الجواب : بملاحظہ شریفہ مولٰنا المبجل المکرم ذی ا لمجد والفضل والکرم مولٰنا مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب دامت معالیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عبارت بنایہ صفحہ ۱۰۲ بہت صاف ہے۔ اوپر کی روایت سے موازنہ کرکے اس روایت کا مطلب واضح ہوتا ہے، امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے دو روایتیں ذکرکیں، اول
لابد من اعتبار الکفاءۃ ولایسقط الابتراضی الولی والمرأۃ ۱؎۔
کفو کا اعتبار ضروری ہے صر ف ولی اور خود لڑکی کی رضاسے اس کا اعتبار ساقط ہوسکتاہے۔ (ت)
(۱؎ البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الکفاءۃ مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲/۱۰۲)
یہ ہمارے مذہب کے موافق ہے حتی کہ روایت حسن مفتی بہاکے بھی کہ اس میں بھی اگر بالغہ برضائے ولی قبل النکاح عالما بعدم الکفاءۃ غیر کفو سے نکاح کرے گی صحیح ونافذہوگا اور حق اعتراض بھی نہ رہے گا۔ دوسری:
وعنہ فی الرجل یشرب الشراب اوھو حائک یفرق بینھما ۲؎۔
انہی سے مروی کہ شراب کا عادی یا جولاہا ہو تو دونوں میں تفریق کردی جائے گی۔ (ت)
(۲؎ البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الکفاءۃ مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲/۱۰۲)
یہ مطلق ہے وہ استثنائے تراضی یہاں نہیں یہاں بھی وہ استثناء ہو تو دونوں روایتیں ایک ہوجائیں لاجرم اس کے اطلاق کا یہ حاصل کہ لحاظ کفاءت حقاللشرع لازم تراضی زن و ولی سے بھی ساقط نہ ہوگا، اور گوسب کی رضا سے ایسا نکاح ہو قاضی جبراً علیہم تفریق کردے گا، جیسے ہمارے یہاں بنت ممسوسہ بشہوت سے برضائے زن و اولیاء نکاح کرے یفرق بینھما (دونوں میں تفریق کردی جائے گی، ت) یہی حکم روافض نے دربارہ علویات دیا کہ دوسرے سے اگرچہ قرشی ہو علویہ کانکاح اگرچہ برضائے کل ہو ممتنع ہے۔ ان دونوں قولوں کو امام سروجی فرماتے ہیں، باطلان (دونوں باطل ہیں، ت) اور وہ بیشک باطل ہیں، اگر بالغہ برضائے ولی حائک سے نکاح کرلے لایفرق بینھما (دونوں میں تفریق نہیں کی جائے گی، ت) اور علویہ بالغہ قرشی غیر علوی سے نکاح کرے اگرچہ بے رضائے ولی یاغیر قرشی سے برضائے ولی لایمتنع (منع نہیں کیا جائے گا۔ ت) امام سروجی ابوالعباس احمد قاضی مصر متوفی ۷۱۰ صاحب غایہ شرح ہدایہ اجلہ علمائے حنفیہ سے ہیں، اس وقت تو فقیر نے قیاس سے گزارش کیا تھا کہ الخطبۃ للتزوج (منگنی نکاح کے لیے۔ ت) ہوگا، اب کتاب کا ورق کہ جناب نے بھیجا دیکھ کر یقین کرتا ہوں کہ بیشک لام ہی ہے۔ کاتب نے اس کتاب کو نسخ نہ کیا مسخ کیا ہے اسی لیے میں نے نہ خریدی، خطبہ کا غیر نکاح ہونا ایسا روشن ہے جیسے صبح کا غیر شمس ہونا حاشایہ احتیاط فی الفروج نہیں بلکہ احتیال فی الفروج ہے کہ منگنی ہوتے ہی منکوحہ بنالیں ولایقول بہ جاھل فضلاعن فاضل (کوئی جاہل بھی یہ بات نہ کہے گا چہ جائیکہ کوئی فاضل کہے۔ ت) کس قدر کثرت وافرہ سے نصوص ملیں گے جو خطبہ وتزوج کی مباینت ثابت کریں گے ؎
ولیس یصح فی الاعیان شیئ اذا احتاج النھار الٰی دلیل
(دن کی موجودگی بھی اگر کسی دلیل کی محتاج ہو تو پھر دنیامیں کوئی چیز ثابت نہیں قرار پائے گی۔ ت)
حدیث تحرم الخطبۃ علی خطبۃ اخیہ ۱؎
(بھائی کی منگنی پرمنگنی حرام ہے۔ ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب تحریم الخطبۃ علی خطبۃ اخیہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۵۴)
ا س کی تائید جہل شدید، ورنہ حدیث
یحرم السوم علی سوم اخیہ ۲؎
(بھائی کے لگائے ہوئے بھاؤ پر بھاؤ لگانا حرام ہے۔ ت) سے نفس سوم کو عقد بیع کرلیں گے۔
(۲؎ صحیح مسلم باب تحریم البیع علی بیع اخیہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳)
بنایہ کی پہلی عبارت
لاینبغی ان تخطب المعتدۃ ش لان الخطبۃ للتزوج ونکاح المعتدۃ لایجوز ۳؎
(عدت والی عورت کو منگنی کاپیغام دینا مناسب نہیں، شرح میں ہے۔ کیونکہ منگنی نکاح کے لیے ہوتی ہے جبکہ عدت والی کونکاح جائز نہیں۔ ت)تو ظاہر ہے کیا نکاح معتدہ کو ''لاینبغی'' کہا جاتا اس کی تحریم تو محرمات میں گزری، یہاں کاتب نے ''لان ''چھوڑدیا ہے متن نے دو مسئلے بیان فرمائے ایک خطبہ صریحہ اسے منع فرمایا، شارح اس کی دلیل بتاتے ہیں کہ خطبہ تو بغرض تزوج ہی ہے اورتزوج معتدہ حرام، دوسرا خطبہ بالکنایہ، اسے جائز فرمایا کہ لاباس بالتعریض فی الخطبۃ ۴؎ (عدت والی کو کنایہ کے طور پر منگنی کے پیغام میں کوئی ممانعت نہیں۔ ت)
(۳؎ البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الحداد مکتبہ امدادیہ مکۃ المکرمہ ۲/۴۳۴)
( ۴ البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الحداد مکتبہ امدادیہ مکۃ المکرمہ ۲/۴۳۴)
یعنی خطبہ ہو مگر نہ الفاظ صریحہ میں بلکہ کنایہ تو حرج نہیں۔ کیا کوئی مسلم بلکہ کوئی عاقل اس کے یہ معنی لے سکتا ہے کہ معتدہ سے نکاح بالکنایہ جائز ہے حاش للہ!
دوسری عبارت:
ای لایجوز ان یقول صریحا اریدان انکحک اواخطبک لان الخطبۃ للتزوج کما ذکرنا ۵؎۔
یعنی صراحۃً یہ کہناکہ میں تجھ سے نکاح کرناچاہتاہوں۔ یا میں تجھے پیام نکاح دیتاہوں، ناجائز ہے کیونکہ منگنی نکاح کے لیے ہوتی ہے جیساکہ ہم نے ذکر کیا (ت)
( ۵؎ البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الحداد مکتبہ امدادیہ مکۃ المکرمہ ۲/۴۳۴)
جس میں کاتب نے ''ای'' کا ''ان'' اور للتزوج کا التزوج لکھا ہے اس میں ان صاحبوں کو غالباً یہ دھوکا لگا کہ اخطب کہ منصوب پڑھا اور انکح پر معطوف اور ''ارید'' کے تحت میں داخل مانا کہ یہ کہنا جائز نہیں کہ میں تجھ سے خطبہ کرنا چاہتا ہوں یوں سمجھ لیا خطبہ تزوج ہے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اخطب مرفوع حکائی اورا س کا عطف ''ارید'' پر ہے یعنی یہ کہنا جائز نہیں کہ میں تجھ سے نکاح کیا چاہتا ہوں نہ یہ کہنا جائز ہے کہ میں تجھے خطبہ کرتا یعنی پیام نکاح دیتاہوں پھر اس کے صریح ہونے کی وجہ فرماتے ہیں کہ خطبہ تزوج ہی کے لیے ہوتا ہے تو ''اخطبک'' کے معنٰی بعینہٖ وہی ہوئے کہ ''ارید ان انکحک'' آیہ کریمہ کی مثل امہات تحریم ابدی عام کے لیے ہے، یہ بیشک ازواج مطہرات سے خاص ہے ورنہ ختنین کریمین سے تزویج بنات مکرمات نہ ہوسکتی اس سے یہ لازم سمجھناکہ غیر ازواج مطہرات میں حل مطلق ہے سخت جہل ہے کہاں تحریم مطلق کی نفی کہاں حل مطلق کا اثبات، یعنی سالبہ کلیہ کا نقیض موجبہ کلیہ ولاحول ولاقوۃ الاباللہ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴: از موضع بین ضلع پٹنہ مرسلہ جناب سید مظفر حسین صاحب مورخہ ۲۲ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی بالغہ لڑکی ہندہ کی نسبت عمرو سے مقرر کی اور بکر کو وکیل بالنکاح اور ناکح مقرر کرکے خط لکھ بھیجا کہ ہندہ کانکاح عمر و سے اکیس ہزار روپے دین مہر پر کردو، ان تمام باتوں کی اطلاع ہندہ کو ہے اگرچہ اجازت ہندہ سے موافق دستور ہندستان نہیں مانگا گیاا ور ہندہ کی کسی حرکات وسکنات سے عدم رضامندی اور ناراضگی بھی ظہور میں نہ آئی، بکرنے اکیس ہزار دین مہر پر عمرو سے ہندہ کا نکاح کرکے زید کے پاس خط لکھ بھیجا کہ فلاں تاریخ عمرو سے ہندہ کا نکاح اکیس ہزار پر کردیا آپ لڑکی کو خبر کردیجئے، زید نے اپنی لڑکی کو اطلاع دلوا یا تو لڑکی نے قبول کرلیا، نکاح ایسی صورت میں قبول ہوا اور تجدید کی ضرورت تونہیں ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اگرصورت واقعہ یہ ہے تو نکاح صحیح وتام و نافذ ولازم ہوگیا، اگر کوئی مانع شرعی مثل فساد مذہب وغیرہ نہ ہو تجدید کی حاجت نہیں
فان الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالہ السابقۃ ۱؎ کما فی الخیریہ وغیرھا
(کیونکہ بعد کی اجازت پہلی وکالت کی طرح ہے۔ جیساکہ خیریہ وغیرہ میں ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ فتاوٰی خیریہ فصل فی نکاح الفضولی دارالمعرفۃ بیروت ۱/۲۷)