| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۱۶۴: از مارھرہ مطہرہ مرسلہ حضرت سید ظہور حیدر میاں صاحب قبلہ پنجم شوال ۱۳۰۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید نے اپنی دختر ہندہ نابالغہ کا عقد بولایت اپنے ہمراہ بکرکردیا کہ جس کوعرصہ ایک سال کاگزرا زیدکی زوجہ کوسفر درپیش آیا واسطے حفاظت ونگرانی بکر کوہمراہ کردیا زوجہ زید نے بہمراہی اپنے داماد بکر کے مع ایک خادمہ سفر گاڑی پر کیا شب کوسرائے میں بکر نے باارادہ فاسدہ ونیت خراب اپنی خوشدامن کی چارپائی پرآکر زبردستی کہاکہ میں پاؤں دابوں، ہر چند منع کیالیکن زبردستی پاؤں دبانے شروع کردئے اور شکم پر ہاتھ پھیر کر قریب تھا کہ کمر بند کھول ڈالے اور اپنا ازار بند اول کھول لیاتھا، نہایت مشکل وزبردستی سے بکر کوچارپائی سے علیحدہ کیاگیا، دوبارہ پھر قریب تین بجے شب کے بکر نے آکر چارپائی پر بیٹھ کر ارادہ دست درازی کاکیا، زوجہ زید کی آنکھ کھلی گئی اور وہ چیخ کر غل مچانے لگی جس سے گاڑی بان اور خادمہ نے چونک کر چراغ سے دیکھا توبکرتھا عذر بدتر از گناہ کرنے لگا کہ میں کتا مارنے آیا تھا یہ بات زوجہ زید یقین اور خوب مضبوطی سے از روئے مباہلہ وقسم شرعی کہتی ہے کہ بکر نے اول مرتبہ میرے شکم پر ہاتھ پھیر کر میرے ازاربند کھولنے کی نیت سے دست درازی کی تھی اور اپنا ازار بند کھول رکھا تھا اور اس وقت بکر کے دست وپا میں رعشہ سخت تھا اگر میں ناراض ہوکر زبردستی بکر کوچار پائی سے علیحدہ نہ کرتی توبیشک میری عصمت بکر خراب کرڈالتا اورا سی ارادہ سے دوبارہ پھر بکر آکر میری چارپائی پر بیٹھا اگر گاڑی بان وخادمہ چراغ لے کر نہ آتے اور نہ دیکھتےتوبکر ہر گز اپنے ارادہ سے باز نہ آتا، زید کوبعد دریافت اس حالت کے اپنی دختر ہندہ کے عقد میں شک پڑگیا اور کہا کہ میں اب رخصت نہ کروں گا، تو اب جس حالت میں دونوں ولی اصلی یعنی والدین ہندہ زید مع زوجہ بکر سے بباعث اس حرکت کے ناراض ہیں تونکاح ہندہ کا بکر سے باقی رہ گیا یا ٹوٹ گیا؟ اور اگر ٹوٹ گیا تو عقد ثانی اس کا خواہ بکر سے یا اورجگہ ہوسکتا ہے یانہیں؟ کیونکردختر زیدیعنی ہندہ نابالغہ ہے اور ولی یعنی والدین اس کے بکر سے ناراض ہیں تو ایسی حالت میں مسئلہ شریعت کیا ہے۔ اور اب معاملہ ہندہ وبکر کیا ہونا چاہئے؟ اور زوجہ زید جوان ہے جس سے یہ حرکت بکرنے کی،فقط، بینوا توجروا
الجواب : اس میں شک نہیں کہ اپنی منکوحہ کی ماں کے جسم کوبنظر شہوت کسی جگہ ہاتھ لگانے سے گونکاح زائل نہیں ہوتا مگر عورت ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہوجاتی ہے۔ اور اس شخص پر واجب ہوتا ہے کہ اسے چھوڑ دے لیکن اس قدر ضرور ہے کہ مس بحالت شہوت ہو یعنی ہاتھ لگانے کے وقت ہی معا نعوظ (یعنی عضو تناسل کا قائم ہونا) پیدا ہو یا پہلے سے نعوظ تھا تو ایسی حالت میں زائد ہوجائے ورنہ اگر جس وقت مس کیا نعوظ نہ تھا جب مس ختم ہوچکا اس کے بعد پیداہوا یا نعوظ پہلے سے تھا اور مس کرنے میں کچھ زیادہ نہ ہوا بدستور رہا توحرمت نہ ہوگی۔
فی الدرالمختار العبرۃ للشھوۃ عند المس والنظر،لابعدھما وحد ھا فیما تحرک اٰلتہ او زیادتہ بہ یفتی ۱؎۔
درمختار میں ہے کہ دیکھنے اور چھونے کے وقت شہوت کا اعتبار ہے اس کے بعد والی شہوت معتبر نہیں، اور اس وقت معتبر شہوت کی حد یہ ہے کہ چھونے اور دیکھنے پرآلہ تناسل حرکت کرے یا اس وقت حرکت میں زیادتی پیدا ہو۔ اسی پر فتوٰی ہے۔
(۱؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۸۸)
وفی ردالمحتار قولہ او زیادتہ ای زیادۃ التحرک ان کان موجود ا قبلھما قولہ بہ یفتی قال فی الفتح وفرع علیہ مالوانتشر وطلب امرأتہ فاولج بین فخذی بنتھا خطاء لاتحرم امھا مالم یزد الانتشار ۲؎۔
