Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
215 - 1581
مسئلہ ۴۴۰: مرسلہ حاجی موسی عربی ۳ ذی قعدہ ۱۳۲۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ سادات کرام بیبیوں سے غیر قوم غیرسید مثل شیخ، مغل، پٹھان وغیرہ کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: سید ہر قوم کی عورت سے نکاح کرسکتے ہیں اور سیدانی کانکاح قریش کے ہر قبیلہ سے ہوسکتا ہے خواہ علوی ہو یا عباسی یا جعفری یا صدیقی یا فاروقی یا عثمانی یا اموی، رہے غیر قریش جیسے انصاری یا مغل یا پٹھان ان میں جو عالم دین معظم مسلمین ہو اس سے مطلقاً نکاح ہوسکتاہے ورنہ اگر سیدانی نابالغہ ہے اور اس غیر قریشی کے ساتھ اس کا نکاح کرنے والا ولی باپ یا دادا نہیں تو نکاح باطل ہوگا اگر چہ چچا یا سگا بھائی کرے، اور اگر باپ دادا اپنی  کسی لڑکی کانکاح ایسے ہی پہلے کرچکے ہیں تو اب ان کے کئے بھی نہ ہوسکے گا اور اگر بالغہ ہے اور اس کا کوئی ولی نہیں تو وہ اپنی خوشی سے اس غیر قریشی سے اپنا نکاح کرسکتی ہے، اور اگر اس کا کوئی ولی یعنی باپ دادا پردادا ان کی اولاد ونسل سے کوئی مرد موجود ہے او راس نے پیش از نکاح اس شخص کو غیر قرشی جان کر صراحۃً ا س نکاح کی اجازت دے دی جب بھی جائز ہوگا، ورنہ بالغہ کا کیا ہوا بھی باطل محض ہوگا۔ ان تمام مسائل کی تفصیل درمختار وردالمحتار وغیرہما کتب معتمدہ مذہب اور فقیر کے فتاوی میں متعدد جگہ ہے۔ واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۴۱: از رسالہ مرسلہ سید محمد شاہ صاحب ۹جمادی الالٰی ۱۳۱۷ھ

ایک شخص کافرمان ہے کہ سید یعنی آل نبی کی دختر ہر ایک کو پہنچ سکتی ہے یعنی ہر مسلمان سے عقد جائزہے، دوسرے نے جواب دیا کہ اگر جاروب کش مسلمان ہوجائے تو بھی جائز ہے؟ تواس کا جواب دیا کہ کچھ مضائقہ نہیں۔
 الجواب:شخص مذکور جھوٹا کذاب اور بے ادب گستاخ ہے، سادات کرام کی صاحبزادیاں کسی مغل پٹھان یا غیر قریشی شیخ مثلا انصاری کو بھی نہیں پہنچتیں جب تک وہ عالم دین نہ ہوں اگرچہ یہ قومیں شریف گنی جاتی ہیں مگر سادات کا شرف اعظم واعلٰی ہے اورغیر قریش  قریش کا کفو نہیں ہوسکتا تورذیل قوم والے معاذاللہ کیونکر سادات  کے کفو ہوسکتے ہیں یہاں تک کہ اگر بالغہ سیدانی خود اپنا نکاح اپنی خوشی ومرضی سے کسی مغل پٹھان یا انصاری شیخ غیر عالم دین سے کرے گی تو نکاح سرے سے ہوگا ہی نہیں جب تک اس کا ولی پیش از نکاح مرد کے نسب پر مطلع ہوکر صراحۃً اپنی رضامندی ظاہر نہ کردے، اور اگر نابالغہ ہے اور اس کا نکاح باپ دادا کے سوا کوئی ولی اگرچہ حقیقی بھائی یا چچا یا ماں ایسے شخص سے کردے تو وہ بھی باطل و مردود ہوگا۔ اور باپ دادا بھی ایک ہی بار ایسانکاح کرسکتے ہیں دوبارہ اگر کسی دختر کا نکاح ایسے شخص سے کریں گے تو ان کا کیا ہوا بھی باطل ہوگا۔
کل ذٰلک معروف فی کتب الفقۃ کالدرالمختار وغیرہ من الاسفار وقد فصلنا القول فیہ فی فتاوٰنا ۔ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
یہ تمام کتب فقہ میں معروف ہے جیسے درمختار وغیرہ اور ہم نے تفصیل کے طورپر اپنا قول اپنے فتاوی میں بیان کردیاہے، واللہ سبحنہ و تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۴۴۲: ا ز مدرسہ تحصیل نواب گنج ضلع بریلی مرسلہ مدرس اول مدرسہ مذکور ۲۲ شعبان ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح خالد کے ساتھ جوغیر کفو تھا لاعلمی میں کردیا بعد بلوغ زوجہ اور علم غیر کفو ہونے زوج کے زوجین میں نااتفاقی ہے، اورہندہ بھی بعد علم کے نہایت ناراض ہے اور دخترکی مفارقت چاہتی ہے مگر خالد محض ایذا رسانی کی وجہ سے ا س کو طلاق نہیں دیتا، اس صورت میں یہ نکاح فسخ ہوسکتاہے یا نہیں اور زوجہ مذکورہ کو نکاح ثانی کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: ائل نے بعد استفسار اظہار کیا کہ عورت پٹھان ہے اور خالد قوم کا دھنا اور اس نے اپنے آپ کو پٹھان ظاہر کرکے براہ فریب نکاح کرلیا منکوحہ مـذکورہ کا وقت نکاح باپ دادا کوئی نہ تھا، ہاں جوان بھائی موجود تھا مگر کسی وجہ سے جلسہ نکاح میں شریک نہ ہوا نہ ماں نے اس سے اجازت لی، پس صورت مستفسرہ میں شرعا یہ نکاح ہوا نہیں فسخ کسے کیا جائے، دخترہندہ کو اختیارہے جس سے چاہے نکاح کرلے،
درمختارمیں ہے:
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام لایصح النکاح من غیر کفو اصلا وما فی صدر الشریعۃ صح ولھما فسخہ وھم ۱؎۔
اگر نکاح دینے والا باپ داداکاغیر ہو اگرچہ وہ ماں ہو تو نکاح غیر کفومیں اصلا نہ ہوگا اور جو صدر الشریعۃ میں ہے کہ نکاح صحیح ہے اور باپ دادا کو فسخ کا اختیا رہے یہ محض وہم ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
ردالمحتارمیں زیر قول شارح تعتبر الکفاءۃ للزوم النکاح (کفو کا اعتبار لزوم نکاح کے لئے ہے۔ ت)

فرمایا:
ای علی ظاھر الروایۃ ولصحتہ علی روایۃ الحسن المختارۃ للفتوی ۱؎۔
یعنی ظاہر روایت پرا ور امام حسن کی روایت پر صحت نکاح کے لئے یہ شرط ہے اوریہی فتوی کے لئے مختارہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الکفاءۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۱۸)
درمختارمیں ہے:
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۲؎۔
اگر اقرب حاضر ہو تو ابعد کا دیا ہوا نکاح اس اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار     باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۴)
ردالمحتارمیں بحرالرائق سے ہے:
انھم قال کل عقد لا مجیز لہ حال صدورہ فھو باطل لا یتوقف ۳؎۔
جس نکاح کو جائز کرنے والا کوئی بھی نکاح کے وقت نہ ہو تو وہ موقوف نہ ہوگا باطل ہوگا (ت)
 (۳؎ ردالمحتار  باب الولی      داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۱۴)
فتح القدیر میں ہے:
مالامجیزلہ ای مالیس لہ من یقدر علی الاجازۃ یبطل ۴؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور جس کا کوئی جائز کرنے والا نہ ہو یعنی اجازت کا اختیار نہ رکھتاہو تو وہ باطل ہے۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۴؎ فتح القدیر  باب الولی     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳/۱۹۹)
مسئلہ ۴۴۳ تا ۴۴۶: از سنبھل ۱۵ رمضان المبارک ۱۳۱۷ھ

زید پہلے ٹھاکر تھا اب اپنے والدین واطفال کو چھوڑ کر مشرف باسلام ہوگیا، زیدکی خواہش ہے کہ نکاح کرے، زید کا کل خاندان اس سے برعکس ہے، بی بی کو مسلمان ہونا قبول نہیں، پس ایسی حالت میں سوالات ذیل ازروئے شرع شریف حل طلب ہیں، زید کی عمر اب ۲۲ سال ہے:

(۱) زید مشر ف باسلام ہونے کے بعد کون شمار کیا جائے گا اگرچہ شیخ کیونکہ شیخ بہت قسم کے ہیں۔

(۲) کس قوم کی لڑکی کے ساتھ زیدکانکاح ہوسکتاہے فی الحال سب اقوام انکار کرتی ہیں، شرع شریف کی رو سے کس قوم پر استحقاق ہے۔

(۳) اب زید کی اولاد ماں کی قوم پرمانی جائے گی یا باپ کی ذات پر؟

(۴) شرع شریف کی رو سے رذالت اور شرافت قوم پر منحصر ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب

(۱) مسلمان ہونے سے دونوں جہان کی عزت حاصل ہوتی ہے مگر مذہب کسی قوم کانام نہیں، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانے میں جس قوم وقبیلہ کے لو گ اسلام لاتے بعد اسلام بھی اس قوم وقبیلہ کی طرف نسبت کئے جاتے، ہندوانی قوموں میں چار قومیں شریف گنی جاتی ہیں ان میں چھتری یعنی ٹھاکر دوسرے نمبر پرہے، ہندوستان میں اکثر سلطنت اسی قوم کی ہے، ولہذا انھیں راجپوت کہتے ہیں تو ہندی قوموں میں ان کا معزز ہونا ظاہر ہے او ر ہماری شریعت مطہرہ نے حکم دیاہے کہ:
اذاا تاکم کریم قوم فاکرموہ ۱؎۔
جب تمھارے پاس کسی قوم کا عزت دار آدمی آئے تو اس کی خاطر کرو۔
 (۱؎ حلیۃ الاولیاء        ترجمہ ۳۶۳ سعید بن ایاس الجریری    دارالکتاب العربی بیروت        ۲/۰۶۔ ۲۰۵)
خالی آنے پر تو یہ حکم تھااور جو بندہ خدا بہدایت الہٰی بالکل ٹوٹ کر ہم میں آملا ہم میں کا ہوگیا اس کا کس قدر اعزاز واکرام اللہ سبحنہ کو پسند ہوگا، اسلام کی عزت کے برابر اور کیا عزت ہے، اس نے تو اسے اور بھی چار چاند نہیں ، بلکہ ہزار چاند لگادئے، اگر کوئی چمار بھی مسلمان ہو تو مسلمان کے دین میں اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھنا حرام اور سخت حرام ہے وہ ہمارا دینی بھائی ہوگیا، اللہ تعالٰی فرماتا ہے: انما المومنون اخوۃ ۲؎ (مسلمان مسلمان بھائی ہیں۔ ت)
 (۲؎ القرآن الکریم        ۴۹/۱۰)
اور فرماتاہے:
فاخوانکم فی الدین ۳؎
(تو وہ دین میں تمھارے بھائی ہیں۔ ت)
 ( ۳؎ القرآن الکریم         ۳۳/۵)
پھر جو کسی معزز قوم کا اسلام لائے اسے کیونکر حقیر سمجھا جائے، شیخ کسی خاص قوم کانام نہیں، ہندوستان میں مسلمانوں نے تین قومیں خاص شریف قرار دیں اور انھیں سید یا میر اور خاں اور بیگ کے خطاب دئے کہ ان سب لفظوں کے معنی عربی وفارسی وترکی میں سردار ہیں، باقی تمام شرفاء مثل اولاد امجاد خلفائے کرام وبنی عباس وانصار کو ایک لقب عام دیا، شیخ کہ یہ بھی بمعنی بزرگ ہے، ان کے سوا جوقومیں رہ گئیں کہ دنیاوی عرف میں رذیل سمجھی جاتی ہیں انھوں نے جب دیکھا کہ میر وخادم وبیگ تو خاص خاص اقوام کے لقب ہیں ان میں گنجائش نہیں اور شیخ ایک عام لفظ ہے جس میں باقی سب داخل ، تو اسی کو سمائی والاخطاب پاکر سب قوموں نے اپنی بھرتی اسی میں کردی، دھنا، جولاہا جس سے پوچھئے اپنے آ پ کو شیخ بتائے گا مگر حقیقۃً شیخ کی اصطلاح صرف انہی شریف قوموں یعنی صدیقی، فاروقی، عثمانی، علوی، جعفری، عباسی، انصاری وامثالہم کے لئے ہیں، ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے استاذ امام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا مذہب یہ تھاکہ جو شخص جس کے ہاتھ پر مسلمان ہو اس کی اولاد اس کے لئے ہے۔
فی ردالمحتار عن البدائع عندعطاء ھومولی للذی اسلم علی یدہ ۱؎۔
ردالمحتار میں بدائع سے ہے کہ عطاء کے ہاں وہ جس کے ہاتھ پر مسلمان ہوا اس کا وہ مولٰی ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب الولاء     فصل فی ولاء الموالاۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/۷۸)
اور ولاء اٰیک رشتہ ہے مثل رشتہ نسب کے حدیث میں ہے:
الولاء لحمۃ کلحمۃ النسب ۲؎ اخرجہ الحاکم والبیھقی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
ولاء نسب کی طرح ایک رشتہ ہے، (اس کو حاکم اور بیہقی نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
 (۲؎ المستدرک للحاکم    کتاب الفرائض            دارالفکر بیروت        ۴/۳۴۱)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: مولی القوم انفسھم ۳؎ رواہ الشیخان عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

کسی قوم کا آزاد کردہ ان میں سے ہے، اس کو شیخین نے انس رضی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیاہے۔ (ت)
 (۳؎ صحیح بخاری        کتاب الفرائض باب موالی القوم من انفسہم     قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲/۱۰۰۰)

(السنن الکبرٰی        باب من زعم ان موالی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     دار صادر بیروت        ۲/۱۵۱)
اسی مذہب کا ایک حدیث بھی پتا دیتی ہے:
من اسلم علی یدی رجل فلہ ولاءہ ۴؎۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس والدارقطنی والبیھقی عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔
جس کے ہاتھ پر کوئی شخص اسلام لائے تو اس کا رشتہ ولاء اسی سے قرار پائے (اسی کو طبرانی نے کبیرمیں ابن عباس سے اور دارقطنی اور بیہقی نے ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ ت)
 (۴؎ /۳    السنن الکبرٰی   کتاب الولاء               دار صادر بیروت        ۱۰/۲۹۸)
عجب نہیں کہ اس حدیث کا منشا بھی یہی ہو کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:

من اسلم من اھل فارس فھو قرشی ۱؎۔ رواہ ابن النجار عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
اہل فارس سے جو اسلام لائے وہ قرشی ہے (اسے ابن نجار نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
 (۱؎ کنز العمال    بحوالہ ابن النجار عن ابن عمر حدیث ۱۱۰۲۱    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت        ۴/۳۸۳)
کہ قریش نے فارس فتح کیا اس کے لوگ ان کے ہاتھوں مشرف باسلام ہوئے اس مذہب کی بناپر جو شخص جس کے ہاتھ مسلمان ہوگا بطور رشتہ ولاء اسی قوم میں گنے جانے کے قابل ہوگا، واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲) زید جبکہ خود اپنی ذات سے مسلمان ہوا تو اسے دربارہ نکاح کفو  و ہمسر ہونے کا حق اسی عورت پر پہنچتاہے جو خود مسلمان ہوئی ہو، جس لڑکی کا باپ مسلمان ہوا اور اس کے اسلام کی حالت میں یہ لڑکی پیدا ہوئی خود مسلمان ہونے والا اس کا بھی کفو نہیں۔
فی الدرالمختار اما فی العجم فتعتبر حریۃ واسلاما فمسلم بنفسہ غیر کفو لمن ابوھا مسلم ومن ابوہ مسلم غیر کفو لذات ابوین وابوان فیھما کالاباء لتمام النسب بالجد ۲؎ اھ مختصرا۔
درمختار میں ہے کہ عجمیوں میں آزاد ، مسلمان ہونا کفو ہے۔ لہذا جو شخص خود مسلمان بناوہ ایسے کےلئے کفو نہیں جس کا باپ مسلمان بنا، اورجس کا باپ مسلمان ہو وہ ایسے کا نہیں جس کے دو باپ یعنی باپ اور دادا مسلمان ہوچکے ہوں، اس معاملہ میں دو مسلمان باپ متعدد مسلمان آباء کی طرح ہیں کیونکہ نسب دادا پر مکمل ہوجاتاہے اھ مختصرا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    باب الکفاءۃ            مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۸)
اور اس کے سواپانچ صورتیں اس نکاح کی اور ہیں۔

ایک یہ کہ عورت عاقلہ جس کا کوئی ولی نہ ہوبرضائے خود اس سے نکاح کرے۔

دوم ایسی عورت کا ولی بھی پیش از نکاح اسے نو مسلم جان کر اس کے ساتھ نکاح کرنے پر صراحۃً اپنی رضا ظاہر کردے۔

سوم نابالغہ کا باپ یا یتیمہ کا دادا اس کے ساتھ نکاح کردے جبکہ اس سے پہلے کسی نابالغہ کا نکاح اپنی ولایت سے کم قوم یا کسی طرح کے غیر کفومیں نہ کرچکا ہو۔

چہارم مجہول النسب لڑکی کوحاکم اسلام اپنی ولایت سے اس کے نکاح میں دے دے۔

پنجم یہ شخص علم دین حاصل کرلے، مسلمانوں میں اس کی علمی فضلیت اوروں کی نسبی شرافت یا اسلامی قدامت کے ہم پلہ ہوجائے، عار عرفی باقی نہ رہے، اس وقت یہ شخص ہر قوم وقبیلہ کا کفو ہوسکتاہے۔
 (۳) اولاد ہمیشہ باپ کی قوم پرہوتی ہے۔
قال تعالٰی: وعلی المولودلہ رزقھن ۱؎
(جس کا بچہ ہے عورت کا نفقہ اس پر ہے۔ ت)
 ( ۱؎ القرآن الکریم        ۲/۲۳۳)
 (۴) شرع شریف میں شرافت قوم پر منحصر نہیں۔ اللہ عزوجل فرماتاہے:
اِن اکرمکم عند اﷲ اتقاکم ۲؎۔
تم میں زیادہ مرتبے والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو زیادہ تقوی رکھتاہے۔
(۲؎ القرآن الکریم   ۵۹/۱۳)
ہاں دربارہ نکاح اس کا ضرور اعتبار رکھاہے، باپ دادا کے سوا کسی ولی کواختیار نہیں کہ نابالغہ لڑکی کا نکاح کسی غیر کفو سے کردےجس سے اس کی شادی عرف میں باعث ننگ وعار ہو اگر کردے گا نکاح نہ ہوگا، عاقلہ بالغہ کو اجازت نہیں کہ بے رضامندی صریح اولیا اپنا نکاح کسی غیر کفو سے کرلے اگر کرلے گی نکاح نہ ہوگا والمسائل معروفۃ فی کتب المذہب جمیعا (یہ تمام مسائل مذہب کی کتابوں میں معروف ہیں۔ ت) واللہ تعالی اعلم۔
Flag Counter