Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
213 - 1581
مسئلہ ۴۳۷: از اوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ یعقوب علی خاں صاحب ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح ہندہ بعمر چار سالہ ہوا تھا اور اس وقت عمر اس کے زوج بکر کی پانچ سال تھی جب بکر سن تمیز کو پہنچا تو مردی سے خارج ہے اور اور بہمراہی ہیز رقص کرتا ہے تو نامردی او ران حرکات زشت کے باعث والد ہندہ عار وکسر شان سمجھ کر دختر کے بھیجنے میں منکر ہے اور اب دختر کی عمر چودہ سال ہے، شوہر کو پسند وقبول نہیں کرتی، تو اس صورت میں دربارہ جواز وعدم جواز نکاح کا کیا حکم ہے اور بعد تفریق دین ومہر ا س کا ذمہ شوہر پر عائد ہوتا ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: اگرچہ مخنثوں کے ساتھ رقص کرنا بیشک زوال کفاءت کاباعث ہے کہ ایسے شخص سے رشتہ ضرور موجب ننگ وعار ہے مگر کفاءت کا اعتبار ابتدائے نکاح کے وقت ہے اگر اس وقت کفو ہو پھر کفاءت جاتی رہے تو اس کا لحاظ نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار والکفاءۃ اعتبارھا عند ابتداء العقد فلا یضرزوالھا بعدہ فلو کان وقتہ کفوا ثم فجر لم یفسخ ۱؎۔
درمختار میں ہے کہ کفو کا اعتبار ابتداء نکاح کے وقت ہے لہذا نکاح کے بعد اگر کفو ختم ہوجائے تو مضر نہیں جیساکہ نکاح کے وقت صالح ہونے کی وجہ سے کفو تھا اور  بعدمیں وہ فاسق بن گیا تو نکاح فسخ نہ ہوگا۔ (ت)
(۱؎ درمختار    باب الکفاءۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۵)
ظاہر ہے کہ خصلت شنیعہ بکر میں بعد نکاح پیدا ہوئی تو اس وجہ سے ابتداء اس کے نکاح پر اعتراض نہیں بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ آیا جس وقت نکاح ہوا اس وقت بھی بکر کفو ہندہ تھا یا نہیں اورمہر ہندہ میں اس کے مہر مثل سے کمی فاحش ہوئی یا نہیں اور نکاح ہندہ کے باپ یا اس کی عدم ولایت کی حالت میں دادا نے کیا یا ان کے غیر کے مثلا ماں بھائی چچا وغیرہم نے اور ان میں سے کسی نے کیا تو بحالت ولایت خود کیا مثلا باپ وغیرہ جو اس سے اقرب تھے شرعا قابل ولایت نہ تھے خوا ہ ان کی ولایت نہ رہی تھی یا بحال عدم ولایت کیاتھا کہ دوسرا ولی اقرب موجود تھا پھر اس تقدیر پر ولی اقرب نے سن کر جائز کر رکھا یا رد کردیا ہنوز ساکت ہے، غرض صورتیں بہت ہیں اور ان سب کا حکم شرعی یہ کہ صغیرہ کا نکاح جب غیر اَب وجَد نے کیا ہو اگر مہر مثل میں کمی فاحش کی یازوج اسی وقت مثلا بوجہ کم قوم ہونے کے کفو نہ تھا تو وہ نکاح سرے سے صحیح ہی نہیں ہوتا۔اگرچہ غیر ہی اسی وقت ولی اقرب ہو اور اگر اس وقت کفاءت تھی اور مہر میں بھی کمی فاحش نہ ہوئی تو بحال عدم ولایت نکاح اجازت ولی اقرب پر موقوف رہتاہے،اگر اس نے جائز کر دیا نافذ ہوگیا رد کردیا باطل ہوگیا، ساکت ہے تو ابھی اسے اختیار ہے کہ ردکردے خواہ نافذ، اور اگر وہ ساکت ہی رہے یہاں تک کہ صغیرہ سن بلوغ کو پہنچی تو اب اسے اختیار ہوگا کہ ا س نکاح موقوف کو رد کردے یا نافذ کردے ، اور بحال ولایت نکاح منعقد ونافذ ہوتا مگر صغیرہ کو خیار بلوغ ملتا ہے یعنی اختیار دیا جاتا ہے کہ اگر نکاح کا حال اسے پہلے سے معلوم ہے تو جس وقت بالغہ ہو یعنی علامت بلوغ مثل حیض ظاہر ہو یاپندرہ برس کی عمر ہوجائے، اور اگر پہلے سے معلوم نہیں تو بعد بلوغ جس وقت نکاح کی خبر ہو کہہ دے کہ میں اس نکاح سے راضی نہیں۔ اس صورت میں حاکم مطلقا نکاح فسخ کردے گا اگرچہ شوہر نامرد ومخنث نہ بھی ہو، مگر اس خیار میں کنواری لڑکی کو حکم ہے کہ بالغہ ہوتے ہی یا بعد بلوغ خبر پاتے ہی فوراً فوراً بلا توقف اپنی ناراضی ظاہر کرے، اگر ذرا دیر لگائے گی یہ خیار جاتا رہے گا اگرچہ شوہر نامرد ومخنث سہی، اور جو لڑکی شوہررسیدہ ہو اسے اختیار وسیع ملتا ہے کہ بعد بلوغ یا بالغہ ہونے پر اطلاع کے بعد جب چاہے ناراضی ظاہر کرے نکاح فسخ کردیا جائے گا جب تک کہ وہ صراحۃ زبان یا کسی فعل مثل بوسہ لینے یا نان ونفقہ مانگنے سے رضامندی ظاہرنہ کرے، اور جب باپ دادا نکاح کریں تو صغیرہ کو اس راہ سے اصلا اختیار فسخ نہیں ہوتا اگرچہ کفاءت نہ ہو یا مہر مثل میں کمی فاحش ہو بشرطیکہ نکاح خود باپ دادا نے پڑھایا یا شوہر ومقدار مہر معین کرکے کسی کو وکیل کیا یا جس نے چاہا بلا اجازت پڑھادیا مگر جب باپ یا دادا ولی اقرب کو خبر ہوئی تو باوصف علم عدم کفاءت وغبن فاحش اسے نافذ کردیا کہ ان صورتوں میں بھی وہ نکاح باپ دادا کا بذات خود ہی کیا ہوا ٹھہرے گا اور صغیرہ کو اصلا اختیار اعتراض نہ ملے گا مگر یہ کہ باپ دادا اس تزویج یا توکیل یا تنفیذ کے وقت نشے میں ہوں یااس سے پہلے بھی اپنے بچے کا نکاح غیر کفو یامہر میں غبن فاحش کے ساتھ کرچکے ہوں تو یہ نکاح ان کا کیا ہوا بھی صحیح نہیں ہوتا۔
فی الدرالمختار لزم النکاح ولو بغبن فاحش اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج بنفسہ ابا اوجدا لم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لا یصح النکاح اتفاقا وکذا لو کان سکران، وان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولوا لام لایصح النکاح من غیر کفواو بغبن فاحش اصلا وان کان من کفو  وبمھر المثل صح ولکن لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکر بالسکوت لو مختارۃ عالمۃ باصل النکاح ولایمتد الٰی اٰخر المجلس وان جھلت بہ ، خیار الصغیر والثیب اذا بلغا لایبطل بالسکوت بلاصریح رضا او دلالۃ علیہ کقبلۃ ولمس ۱؎ اھ ملتقطا،
درمختار میں ہے کہ جب نکاح دینے والا باپ دادا ہوتو غیر کفو اور انتہائی کم مہر کی صورت میں بھی نکاح ہوجائیگا بشرطیکہ وہ باپ دادا سوء اختیار میں مشہور نہ ہوں، اور اگر وہ اس میں مشہور ہوں تو بالاتفاق نکاح صحیح نہ ہوگا، اور یہی حکم ہے جب وہ نشہ میں ہوں، اور اگر نکاح دینے والے باپ دادا کا غیر ہوں خواہ ماں ہو تب بھی غیر کفو اور غبن فاحش یعنی انتہائی کم مہر کی صورت میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ ہاں اگر مہر مثل اور کفو میں یہ نکاح ہو تو صحیح ہوگا لیکن لڑکی کو بلوغ یا بلوغ کے بعد علم پر فسخ کا اختیار ہوگا بشرطیکہ قاضی فسخ کرے، مذکورہ صورت میں اگر لڑکی عاقلہ بالغہ ہو اور غیر کفو کا کیاہوا نکاح سُن کر خاموش رہے بشرطیکہ نکاح کا علم رکھتی ہو تو اس کا اختیار باطل ہوجائے گا، اور اس کا اختیار مجلس کے آخر تک باقی نہ رہے گا اگرچہ وہ اپنے اختیار کاعلم نہ رکھتی ہو، اور اگر نابالغ لڑکا ہو یا لڑکی ثیبہ ہو تو بلوغ پر محض سکوت سے اختیار ختم نہ ہوگاجب تک صریح رضا یا ا س کے قائم مقام کوئی عمل مثلا بوس وکنار نہ کرے اھ ملتقطا،
