| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۱۶۷: از آنولہ ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۰ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ میں ناجائز طور کی ملاقات تھی ، زیداس سے ارادہ نکاح رکھتا تھا، ہندہ کی بیٹی سلمہ نابالغہ کو جس کی عمر نو برس کی ہے اس کے چچا نے اپنی بیٹی ظاہر کرکے زید سے نکاح کردیا مگر ہنوز رخصت واقع نہ ہوئی، اب زید کو معلوم ہوا کہ یہ اسی ہندہ کی بیٹی ہے جس سے قبل اس نکاح کے زید کا ناجائز تعلق رہ چکا ہے، اس حالت میں اس نکاح کی نسبت کیا حکم ہے، اور زید بعد اس نکاح کے ہندہ سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: اگر یہ بیان واقعی ہے کہ زید اس نکاح سے پہلے ہندہ کو ناجائز طور پر ہاتھ لگا چکاتھا تو اس کا یہ نکاح کہ ہندہ کی بیٹی سے کیا گیا محض ناجائز وحرام ہوا، اس پر فرض ہے کہ فورا اس سے دست بردار ہو اور بعد اس کے وہ ہندہ سے نکاح کرسکتا ہے۔
فان نکاح البنات وان کان یحرم الامھات لکن اذا کان صحیحا ولایصح النکاح مع بنت ممسوسۃ لحرمۃ المصاھرۃ۔
بیٹی سے نکاح کی وجہ سے ماں اگرچہ حرام ہوجاتی ہے مگر اس وقت جب بیٹی سے صحیح نکاح ہو، اور حرمت مصاہرہ کی بناپر شہوت کے ساتھ مس شدہ عورت کی بیٹی سے نکاح صحیح نہیں ہوتا۔ (ت)
درمختار میں ہے:
حرم بالمصاھرۃ بنت زوجۃ الموطوئۃ و ام زوجتہ وجداتھا مطلقا بمجرد العقد الصحیح ۱؎۔
بیوی سے وطی کرنے پرا س کی بیٹی حرمت مصاہرہ کی بنا پر حرام ہوجاتی ہے اور بیوی کی ماں اور دادیاں بھی اس پر محض صحیح نکاح کی بنا پر حرام ہوجاتی ہیں (ت)
( ۱؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۸۷)
ردالمحتار میں ہے:
احتراز عن النکاح الفاسد فانہ لایوجب بمجردہ حرمۃ المصاھرۃ بل بالوطء اوما یقوم مقامہ من المس بشھوۃ والنظر بشھوۃ۲؎ الخ۔
صحیح نکاح کا یہ حکم ہے، رہا فاسد نکاح تو صرف نکاح سے حرمت مصاہرہ ماں اور دادیوں کی نہ ہوگی بلکہ وطی سے ہوگی یا وطی کے قائم مقام امور شہوت سے دیکھنے اور چھونے سے ہوگی الخ (ت) واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم
(۲؎ ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۷۸)
مسئلہ ۱۶۸: از موضع د ربھنگہ ڈاکخانہ روسٹرا بازار مقام موتی پور مرسلہ ملا شیر علی صاحب ۵ جمادی الاولٰی ۱۳۱۰ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت مریدہ ازروئے شرع پیر پر حرام ہے یا حلال؟ اور ازواج مطہرات حضرت خدیجہ وحضرت عائشہ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مریدہ تھیں یا نہیں؟ اس نکاح کی حرمت وحلت جو کچھ ہو بحوالہ حدیث وفقہ صاف تحریر کریں۔ بینوا توجروا
الجواب پیر کو اپنی مریدہ سے نکاح قطعا حلال عہ ہے اسے ممنوع جاننا کتاب وسنت اجماع امت وقیاس چاروں دلائل شرع سے محض باطل وبے اصل ہے
( عہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مریدہ کو اپنے پیر کے سامنے بے پردہ آنا ناجائز ہے، غضب تویہ ہے کہ اس زمانے کے بعض جاہل بےباک متصوف اس جھوٹے مسئلہ کو کہ مریدہ بیٹی ہے دستاویز بنالیتے ہیں اور تمام عورتوں کو جو ان کی مریدی کے جال میں پھنسی ہوتی ہیں حکم قطعی دیتے ہیں کہ ہمارے سامنے بے پردہ حجاب آیا کرو، بلکہ تنہائیوں میں انھیں لے کر بیٹھتے ہیں، حالانکہ یہ باتیں حرام قطعی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ کوئی پیر نہیں وہ خود اپنے سامنے عورتوں کو بے باکانہ آنے سے منع فرماتے ، اور کبھی حضور پرنور نے نامحرم عورت کو ہاتھ نہ لگایا، جو بیبیاں کہ حاضر خدمت ہوکر بیعت چاہتیں آپ ان سے زبانی بیعت لیتے ، اور فرماتے تمھاری بیعت ہوگئی کبھی ہاتھ میں ہاتھ لے کر بیعت نہ لی شیطان کے مکر سے اللہ سبحانہ محفوظ رکھے، اور بعض جاہل مردوں کو ابلیس باتلبیس نے یوں ورغلایا اور ان کے ذہن میں یہ سمایا کہ جب ہمارے حالات ہمارے مرشد پر پوشیدہ نہیں تو ہم کیوں اپنی عورتوں کا پیرجی سے پردہ کرائیں، پس بے غل وغش پیر صاحب بحالت موجوگی وعدم موجودگی صاحب خانہ کے زنا نے میں جاتے اور وہیں آرام کرتے ہیں، یہ راقم آثم کا چشم دیدتھا جوبیان میں آیا، والعیاذ باللہ تعالٰی، (مولوی نواب) سلطان احمد خاں بریلوی)
قرآن عظیم سے یوں کہ مولٰی عزوجل نے حرام عورتیں گنا کر فرمایا:
واحل لکم ماوراء ذٰلکم ۱؎
ان کے سوا سب عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں،
(۱؎ القرآن ۴/۲۴)
لاجرم مریدہ بھی کہ ان محرمات میں ذکر نہ فرمائی اس حکم حلت میں داخل رہی سنت سے یوں کہ نبی سے زیادہ پیر ومرشد کون ہے، خصوصاً ہمارے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین و بارک وسلم کہ حضور تو تمام جہانوں کے پیر ہیں پھر حضور والا صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ نے اپنی امتی بیبیوں ہی سے نکاح فرمایا جن میں حضرت ام المومنین خدیجہ الکبرٰی وحضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما اعلٰی درجہ کی مریدہ اور اعلٰی درجہ کی بیبیاں ہیں، باتفاق علماء ثابت کہ جب اللہ عزوجل نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نبوت عامہ کو ظاہر فرمایا، سب سے پہلے حضرت ام المومنین خدیجہ الکبرٰی رضی اللہ تعالٰی عنہا شرف ارادت سے مشرف ہوئیں، بعض جاہلوں کی سمجھ میں یوں نہ آئے تویہ مانیں گے کہ حضرات شیخین حضرت صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سب سے افضل واکمل مریدتھے، اولیاء کرام فرماتے ہیں:
تاجہاں ست نہ ہمچو مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پیرے بودنہ ہمچو ابو بکر صدیق مریدے۔
پوری کا ئنات میں مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جیسا نہ کوئی پیر ہے اور نہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسا کوئی مرید ہے۔ (ت)