مسئلہ ۴۳۸: ۲۲ شوال ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید ایک شخص اجنبی عمرو کے مکان پر رہتا ہے، عمرو نے وارثان ہندہ کے بہکاکر اور دھوکا دے کر زید کا نسب سید بتایا اور نکاح کرادیا، بعد کچھ مدت کے معلوم ہواکہ وہ سید نہیں نور باف ہے، اب وارثان ہندہ کو شرم معلوم ہوتی ہے اور بہت اہانت ہے کہ سید اور نورباف کا نکاح بہت عار ہے، لہذا وارثان ہندہ کو فسخ کرنافی زماننا جائز ہے یا نہیں؟ زید بعد ظاہر ہونے حال کے وہاں سے چلا گیا وقت رخصت زوجہ سے قسم کھا کر کہامیں اس قریہ میں تاحیات نہ آؤں گا، پھر اس مضمون کا خط لکھ کر بھیجا اب اس کا کیا حکم ہے؟َ بینوا تو جروا
الجواب: صورت مستفسرہ میں کچھ حاجت فسخ نہیں کہ وہ نکاح سرے سے خود ہی نہ ہوا، سائل مظہر کہ ہندہ بالغہ ہے اور روایت مفتی بہا پر ولی والی عورت کے لئے کفاءت شرط صحت نکاح ہے یا ولی اقرب پیش از عقد عدم کفاءت پر دانستہ اپنی رضا ظاہر کردے بعد عقد راضی ہوجانا بھی نفع نہیں دیتا۔
فی ردالمحتار تعتبر الکفاءۃ للزوم النکاح علی ظاھر الروایۃ ولصحتہ علی روایۃ الحسن المختار للفتوی ۲؎ اھ
ردالمحتار میں ہے کہ کفو کا اعتبار نکاح لازم کرنے کے لئے ہے جیسا کہ ظاہر روایت ہے، اورا مام حسن رحمہ اللہ تعالٰی کی روایت پر صحت نکاح کے لئے ہے اور یہی فتوی کے لئے مختار ہے اھ،
(۲؎ ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۱۸)
وفی الدرالمختار یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی فلا تحل بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ ۱؎ اھ مختصرا۔
درمختارمیں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے اصلا ناجائز ہونے کا فتوی دیا جائیگا یہی فتوی کے لئے مختار ہے، تو ولی کی رضا کے بغیر بیوی حلال نہ ہوگی بشرطیکہ ولی کو غیر کفو کاعلم ہو، اسے محفوظ کرلو اھ مختصراً،
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۱)
فی ردالمحتار ھذا اذاکان لھاولی لم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضی بعدہ بحر ۲؎۔
ردالمحتار میں ہے: یہ جب ہے کہ اس کا ولی ہو او رنکاح سے قبل راضی نہ ہوا ہو، اور نکاح کے بعد کی رضا کا رآمد نہ ہوگی، بحر (ت)
( ۲؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۹۷)
یہاں جب کہ وہ کفو نہیں اور ولی کو دھوکا دیا گیا دونوں امر سے کچھ متحقق نہ ہوا اور نکاح باطل محض رہا، بعد ظہور حال زید کی وہ قسم وتحریر سب مہمل ہے جس پر ہندہ کے لئے حکم حرمت مترتب نہیں ہوسکتا۔
اما مسألۃ الھندیۃ انتسب الزوج لھا نسبا غیر نسبہ فان ظھر دونہ وھو لیس بکفو فحق الفسخ ثابت لکل ۳؎،
لیکن ہندیہ کا مسئلہ کہ اگر مرد نے عورت کو اپنا نسب تبدیل کرکے بتایا تو بعد میں اس کانسب اس کے بیان کردہ نسب سے کم درجہ ظاہر ہوا تو یہ کفو نسبی ہے لہذا اولیاء کو فسخ کا اختیار ہوگا،
ومسألۃ الدرعن الولوالجیۃ نکحت رجلا ولم تعلم حالہ فاذا ھو عبد لا خیار لھا بل للاولیاء ولو زوجوھا برضا ھا وشرطوا الکفاءۃ اواخبرھم بھا وقت العقد فزوجھا علی ذلک ثم ظھرانہ غیر کفو کان لھم الخیار ۴؎ (ملخصا) فظاھران کل ذٰلک مبنی علی الظاھر وھو صحۃ العقد و ثبوت الاعتراض کیف وقد نقل المسألۃ فی الخانیۃ عن الاصل اما علی المختارۃ للفتوی فلا صحۃ اصلا کما لایخفی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور در کا مسئلہ یہ ہے کہ جو بحوالہ ولوالجیہ ہے کہ اگر لڑکی نے خود کسی شخص سے لاعلمی میں نکاح کرلیا بعدمیں معلوم ہوا کہ وہ غلام ہے تو لڑکی کو خود اختیار نہ ہوگا بلکہ اس کے اولیاء کو حق فسخ ہوگا اور اگر اولیاء نے خود نکاح کیا لڑکی کی رضامندی سے اور اولیاء نے کفاءت شرط کرلی یا نکاح کے وقت زوج نے وقت نکاح اولیاء کو کفو ہونے کی خبر دی اس شرط پر اولیاء نے نکاح کردیا، بعد میں لڑکے کا غیر کفو ہونا ظاہر ہوا تو اولیاء کو فسخ کا اختیار ہوگا، توظاہر ہے کہ یہ صحت نکاح اور ثبوت اعتراض پر مبنی ہے اور ظاہر کیسے نہ ہو جبکہ خانیہ میں یہ مسئلہ مبسوط سے منقول ہے لیکن جو چیز فتوی کے لئے مختار قراردی گئی ہے، اس پر یہ نکاح کا قول صحیح نہیں ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
( ۴؎ درمختار با ب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۴)
مسئلہ ۴۳۹: از الہ آباد چوک مرسلہ مولوی عبدالغفور صاحب سوداگر ۲۳ صفر ۱۳۱۶ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی فی ان العالم العجمی کفو للسیدۃ ام لابینوا بسند الکتاب توجروا یوم الحساب۔
آپ (رحمکم اللہ تعالٰی) کا اس مسئلہ میں کیا قول ہے کہ عجمی عالم سید زادی کا کفو ہے یا نہیں؟ کتاب کے حوالے سے بیان فرمائیں، قیامت کے روز اجر پائیں۔
الجواب: نعم اذاکان دینا متدینا لان فضل العلم فوق فضل النسب قال اﷲ تعالٰی یرفع اﷲ الذین اٰمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات۱؎۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵۸/۱۱)
ہاں ، جب عجمی عالم دیندار عامل ہو، کیونکہ علم کی فضیلت نسب کی فضیلت سے فائق ہے، اللہ تعالٰی نے فرمایا: تم میں سے ایمان والوں کو اللہ تعالٰی نے بلندی دی اور ان لوگوں کو جو علم دئے گئے ان کو کئی درجات دئے گئے،
وقال تعالٰی قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون ۲؎،
اور اللہ تعالٰی نے فرمایا: کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں،
(۲؎ القرآن الکریم ۳۹/۹)
فی وجیزالامام الکردری، العجمی العالم کفو للعربی الجاھل لان شرف العلم اقوی وارفع، وکذا العالم الفقیر لغنی الجاھل، وکذا العالم الذی لیس بقرشی کفو للجاھل القرشی والعلوی ۳؎ اھ
امام کردری کی وجیز میں ہے کہ عجمی عالم، جاہل عربی کا کفو ہوگا کیونکہ علمی شرافت اقوی وارفع ہے، اور یوں ہی عالم فقیر ہو تووہ جاہل غنی کا کفو ہوگا اور یوں ہی غیر قرشی عالم جاہل علوی اور جاہل قرشی کا کفو بنے گا اھ
(۳؎ وجیز الامام الکردری علٰی ھامش فتاوی ہندیہ الخامس فی الکفاءۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۱۱۶)
وفی الفتح والنھر وغیرھما عن جامع الامام قاضی خان العالم العجمی یکون کفوا لجاھل العربی والعلویۃ لان شرف العلم فوق شرف النسب ۴؎ اھ وفی النھر والدر جزم بہ البزازی وارتضاہ الکمال وغیرہ والوجہ فیہ ظاھر ۱؎ الخ
فتح اور نہر وغیرہمامیں جامع الامام قاضی خان سے منقول ہے کہ عجمی عالم، جاہل عربی اور جاہل علوی کا کفو ہے کیونکہ علمی شرافت نسبی پر غالب ہے، اھ۔ نہر اور در میں ہے کہ بزازی نے اس پر جزم کیا ہے اور کمال وغیرہ نے اس کو پسند فرمایا ہے اور اس کی وجہ ظاہر ہے الخ۔
(۴؎ فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۱۹۰)
(۱؎ درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۸)
وفی ردالمحتار عن الخیر الرملی عن مجمع الفتاوی عن المحیط العالم یکون کفو اللعلویۃ لان شرف الحسب اقوی ۲؎ الخ۔ قال وذکر ایضا یعنی الرملی انہ جزم بہ فی المحیط والبزازیۃ والفیض وجامع الفتاوی والدر ۳؎ الخ۔ وتمامہ تحقیقہ فیہ،
اور ردالمحتار میں خیرالدین رملی سے انھوں نے مجمع الفتاوی سے نقل کیا کہ محیط میں ہے کہ عالم ، علوی لڑکی کا کفو ہے کیونکہ عہدہ کی شرافت اقوی ہے الخ، اور فرمایا کہ رملی نے مزیدذکرکیا کہ محیط، بزازیہ ، فیض، جامع الفتاوی اور در نے اس پر جزم کیا ہے، اور اس کی مکمل تحقیق ردالمحتارمیں ہے
(۲؎ ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۲۳)
(۳؎ ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۲۳)
وفی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ، قال ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما للعلماء درجات فوق المؤمنین بسبعمائۃ درجۃ مابین کل درجتین مسیرۃ خمسمائۃ عام و ھذا مجمع علیہ وکتب العلم طافحۃ بتقدم العالم علی القرشی ولم یفرق سبحانہ وتعالٰی بین القرشی وغیرہ فی قولہ تعالی ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون ۴؎ اھ ملتقطا۔
اور فتاوی خیریہ لنفع البریہ میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا: علماء کو عام مومنین پر سات سو درجات برتری ہے اور ہر دو درجوں میں پانسو سال کا سفر ہے اور اس پر اجماع ہے اور تمام علمی کتب، قرشی پر عالم کے تقدم میں متفق ہیں، جبکہ اللہ تعالٰی نے اپنے ارشاد '' کیا عالم اور جاہل برابر ہیں'' میں قرشی اور غیر قرشی کی کوئی تفریق نہیں فرمائی اھ ملتقطا۔
(۴؎ فتاوی خیریہ مسائل شتی آخر کتاب دارالمعرفۃ بیروت ۲/۲۳۴)
قلت (میں کہتاہوں) ہم عالم کو دین کاعالم اور دین دار عالم سے مقید کریں گے کیونکہ حقیقۃً عالم یہی ہے جبکہ گمراہ علماء تو جاہلوں سے بدتر ہیں کیونکہ جاہل مرکب، انتہائی برا، رسوا، اور دونوں جہاں میں وہ حقیر اور ذلیل ہیں، ان کے چھوٹے چوپایوں کی طرح بلکہ اس سے بھی گئے گزرے، اور ان کے بڑے، کتے بلکہ ذلیل ترین ہیں،
اخرج الدارقطنی قال حدثنا القاضی الحسین بن اسمٰعیل نا محمد بن عبداﷲ المخرمی نا اسمعیل بن ابان ثنا حفص بن غیاث عن الاعمش عن ابی غالب عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اھل البدع کلاب اھل النار ۱؎۔ واخرجہ عنہ ابوحاتم الخزاعی فی جزئہ الحدیثی بلفظ اصحاب البدع کلاب اھل النار ۲؎،
دارقطنی نے تخریج کی ہے کہ ہمیں قاضی حسین بن اسمعیل ان کو محمد بن عبداللہ مخرمی ان کو اسمعیل بن ابان ان کو حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی انھوں نے اعمش انھوں نے ابوغالب انھوں نے ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: بدعتی لوگ جہنم کے کتے ہیں۔'' اس کی تخریج ابو حاتم خزاعی نے ان سے اپنی جزءحدیثی میں ان الفاظ کے ساتھ کی کہ ''اصحاب بدعت جہنم کے کتے ہیں۔''
ولابی نعیم فی الحلیۃ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اھل البدع شر الخلق والخلیقہ، قال العلماء الخلق الناس والخلیقۃ البھائم ۳؎۔ نسأل اﷲ السلامۃ والعفو والعافیۃ۔
ابو نعیم نے حلیہ میں روایت کیا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ ''اہل بدعت تمام مخلوق سے شریر ہیں۔'' علماء نے فرمایا کہ حدیث میں خلق سے مراد لوگ اور خلیقہ سے مراد چوپائے ہیں، اللہ تعالٰی سے ہم عافیت، سلامتی او رمعافی کا سوال کرتے ہیں۔
ثم اقول یجب التقیید ایضا بمااذا لم یکن من المتناھین فی الدنائۃ المعروفین بھا ،کالحائک و الدباغ والخصاف والحلاق ونظرائھم، فان المدار علی وجودالعار فی عرف الامصار کما صرح بہ العلماء الکبار۔ قال المحق علی الاطلاق فی فتح القدیر الموجب ھواستنقاص اھل العرف فید ورمعہ ۱؎اھ
ثم اقول (میں پھر کہتاہوں کہ) وہ عالم اس قیدسے بھی مقید ہونا ضروری ہے کہ وہ انتہائی حقیر او رمشہور کمترنہ ہو، جیساکہ جولاہا، نائی، موچی، چمڑا رنگنے والا اور ان کی مثل نہ ہو کیونکہ دارومدار اس بات پر ہے کہ علاقے کے عرف میں وہ حقیر شمار نہ ہو، جیساکہ اکابر علماء نے تصریح فرمائی ہے۔ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا کہ اہل عرف کا ناقص سمجھنا سبب ہے لہذا حکم کا دارو مدار اس پر ہی ہوگا الخ،
(۱؎ فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ نوریہ رضویہ سکھر ۳/۱۹۳)
وفی ردالمحتار قد علمت ان الموجب ھو استنقاص اھل العرف فید ور معہ فعلی ھذا من کان امیرا او تابعالہ وکان ذا مال ومروءۃ وحشمۃ بین الناس لاشک ان المرأۃ لاتتعیر بہ فی العرف کتعیرھا بدباغ وحائک ونحوھما وان کان الامیر اوتابعہ اٰکلا اموال الناس لان المدار ھنا علی النقص والرفعۃ فی الدنیا ۲؎ اھ مختصرا۔
ردالمحتارمیں ہے : آپ نے معلوم کرلیا کہ سبب وہ اہل عرف کا حقیر جانناہے تو اسی بات پر مدار ہوگااس لئے اگرکوئی امیر حاکم یا اس کا نائب اور مالدار اور سنجیدہ ہو اور لوگوں میں رعب والا ہو تو کوئی شک نہیں ایسے شخص سے عورت عار محسوس نہیں کرتی جیساکہ وہ دباغ اور جولاہے وغیرہ سے عار محسوس کرتی ہے اگرچہ حاکم اور اس کانائب ظلم کے طورپر لوگوں کے مال کھاتے ہوں _____ کیونکہ یہاں مدار دنیاوی حقارت و رفعت ہے اھ مختصرا،
(۲؎ ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۲۲)
ولا شک ان العلویۃ فی بلادنا لاتتعیر بالافاغنۃ والمغول المحلین بحلیۃ العلم والفضل فانھم فی انفسھم یعدون ھنا من الشرفاء الانجاب فاذا انضاف الی ذلک فضل العلم جبر نقص نسبھم بالنسبۃ الی العلوی بخلاف الحاکۃ والحلاقین وامثالھم فان التعیربھم لایزل بعلمھم اللھم الااذا تقادم العھد وتناساہ الناس وظھرلہ الوقع فی القلوب والعظم فی العیون بحیث لم یبق العار لبنات الکبار وذٰلک قلیل جدا فی ھذہ الامصار بل لایکاد یوجد عند الاعتبار ومن عرف المدار عرف ان الحکم علیہ یدار فافھم ، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۔
اس میں شک نہیں کہ علویہ لڑکی ہمارے علاقے میں افغان اور مغل جو کہ علم کے زیور سے آراستہ ہیں اور اہل فضل ہیں جو اپنے کو منتخب لوگوں اور شرفاء میں شمار کرتے ہیں ان سے عار محسوس نہیں کرتی، تو جب یہ لوگ علم وفضل کی طرف منسوب ہوں تو مزید شرافت کی بناء پرنسبی طورپر اگر علوی سے کم ہیں تو علم وفضل کی وجہ سے وہ کمی ختم ہوجاتی ہے، اس کے برخلاف جولاہے ، دھوبی اور نائی موچی وغیرہ کی عارعلم کی وجہ سے ختم نہیں ہوتی، ہاں جب یہ لوگ قدیم سے یہ کام چھوڑ چکے ہوں اور لوگ معزز انداز میں ان سے مانوس ہوچکے ہوں اور لوگوں کے دلوں میں ان کا وقار اور عام نگاہوں میں ان کی وقعت قائم ہوچکی ہو کہ اب بڑے لوگوں کی لڑکیوں کے لئے عار نہیں رہے تو اور بات ہے، لیکن ایسے علاقے ہیں بہت کم ہیں جن کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا، تاہم حقارت کا مدار عرف پر ہے، جب مدار یہ ہے کہ تو حکم اس پر ہوگا، سمجھو ____ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)