Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
212 - 1581
مسئلہ ۴۳۳: از دیورنیا مسئولہ عنایت حسین صاحب ۸ شوال ۱۳۱۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صور ت میں کہ ایک شخص نے اپنی بھتیجی کا نکاح اپنے سالے کے ساتھ میں کردیا اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ شخص جملہ منہیات میں مبتلا ہے جیسے شراب خوری اور جوابازی اور زناکاری اور چوری کرتاہے تمام ، اور عارضہ سوزاک اورآتشک وغیرہ کا موجودہے، او رعلاوہ اس کے غیر کفو بھی ہے، اور تارک الصلوٰۃ ہے،ا ور خوش دامن وغیرہ اس کی صالحین میں سے ہیں اور ان کو اس تقریب سے نہایت خفت اور ذلت اور عارمعلوم ہوتی ہے، آیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب:سائل مظہر کہ یہ لڑکی وقت نکاح نابالغہ ویتیمہ تھی اور اس کا کوئی بھائی بھی نہیں، چچا نے جس سے نکاح کیا وہ پیش از نکاح بھی ایسا ہی بد رویہ وبد اطوار تھا، اگریہ بیان واقعی ہے تو نکاح مذکور اصلا نہ ہوا،
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیرھما ای غیر الاب وابیہ لایصح النکاح من غیر الکفو اصلا ومافی  صدر الشریعۃ صح ولھما فسخہ وھم ۱؎۔ (ملخصا)
اگر نکاح کردینے ولا باپ دادا کا غیر ہو تو غیر کفو سےاصلا نکاح نہ ہوگا۔ او رجو صدرالشریعۃ میں ہے کہ نکاح صحیح اور باپ دادا کو اس کے فسخ کا اختیار ہے یہ صرف وہم ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
اسی میں ہے:
وتعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی فلیس فاسق کفوا لصالحۃ او فاسقۃ بنت صالح معلنا کان اولا علی الظاھر نھر ۲؎۔ انتھی ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
عرب وعجم میں کفاءت دینداری یعنی پرہیزگاری کی معتبر ہے، دیانت سے مراد تقوی ہے، لہذا کوئی فاسق کسی صالحہ یا فاسقہ بنت صالح کے لئے کفو نہیں بن سکتا، فسق اعلانیہ ہو یا غیر اعلانیہ، یہ ظاہر الروایت ہے، نہر انتہی، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    باب الکفاءۃ         مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۵)
مسئلہ ۴۳۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ سید زادی کا نکاح اس کے چچا نے گیارہ برس کی عمر میں بے اطلاع باپ کے ان کی غیبت میں زید پٹھان سے کردیا، آیایہ نکاح جائز ہوا یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب:پٹھان سیدزادی کا کفو نہیں ہوسکتا، تو یہ نکاح کہ بے اطلاع پدر تھا، عام از انکہ ہندہ اس وقت بالغہ ہو خواہ نابالغہ اس نکاح پر راضی تھی خواہ ناراض مطلقا محض باطل واقع ہوا، یہاں تک کہ اب اگر اس کا باپ بھی جائز رکھے تو درست نہیں ہوسکتا، زید وہندہ کو باہم قربت ناروا، اور ہندہ اب اگر بالغہ ہو توا سے ورنہ اس کے ولی کو اختیارہے کہ بے طلاق لئے جس سے چاہے نکاح کردے، زید ہرگز مزاحم نہیں ہوسکتا کہ مذہب مفتٰی بہ پر وہ محض اجنبی ہے،
فی ردالمحتار عن کافی الامام الحاکم الشہید، قریش بعضھا اکفاء لبعض والعرب بعضھم اکفاء لبعض ولیسوا باکفاء لقریش ومن کان لہ من الموالی ابوان اوثلثۃ فی الاسلام فبعضھم اکفاء لبعض ولیسو ا باکفاء للعرب ۱؎ اھ
ردالمحتار میں ہے کہ امام حاکم شہید کی کافی میں ہے کہ قریش ایک دوسرے کے لئے کفو ہیں، اور عرب ایک دوسرے کے لئے کفو ہیں مگر قریش کے لئے کفو نہیں اسلام میں اگر کسی کے دو باپ یعنی باپ دادا ، یا تین باپ آزاد ی میں ہو گزرے ہوں وہ ایک دوسرے کے کفو ہوں گے لیکن عربوں کے کفو نہیں ہوں گے اھ،
 (۱؎ ردالمحتار    باب الکفاءۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۱۹)
وفی الدرالمختار یفتی فی غیر الکفوبعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان فلا تحل مطلقۃ ثلث نکحت غیر کفو بلا رضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ ۲؎ اھ
اور درمختار میں ہے کہ ولی کی رضاکے بغیر غیر کفو میں نکاح اصلا صحیح نہ ہوگا اورفساد زمان کی بناپر اسی پر فتوی ہے، لہذا مطلقہ ثلاثہ نے اگر غیر کفومیں ولی کی عدم رضا کے باوجود نکاح کرلیا جبکہ ولی کو شوہر ثانی کے غیر کفو ہونے کا علم ہو تو وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی، اس کو محفوظ کرلو اھ،
 (۲؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۱)
وفی ردالمحتار عن البحرالرائق اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضی بعدہ۳؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ جب لڑکی کا ولی نکاح سے قبل راضی نہ ہو تو بعد کی اجازت کارآمد نہ ہوگی اھ، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 ( ۳؎ ردالمحتار     باب الولی                داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۲۹۷)
مسئلہ ۴۳۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ولیہ ہندہ کو کہ سید زادی ہے دھوکہ دے کر اپنی قوم اوراپنا اور اپنے باپ کا مشہور نام اور اپنی ماں کا کنیز غیر شرعی ہونا چھپا کر بذریعہ تحریر وتقریر اپنے آپ کو شیخ یا سیداور ڈھائی بسوہ حقیت کا مالک ظاہر کرکے ہندہ سے نکاح کرلیا اور اس ملک فرضی کو مہر ہندہ قرار دیا، بعد خلوت صحیحہ ہندہ کو معلوم ہوا کہ نہ زید کا وہ نام نہ قوم نہ زمین، بلکہ وہ کنیز ک غیر شرعی سے پیدا ہوا ہے،اب ہندہ نارضامند ہوکر فسخ نکاح چاہتی ہے، آیا صورت مستفسرہ میں نکاح کو خود فسخ یا اس کے فسخ کا دعوی کرسکتی ہے؟ بینوا تو جروا۔
الجواب : صورت مستفسرہ میں اگر ہندہ نابالغہ ہے اور یہ نکاح اَب وجَد نے نہ کیا یا انھیں نے کیا مگر اس بارہ میں اُن کی بے احتیاطی ہوئی تھی یعنی کبھی اور بھی کسی بیٹی پوتی کا غیر کفو دنی القوم یا محتاج سے نکاح کرچکے ہوں تو یہ نکاح اصلا صحیح نہ ہوا، اگر ہندہ کے لئے دور ونزدیک کہیں کوئی ولی مرد عصبہ عاقل بالغ حرمسلم مثلا باپ دادا بھائی بھتیجا اپنا چچا یا اپنے باپ دادا کا چچا یا ان میں کسی کی اولاد ذکور عام ازاں اَب وجَد کے سوا یہ سب سگے ہوں یا سوتیلے موجود ہے اوریہ نکاح اس کے بے اطلاع ہوا یا مطلع تھامگر اس نے صراحۃً نکاح کی اجازت نہ دی اگرچہ سکوت کیا ہو، اگرچہ مجلس عقدمیں موجود رہا ہو، یاصراحۃً اجازت ورضا مندی بھی ظاہر کی بلکہ خودمتولی نکاح ہوا، مگر وہ ان حالات باطنہ زید پروقوف نہ رکھتاتھا تو ان سب صورتوں میں مذہب مفتی بہ پر وہ نکاح محض باطل وکالعدم بلکہ شرعاً فی الحقیقت منعدم ہے اگرچہ بعد وقوع نکاح وعلم بحالات زید ولی ہندہ صراحۃً کہہ دے کہ میں ایسی حالت پر بھی اس نکاح پر راضی اور اسے جائز رکھتا ہوں تا ہم کچھ حاصل نہیں کہ جو شرعاً باطل ہے کسی کی رضامندی سے صحیح نہیں ہوسکتا، اس تقدیر پر تو فسخ کی خود کیا حاجت کہ جب عقد ہوا ہی نہیں تو فسخ کیا کیا جائے۔
فی الدرالمختار یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان فلا تحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ ۱؎ اھ
درمختار میں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے اصلا ناجائز ہونے پر فتوی دیا جائے گا، فساد زمان کی وجہ سے یہی مختار ہے لہذا مطلقہ ثلاثہ نے اگر ولی کوعلم کے باوجود اس کی رضا کے بغیر غیر کفو میں نکاح کردیا تو وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ  ہوگی۔ اس کو محفوظ کرلو اھ
 (۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۱)
فی ردالمحتارلایلزم التصریح بعدم الرضی بل السکوت منہ لایکون رضی کما ذکرنا فلا بد لصحۃ العقد من رضاہ صریحا وعلیہ فلو سکت قبلہ ثم رضی بعدہ لا یفید فلیتامل ۲ ؎ اھ
ردالمحتار میں ہے کہ ولی کا اپنی عدم رضا کو صراحۃً بیان کرنا ضروری نہیں بلکہ اس کا سکوت ہی عدم رضا ہے جیساکہ ہم نے ذکر کیا ہے، لہذا صحت نکاح کے لئے صراحۃً رضامندی کا اظہارضروری ہے، اسی بناپر اگر پہلے خاموش رہا اور نکاح کے بعد راضی ہوگیا تو کارآمد نہیں غور کرو، اھ ۔
 (۲؎ ردالمحتار باب الولی  داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲/۲۹۷)
وفیہ یصدق بنفی الرضی بعد المعرفۃ وبعدمھا وبوجود الرضی مع عدم المعرفۃ ففی ھٰذہ الصور الثلثۃ لاتحل وانما تحل فی الصورۃ الرابعۃ وھی رضی الولی بغیر الکفو مع علمہ بانہ کذلک ۳؎ اھ۔
اور اس میں یہ بھی ہے کہ ان صورتوں میں عدم رضاہوگی، علم ہو رضانہ ہو یا علم نہ ہو رضا ہو ، یا غیر کفو کا علم اور رضا دونوں نہ ہوں، ان تینوں صورتوں میں وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی، اور صرف ایک صورت میں حلال ہوگی وہ یہ کہ اس کو غیر کفو ہونے کا علم ہو اور راضی ہو اھ۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار باب الولی  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۲۹۷)
اوراگر ہندہ کے لئے اس قسم کا کوئی ولی نہیں یا جو ہیں وہ کل یا بعض یا دو صورت تفاوت درجہ صرف ولی اقرب پیش از نکاح باوجود وقوف بحالات زید صراحۃً اپنی رضامندی ظاہر کرچکا ہو تو بشرطیکہ ہندہ بالغہ ہو صحت نکاح میں کچھ شبہہ نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۳۶: از شہر کہنہ ۴ رمضان مبارک ۱۳۱۳ھ

ماقولہم رحمہم اللہ تعالٰی اس مسئلہ میں کہ پٹھان کے لڑکے کا سید کی لڑکی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: سائل مظہر کہ لڑکی جوان ہے اور اس کا باپ زندہ ، دونوں کو معلوم ہے کہ یہ پٹھان ہے اور دونوں اس عقد پر راضی ہیں، باپ خود اس کے سامان میں ہے، جب صورت یہ ہے تو اس نکاح کے جواز میں اصلا شبہہ نہیں کما نص علیہ فی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار ( جیساکہ ردالمحتار وغیرہ کتب میں اس پر نص ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter