مسئلہ ۱۵۷: از نرسنگھ پور کندیلی متصل جامع مسجد مرسلہ مولوی یقین الدین صاحب ۲۵ ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم، اما بعد کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ نصیبن اپنے خاوند
زید کی موجودگی میں بکر سے پھنسی ہوئی تھی، زید اپنے روزگار کی وجہ سے دوسرے شہرمیں رہتاہے، مگر اپنی زوجہ نصیبن کو دو برس تک کچھ خرچہ نہ بھیجا، چنانچہ نصیبن علانیہ بکر کے گھر میں آگئی، اس کے ایک لڑکابھی زید سے ہے۔ طلاق نہیں دی ہے مگر ہاں زید کی مرضی ہے کہ مسماۃ کچھ دے تو طلاق دے دوں، بکر در صورت طلاق نہ دینے زید کے نصیبن سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ عورت بے اذن شوہر کے گھر سے نکل جائے تونکاح سے نکل جائے محض غلط ہے۔
قال تعالٰی: واللاتی تخافون نشوزھن فعظوھن ۱؎۔ الایۃ۔ تخافون تعلمون ومن النشوز الخروج بلااذن۔
جن عورتوں کی نافرمانی کا احساس کرتے ہو ان کو نصیحت کرو، الآیۃ، یہاں تخافون بمعنی تعلمون اور نشوزسے مراداجازت کے بغیر گھر سے نکلنا ہے۔ (ت)
( ۱؎ القرآن ۴/۳۴)
معاذاللہ اگرایسا ہو تو نکاح کی گرہ زنان ناقصات العقل والدین کے ہاتھ میں ہوجائے، جو عورت چاہے بے ارادہ شوہر سہل طور پر نکاح سے آزادی حاصل کرلے حالانکہ اللہ عزوجل نے نکاح کی گرہ مردکے ہاتھ میں رکھی ہے۔
قال عزوجل: بیدہ عقدۃ النکاح ۲؎ یعنی الزوج فی قول علی وسعید بن المسیب وسعید بن جبیر وغیرھم رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
اسی (خاوند) کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ، سعیدبن مسیب اور سعید بن جبیر رضی اللہ تعالٰی عنہم نے خاوند مراد لیا ہے۔ (ت)
(۲؎ القرآن ۲/۲۳۷)
اسی طرح عیاذاً باللہ عورت کے فسق وفجور سے بھی نکاح نہیں جاتا۔
قال اللہ تعالٰی: واللاتی یأتین الفاحشۃ من نساءکم ۳؎۔
سماھن مع ذلک نسائھم،تمھاری بیویوں میں سے جو فحش کاری کی مرتکب ہو،اس میں ا س کے باوجود ان کو بیویاں فرمایا گیا ہے۔
اللہ عزوجل نے فرمایا: وہ لوگ جواپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں الآیۃ، اس عورت سے حد کو ساقط کرو، الآیۃ تک۔ (ت)
(۴؎ القرآن ۲۴/۶) ( ۱؎ القرآن ۲۴/۸)
پس جبکہ زید نے ہنوز طلاق نہ دی نصیبن بدستور اس کے نکاح میں باقی ہے اور بکر خواہ کسی کو ہر گزا س سے نکاح حلال نہیں اگر کر بھی لیا، تاہم جیسے اب تک وہ دونوں مبتلائے زنا رہے یوں ہی اس نکاح بے معنی کے بعد بھی زانی وزانیہ رہیں گے، اور یہ جھوٹا نام نکاح کا کچھ مفیدنہ ہوگا،
قال تعالٰی: والمحصنت من النساء ۲؎
(شادی شدہ پاکیزہ عورتیں۔ ت)
(۲؎ القرآن ۴/۲۴)
پس چارہ کاریہی ہے کہ بکر نصیبن فورا جدا ہوجائے اور اللہ عزوجل کے غضب سے ڈرکر اپنے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کریں پھر نصیبن زید کے پاس نہ رہنا چاہے تو اسے اختیار ہے کہ زید کی طلاق کے بدلے مال دے کر خواہ بغیر مال دئے طلاق حاصل کرے،
قال المولٰی سبحانہ وتعالٰی:فان خفتم الایقیما حدود اﷲ فلاجناح علیھما فیما افتدت بہ ۳؎۔
اگر تمھیں ڈر ہے کہ عدل کے طور پر وہ دونوں حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو (خلع کے طورپر عورت کی طرف سے) فدیہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔(ت)
( ۳؎ القرآن ۲/۲۲۹)
جب زید طلاق دے دے تو تین حیض کامل گزرنے کے بعد نصیبن کو حلال ہوگا کہ بکر خواہ غیر بکر جس سے چاہے نکاح کرلے،
قال سبحنہ وتعالٰی: والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلٰثۃ قروء ۴؎۔
طلاق شدہ عورتیں اپنے کو تین حیض تک پابند رکھیں، (ت)
(۴؎ القرآن ۲/۲۲۸)
بکر ونصیبن اگر اس حکم الہٰی پر گردن رکھیں فبہا اور اگر نہ مانیں اوراسی حالت پر رہیں یا بے طلاق حاصل کئے آپس میں نکاح کرلیں، تو ایمان والے مرد اور ایمان والی بیبیاں انھیں یک لخت چھوڑدیں، نہ اپنے پاس بیٹھنے دیں نہ خود ان کے پاس بیٹھیں،
قال عزوجل: واما ینسینک الشیطن فلاتقعد بعدالذکرٰی مع القوم الظٰلمین ۵؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اور کبھی شیطان تجھے بھول میں ڈال دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔ (ت)
( ۵؎ القرآن ۶/۶۸)
مسئلہ ۱۵۸: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عالم حیات زوجہ میں حقیقی سالی یا رشتہ کی سالی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : تاحیات زوجہ جب تک اسے طلاق ہو کر عدت نہ گزر جائے اس کی بہن سے جو اس کے باپ کے نطفے یا ماں کے پیٹ سے یا دودھ شریک ہے نکاح حرام ہے۔
قال اللہ تعالٰی: وان تجمعوا بین الاختین ۱؎
(منع ہے کہ تم دوبہنوں کو نکاح میں جمع کرو۔ ت)
( ۱؎ القرآن ۴/۲۳)
اورا ن کے سوا زوجہ کی رشتہ کی بہنیں مثلاً چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی کی بیٹیاں اس کے شوہر پر ہر وقت حلال ہیں کل ذلک مصرح بہ فی کتب الفقہ (ان تمام مسائل کی تصریح کتب فقہ میں موجود ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۵۹: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بھتیجی بہو اور بھانج بہو سے نکاح درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : دونوں سے درست ہے،
قال اﷲ تعالٰی:واحل لکم ماوراء ذلکم ۲؎
(اور مذکورہ محرمات کے علاوہ تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
( ۲؎ القرآن ۴/۲۴)
مسئلہ ۱۶۰: ۵ ذی الحجہ ۱۳۰۶ از لکھنؤ محلہ علی گنج مرسلہ حافظ عبداللہ صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین جواب اس مسئلہ کا کہ ایک شخص نے اپنی سالی کی لڑکی کو واسطے اپنے لڑکے کے نکاح کے پرورش کیا، تقدیر ربی سے لڑکا انتقال کرگیا، بعدہ خود پرورش کنندہ کی بی بی فوت ہوگئی، اب پرورش کنندہ نے اپنی شادی اس لڑکی پرورش کردہ شدہ سے کرلی، یہ نکاح جائزہوا یانہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب: قطعا جائز ہے۔
قال اللہ تعالٰی: واحل لکم ماوراء ذلکم ۳؎
(اور مذکورہ محرمات کے علاوہ تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت)
(۳؎ القرآن ۴/۲۴)
ظاہر ہے کہ بیٹے کے لیے نیت نکاح ہونے سے وہ بیٹے کی منکوحہ نہ ہوگئی جو
حلائل ابنائکم الذین من اصلابکم ۴؎
(تمھارے صلبی بیٹوں کے لیے حلال شدہ عورتیں تم پر حرام ہیں۔ ت) میں داخل ہوسکے۔
(۴؎القرآن ۴/۲۳)
حلائل جمع حلیلہ ہے یعنی وہ عورتیں تم پر حرام ہیں جوبذریعہ نکاح تمھارے صلبی بیٹوں کے لیے حلال ہوچکیں، یہاں نہ ابھی بیٹے سے نکاح ہوا نہ یہ عورت اس کے لیے حلال ہوئی باپ پر کیونکر حرام ہوسکتی ہے، اور اگر پرورش کے خیال سے ایسا کہا جائے تو بھی محض غلط،
قرآن عظیم نے یوں فرمایا ہے:
وربائبکم التی فی حجور کم من نساء کم التی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلاجناح علیکم ۱؎۔
تمھاری گود کی پالیاں تمھاری ان عورتوں کی بیٹیاں جن سے تم ہم بستر ہوچکے اگر تم نے ان عورتوں سے ہم بستری
نہ کی ہو تو ان کے ساتھ نکاح میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔
(۱؎ القرآن ۴/۲۳)
دیکھو قرآن مجید تصریح فرماتا ہے کہ اپنی منکوحہ کی دختر اپنی گودکی پالی بھی حلال ہے جب تک منکوحہ سے خلوت نہ کی ہو اختیار رکھتا ہے کہ منکوحہ کوچھوڑ کریا اس کے مرے پراس سے نکاح کرلے تو سالی کی بیٹی پرورش کرنے سے کیوں حرام ہونے لگی، یہ محض ہندوانہ خیالات ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم