Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
216 - 1581
مسئلہ ۴۴۷: ازکوپاگنج ڈاک خانہ کوپاگنج محلہ پورہ چندن ضلع اعظم گڑھ مکان مولوی الہٰی بخش صاحب مرسلہ حافظ محمد عبدالکریم صاحب ۱۷ ربیع الاول ۱۳۱۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک عورت داشتہ رکھا ، یعنی ہندہ کو جو خالد کی منکوحہ تھی اورخالد نے طلاق نہیں دیا اور جس زمانہ سے زید نے ہندہ کو اپنے پاس رکھا اس کے بطن سے کئی ایک لڑکے لڑکی پیدا ہوئے، زید لڑکے لڑکی کی شادی چاہتاہے، لوگ کہتے ہیں حرامی ہیں، پس حدیث شریف میں ایسے لڑکے لڑکیوں کے بارہ میں کوئی وعید وارد ہے یا اس فعل کا عذاب ثواب ان کے ماں باپ کو ہوگا؟ بینوا تو جروا
الجواب :سائل مظہر نے محاورے کے مطابق لفظ ثواب بھی لکھ دیا جس طرح کسی حکایت پرکہتے ہیں عذاب و ثواب برگردن راوی، حالانکہ اس کامحل وہاں ہے کہ اس امر میں دوباتوں کا احتمال ہو حرام میں ثواب کی کیا گنجائش ، یہ لفظ خطائے شدید ہے آئندہ احترام لازم ، زنا کا عذاب صرف زانی وزانیہ پر ہے اولاد زناپر اس کا وبال نہیں۔
قال اللہ تعالٰی : لاتزر وازرۃ وزر اخری ۱؎
 (ایک کابوجھ دوسرے پر نہیں۔ ت)
 ( ۱؎ القرآن الکریم            ۶/۱۶۴ و ۳۵/۱۸)
حدیث میں ہے:
لیس علی ولدالزنا من وزرا بویہ شیئ ۲؎۔ رواہ الحاکم عن الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
ولد زنا پر اس کے والدین کا بوجھ کچھ نہیں ہے (اس کو حاکم نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا ہے۔ ت)
 (۲؎ مستدرک للحاکم    کتاب الاحکام    دارالفکر بیروت    ۴/۱۰۰)
حدیث صحیح میں اولاد زنا کی نسبت اس قدر واردہے کہ:
ولدالزنا شرالثلثۃ ۳؎ ۔ رواہ الامام محمد وابوداؤد والحاکم والبیھقی فی السنن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
حرام کا بچہ اپنے ماں باپ سے بھی بد ترہوتاہے (اس کو امام محمد، ابوداؤد، حاکم اور بیہقی نے سنن میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
 (۳؎ مستدرک للحاکم     کتاب العتق و کتاب الاحکام   دارالفکر بیروت     ۲/۲۱۵ و ۴/۱۰۰)
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ بھی وہی حرکات اختیار کرے، خود دوسری حدیث میں اس مطلب کی تصریح ارشاد ہوئی کہ:
ولدالزنا شرالثلثۃ اذا عمل بعمل ابویہ ۴؎۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والبیہقی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند حسن۔
حرامی اپنے ماں باپ سے بھی بدتر ہے جبکہ ان کی طرح وہی کام کرے، (اس کو طبرانی نے کبیرمیں اور بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے بسند حسن روایت کیاہے۔ ت)
 ( ۴؎ السنن الکبرٰی للبیہقی    کتاب الایمان    دارصادر بیروت    ۱۰/۵۷ و ۵۸ و ۵۹)
یا یہ معنی کہ یہ عادتوں خصلتوں میں غالباً ان سے بھی بد تر ہوتاہے جبکہ علم وعمل اس کی اصلاح نہ کریں کہ برے تخم سے بری ہی کھیتی پیداہوتی ہے ؎
شمشیرنیک زاہن بدچوں کند کسے
 (ناقص لوہے سے اچھی تلوار کوئی کیسے بنائے۔ ت)
اور یہی مطلب ہے اس حدیث کاکہ:
فرخ الزنا لایدخل الجنۃ ۱؎۔ رواہ ابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند ضعیف۔
زنا کا چوزہ جنت میں نہ جائے گا۔ (اس کو ابن عدی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیاہے۔ ت)
 ( ۱؎ الکامل لابن عدی     ترجمہ بن ابی صالح ذکو ان السمان مدینی        دارالفکر بیروت        ۳/۱۲۸۶)
یعنی غالبا اس سے وہ افعال صادر ہوں گے جو سابقین کے ساتھ دخول جنت سے روکیں گے ، بالجملہ یہ مطلب کسی طرح نہیں کہ ان کے گناہ کا عذاب اس پر ہو یا بے گناہ وعید کامستحق ہو ،مگر اس امر نکاح میں شرع مطہر نے کفاءت کا بھی لحاظ فرمایا ہے دختروں کے لئے مطلقا بالغہ ہوں خواہ نابالغہ اور پسروں کے لئے جبکہ نابالغ ہوں۔
کما حررہ فی ردالمحتار مستند المافی البدائع وحققناہ فی البحروالخیریۃ والخانیۃ والتبیین والکافی والسراج الوھاج والھندیۃ کما ذکر ناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار۔
اس کو ردالمحتارمیں بدائع کے حوالے سے بیان کیاہے،اور ہم نے اس کی تحقیق بحر، خیریہ، خانیہ، تبیین، کافی، سراج الوہاج اور ہندیہ کے بیانوں سے کی ہے، جیسے کہ ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیہ پر ذکر کیاہے۔ ت)

اور شک نہیں کہ جس کا ولد الزنا ہونا مشہور ہو اس سے دختر حلال کا نکاح عرفا باعث ننگ وعارو انگشت نمائی ہوتاہے اور یہی معنی عدم کفاءت کے ہیں۔
فی الشامیۃ عن الفتح ان الموجب ھو استنقاص اھل العرف فیدو رمعہ ۲؎۔
فتاوی علامہ شامی میں فتح سے منقول کہ اہل عرف کا حقیر جاننا سبب ہے لہذا حکم کا مدار اسی پر ہوگا (ت)
 (۲؎ ردالمحتار        باب الکفاءۃ                داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۲۲)
تو بحالت عار کسی عورت کانکاح ولدالحرام کے ساتھ نہیں ہوسکتا اگر کیا جائے گا نکاح اصلا نہ ہوگا مگر دوصورتوں میں، ایک یہ کہ دختر نابالغہ کا نکاح باپ یا وہ نہ ہو تو دادااپنی تزویج سے کرے اور وقت نکاح نشے میں نہ ہو نہ اس سے پہلے اپنی اولاد سے کسی دختر کا نکاح غیر کفو سے کرچکاہو دوسرے یہ کہ زن بالغہ برضائے خود کرے اور اس کے لئے کوئی ولی ہو تو وہ پیش ازنکاح باوصف اس اطلاع کے کہ وہ شخص ولدالحرام ہے تصریحا اپنی رضاظاہرکردے والمسائل مفصلۃ فی الدر وغیرہ (در وغیرہ میں یہ مسائل تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ ت) 

یونہی اگر پسر کے نکاح میں دختر حرام کا دینا وہاں کے عرف میں باعث بدنامی وعار ہو تونابالغ پسر کانکاح بھی ایسی دختر سے اصلا نہ ہوگا سوااسی صورت پدر وجد بشرط مذکور کے علی ماتحررفی ماتقرر (جیساکہ تقریر میں واضح کیاگیا ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter