Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
211 - 1581
مسئلہ ۴۳۱: ۱۰ ربیع الاول شریف ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک زن بازاری کے لڑکا پیدا ہوا جب وہ لڑکا سن بلوغ کو پہنچا تب اس نے دین اسلام قبول کیا اب جو شخص کہ پہلے سے اہل اسلام تھا اسے اپنی لڑکی صغیرہ کا نکاح اس کے ساتھ کردینا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب : جائزہے،
قال اللہ عزجلالہ: لاتنکحوا المشرکین حتی یومنوا۲؎ الآیۃ
مشرکوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ مومن نہ ہوجائیں ۔ ت)
 (۲؎ القرآن الکریم         ۲/۲۲۱)
مگر یہ نکاح غیر کفو کے ساتھ ہے دو وجہ سے:
اولاً عورت قدیمی مسلمان ہے اور یہ شخص نو مسلم، اور نو مسلم مسلمان قدیم کا کفو نہیں،
فی الدرالمختار مسلم بنفسہ غیر کفو لمن ابوھا مسلم ۳؎۔
درمختار میں ہے: خود مسلمان ہونے والا ایسی لڑکی کا کفونہیں ہے جس کا باپ مسلمان ہوا ہو۔ (ت)
 (۳؎ درمختار        باب الکفاءۃ        مطبع متجبائی دہلی    ۱/۱۹۵)
ثانیاً اس کی ماں زنا ن بازاری سے تھی اور ان بلاد کا عرف عام ہے کہ ایسے شخص سے نکاح کردینا اولیائے زنان کے لئے قطعاً موجب عارہوتا ہے اوریہی مبنائے عدم کفاءت ہے۔
فی الفتح القدیر الموجب ھو استنقاص اھل العرف فید ورمعہ ۴؎۔
فتح القدیر میں ہے: اس کا سبب اہل عرف کا ناقص سمجھنا ہے لہذا حکم کا مدار یہی بنے گا (ت)
 (۴؎ فتح القدیر        باب الکفاءۃ         نوریہ رضویہ سکھر     ۳/۱۹۳)
لہذا اس میں ان سب شرائط کالحاظ واجب ہوگا جو غیر کفو  سے نکاح کرنے میں ہیں مثلا جبکہ دختر نابالغہ ہے اور باپ برضائے خود اس شخص کے نکاح میں دینا چاہتاہے تولازم ہے کہ اس سے پہلے اپنی کسی بیٹی کا نکاح غیرکفو سے نہ کرچکاہو ورنہ ناجائز ہوگا۔
فی الدرالمختار لزم النکاح بغیر کفو ان کان الولی ابااوجد الم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا ۱؎ اھ ملخصا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ یہ نکاح غیر کفو میں تب صحیح ہوگا جب نکاح کا ولی باپ یا دادا ہوبشرطیکہ وہ سوء اختیار میں مشہور نہ ہوں۔ اور اگر ہوں تو پھر صحیح نہیں ہوگا، اس مسئلہ میں سب کا اتفاق ہے اھ ملخصا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
مسئلہ ۴۳۲: از شہر کہنہ ۱۴ محرم الحرام ۱۳۱۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر ہندہ عاقلہ  بالغہ کا نکاح عمرو کے ساتھ کیا، عمرو کی نسبت اس وقت شبہہ ہوا تھا کہ شاید رافضی ہو اس پر اس سے پوچھا گیا اس نے صاف انکار کیا اوراپنے آپ کو سنی بتایا اور بہت صفائی کے ساتھ اپنے سنی ہونے کا اطمینان دلایا یہاں تک کہ ہندہ کے معمولی اذن ورضا سے نکاح ہوگیا ہندہ رخصت ہوکر عمرو کے یہاں گئی کچھ عرصہ بعد جب ماہ محرم آیا اور زید نے ہندہ کو اپنے یہاں بلایا اس وقت عمرو کا رافضی ہونا ظاہر ہوا اس نے ہندہ کا زیور وغیرہ سب اتار کر ایک نیلا چیتھڑا رافضیوں کا سااڑھا کر ہندہ کو بھیج دیا اور تحقیق ہواکہ عمرو رافضی ہے، جب سے زید نے ہندہ کو اس کے یہاں جانے نہ دیا، اب علماء اہل سنت سے فتوی طلب ہے کہ اس صورت میں عمرو رافضی اور ہندہ سنیہ کا نکاح صحیح ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: قطع نظر اس سے کہ آج کل عام رافضی ضروریات دین کے منکر اوردائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہیں جن سے کسی کا نکاح اصلا کسی طرح نہیں ہوسکتا بفرض باطل اگریہ شخص اس حد کا نہ بھی ہونہ ان کا منکران ضروریات دین اور ان کے مجتہدین کو مسلمان جانتاہو تاہم اس قدرمیں شک نہیں کہ رافضی سنی کا کفو نہیں ہوسکتا،
