قال اللہ تعالٰی:فامساک بمعروف اوتسریح باحسان ۱؎، واذ قد فاتہ الامساک بالمعروف لزمہ التسریح باحسان۔
بھلائی سے پاس رکھو یا اچھے انداز میں اس کوآزاد کردو، اس صورت میں پاس رکھنا ممکن نہیں رہا لہذا اس کو چاہئے کہ چھوڑ دے۔ (ت)
( ۱؎ القرآن ۲/۲۲۹)
مگر جب عہ تک وہ ترک نہ کرے یاحاکم شرع تفریق نہ کردے نکاح بیشک باقی ہے۔ دوسری جگہ ہرگز ہندہ کا نکاح جائز نہیں۔ ہاں بعد متارکہ یا تفریق حاکم شرع پدر ہندہ کو اختیار ہوگا کہ بکر کے سوا جس سے چاہے نکاح کردے۔
(عہ انظھر ھھنا فان الدرخص المتارکۃ بالزوج وحقق الشامی انھاتکون من المرأۃ ایضا وان لافرق بینھا وبین الفسخ، وقد تقرر ان حرمۃ المصاھرۃ تفسدالنکاح وان فی النکاح الفاسد لکل منہما فسخہ ولو بغیر محضرمن صاحبہ دخل بھا اولا وانظر ان غیرالبالغۃ ھل لہا او لو لیھا فسخ نکاحھا الفاسد تحرزا عن المعصیۃ ام ینتظر بلوغھا اذلامعصیہ منھا قبلہ والظاھر الاول فلیحرر ۱۲(م)
یہاں غور کرنا چاہئے کیونکہ در نے متار کہ کاحق خاوند کے لیے خاص کیا ہے، جبکہ علامہ شامی نے کہا کہ عورت کو بھی متارکہ کا حق ہے کیونکہ اس میں اور فسخ میں کوئی فرق نہیں اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ حرمت مصاہرہ نکاح کو فاسد کردیتی ہے۔ جبکہ نکاح فاسد میں خاوند وبیوی دونوں کوایک دوسرے کی موجود گی ہو یا نہ ہو دخول کیا ہونہ کیا ہو فسخ کاحق ہے، اور یہ بھی قابل غور ہے کہ کیا نا بالغہ کے فاسد نکاح میں نابالغہ یااس کے ولی کو فسخ کا اختیار ہے تاکہ گناہ سے بچایا جاسکے یا اس کے بالغ ہونے کاا نتظار کیا جائے گا اس بناپر کہ اس سے قبل گناہ مقصود نہیں اور ظاہر پہلااحتمال ہے۔ اس کوواضح کرنا چاہئے۔ (ت)
درمختار میں ہے حرمت مصاہرہ نکاح کو ختم نہیں کرتی حتی کہ متارکہ اور عدت گزرجانے کے بعدا س کا کسی دوسرے شخص سے نکاح اور وطی جائز ہوگی، اس سے قبل جائز نہیں (حرمت مصاہرہ کے بعد متارکہ سے قبل) خاوند کی وطی کو زنا نہ کہا جائے گا،
(۱؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۸۸)
وفی ردالمحتار ای وان مضی علیھا سنون کما فی البزازیۃ وعبارۃ الحاوی الابعد تفریق القاضی اوبعد المتارکۃ ۲؎ اھ۔
ردالمحتار میں ہے کہ اگرچہ کئی سال گزرجائیں اور حاوی کی عبارت کے مطابق قاضی کی تفریق یامتارکہ کے بعد ہی وہ نکاح کرسکے گی۔ (ت) واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
(۲؎ ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۸۳)
مسئلہ ۱۶۵: از مارہرہ مطہرہ مرسلہ جناب سید امیر حیدر صاحب قبلہ ۲۲ ذیقعدہ ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح بولایت خود وشوئے خود بکر سے کیا، بعدہ بوجہ نااتفاقی باہمی یہ خیال ہو اکہ یہ نکاح کسی شکل سے توڑنا چاہئے کہ دوسری جگہ نکاح ہوسکے، ہندہ سفر کو گئی، ہمراہی میں بکر اور ایک خادمہ اور ایک نابالغہ، چھ آدمی اور گاڑی بان جس سے پردہ نہ تھا، گئے، سرائے میں کھانا کھاکر جو بچا ہندہ نے اپنے سرہانے رکھوالیا، چارپائی پر ہندہ اور نیچے فرش پر خادمہ بکر وچھوکری سوئے،۲ ۱بجے شب کے خادمہ مع چھوکری پیشاب کو گئی، بکر غافل سوتا تھا، ہندہ نے بآواز سخت پکاراکہ جلد ہوشیار ہو مجھے خوف معلوم ہوتاہے۔ بکر پاس گیا اور فرش پر بیٹھنے کا ارادہ کیا کہا میری چارپائی پربیٹھ جاؤ، وہ ایک گوشہ میں بیٹھ گیااتنے میں خادمہ آگئی تو بکر سے بہ سہولت کہا اب تو جا کر سو رہ، بکر اپنی جگہ پر سورہا، ۲ بجے شب کے بکر حقہ پینے اٹھا مکان میں کتا جاتا معلوم ہوا حقہ گاڑی بان کو دے کر اندر آگیا، اندھیرا تھا، چارپائی کو ٹھوکر لگی، ہندہ نے خادمہ اور گاڑی بان کو پکارا، بکر نے فوراً کہا میں ہوں کتا مارنے آیاہوں کہ کھانا خراب نہ کرے، سب سو رہے۔ صبح کو ہندہ نے خادمہ سے کہا بکر نے میرے ساتھ بد نیتی کا اردہ کیا، کہاکب؟ کہا جب تو پیشاب کو گئی تھی، کہا مجھے ایسی کیا دیرہوئی تھی اور تم نے جبھی کیوں نہ کہا میں بکر سے پوچھتی ہوں، اسے سخت قسم دے دی، پھرہفتہ بھر ساتھ رہے کچھ ظاہرنہ ہوا مکان پرآکر ہندہ نے بہتان باندھا، خادمہ اور گاڑی بان بقسم محض لاعلمی بیان کرتے ہیں اوربکر بھی اپنی بے قصوری کی صدہا قسمیں کھا تاہے۔ آیا تنہا بیانِ ہندہ قابل وثوق ہے اور نکاح بکر قائم رہا یا کیا، بینواتوجروا
الجواب: تنہا ایک عورت کا بیان اصلاقابل سماعت نہیں،
قال اللہ تعالٰی: واشھدوا ذوی عدل منکم ۱؎
(اپنے دو عادل گواہ بناؤ۔ ت)
(۱؎ القرآن ۶۵/۲)
نکاح بکر یقینا قائم ہے
حتی علی فرض صدقھا ایضا لان المذھب عندنا ان حرمۃ المصاھرۃ لاترفع النکاح، وانما تفسدہ فلابدمن متارکۃ من زوج اوتفریق من قاض ۲؎۔ کما فی ردالمحتار عن النھر عن الزیلعی (مفھوماً) واﷲ تعالٰی اعلم
حتی کہ عورت کو سچا بھی تسلیم کیا جائے، اس لیے کہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ حرمت مصاہرہ نکاح کو ختم نہیں کرتی بلکہ اس کو فاسدہ کرتی ہے۔ لہذا خاوند کا متار کہ یا قاضی کی تفریق ضروری ہے۔ جیساکہ ردالمحتار میں زیلعی کے حوالے سے نہر سے منقول ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۸۳)
مسئلہ ۱۶۶: ا ز رائپور علاقہ جے پور ڈاکخانہ نڈاون مرسلہ منشی فرزند حسن صاحب ۲۸ ذی قعدہ ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کو جس شخص کا حمل ہو قبل وضع حمل اسی سے یا غیر سے نکاح کرنا اسے جائز ہے یا نہیںـ؟ بینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب۔
الجواب : حمل اگر حلال کا ہے (یعنی وہ جس میں شرعا نسب ثابت ہو) تو قبل ازوضع اس کا نکاح کسی غیر سے نہیں ہوسکتا۔
قال اللہ تعالٰی:واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ۳؎۔
حاملہ عورتوں کی عدت بچے کی پیدائش تک ہے۔ (ت)
( ۳؎ القرآن ۶۵/۴)
ہاں شوہر سے جس کا حمل ہے نکاح جائز، اس کی صورت یہ کہ بعد حمل رہنے کے شوہر نے طلاق دے دی تو اگرچہ ہنوز وضع حمل نہ ہو اس سے نکاح ہوسکتا ہے بشرطیکہ طلاق مغلظہ نہ ہو جس میں حلالہ کی ضرورت پڑتی ہے۔
فی الدرالمختار ینکح مبا ینتہ بمادون الثلاث فی العدۃ وبعدھا بالاجماع لامطلقۃ بالثلث حتی یطأھا غیرہ بنکاح نافذ ۴؎ (ملتقطا)
درمختار میں ہے کہ اپنی مطلقہ بائنہ سے عد ت پوری ہونے سے قبل یا بعد نکاح کرسکتا ہے بالاجماع، تین طلاق والی سے نکاح نہیں کرسکتا، جب تک کسی غیر شخص سے اس کا نکاح اور وطی نہ ہوجائے۔ (ملتقطا) (ت)
(۴؎ درمختار باب الرجعۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۴۰)
اور اگر زنا کا حمل ہے (جس میں بچہ شرعاً مجہول النسب ٹھہرتا ہے) تو زانی وغیرزانی جس سے چاہے بے وضع حمل نکاح کرسکتی ہے کہ زنا کے پانی کی شرع میں اصلا حرمت و عزت نہیں۔ مگر فرق اتنا ہے کہ اگر خود زانی سے نکاح جس کا حمل رہاتھا تو اسے صحبت کرنی بھی جائز ہوجائے گی اور غیرسے نکاح ہوا جب تک وضع حمل نہ ہولے وہ ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
فی الدرالمختار صح نکاح حبلی من زنا لاحبلی من غیرہ وان حرم وطؤھا ودوا عیہ حتی تضع ولو نکحھا الزانی حل لہ وطؤھا اتفاقا ۱؎ اھ ملخصا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم
درمختار میں ہے: زنا سے حاملہ کے ساتھ نکاح جائز ہے نہ کہ غیر زنا کی حاملہ سے جبکہ اس سے وطی اور متعلقہ امور بچے کی پیدائش تک حرام ہیں، اورا س سے خود زانی نے نکاح کیاہو تو وطی بھی بالاتفاق جائز ہے اھ ملخصاً (ت)
(۱؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۸۹)