Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
76 - 1581
باب المحرمات

(محرمات کا بیان)
مسئلہ ۱۵۵: ۱۹ رجب ۱۳۰۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے ابن الابن زید کو دودھ پلایا، اب زید کا نکاح اپنی نواسی لیلی بنت سلمی سے کیا چاہتی ہے آیا یہ نکاح شرعا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

ہر گز جائز نہیں کہ جب زیدنے اپنی دادی کا دودھ پیا تووہ اس کی ماں ہوئی، اور جب وہ اس کی ماں ہوئی تو اس کی ساری اولاد خواہ اس دودھ سے پہلے پیداہوئی ہو یابعد، سب اس کے بھائی بہن ہوئے، اور جب وہ سب بہن بھائی ہیں تو ان کی بیٹیاں اس کی بھتیجیاں بھانجیاں ہیں، بس لیلٰی بھی کہ سلمٰی بنت ہندہ کی دختر ہے زید کی بھانجی ہے اور زید اس کا ماموں ہے۔ اور ماموں بھانجی کا نکاح کہیں حلال نہیں۔
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع واصولھما وفرو عھما حتی المرضعۃ لو ولدت قبل ھذا الارضاع اوبعدہ وارضعت رضیعھا فالکل اخوۃ الرضیع واخواتہ  واولادھم اولاداخوتہ واخواتہ ۱؎ اھ ملخصا۔
دودھ پینے والے بچے رضاعی ماں باپ اور ان کے اصول وفروع حرام ہوجاتے ہیں حتی کہ اگر وہ دودھ پلانے سے قبل یا بعد اس نے کوئی بچہ جنا ہو یا کسی کو دودھ پلایاہو تو وہ سب اس کے بھائی بہن ہوں گے اور ان کی اولاد اس کے بھتیجے اور بھتیجیاں اور بھانجے اور بھانجیاں ہوں گی۔ اھ ملخصا (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الرضاع    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۳۴۳)
اور یہیں سے ظاہر ہوگیاکہ بعض مدعیان علم کا یہ خیال کہ سلمٰی اور لیلٰی زید سے پہلے پیدا ہوئی تھی تو دودھ میں شرکت نہ ہوئی، نہ سلمٰی اس کی بہن نہ لیلٰی اس کی بھانجی ٹھہری، محض جہالت  فاحشہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۵۶: از خیرآباد مرسلہ حسین بخش صاحب رضوی یکم ربیع الاول ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو بکر کی بیٹی بیاہی ہے اور بکر نے دوسری عورت سے نکاح کیا، بعدہ بکر مرگیا، اب زید چاہتا ہے کہ اپنی سوتیلی خوشدامن سے نکاح کرے، یہ نکاح موافق حاشیہ عینی کے جائز ہے یانہیں؟ اور زن مذکورہ قولہ تعالٰی" وامھات نسائکم" میں داخل ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: نکاح مذکور بیشک جائز ہے۔
قال اللہ عزوجل: واحل لکم ماوراء ذلکم ۱؎
 (محرمات مذکورہ کے ماسوا تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت)
 ( ۱؎ القرآن    ۴/۲۴)
علماء قاطبۃ متون وشروح وفتاوٰی میں محرمات صہریہ زوجات اصول وفروع اصول و فروع زوجات بتاتے ہیں نہ
زوجہ اصول زوجہ و عدم الذکر فی امثال المقام ذکر العدم کما لایخفی
 (ایسے مقام میں ذکر نہ ہونا گویا نہ ہونے کاذکر ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) اورسوتیلی ماں لفظ امہات میں ہرگز داخل نہیں، ورنہ آیۃ
تحریم میں حرمت علیکم امھاتکم ۲؎
 (تم پر تمھاری مائیں حرام کی گئی ہیں۔ ت) کے بعد
ولاتنکحوا مانکح اٰباؤکم ۳؎
(جن سے تمھارے آباء نے نکاح کیا تم ان سے نکاح نہ کرو۔ ت)کیونکر فرمایا جاتا۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ سوتیلی ماں کی ماں اورا س کی بیٹی اورا س کی بہن سب حلال ہیں، اگر سوتیلی ماں بھی ماں ہوتی تویہ عورتیں اس کی نانی، بہن،خالہ قرارپاتیں۔
 (۲؎ القرآن    ۴/۲۳) ( ۳؎ القرآن    ۴/۲۲)
علامہ خیرالدین رملی فرماتے ہیں:
لاتحرم بنت زوج الام ولاامہ ولاام زوجۃ الاب ولابنتھا ۴؎۔
ماں کے خاوند کی بیٹی اور اس کی ماں اور باپ کی دوسری بیوی کی ماں اور بیٹی حرام نہیں۔ (ت)
 (۴؂فتاوٰی خیریہ    فصل فی المحرمات    دارالمعرفۃ بیروت    ۱/۲۳)
اصل یہ ہے کہ ساس کی حرمت اس وجہ سے نہیں کہ وہ خسر کی زوجہ ہے بلکہ اس لیے کہ وہ زوجہ کی ماں ہے، سوتیلی ساس میں یہ وجہ نہیں لہذا اس کی حلت میں کوئی شبہ نہیں، مسئلہ واضح ہے اور حکم ظاہر، واللہ تعالٰی اعلم
Flag Counter