درمختار میں ہے:
وتعتبر یعنی الکفاءۃ فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی فلیس فاسق کفو الصالحۃ ۲؎ الخ۔
عرب وعجم میں کفاءت دینداری کی یعنی پرہیز گاری کی معتبر ہے لہذا فاسق شخص صالحہ لڑکی کا کفو نہ ہوگا الخ (ت)
 (۲؎ درمختار    باب الکفاءۃ       مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۵)
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں:
المبتدع فاسق من حیث الاعتقاد وھوا شد من الفسق من حیث العمل لان الفاسق من حیث العمل یعترف بانہ فاسق ویخاف ویستغفر بخلاف المبتدع والمراد بالمبتدع من یعتقد شیئا علی خلاف مایعتقدہ اھل السنۃ والجماعۃ ۱؎۔
بدعتی شخص اعتقادی لحاظ سے فاسق ہے اوریہ عمل فسق سے زیادہ براہے کیونکہ عملی فاسق اپنے گناہ کا اعتراف کرتاہے اس لئے وہ ڈرتاہے اور استغفار کرتاہے بخلاف بدعتی کے، اور بدعتی سے مراد وہ شخص ہے جو اہلسنت وجماعت کے اعتقاد کے خلاف اعتقادبنائے۔ (ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی  فصل فی الامامۃ        سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۱۴)
طحطاوی حاشیہ درمختار میں زیر قول شرح تزوجتہ علی انہ حر اوسنی اوقادر علی المھر والنفقۃ فبان بخلافہ ۲؎
 (جب نکاح دینے ولاکہے میں نے آزاد ، سنی اور مہر ونفقہ دینے پر قادر سمجھ کرنکاح کیاہے تو بعد کو اس کے خلاف ظاہر ہوا۔ ت)
 (۲؎ درمختار            کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۲۵۵)
فرمایا:
لفقد الکفاءۃ بالرق فی الاول وفی الدین فی الثانی وفی المال فی الثالث ۳؎۔
پہلی صورت (آزاد)میں غلامی کی وجہ سے ، دوسری میں دین کی وجہ سے، اورتیسری میں مال کی وجہ سے کفو نہ ہوئی، (ت)
(۳؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار    باب العنین وغیرہ       دارالمعرفۃ بیروت    ۲/۲۱۳)
اور جبکہ ہندہ عاقلہ بالغہ تھی او رنکاح اس کے اذن سے واقع ہوا تو حقیقۃً وہ ہندہ کا خود اپنا نکاح کرنا تھا کہ بالغہ پر سے ولایت منقطع اور فعل وکیل فعل مؤکل ہے خصوصا نکاح میں کہ یہاں تووکیل سفیر ومعبر محض ہوتا ہے اور تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ زید ولی ہندہ کو اس وقت تک عمرو کا رافضی ہونا معلوم نہ تھا عمرو نے براہ فریب اسے مغالطہ دیااور وہ اسے سنی سمجھ کر نکاح پر راضی ہوا تو حاصل ا س صورت کا یہ ٹھہرا کہ عورت نے اپنا نکاح غیر کفو سے کیا اور ولی کو پیش از نکاح اس کے غیر کفو ورافضی ہونے پر اطلاع نہ تھی، ایسی صورت میں ظاہر الروایۃ تو یہ ہے کہ عورت اور اس کے ولی دونوں کو اس نکاح کے فسخ کرانے کا اختیا رہے،
درمختار میں ہے:
تزوجتہ علی انہ سنی فبان بخلافہ کان لھا الخیار فلیحفظ۴؎ انتھی ملخصاً۔
عورت نے سنی ہونے کی وجہ سے نکاح کیا اور اس کے خلاف پایا تو اسے فسخ کا اختیار ہے اسے محفوظ کرلو انتہی ملخصا (ت)
(۴؎ درمختار     کتاب الطلاق   باب العنین وغیرہ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۲۵۵)
اسی میں ہے:
اذا شرطوا الکفاءۃ اواخبرھم بھا وقت العقد فزوجھا علی ذلک ثم ظھر انہ غیر کفو کان لھم الخیار ولو لوالجیۃ فلیحفظ ۱؎۔
اگر کفو ہونے کی شرط پرولیوں نے نکاح دیا یا نکاح کے وقت انھیں کفو کی خبر دی گئی تواس بناپر انھوں نے نکاح کردیا، پھر ظاہر ہواکہ وہ ایسا نہیں یعنی غیر کفو ہے تو اولیاء کو فسخ کااختیار ہے، ولوالجیہ، اسے محفوظ کرلو۔ (ت)
(۱؎ درمختار        باب الکفاءۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۴)
مگر روایت صحیحہ ومفتی بہاپر نکاح اصلا نہ ہوا، فتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فی بکر بالغۃ زوجھا اخوھا من غیر کفو باذنھا اجاب تزویجہ لھا باذنھا کتزوجھا بنفسھا وھی مسئلۃ من نکحت غیر کفو بلارضا اولیائھا افتی کثیر بعدم انعقادہ اصلا وھی روایۃ الحسن عن ابی حنیفۃ ففی المعراج معزیا الی قاضی خاں وغیرہ والمختار للفتوی فی زماننا روایۃ الحسن۲؎ اھ ملخصا۔
باکرہ بالغہ کا اس کے بھائی نے غیر کفو میں نکاح کردیا جبکہ لڑکی نے اجازت دی ہو، سے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا کہ لڑکی کی اجازت سے نکاح ایسے ہے جیسے لڑکی نے خود نکاح  کیا ہو، یہ مسئلہ لڑکی کا خود غیر کفو میں اپنے اولیاء کی رضا کے بغیر نکاح کرنے کا ہے ، بہت فقہاء نے اس نکاح کے اصلا منعقد نہ ہونے پر فتوی دیا ہے، اور یہ امام حسن کی امام ابوحنیفہ سے روایت ہے، تو معراج میں اس کو قاضی خاں وغیرہ کی طرف سے منسوب کرکے کہا کہ ہمارے زمانے میں فتوی کے لئے یہی مختار ہے جو امام حسن نے روایت کی ہے اھ ملخصا (ت)
(۲؎ فتاوی خیریہ         باب الاولیاء والاکفاء    دارالمعرفۃ بیروت    ۱/۲۵)
درمختار میں ہے:
ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان فلا تحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ ۳؎۔
غیر کفو میں اصلا جائز نہ ہونے کا فتوی دیا جائے گا، فساد زمان کی وجہ سے فتوی کے لئے یہی مختارہے، لہذا مطلقہ ثلاثہ نے اگر ولی کی رضا کے بغیر غیر کفومیں نکاح کرلیا تو شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوگی جبکہ ولی کو شوہر ثانی کے غیر کفو ہونے کا علم ہو اور وہ اس نکاح ثانی پر راضی نہ ہوا ہو، اس کو محفوظ کرلو۔ (ت)
 (۳؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ بلارضی نفی منصب علی المقید الذی ھو رضی الولی والقید الذی ھو بعد معرفتہ ایاہ فیصدق بنفی الرضی بعد المعرفۃ وبعدمھا وبوجود الرضی مع عدم المعرفۃ ففی ھذہ الصور الثلثۃ لاتحل وانما تحل فی الصورۃ الرابعۃ وھی رضی الولی بغیرالکفو مع علمہ بانہ کذلک۱؎ اھ ح۔
ماتن کا قول ''بغیررضا'' یہ مقید کی نفی ہے اور وہ ولی کی رضا ہے اور اس کی قید'' جبکہ ولی کو شوہر ثانی کے غیر کفو ہونے کا علم ہو'' ہے تو اس کا مصداق یہ تمام صورتیں ہوں گی، غیر کفو ہونے کے علم کے بعد رضا نہ ہو، یا علم غیر کفو او ر رضادونوں نہ ہوں، یا رضا ہو مگر غیر کفو کا علم نہ ہو، تو ان تینوں صورتوں میں وہ حلال نہ ہوگی، صرف ایک چوتھی صورت حلال ہوگی کہ غیر کفو ہونے کا علم ہونے کے باوجود رضا ہو، اھ ح (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب الولی        احیاء التراث العربی بیروت        ۲/۲۹۷)
پس صورت مستفسرہ میں حکم یہ ہے کہ عمرو وہندہ کا نکاح اصلا منعقد نہ ہوا، نہ وہ اس کا شوہر ہے نہ یہ اس کی زوجہ، نہ اسے اس کے یہاں بھیجنا یا جانا روا، نہ اس کو اس پر کسی قسم کا اختیار یا دعوی، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter