Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
218 - 1581
مسئلہ ۴۵۰: مسئولہ اختر حسین خان از بریلی محلہ شاہ آباد

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے ایک یتیم نابالغہ سیدزادی لے کر پالی اور اسی نابالغی میں اس کا نکاح ایک پٹھان سے کردیا اور اس کا بالغ بھائی تھا اسے اطلاع بھی نہیں دی بوجہ نابالغی رخصت نہ ہوئی اب وہ مفقود الخبر ہے اور لڑکی بالغہ ہوگئی ، اس صورت میں وہ اپنا نکاح دوسری جگہ کرسکتی ہے  یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: اگریہ بیانات واقعی ہیں تو وہ نکاح اصلا نہ ہوا، لڑکی کو اختیارہے جس اچھی جگہ چاہے اپنا نکاح کرلے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۱: از شہر بریلی محلہ براہم پور مسئولہ محمد عرف کما ل اللہ شاہ صاحب ۱۱ صفر ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س باب میں کہ زید نے اپنی زوجہ منکوحہ سے بعد دینے طلاق کے اپنی دختر نابالغہ کو طلب کیا اس نے دینے سے انکار کیا، اس وقت زید بارادہ سفردور دراز کے مجبور ہوا اور متنبہ کردیا کہ خبردار اس کا نکاح خلاف رائے میری کے نہ ہو، چنانچہ مسماۃ مذکورہ نے عد م موجودگی زید کے اس دختر نابالغہ کا نکاح خلاف رائے زید کے کردیا، وہ شوہر دختر مثل عورات بازاری کے رقص کرنے والاہے او رپابند صوم وصلوٰۃ نہیں شراب خور ہے، اب دختر بفضلہ تعالٰی بالغہ ہے اس نے دفتر شکایات اس شوہر کا اپنے باپ زید سے بیان کیاکہ میرا نکاح اس شخص کے ساتھ جائز ہوا یا نا جائز؟ بینوا تو جروا
الجواب: سائل نے بیان کیا نکاح ہوئے تین برس ہوئے اور عورت کی عمر اس وقت گیارہ سال تھی او رنابالغہ تھی او رمرد کی عمر پچیس سال تھی اور جبھی سے ناچنے کا پیشہ رکھتا تھا، اور اسی وجہ سے باپ نے اس کے ساتھ نکاح کرنے کو منع کردیا تھا، باپ اندور چلاگیا، اس کے پیچھے عورت نے نکاح کردیا اور باپ کو کوئی خبر نہ ہوئی، لڑکی تین مہینے سے بالغہ ہوگئی، اب کوئی ایک ہفتہ ہوا اس کا باپ اندور سے آیا تو اب لڑکی نے اس سے شکایت کی، اس سے پہلے اس نے بھی کچھ نہ کہا، اگر صورت واقعہ یہ ہے تو نکاح مذکور باطل ہوگیا، ابتداء میں جب نکاح واقع ہوا ہے پدر پر موقوف تھا، 

لانہ وان کان من غیر کفووالمزوج غیر اب وجد لکنہ عقد فضولی صدر، ولہ مجیز وھو الاب لان التزویج من غیرکفؤ۔

کیونکہ یہ نکاح غیر کفو میں ہے اور نکاح دینے والے باپ دادا کاغیر ہیں اور یہ فضولی کا نکاح ہوا جس کو جائز کرنے والا لڑکی کا باپ ہے کیونکہ اسی کو غیر کفو میں نکاح کا اختیار ہے۔ (ت)

جبکہ اس مدت میں عورت بالغہ ہوگئی توا ب وہ نکاح خود اس کی اجازت پر موقوف ہوگیا اور اس نے بعد بلوغ مدت سکوت کیا اس کی طرف سے اجازت ہوگئی، تو اب یہ ایسا ہوا کہ بالغہ نے اپنی رائے سے ایسے شخص کے ساتھ نکاح کرلیا اور ایسا شخص ضرو ر غیر کفو ہے اور اس کے ساتھ بالغہ کا اپنی رائے سے نکاح کرلینا باطل محض ہے،
درمختار میں ہے:
ویفتی بعدم الصحۃ فی غیر کفو لفساد الزمان ۱؎۔
غیر کفو میں نکاح کے اصلا عدم جواز کا فتوی دیا جائیگا فساد زمان کی وجہ سے۔ (ت)
 ( ۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)
لہذایہ نکاح باطل محض ہوگیا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۲ تا ۴۵۴: از سیرہ ضلع ہوشنگ آباد محلہ مانپورہ مسئولہ حافظ شاہ افضل خاں صاحب ۲۴ محرم ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں ، براہ کرم جواب سے مع دلائل نقلی کے مشرف وممتاز فرمائیں:

