوئی عقیدہ کفریہ رکھتی ہے تو خودبھی نطفہ حرام ہے اور اس کی اولاد بھی حرامی خواہ رافضی سے ہو یا سنی سے۔ اور اس سے کسی کانکاح اصلا ممکن نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۱: ایک شخص کا حمل ایک عورت کورہا اور بعد معلوم ہونے حمل کے وہ عورت چاہتی ہے کہ راز فاش نہ ہو مابین حمل عقد درست ہوگایا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : درست ہے اگرچہ غیر زانی سے ہو مگر وطی ودواعی اسے روا نہیں جب تک وضع نہ ہو، او رجو زانی سے نکاح کرے تویہ بھی روا، ہاں تاوقت وضع اصلا نکاح ناروا اسی صورت میں ہے کہ حمل زنا سے نہ ہو کما فی الدرالمختار وغیرہ ۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۲: از نینی تال تحصیل کھٹیما تھانہ مجھولا موضع جمور مرسلہ سکندر شاہ ۱۴ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ زید نے ہندہ کے ساتھ نکاح کیا، ہنوز ہندہ اس کے گھر میں موجود ہے کہ ہندہ کی دوسری بہن سے بھی زید نے نکاح کرلیا اور دونوں عورتیں اس کے گھر میں موجود ہیں کسی کو طلاق نہیں دی ہے وہ دوبہنیں زید پرحلال ہیں یا حرام؟ دونوں بہنیں ایک بطن سے ہیں اور باپ ہر ایک کا جداگانہ تھا، بینوا توجروا
الجواب: صورت مذکورہ میں زید کا اپنی سالی سے نکاح حرام،
قال اﷲ تعالٰی وان تجمعوا بین الاختین ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: منع ہے کہ تم نکاح میں دوبہنوں کو جمع کرو۔ (ت)
 ( ۱؎ القرآن     ۲۳/۴)
اس پر فرض ہے کہ فوراً اسے چھوڑ دے پھر  اگر ابھی سالی سے صحبت نہیں کی جب تو ہندہ اس کے لیے حلال ہے اور اگر اس سے صحبت کرلی تو اب اپنی منکوحہ ہندہ کے پاس بھی جانا حرام ہوگیا، جب تک سالی کو چھوڑ کر اس کی عدت نہ گزرجائے، جب اسے چھوڑے گا اوراس کی عدت گزر جائے گی اس وقت ہندہ کو ہاتھ لگانا جائز ہوگا،
ہندیہ میں ہے:
ان تزوجھما فی عقدتین فنکاح الاخیرۃ فاسد و یجب علیہ ان یفارقھا ولوعلم القاضی بذلک یفرق بینھما فان فارقھا قبل الدخول لایثبت شیئ من الاحکام وان فارقھا بعدالدخول فلھا المھر ویجب الاقل من المسمی ومن مھر المثل وعلیھا العدۃ ویثبت النسب ویعتزل عن امرأتہ حتی تنقضی عدۃ اختھا کذافی محیط السرخسی ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اگر دوبہنوں سے علیحدہ علیحدہ نکاح کیا تو دوسری کانکاح فاسد ہے اور اس پر مفارقت لازم ہے، اور اگر قاضی کویہ معلوم ہو تو وہ دونوں میں تفریق کردے، اگر دوسری کو دخول سے قبل علیحدہ کردیا تو نکاح کاکوئی حکم نہ ثابت ہوگا، اور اگر اس کو دخول کے بعد جدا کیا تو پھر ا س کو مہر دینا ہوگا مہر مثل اور مقررہ سے جو کم ہو وہ واجب ہوگا اورا س پر عدت ہوگی اور نسب ثابت ہوسکے گا، اورپہلی سے اس وقت تک علیحدگی اختیار کرےجب تک دوسری بہن کی عدت نہ گزر جائے، محیط سرخسی میں یونہی ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب النکاح    القسم الرابع المحرمات بالجمع    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۷۸۔ ۲۷۷)
Flag Counter