Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
219 - 1581
مسئلہ ۴۵۸: از شہر بریلی محلہ ذخیرہ مرسلہ عبدالحلیم صاحب ۳۰ شوال ۱۳۳۵ھ

صاحبان علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں: زید نے اپنے آپ کو قوم کا پٹھان خاندانی ظاہر کیا اور بکر سے کہا کہ تم اپنی دختر کا نکاح میرے ساتھ کردو، بکر نے اپنی دختر کا نکاح زید کے ساتھ کردیا، بعد نکاح ہوجانے کے بکر کو معلوم ہواکہ زید قوم کا پٹھان نہیں ہے دھوکا دے کر نکاح کیا، اور وہ قوم کا فقیر تکیہ دار قبرستان ہے کہ جس سے میرے خاندان میں حقارت ہوگی او ر سبب بدنامی ہوگی، بکر نے اپنی دختر کو رخصت کرنے سے انکار کیااور بعد نکاح کے رخصت نہیں کی اور بکر قوم کا سید ہے۔
الجواب: دختر بالغہ تھی یا نابالغہ؟ کیا عمر تھی، عارضہ ماہواری آتاتھایا نہیں؟ وقت نکاح دختر سے اذن لیا تھا یا نہیں؟ سب مفصل لکھا جائے کہ سوال لائق جواب ہو فقط

عالی جاہ! وقت نکاح دختر کی عمر ۱۳ سال ۲ ماہ کی تھی، عارضہ ماہواری آتا تھا، اذن لڑکی سے لیا گیا تھا لیکن اس نے جواب  دیا کہ میں کچھ نہیں جانتی، اس پرمجبوراً اس کی چچی نے اجازت دی، اجازت لڑکی کے باپ کی تھی بلکہ صرف  لڑکی کا باپ اور بھائی بھی دونوں گواہ نکاح تھے فقط۔
الجواب:صورت مستفسرہ میں ظاہر ہے کہ زید کسی طرح سادات تو سادات کسی مغل، پٹھان کابھی کفو نہیں ہوسکتا، اور لڑکی بالغہ تھی اور اس نے اذن لینے پر لفظ یہ کہے کہ ''میں کچھ نہیں جانتی'' ظاہر ہے کہ یہ صاف اذن نہیں بلکہ اس سے معاملہ میں اپنا دخل نہ دینا بحسب منطوق مستفاد ہوتاہے او رکبھی بحسب قرینہ دوسروں کے اختیار پر چھوڑ نابھی مفہوم ہوتاہے یعنی مجھے بحث نہیں تم جیسا جانو کرو۔ بر تقدیر دوم یہ نکاح دخترکی اجازت سے قرار پائے گا او ربالغہ کہ ولی رکھتی ہے اپنا جو نکاح غیر کفو سے کرے جسے پیش ازنکاح غیر کفو جان کر ولی نے صراحۃً اجازت نکاح نہ دی ہو وہ نکاح باطل محض ہوتاہے کمافی البحر والدر واوضحہ فی ردالمحتار (جیساکہ بحر اور در میں ہے اور ردالمحتار میں اس کی توضیع کی گئی ہے۔ ت) اس تقدیر پر تویہ نکاح اصلا ہوا ہی نہیں اور برتقدیر اول نکاح فضولی تھا اورضرور ہے کہ بعد نکاح دختر کو نکاح ہوجانے کی خبر عادۃً پہنچی اب دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو اس نے خبر سن کر اس نکاح فضولی کو جائز کیا اگرچہ یونہی کہ خبر سن کر مسکرائی یا خاموش رہی، یا جائز نہ کیا بلکہ اپنی ناراضی کا اظہار کیا، بر تقدیر دوم ظاہرہے کہ وہ نکاح کہ اجازت دختر پر موقوف تھا اس کے اظہار ناراضی سے مردود وباطل ہوگیا، بر تقدیر اول پھریہ نکاح باجازت دختر ٹھہرا۔
ۤلان الاجازۃ اللاحقۃ کالو کالۃ السابقۃ ۱؎۔ وقد صرح بہ فی الخیریۃ فی مثل الجزئیۃ۔
کیونکہ بعد کی اجازت ایسے ہے جیسے سابقہ وکالت ہو، اس کی تصریح خیریہ میں اسی طرح کے جزئیہ میں کی ہے۔ (ت)
 ( ۱؎ فتاوی خیریہ        باب الاولیاء والاکفاء        دارالمعرفۃ بیروت    ۱/۲۵)
