وہ جاہلانہ خیال کہ پیری ومریدی کا رشتہ بعینہٖ مثل رشتہ نسب کے ہے، اگر سچا ہوتا تو مریدہ اپنی بیٹی ہوتی، مریدوں کی بیٹیاں پوتیاں ہوتیں، یونہی ختنین عثمان غنی وعلی مرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہما کا نکاح بنات مطہرات حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کیونکر ہوسکتا، اس تقدیر پر صاحبزادیاں بہنیں ہوتیں، مگر جہل وسفاہت کے مفاسد اس سے بھی زائد ہیں، اجماع سے یوں کہ آج تک تمام عالم میں کوئی عالم اس نکاح کی حرمت کا قائل نہ ہوا،
فقہائے جملہ مذاہب کی کتابیں موجود، کسی نے مرید ہ کو محرمات سے نہ گنا، قیاس سے یوں کہ رشتہ استاذی وشاگردی بھی تو مثل رشتہ پیری ومریدی ہے۔ پیر واستاذ دونوں بجائے باپ کے مانے جاتے ہیں، خود حدیث میں فرمایا:
انما انالکم بمنزلۃ الوالد اعلمکم ۱؎ ۔ رواہ احمد وابوداؤد والنسائی وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
میں تمھارے لیے بمنزلہ والد ہوں تمھیں تعلیم دیتاہوں، اس کو احمد،ابوداؤد، نسائی اور ابن حبان نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بذریعہ ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کیا ہے۔ (ت)
( ۱؎ سنن ابو داؤد باب کراھیۃ استقبال القبلۃ عند قضاء الحاجۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۳)
بلکہ پیری ومریدی بھی خود استاذی وشاگردی ہے ۔ اگر یہ خیال باطل ٹھیک ہوتا تو اپنی شاگرد عورت سے بھی نکاح حرام ہوتا اور عورت کو علم سکھانا نکاح جاتے رہنے کا باعث ہوتا کہ اب وہ اس کی بیٹی ہوگئی حالانکہ قرآن و حدیث سے زوجہ کو شاگرد کرنا اور اپنی شاگرد عورت کو نکاح میں لانا دونوں باتیں ثابت ۔
قال اللہ تعالٰی: یاایھاالذین اٰمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا ۲؎۔
اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھروالوں کودوزخ سے بچاؤ۔
(۲؎ القرآن ۶۶/۶)
ظاہر ہے کہ گھر والوں کو دوزخ سے بچانا بغیر مسائل سکھا ئے متصور نہیں کہ بچنا بے عمل اور عمل بے علم میسر نہیں، تو قرآن مجید صاف حکم فرماتا ہے کہ اپنی عورتوں کو علم دین سکھاؤ اورا س پر عمل کی ہدایت کرو،
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
رجل کانت لہ امۃ فغذاھا فاحسن غذاء ھا ثم ادبھا فاحسن تادیبھا وعلمھا فاحسن تعلیمھا ثم اعتقھا وتزوجھا فلہ اجران ۳؎۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
یعنی جوکوئی کنیز رکھتا ہے اسے کھلائے اور اچھا کھلائے پھر ادب سکھائے اور بہتر سکھائے اور علم پڑھائے اور خوب پڑھائے، پھر اسے آزاد کرکے اپنے نکاح میں لائے وہ شخص دوہرا ثواب پائے ( اس کو احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے ابو موسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ (ت)
(۳؎ صحیح بخاری باب تعلیم الرجل امتہ واھلہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۰)
جاہلوں کی جہالت کہ مریدہ سے نکاح ناجائز بتاتیں اور زن وشودونوں کوبے تکلف مرید بنائیں، وہ دونوں اگر باپ بیٹی تھے یہ دونوں سگے بہن بھائی ہوئے،اس نکاح کو ممنوع جاننے والا شریعت مطہرہ پر کھلا ہوا افترا کرتااور حلال خدا کو حرام ٹھہراتا ہے۔ ا س پر توبہ فرض ہے، اللہ تعالٰی ہدایت بخشے، آمین! واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۹: ۱۳ شعبان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فی زماننا جو عقیدہ مروجہ شیعہ رکھتے ہیں علی الخصوص شیعہ لکھنو کے ان کی دختر سے نکاح سنی کا درست ہے یا نہیں اور اولاد اس کی مستحق ترکہ پدری کی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: آج کل عام روافض تبرائی خذلہم اللہ تعالٰی عقائد کفریہ رکھتے ہیں ان میں کوئی کم ایسا نکلے گا جو قرآن مجید میں سے کچھ گھٹ جانانہ مانتا اور حضرت امیرا لمومنین مولی المسلمین علی مرتضی وباقی ائمہ اطہار کرم اللہ تعالی وجو ھھم کو حضرات علیہ انبیاء سابقین علی نبینا الکریم وعلیہم افضل الصلوٰۃ والتسلیم سے افضل نہ جانتا ہو، اور یہ دونوں عقیدے کفر خالص ہیں مجتہد لکھنو نے اپنے مہری فتوے میں ان دونوں ملعون عقیدوں کی صاف تصریح کی جو ان میں خود یہ اعتقاد (بالفرض) نہ بھی رکھتا ہو تاہم اس سے یہ امید نہیں کہ مجتہد کا فتوٰی دیکھ کر اسے کافر جاننا درکنار خود بھی اس پر اعتقاد نہ لے آئے اور ایسے عقیدے والے کواس کے عقیدے پر مطلع ہوکر جو کافر نہ جانے خود کافر ہے
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۱؎
(جس نے ان کے کفر اور عذاب میں شک کیا وہ کافر ہے۔ ت)
( ۱؎ درمختار با ب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۵۶)
توآج کل تبرائی رافضیوں میں کسی ایسے شخص کاملنا جسے ضعیف طورپر بھی مسلمان کہہ سکیں شاید ایسا ہی دشوار ہوگا جیسے حبشیوں زنگیوں میں چمپئی رنگت کا آدمی یا سپید رنگ کا کوّا، ایسے رافضیوں کا حکم بالکل مثل حکم مرتدین ہے۲؎
پس دختر رافضیان جو ایسے ہی عقائد کفریہ رکھتی ہو اس سے سنی یا غیر سنی کسی کا نکاح نہیں ہوسکتا کہ مرتدہ اصلا محل نکاح نہیں ۳؎
کما نص علیہ فی الدرالمختار والعالمگیریۃ وعامۃ الاسفار
(جیسا کہ درمختار، عالمگیریہ اور عام کتب میں اس پر نص ہے۔ ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ القسم السابع المحرمات بالشرک نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۸۲)
اس سے جو اولاد ہوگی قطعاً ولدالزنا ہوگی اور ترکہ پدری سے مطلقا محروم کہ ولد الزنا کے لیے شرعا کوئی باپ ہی نہیں۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للعاھر الحجر ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: زانی کے لیے محرومی ہے۔ (ت)
( ۱؎ صحیح مسلم باب الولد للفراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۷۰)
اور اگردختر مذکورہ ایسے عقائد نہیں رکھتی بلکہ مسلمان ہے تو مسلمان کا نکاح اس سے ہوسکتا ہے اولاد صحیح النسب ہوگی اور ترکہ پدری کی مستحق۔ واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