مسئلہ ۱۶۱: ۲۱ رجب ۱۳۰۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر کا نکاح عمرو کے ساتھ کردیا، عمرونے طلاق نہیں دی، زید نے کچھ روپیہ بکر سے لے کر نکاح بکر کے ساتھ کردیا، اور بکر نے بھی طلاق نہیں دی۔ زید نے اورشخص ثالث کے ساتھ کچھ روپیہ لے کر نکاح کردیا، اس صوررت میں یہ نکاح جائز ہوگئے یا نہیں؟بینوا توجروا۔
الجواب:یہ نکاح نہ ہوئے محض زناہوئے، قال اللہ تعالٰی:
والمحصنٰت من النساء ۲؎
(شادی شدہ عورتیں حرام ہیں، ت)
( ۲؎ القرآن ۴/۲۴)
عورت اب جس کے پاس ہے اس پرقطعی فرض ہے کہ عورت کوا پنے پاس سے الگ کردے اور نکال دے۔ اور عورت پر فرض قطعی ہے کہ اس سے جدا ہوجائے اپنے خاوند عمرو کے پاس آئے اور یہ روپیہ کہ زید نے بکر اور اس شخص ثالث سے لیا بالکل حرام قطعی اور رشوت بلکہ زنا کی خرچی تھا، زید پر فرض ہے کہ یہ روپیہ جس سے لیا ہے اسے واپس کرے زید اور شخص ثالث اور وہ عورت تینوں میں سے جو شخص ان احکام کی تعمیل نہ کرے مسلمان اسے اپنی صحبت سے نکال دیں اوراس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ترک کریں،
قال اللہ تعالٰی: وامّا ینسینک الشیطن فلاتقعد بعدالذکری مع القوم الظلمین ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب کبھی شیطان تجھے بھول میں ڈالے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ۔ (ت)
(۳؎ القرآن ۶/۶۸)
مسئلہ ۱۶۲: ۲۷ جمادی الآخرہ ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کاایک بیٹا ہے اور ہندہ کی ایک بیٹی۔ زید کا بیٹا ہندہ سے نکاح کیا چاہتاہے اور زید ہندہ کی بیٹی سے، اس صورت میں یہ دونوں نکاح ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ کتاب اللہ سے فرمائے۔ بینوا توجروا
الجواب :یہ دونون نکاح حلال ہیں
قال اللہ تعالٰی: واحل لکم ماوراء ذٰلکم ۴؎
(محرمات مذکورہ کے ماسوا تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں ۔ ت)
(۴؎ القرآن ۴/۲۴)
ظاہر ہے کہ پسر زید کے لیے ہندہ اگر ہوگی تو باپ کی ساس ہوگی ذلک اذا تقدم نکاح زید (اور یہ جب ہے کہ زید کا نکاح پہلے ہوا ہو۔ ت) اور باپ کی ساس حلال ہے جبکہ وہ اپنی نانی نہ ہو۔
فی ردالمحتار قال الخیر الرملی لاتحرم ام زوجہ الاب ۱؎۔
ردالمحتار میں ہے کہ خیرالدین رملی نے فرمایا کہ باپ کی ساس حلال ہے۔ (ت)
( ۱؎ فتاوٰی خیریہ فصل فی المحرمات دارالمعرفۃ بیروت ۱/۲۳)
ا ور زید کے لیے ہندہ کی بیٹی اگر ہوگی توبہو یعنی زوجہ پسر کی بیٹی ہوگی وھذ ا اذا سبق نکاح ابن زید (یہ جب ہے کہ زید کے بیٹے کا نکاح پہلے ہوا ہو۔ ت) اور بہو کی بیٹی حلال ہے جبکہ وہ اپنی پوتی نہ ہو۔
فی ردالمحتار اما بنت زوجۃ ابنہ فحلال ۲؎۔
ردالمحتارمیں ہے بیٹے کی بیوی کی بیٹی حلال ہے۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۳: از اوجین مرسلہ میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ ۲۹ رجب ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے سالی حقیقی سے صحبت کی اور عمرو نے سالی کے ساتھ نکاح، توزید وعمرو کی اولین عورتوں پر طلاق عائد ہوتی ہے یانہیں؟ کیونکہ قرآن مجید وفرقان حمید میں
ان تجمعوا بین الاختین الاماقد سلف
(منع ہے کہ تم دوبہنوں کونکاح میں جمع کرو مگر جوہو گزرا۔ت) وارد ہے، اس مسئلہ میں جوحکم شرعاً ہو جدا گانہ مع التشریح بحوالہ کتب بیان فرمائیں۔
الجواب: بموجودی زوجہ سالی سے نکاح حرام ہے۔ اور اس پرفرض ہے کہ اسے ہاتھ نہ لگائے اور فوراً چھوڑدے اور زنا تو ہرحال حرام ہی ہے مگر سالی سے نکاح یازنا کرنے سے زوجہ مطلقہ نہیں ہوتی، نہ آیت کایہ مطلب ہے نہ سالی سے زنا کے سبب زوجہ سے جماع حرام ہو،
درمختارمیں ہے:
فی الخلاصۃ وطی اخت امرأتہ لاتحرم علیہ امرأتہ ۳؎۔
خلاصہ میں ہے کہ سالی سے زنا کی وجہ سے بیوی حرام نہ ہوگی۔ (ت)
( ۳؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۸۸)
نہ سالی کے ساتھ فقط نکاح کرنے سے جماع زوجہ ممنوع ہوجائے۔ جب تک سالی سے جماع واقع نہ ہو، ہاں اگر بعد نکاح سالی سے جماع کرلیا تو اب زوجہ سے جماع حرام ہوگیا، یہاں تک کہ سالی کو چھوڑ دے اور اس کی عدت گزر جائے اس وقت زوجہ سے جماع جائز ہوگا یوں ہی اگر بے نکاح سالی سے جماع کیا مگر دیدہ دانستہ زنانہ کیا بلکہ بلاشبہہ اور دھوکے سے جماع واقع ہو تو بھی زوجہ سے جماع حرام ہوگیا جب تک اس جماع شبہہ کے سبب سالی پر جو عدت لازم آئی ہے ختم ہوجائے۔
فی ردالمحتار فی مسئلۃ نکاح المرأۃ علی اختھا الثانی باطل ولہ وطی الاولی الاان یطأ الثانیۃ فتحرم الاولی الی انقضاء عدۃ الثانیۃ کما لووطئ اخت امرأتہ بشبھۃ حیث تحرم امرأۃ مالم تنقض عدۃ ذات الشبھۃ ح عن البحر ۱؎۔
ردالمحتا ر میں بہن کی موجودگی میں سالی سے نکاح کے مسئلہ میں فرمایا کہ دوسرا نکاح باطل ہے اور جب تک دوسری سے وطی نہ کی ہو پہلی سے جماع جائز ہے۔ اگردوسری سے وطی کرلی ہوتو پہلی سے جماع ا س وقت تک حرام ہے جب تک دوسری کی عدت نہ گزرجائے۔
جس طرح شبہہ کی بناء پر بیوی کی بہن سے جماع ہوجائے توبیوی سے جماع حرام ہوتا ہے۔ تاوقتیکہ شبہہ والی کی عدت پوری نہ ہوجائے، یہ بحر سے منقول ہے۔ (ت) واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم
(۱؎ ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۸۶)