او ربالغہ ولی رکھتی ہے بے اجازت صریحہ ولی بعد علم بعدم کفاءت جو نکاح غیر کفو سے کرے باطل ہے توا س طرح باطل ہوگیا، غرض صورت مذکورہ میں جس پہلوپر دیکھا جائے یہ نکاح  باطل محض ہے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ ۴۵۹: قصبہ کست ڈاکخانہ بندھیا چل ضلع مرزاپور مرسلہ محمد زکریا صاحب ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مولوی محمد یحیٰی نے انتقال کیا اور شاہ عبدالکریم والد اور اپنی والدہ اور برادر حقیقی حافظ محمد زکریا اور ہمشیرہ اور زوجہ مسماۃ احمدی بی بی اور دختر مسماۃ محمودہ بی بی زوجہ اولٰی اوردختر مسماۃ راضیہ بی بی زوجہ ثانیہ بااحمدی بی بی کو چھوڑا، شاہ عبدالکریم نے بولایت خود مسماۃ محمودہ بی بی کا عقد مولوی محمد یحیٰی مرحوم کے نانہالی رشتہ دار کے فرزند سے کردیا اور شاہ عبدالکریم کا انتقال ہوگیا قبل انتقال ہونے کے شاہ عبدالکریم مرحوم مسماۃ احمدی بی بی زوجہ مولوی محمد یحیٰی مرحوم وحافظ محمد زکریا اپنے فرزند کو بلاکر وصیت کیا کہ مسماۃ راضیہ بی بی جس کی عمر تخمیناً ڈیڑھ سال کی ہے اس کا عقد تمھارے بیٹے عبدالسلام کے ساتھ بولایت جائز  اپنے کئے دیتا ہوں اگر تم اس کے خلاف کرو گے تو مواخذہ عقبٰی تمھارے ذمہ ہوگا۔ اب اس لڑکی مسماۃ راضیہ بی بی کا عقد جس کی عمر تخمینا تیرہ چودہ سال کی ہے مسماۃ احمدی بی بی اور اس کے نانا شاہ عبدالعزیز ایک ایسے شخص کے ساتھ جو سب انسپکٹری اور تارک الصلوٰۃ داڑھی منڈواتا ہے اور رشوت خوری اور اس کے خاندان سے اور مولوی محمد یحیٰی مرحوم کے خاندان سے اور مسماۃ احمدی بی بی کے خاندان سے کبھی کوئی رشتہ داری اورقرابت نہیں رہی اور نہ کچھ واسطہ کرنا چاہتے ہیں۔ حافظ محمد زکریا بالغ کہتاہے کہ حق ولایت شرعا مجھ کوحاصل ہے اور لڑکی نابالغ ہے قانوناً اٹھارہ برس بلوغ کا رکھا گیا ہے اور وہ سب انسپکٹر غیر کفوہے او رخلاف شریعت محمدیہ کے اس کے افعال وحرکات ہیں اور تبرائی رافضیوں سے ا س کی رشتہ داری اور اس کی محفلوں اور مجلسوں میں وہ شریک ہوتا ہے اس لئے اس سے نکاح ناجائز اوربدون اجازت ولی یعنی مربی اس کا نکاح اس کی ماں اور نانا وغیرہ کرسکتے، آیا شرعاً ولی جائز کون ہے؟ آیا شرعا کفو سے اور کفو اور غیر کفو کی تعریف شریعت محمدیہ میں کیا تعریف ہے؟ آیا ایک مسلمہ کا نکاح ایسے شخص سے جو تارک الصلوٰۃ ہوا ور خلاف شریعت نبویہ کے کام کرتا ہو جائز ہے؟ آیا وصیت پر عمل جائز ہے یا ناجائز؟ بینوا تو جروا