اور ردالمحتار میں ہے : اس کا قول "زیادتہ" اس سے مراد حرکت کی زیادتی ہے جبکہ پہلے حرکت موجود ہو، اس کا قول بہ یفتی، فتح میں کہا اورا س پر تفریع بیان کی کہ کسی کو انتشار ہوا، اپنی بیوی کی طلب کی تو بیوی کی بجائے (بیوی کے پہلے خاوند سے) بیٹی کی رانوں کو غلطی اور خطا سے استعمال کیا تو اس لڑکی کی ماں (بیوی)اس پر حرام نہ ہوگی کیونکہ اس وقت انتشار زائد نہ ہوا (بلکہ وہ انتشار موجود رہا جو پہلے بیوی کے لیے ہواتھا) (ت)
(۲؎ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۸۰)
اسی طرح یہ بھی ضرور ہے کہ مس برہنہ جسم پر ہو یا کسی ایسے باریک کپڑے پرسے کہ عورت کے جسم کی حرارت اس کے ہاتھ کو پہنچنے سے مانع نہ ہو، جیسے اس زمانے میں جالی یا تنزیب کی کرتیاں، ورنہ اگر ایسا سنگین کپڑا حائل تھا کہ جسم زن کی گرمی ہاتھ کو محسوس نہ ہونے دے توحرمت نہیں اگرچہ مس بہزار شہورت واقع ہواہو۔
فی الدرالمختار واصل ممسوسۃ بشھوۃ ولو بشعر علی الرأس بحائل لایمنع الحرارۃ ۱؎ فی ردالمحتار فلوکان مانعا لاتثبت الحرمۃ کذا فی اکثر الکتب وکذا لوجامعھا بخرقۃ علی ذکرہ ۲؎۔
درمختار میں ہے شہوت کے ساتھ مس شدہ عورت خواہ یہ مس عورت کے سر کے بالوں کا کسی ایسے پردہ اور کپڑے کے حائل ہونے کے باجود ہو جو بدن کی حرارت پہنچنے کے لیے مانع نہ ہو، توبھی اس عورت کے اصول حرام ہوجائیں گے، ردالمحتار میں ہے کہ اگر وہ کپڑا بدن کی حرارت کے لیے مانع ہو تو حرمت ثابت نہ ہوگی، اکثر کتب میں ایسے ہی ہے۔ اور یوں ہی اگر کسی عورت سے جماع کے وقت ذکر پرموٹا کپڑا لپیٹ لیا(جس سے آپس میں دونوں کے بدن کی حرارت نہ محسوس ہو سکے اور عورت کے باقی تمام بدن پرموٹا کپڑا ہو کہ کوئی حصہ بدن برہنہ مس نہ ہو) (ت)
(۱؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۸۸) (۲؎ ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۸۰)
نیز ایک شرط حرمت یہ ہے کہ یہ حرکت انزال کی طرف مودی نہ ہو، اگر انزال ہوگیا حرمت نہ ہوئی۔
فی الدرالمختار ھذا اذالم ینزل فلو انزل مع مس اونظر فلاحرمۃ بہ یفتی ابن کمال ۳؎۔
درمختار میں ہے کہ حرمت تب ثابت ہوگی جب اس انتشار میں انزال نہ ہوا ہو، اور اگر مس یا نظر کے وقت شہوت سے انزال ہوجائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی، اس پرفتوٰی ہے۔ ابن کمال (ت)
(۳؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۸۸)
غرض مس یا نظر کے سبب حرمت مصاہرت ثابت ہونے میں یہ شرطیں ہیں زوجہ زید کا بیان جس قدر سوال میں مذکور اس سے کچھ نہیں کھلتا کہ صورت واقعہ میں یہ متحقق تھیں یا نہیں۔ تین بجے شب کے واقعہ میں بکر کاصرف اس کی چارپائی پر آکر بیٹھنا اور دست درازی کا ارادہ کرنا بیان کرتی ہے کہ مجرد ارادہ کوئی چیز نہیں، اور واقعہ اول شب میں بھی کچھ نہیں کہتی کہ بکر کا پاؤں دبانا کپڑے پر سے تھا یا برہنہ پاؤں پر، اور شکم پر ہاتھ پھیر نا بھی کچھ خواہی نخواہی اس میں نص نہیں کہ برہنہ پیٹ پر ہاتھ پھیرا، نہ یہ معلوم کہ اس وقت زوجہ زید کی کرتی کیسے کپڑے کی تھی، تواس کے فقط اتنے بیان پر حکم حرمت نہیں ہوسکتا جب تک صاف صاف تمام شرائط کا متحقق ہونانہ ظاہر ہو۔ لہذا فقیر اس مسئلہ کے جواب میں صرف اس قدر حکم دے سکتا ہے کہ اگر بکر نے زوجہ زید کے پاؤں یا پیٹ خواہ کسی جسم پر برہنہ یا حائل نرم کے ساتھ بطور شہوت ہاتھ لگایا کہ اس حرکت کی حالت ہی میں اسے نعوظ پید ہوا یا پہلے سے تھا تو اسی حالت میں بڑھ گیا اور انزال واقع نہ ہوا تو بیشک ہندہ ہمیشہ ہمیشہ بکرپرحرام ہوگئی کہ کبھی کسی طریقہ سے اسے ہاتھ نہیں لگاسکتا ہے، اورا گران شرائط میں کچھ کمی تھی تو ہندہ بدستور اس کے لیے حلال ہے، پھر جس حالت میں حکم حرمت دیا جائے گا اس کا بھی یہ حاصل ہر گز نہیں کہ نکاح بالفعل ٹوٹ گیا، یہ محض خطا ہے بلکہ اس وقت حکم صرف ا س قدرہوگا کہ ہندہ بکر پر حرام ابدی ہوگئی، بکر پر فرض کہ اسے چھوڑ دے اگر نہ چھوڑ ے گا سخت گناہ گارہوگا اور ہندہ کے حق میں بھی گرفتارہوگا۔