 (۱؎ درمختار     باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۹۳۔ ۱۹۲)
وفیہ عن النھر بحثا لو عین (ای الاب اوالجد) لو کیلہ القدر (ای قدر المھر) صح ۲؎ اھ موضحا،
اسی میں نہر سے منقول ایک بحث ہے کہ اگر باپ دادا نے پورے مہر کی شرط پر غیر کو وکیل بنایا تو نکاح صحیح ہوگا اھ وضاحت ہے ،
 (۲؎ درمختار     باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی      ۱/۱۹۲)
وفی ردالمحتار وکذا لوعین لہ رجلا غیر کفو کما بحثہ العلامۃ المقدسی ۱؎ اھ وفیہ بعیدہ  عن البحر عن المحیط، ان الجواز ثبت باجازۃ الولی فالحق بنکاح باشرہ ۲؎ اھ
ا ور ردالمحتار میں ہے کہ ایسے ہی ہوگا جب انھوں نے کفو کی شرط پر کسی  کو وکیل بنادیا ہو، جیساکہ یہ بحث علامہ مقدسی نے کی ہے اھ،اور اسی میں اس کے تھوڑا سا بعد بحر سے منقول ہے اور انھوں نے محیط سے کہ ولی کی اجازت سے کسی کا نکاح دینا یہ بھی ولی کے اپنے دئے ہوئے نکاح سے ملحق ہوگا اھ
 (۱؎ ردالمحتار        باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۰۵)

 (۲؎ ردالمحتار        باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت  ۲/۳۰۶)
وفی التنویر والدر (للولی الابعد التزویج بغیبۃ الاقرب) فلو زوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ مسافۃ القصر واختار فی الملتقی مالم ینتظر الکفو الخاطب جوابہ وعلیہ الفتوی ۳؎ اھ مختصرا،
تنویر اور در میں ہے ولی اقرب کی غیر حاضری میں ولی ابعد کو نکاح کا اختیار ہے، تو اگر ولی اقرب کی موجودگی میں ولی ابعد نے نکاح دیا تو یہ ولی اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا، غیر حاضری یہ ہے کہ سفر کی مدت پر یا اتنے بعد پر ہو کہ منگنی والا واپسی اس کے جواب واجازت کا انتظارہ نہ کرتاہو اور اسی پر فتوی ہے اھ مختصرا
 (۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی         مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۴)
وفی فتح القدیر لو بلغ قبل ان یجیزہ الولی فاجاز بنفسہ نفذ لانھا کانت متوقفۃ ۴؎الخ۔
اور فتح القدیر میں ہے کہ اگر نابالغ ولی کی اجازت دینے سے قبل بالغ ہوجائے توپھر خود اس کو اختیار ہوگا تو اس کی رضا پر نکاح نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ نکاح موقوف تھا الخ (ت)
 (۴؎ فتح القدیر        فصل فی الاولیاء    نوریہ رضویہ سکھر   ۳/۱۹۸)
پس اگر ہندہ میں صورت واقعہ وہ تھی جس میں نکاح سرے سے صحیح ہی نہ ہوا یا صحیح ہو کر بسبب رَدِّ ولی اقرب باطل ہوگیا، جب تو ظاہر ہے کہ بکر کو ہندہ پر کوئی دعوی نہیں پہنچتا، نہ وہ اس کی زوجہ نہ یہ اس کا شوہر، اور جب کہ ہنوز رخصت نہیں ہوئی جیساکہ سوال سے ظاہر ہے مہر اصلا لازم نہیں بلکہ ایسی حالت میں اگر فی الواقع مرد نامرد ہو تواس صورت میں مہر لازم ہونے کی کوئی شکل نہیں کہ نکاح غیر صحیح ہو تو مہر جماع سے لازم ہوتا ہے اور نامرد قابل جماع نہیں، اور اگر صورت وہ ہو جس میں نکاح ہنوز اجازت صاحب اجازت پر موقوف ہو تو اگر پدر ہندہ کی جانب سے قبل اس نکاح کے اجازت ورضا متحقق نہ ہوئی تھی تو اب اس انکار سے رد ہوگیا، اور اگر یہ انکار اس طورپر ہے کہ نکاح کو تو رد نہیں کرتا مگر رخصت کرنا نہیں چاہتا تو اب یہ ولی ہندہ یا بحال بلوغ خود ہندہ کے ہاتھ کی بات ہے رد کردیں رد ہوجائے گا اورجب کہ جماع نہ ہوا مہر کچھ نہیں کما یا تی لکونہ فسخا (جیسا کہ آئندہ آئیگا کیونکہ یہ فسخ کی صورت ہے۔ ت) اور اگرصورت وہ تھی جس میں ہندہ کو خیار بلوغ ملے اور وہ اس خیار کو حسب شرائط مذکورہ استعمال میں لاچکی ، یا ہنوز اس کا وقت نہیں آیا کہ ہندہ ابھی نابالغہ ہے تو جب تک وقت آئے استعمال میں لائے تو بھی ہندہ کو نجات کامل بے دقت حاصل کہ فقط اس کا یہ اظہار ناراضی کرنا ہی حکم فسخ کا منشا ہوجائے گا ا ور حاکم مجرد اسی بناء پر نکاح فسخ کردے گا اور اب بھی مہر اصلا عائد نہ ہوگا کہ نکاح فسخ سے گویا کالعدم (یعنی بے ہوا) ہوجاتا ہے۔
فی ردالمحتار المھر کما یلزم جمیعہ بالدخول کذا بموت احدھماقبل الدخول اما بدون ذٰلک فیسقط ولو الخیار منہ لان الفرقۃ بالخیار فسخ للعقد والعقد اذا انفسخ یجعل کانہ لم یکن کمافی النھر ۱؎۔
ردالمحتارمیں ہے: جس طرح دخول وجماع سے مہر لازم ہوجاتا ہے یونہی دخول سے قبل خاوند یا بیوی کے فوت ہوجانے سے مہر لازم ہوجاتاہے اوردخول کے بغیر موت اور موت کے بغیر ساقط ہوجائے گا، اگرچہ لڑکے کو اختیار ہو تب بھی فسخ کرنے سے مہر ساقط ہوجائے گا کیونکہ فسخ نکاح کو کالعدم کردیتا ہے جیساکہ نہر میں ہے (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۰۷)
ہاں اگر صورت وہ تھی جس میں ہندہ کو خیار بلوغ سرے سے نہ ملا، یا ملاتھا، او رازانجا کہ ہندہ کنواری ہے جسے خیار وسیع نہیں ملتا بوجہ سکوت ساقط ہوگیا تو اب بالفعل ہندہ خواہ اس کے باپ کو اصلا کوئی حق اعتراض و انکار حاصل نہیں، نکاح صحیح وتام ہوچکا اور اُن حرکات شنیعہ کا بکر میں پیدا ہوجانا مبطل یا وجہ ابطال نکاح نہیں، اور ابھی کہ ہندہ کی رخصت نہ ہوئی نامردی بکر کا دعوی قابل سماعت نہیں کہ عور ت کے حق میں نامرد وہ ہوتا ہے جو خاص اس عورت کے فرج داخل کے اندر ذکر حشفہ تک غائب کرنے پر قادر نہ ہو، اوریہ باختلاف زمان مختلف ہوسکتاہے ممکن کہ کوئی شخص ایک عورت کی فرج میں ادخال نہ کرسکے اور دوسری پر قادرہوجائے تو اس دوسری کے حق میں نامرد نہ ہوگا۔
فی الھندیۃ عن النھایۃ ان کان یصل الی الثیب دون الابکار اوالٰی بعض النساء دون البعض وذٰلک لمرض اولضعف فی خلقہ اولکبر سنہ او سحر فھو عنین فی حق من لایصل الیھا ۱؎۔
ہندیہ میں نہایہ سے ہے : اگر کوئی مرد ثیبہ عورت سے وطی کرسکتا ہے باکرہ سے نہیں کرسکتا، یابعض قسم کی عورتوں سے کرسکتاہے اور بعض سے نہیں کرسکتا اس کی وجہ مرض ہے یا پیدائشی کمزوری یا بڑھاپاہےیا جادو ہے، تو وہ ایسی عورتوں کے حق میں نامرد قرار دیا جائیگا جن سے وطی نہیں کرسکتا۔ (ت)
 (۱؎ فتاوی ہندیہ        کتاب النکاح الباب الثانی عشرفی العنین        نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۵۲۲)
بلکہ اگر تسلیم ہی کرلیں کہ بکر ہندہ کے حق میں بھی نامرد ہے تاہم ا س بناپر رخصت سے انکار نہیں ہوسکتا کہ نامرد ی مبطل نکاح نہیں ہوتی بلکہ بعد دعوی وثبوت عدم مجامعت مرد کو سال بھر کامل کی مہلت دی جاتی ہے اور عورت ہر گز اختیار نہیں رکھتی کہ ان دنوں کو اس سے جدا رہ کر گزاردے جتنے دن خود  جدا رہے گی مدت میں اتنے روز اور بڑھادئے جائیں گے۔
فی الدرالمختار وجدتہ عنینا اجل سنۃ ورمضان وایام حیضھا منھا وکذا حجۃ وغیبتہ لامدۃ حجھا وغیبتھا ۲؎۔
درمختار میں ہے کہ کسی بیوی نے خاوند کے متعلق کہا کہ میں نے اسے نامرد پایا ہے تومرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی جس میں رمضان اورایام حیض بھی شمار ہوں گے یونہی حج، اور مرد کی غیر حاضری کے دن بھی شمارہوں گے لیکن عورت کے حج اور غیر حاضری کے ایام شمار نہ ہوں گے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار  باب العنین مطبع مجتبائی دہلی  ۱/۲۵۴)
جب زوجہ کے حق میں نامردی بثبوت شرعی ثابت ہونے کے بعد بھی ہنوز خود مختار نہیں ہوتی جب تک مد ت ایک سال گزرنے پر بھی عدم جماع ثابت ہو کہ تفریق نہ ہوجائے تو پیش از رخصت ایسے خیالات کی بناپر خود مختاری ہر گز صحیح نہیں بلکہ چارہ کار وہی حاکم شرع کے حضور دعوی نامردی اور بعد ثبوت بکارت ا س کے حکم سے مہلت یکسالہ ملنی اور بعد مرور میعادحاکم شرع کو بقائے بکارت ثابت ہونے پر ہندہ کے فوراً تفریق مانگنے پر خود بکر یا وہ نہ مانے تو حاکم شرع کا تفریق کردینا کافی ہے اس وقت طلاق بائن ہوجائے گی، اوراگر بکر نے ہندہ سے خلوت ہی نہ کی تو نصف مہر اور خلوت کی اور ادخال ذکر پر قدرت نہ پائی تو کل مہر لازم آئے گا،
فی الھندیۃ ان اختارت الفرقۃ امرہ القاضی ان یطلقھا طلقۃ بائنۃ فان ابی فرق بینھما ھکذا ذکر محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فی الاصل کذا فی التبیین، والفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ کذافی الکافی ولھا المھر کاملاوعلیھا العدۃ بالاجماع ان کان الزوج قد خلابھا والا فلا عدۃ علیھا ولھا نصف المھر ان کان مسمی و المتعۃ ان لم یکن کذافی البدائع ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں ہے (کہ مدت ختم ہونے پر) اگر عورت تفریق کا مطالبہ کرے تو قاضی خاوند کو کہے گاکہ ا س کو بائنہ طلاق دے دے، اگر خاوند انکار کرے تو قاضی خود تفریق کردے، امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے مبسوط میں یونہی ذکر فرمایا جیساکہ تبیین میں ہے۔ اور تفریق طلاق بائنہ ہوگی، جیساکہ نہر میں ہے اور اسے پور ا مہر دیاجائے گا، اور بالاجماع اس پر عدت ہوگی بشرطیکہ خاوند اس سے خلوت کرچکا ہو ورنہ عدت نہ ہوگی اورمہر بھی نصف دیاجائیگا جب مقرر ہو، اور اگر مقرر نہ ہو تو پھر جوڑا وغیرہ دیا جائے گا جیساکہ بدائع میں ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ فتاوی ہندیہ        کتاب النکاح الباب الثانی عشر فی العنین        نورانی کتب خانہ پشاور        ۱/۵۲۴)
Flag Counter