الجواب: سوال سے ظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ شاہ عبدالکریم نے اپنے انتقال سے پہلے اپنی نابالغہ پوتی راضیہ کا نکاح حافظ محمد زکریا کے بیٹے سے کہ غالبا وہ بھی اس وقت نابالغ ہوگا کیا آگے سوال میں کچھ مذکور نہیں کہ محمدزکریا نے اس جلسہ میں الفاظ قبول کہے یانہیں، اور اس وقت دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں جلسہ میں حاضر اورشاہ عبدالکریم وحافظ محمد زکریا کے ایجاب وقبول کو سننے والے اور اس کی گفتگوکو عقد نکاح، سمجھنے والے موجود تھے یا نہیں، اگر حافظ زکریا نے اسی جلسہ میں اپنے بیٹے کے لئے کہا کہ میں نے قبول کیا اور دو گواہوں نے سنا اورسمجھا تو راضیہ کا اسی وقت نکاح ہوگیا اب اگر اس کا وہ شوہر موجود ہے تو دوسرے سے نکاح ہوسکتا ہی نہیں۔ اور اگر یہ صورت نہ تھی اورسوال سے ظاہر یہی ہے کہ نہ تھی محمد زکریا اپنے ولایت کے دعوی سے اس نکاح سے مانع ہے یہ نہیں کہتاکہ اس کا نکاح تو میرے بیٹے سے ہوچکا۔ تو اب دو صورتیں ہیں اگر راضیہ کے اولیاء اور گھروالے صالحین ومتبع شرع ہوں اور ایک ایسے شخص کے ساتھ کہ فاسق معلن ہے راضیہ کا نکاح ان کےلئے باعث ننگ وعار ہے یا وہ نسب وغیرہ کسی اور بات میں ایسی کمی رکھتا ہے تو راضیہ کے لئے وہ کفو نہیں، شریعت مطہرہ میں بلوغ ظہور آثار پر ہے۔ عورت کم از کم نو برس کی بالغہ ہوسکتی ہے جبکہ اسے عارضہ ماہواری آنا شروع ہو، اوراگرآثار ظاہر نہ ہوں تو جب پندرہ برس پورے کی  عمر ہوجائے بالغہ ہوجائے گی، راضیہ کی عمر پندرہ برس سے کم ہے تو اگر اسے عارضہ ماہواری آتاہے بالغہ ہے ورنہ نابالغہ اگر نابالغہ ہے جب تو شخص مذکور سے کہ غیر کفو ہے ا س کا نکاح ہوسکتا ہی نہیں۔ محمد زکریا کہ اس کا ولی ہے اگر وہ بھی کرے گا باطل محض ہوگا نہ کہ احمدی یا شاہ عبدالعزیز کہ ولی ہی نہیں۔ اور اگر بالغہ ہے تواس پر ولایت جبریہ کسی کو نہیں، بے اس کی اجازت کے کفو سے بھی نہیں ہوسکتا اور غیر کفو سے وہ خود بھی نہیں کرسکتی جبکہ اس کا ولی اس سے نکاح پر راضی نہیں۔ اگر کرے گی تو باطل محض ہوگا، غرض اس شخص کے غیر کفو بمعنی مذکور ہونے کی حالت میں بناراضی محمد زکریا یہ نکاح کسی طرح نہیں ہوسکتا خواہ راضیہ بالغہ ہو یا نابالغہ اور اگر وہ اس معنی پر غیر کفو نہیں یعنی راضیہ کے خاندان والے بھی اسی قسم کے افعال رکھتے ہیں اور نسب ومذہب وغیرہ میں بھی کوئی ایسی کمی نہیں کہ یہ رشتہ اولیائے راضیہ کے لئے باعث ننگ وعار ہو اس صورت میں اگرراضیہ کو عارضہ ماہواری آتاہے تو وہ خود اپنے نفس کی مختار ہے اگر اس کے ماں یا نانا نکاح کردیں گے اور وہ اجازت دے دے گی صحیح ونافذ ہوگا اور محمد زکریا کوکوئی اختیاراعتراض نہ ہوگا، اور اگر راضیہ راضی نہ ہوگی تو محمد زکریا کے کئے بھی نافذ نہیں ہوسکتا نہ کہ احمدی وعبدالعزیز کے، اور اگر اسے عارضہ ماہواری نہیں آتا تو اب اختیار محمد زکریا کو ہے، اگر احمدی وعبدالعزیز بے اجازت محمد زکریا نکاح کردیں گے اجازت محمد زکریا پر موقوف رہے گا، اگر وہ رد کردے گا باطل ہوجائے گا جائز کردے گا جائز ہوجائے گا، والمسائل کلھا مشہورۃ وفی عامۃ الاسفار مذکورۃ (یہ مسائل مشہور ہیں اورعام کتب میں مذکور ہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
نوٹ: اس جلد کا آخری عنوان باب الکفاءۃ ہے، بارہویں جلد کا آغاز باب المہر سے ہوگا۔
Flag Counter