(۱) ایک عورت ہے جو نسبی سیدہ ہے اس سے کسی شخص نے جو نسباً سید نہیں ہے نکاح کیا تو اس کو لوگ کافر کہتے ہیں تو کیا شخص مذکورہ کافر ہوا یا نہیں؟ اگر نہیں ہوا تو کہنے والوں پر شریعت کا کیا حکم ہے؟

(۲) عورت بالغہ جو نسبا سیدہ ہے باکرہ ہو یا ثیبہ یا مطلقہ کسی شخص سے جو نسبا سید نہیں ہے نکاح کرے تو جائز ہوگا یا نہیں؟

(۳) مرد غیر سید نے سیدہ عورت سے نکاح کیا اور اگر وہ نکاح جائز ہوا تو جواولادکہ اس سے پیدا ہوگی وہ نسبا سید کہلائے گی یانہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب

(۱) حاشا للہ اسے کفر سے کیا علاقہ، کافر کہنے والوں کو تجدید اسلام چاہئے کہ بلاوجہ مسلمان  کو کافر کہتے ہیں، امیر المومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم کہ بطن پاک حضرت بتول زہرا رضی اللہ عنہا سے تھیں امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نکاح میں دیں اور ان سے حضرت زید بن عمر پیداہوئے اورامیر المومنین نسباً سادات سے نہیں۔

(۲) سیدہ عاقلہ بالغہ اگر ولی رکھتی ہے تو جس کفو سے نکاح کرے گی ہوجائے گا اگرچہ سید نہ ہو مثلا شیخ صدیقی یا فاروقی یا عثمانی یا علوی یا عباسی،ا وراگر غیر کفو سے بے اجازت صریحہ ولی نکاح کرے گی تو نہ ہوگا جیسے کسی شیخ انصاری یامغل، پٹھان سے مگر جبکہ وہ معزز عالم دین ہو، 

(۳) جب باپ سید نہ ہو اولاد سیدنہیں ہوسکتی اگرچہ ماں سیدانی ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۵: از شہرمحلہ سوداگران مسئولہ مولوی احسان علی صاحب طالبعلم مدرسہ منظر الاسلام ۱۸صفر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکی بالغہ ہوگئی اورفی الحال کوئی کفو نہیں ملتا کہ جس کے یہاں نکاح ہو غیر کفو ملتے ہیں یعنی کم حیثیت والے یا لڑکی کے والدین سے زائد حیثیت کے ملتے ہیں مگر ذاتا کامل اچھے نہیں، مثلا لڑکے کے آباؤ اجداد اچھے تھے لیکن ان کی جو ر وطوائف تھی بعد نکاح اس سے یہ لڑکا ہوا تو دونوں میں کس کے یہاں کرنابہترہے یا کفو کا انتظار کرے؟ بینوا تو جروا
الجواب

فقط مالی حیثیت میں کم ہونا مانع کفاءت نہیں کفو وہ نہیں ہے جس کے ساتھ اس عورت کا نکاح اس کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار ہو، باپ اگر شریف القوم ہے اور طوائف سے بعد توبہ اس نے نکاح کیا تو اس سے بچہ کی نسب پر حرف نہیں آتا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۶: از ریاست جاورہ لال املی مسئولہ ممتاز علی خاں صاحب اہلکار محکمہ حساب ۲ شوال ۱۳۲۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو یہ یقین دلاکر تمھارانکاح شوہر محمود جو نجیب الطرفین اور تمھارا کفو ہے کرایا گیا لیکن ہندہ کو بعد نکاح ثابت ہوا کہ شوہر یعنی محمود غیر کفوہے اب ہندہ اور اس کے عزیز واقارب اپنے کفو کا داخل ہونا عار سمجھتے ہیں او رہندہ ایسے غیر کفو کو خودبھی شوہر بنانا عار وننگ خاندان سمجھتی ہے نیز اس کا اصل باپ یعنی زید بھی اس تعلق غیر کفو سے ناراض ہے پس ایسی حالت میں نکاح فسخ ہوسکتاہے یا نہیں؟ یاغیر کفو ہونے کی حالت میں نکاح فسخ ہی مانا جائے ہندہ بالغہ ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب

جبکہ ہندہ بالغہ ہے اور نکاح غیر کفو سے ہوا اور زید پدر ہندہ نے قبل نکاح اسے غیر کفو جان کر اس سے نکاح کی اجازت نہ دی تو نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں فسخ کی کیا حاجت،
درمختارمیں ہے:
ویفتی فی  غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ ۱؎ (ملخصا)
غیر کفو میں نکاح کے اصلا عدم جواز کافتوی دیا جائے گا جبکہ ولی نے لڑکی کے غیر کفو معلوم ہوجانے پر رضامندی ظاہر نہ کی ہو۔
 (۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)
مگر غیرکفو کے معنی  شرعاًیہ ہیں کہ مذہب یا نسب یا پیشہ یا چال چلن میں ایسا کم ہو کہ اسکے ساتھ اس کا نکاح اسکے اولیاء کیلئے واقعی باعث ننگ وعار ہو نہ کہ بعض جاہلانہ خیالات پر ، بعض عوام میں دستور ہے کہ خاص اپنے ہم قوم کو اپنا کفو سمجھتے ہیں، دوسری قوم والے کو اگرچہ ان سے کسی بات میں کم نہ ہو غیر کفو کہتے ہیں اس کا شرعا لحاظ نہیں جیسے شیخ صدیقی ہو شیخ فاروقی کو اپنا کفو نہ جانے یا سید ہو اور وہ شیخ صدیقی یا فاروقی یا قریشی کو اپنا کفو نہ سمجھے حالانکہ حدیث میں ہے۔
قریش بعضھم اکفاء بعض ۱؎
(بعض قریش بعض کے لئے کفو ہیں۔ ت)
 ( ۱؎ فتح القدیر    بحوالہ حاکم        فصل فی الاکفاء    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۳/۱۸۸)

(ردالمحتار    بحوالہ کافی للحاکم    باب الکفاءۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۱۹)
ردالمحتارمیں ہے:
فلو تزوجت ھاشمیۃ قرشیا غیر ھاشمی لم یرد عقدھا ۲؎۔
اگر ہاشمی لڑکی نے غیر ہاشمی قرشی سے نکاح کرلیا تو اسے رد نہیں کیا جائے گا۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار   بحوالہ کافی للحاکم    باب الکفاءۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۱۸)
مسئلہ ۴۵۷: از لکھنؤ محلہ سبزی منڈی مکان بگن وبٹن عقب مکان ابراہیم صاحب عینک ساز مرحوم مرسلہ عبدالمجید صاحب ۲۸ رجب ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام رحمہم ا للہ علیہم اس مسئلہ میں کہ لڑکی نابالغہ کی شادی بغیر حکم یابے اجازت اس کے والد کے کسی غیر کفو شخص کے ہمراہ اس لڑکی کی ماں کردے تو جائزہے اورجبکہ اس کی ماں کو بھی دھوکا دیا گیا ہو یعنی جو شخص اس لڑکی کے ساتھ شادی کررہا ہے وہ ایسے آپ کو حلفاً نہایت شریف شخص بتارہا ہے لیکن دریافت کے بعد معلوم ہوا کہ یہ شخص نہایت نیچ ذات کا شخص ہے تو ایسی حالت میں اس لڑکی کی ماں ناراض ہوکر اور باپ بھی ناراض ہوکر اس لڑکی کا نکاح فسخ کراسکتا ہے یا نہیں؟ آیا ان دونوں یعنی لڑکے کے والدین کو شرعا یہ حق حاصل ہے کہ اپنی لڑکی کوبغیر طلاق دلوائے ہوئے دوسرے شریف النسب شخص سے نکاح کراسکتے ہیں یا طلاق دلوانے کی ضرورت ہوگی؟ فقط، بینواتو جروا
الجواب:اگر صور ت واقعیہ یہ ہے کہ نابالغہ کی شادی اس کی ماں نے خصوصاً ایسے شخص سے کردی خواہ دانستہ یا دھوکے سے، اور والد کا اذن نہ اجازت ، تو اس صورت میں بدرجہ اولٰی یہ نکاح سرے سے بے ثبات محض ہوا، باپ کو نکاح فسخ کرانے کی اس حالت میں بھی حاجت نہ تھی کہ نکاح کفو سے ہوا ہوتا، اس کا رد کردینا ہی کافی ہوتا،تو یہاں بدرجہ اولٰی اس کا صرف اتنا کہہ  دینا بس ہے کہ ''میں اس پر راضی نہیں'' وہ نکاح ر د ہوجائے گا، اور والد کو اختیار ہوگا کہ بغیر طلاق دوسری جگہ نکاح کردے۔
لان عقد فضولی صدرولہ مجیز فتوقف علی اجازتہ فیرد بردہ۔
کیونکہ یہ فضولی کا عقد ہے جواس حال میں صادر ہوا کہ اس وقت اس کو جائز کرنے والا موجود تھا تواسی کی اجازت پر موقوف ہوا تو اس کے رد کرنے پر رد ہوجائے گا۔ (ت)

اور اگر والد اس سے پہلے اپنی کسی دختر کا نکاح غیر کفو سے کرچکا ہو تواب اس کی اجازت سے بھی جائز نہیں ہوسکتا نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔
لانہ عقد فضولی صدرولامجیزلہ لکون الاب عرف بسوء الاختیار فبطل رأسا کمافی الدر وغیرہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ یہ ایسانکاح فضولی صادر ہوا ہے کہ اس وقت اس کو جائز کرنے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ باپ سوء اختیار سے معروف تھا لہذا یہ باطل ہوگا جیساکہ دروغیرہ میں ہے۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter