مسئلہ ۴۳۰: از سہسوان ۱۸ جمادی الاولٰی ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے غیر شہر سے سہسوان میں آکر اپنے آپ کو سنی اور قوم کا سید ظاہر کیا، عمرو نے کہ شیخ انصاری ہے اپنی لڑکی لیلٰی جس کی عمر وقت نکاح بارہ تیرہ برس کی تھی بیان زید سے دھوکا کھاکر اسے بیاہ دی، وہ لڑکی اور اس کا باپ اہلسنت وجماعت ہیں، ہنوز رخصت بھی نہ ہوئی تھی نہ لیلٰی نے زید کی صورت دیکھی تھی کہ زید چلا گیا اورجب سے اصلا خبر نہیں کہ زندہ ہے یا مرگیا، اسے کوئی دو برس کا زمانہ ہوا، اب جو اس کا حال دریافت ہو ا وہ رافضی نکلا اور شراب خوری وقمار بازی اس کے علاوہ ہے، جب سے یہ کیفیت معلوم ہوئی تو لیلٰی اور اس کا باپ عمرو اور اس کی ماں سب ناراض ہیں اور لیلٰی جس کی عمر خود پندرہ برس کی ہے اپنا نکاح اور شخص سے کیا چاہتی ہے جو مذہب کا سنی اور اعمال کا نیک ہو، اس صورت میں شرع شریف لیلٰی کے حق میں کیا حکم دیتی ہے؟ بینوا تو جروا۔
الجواب: اللھم العفو والعافیۃ (اے اللہ تجھ سے معافی اور عافیت کی درخواست ہے۔ ت) روافض میں جو ضروریات دین سے کسی امر کا منکر ہو مثلاقرآن عظیم کو بیاض عثمانی کہے اس کے ایک لفظ ایک حرف ایک نقطے کی نسبت گمان کرے کہ معاذاللہ صحابہ کرام یا ہم اہلسنت خواہ شخص نے گھٹادیا، بڑھادیا، بدل دیا، یاحضرت جناب امیر المومنین مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم خواہ دیگر ائمہ اطہار رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین سے کسی کو انبیائے سابقین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کل یا بعض سے افضل بتائے، قطعاً کافرہے اور اس کا حکم مثل مرتدین کے ہے والعیاذ باللہ سبحانہ وتعالٰی۔
رافضیوں کے اس قول پرکہ ''مردے دنیا پر واپس آتے ہیں'' ان کی تکفیر ضروری ہے (عالمگیری نے یہاں تک کہا کہ) یہ قوم ملت اسلامیہ سے خارج ہے اور ان کے احکام مرتدین جیسے ہیں، ظہیریہ میں یونہی ہے ۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/۲۶۴)
آج کل عامہ روافض اسی قسم کے ہیں ان کے عالم جاہل چھوٹے بڑے تحریر اًتقریراً علی الاعلان ان کفریات کااعتراف کرتے اور ان کے معتقد کو مومن کامل جانتے ہیں اوراپنا پیشوا ومجتہد مانتے ہیں تو اگر ان میں بعض بالفرض خود معتقد نہ تھے تو یوں کافر ہوئے،
شفاء شریف میں ہے:
نکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین او وقف فیھم اوشک اوصحح مذھبھم وان اظھر مع ذلک الاسلام واعتقدہ ۲؎ الخ واقرہ علیہ العلامۃ الخفاجی فی نسیم الریاض۔
جس نے ملت اسلامیہ کے علاوہ کسی دین کو اپنایا ان میں شک یا توقف رہا یا ان کے مذہب کو صحیح کہا توایسے لوگوں کی ہم تکفیر کریں گے اگرچہ یہ لوگ اسلام اوراس کے اعتقاد کا اظہار کریں ا لخ اور علامہ خفا جی نے اسے نسیم الریاض میں مضبوط قرار دیا۔ (ت)
(۲؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھوا لمقالات مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ فی بلاد العثمانیۃ ۲/۲۷۱ )
اس لئے کہا جاتاہے کہ روافض زمانہ میں کسی ایسے کا ملنا جسے ایک ضعیف طورپر بھی مسلمان کہہ سکیں کبریت احمر کے ملنے سے کچھ زیادہ ہی دشوار ہے، فقیر غفراللہ تعالٰی نے یہ مسئلہ اپنے فتاوی میں مشرحاً بیان کیا اور بارہا ان لوگوں سے بطلان مناکحت پر فتوی دیا، اکابرمشاہیر علمائے عصر اس افتاءمیں فقیر سے موافق ہیں، ہاں جو اس درجہ کا نہ ہو اور ضروریات اسلام سے کسی شے کا انکار نہ کرتاہو نہ اس کے منکروں کومسلمان جانتا ہو اگرچہ اپنی خباثت سے تبرائے ملعونہ شیعہ مغضوبہ تک پہنچے صحیح مذہب مشرب پر بدعتی فاجر ہے، نہ مرتد کا فر کما حققہ ابی وسیدی مقدام المحققین قدس سرہ المکین فی فتاواہ (جیساکہ میرے والد ماجد مقدام المحققین قدس سرہ نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق فرمائی ۔ ت) پس اگر زید مذکور جس کے ساتھ لیلٰی کا نکاح ہوا درجہ اول کا رافضی تھا جب تو وہ نکاح یقینا جزماً باطل محض ہے جیسے کسی ہندو نصرانی یہودی مجوسی کے ساتھ بلکہ ان سے بھی بدتر مرتد اخبث اقسام کفارہے، والعیاذ باللہ سبحٰنہ وتعالٰی، اس صورت میں لیلٰی کو ایک آن کا انتظار بھی ضرور نہیں بے دغدغہ جس سے چاہے نکاح کرلے، اور اگر اس کا رافضی درجہ دوم سے متجاوز نہ تھا تو صورت مسئولہ میں کہ نکاح باپ نے کیااور تقریر سوال سے واضح کہ جب تک فریب زید نہ کھلا تھا لیلٰی و والدین لیلٰی سب راضی تھے پس عام ازیں کہ لیلٰی وقت نکاح بالغہ تھی یا نہیں ہر طرح نکاح منعقد ہوگیا مگر از انجا کہ رافضی مردوزن سنیہ بنت سنی کا کفو نہیں ہوسکتا اور زید نے اپنے آپ کو سنی بتاکر فریب ومغالطہ دیا لہذا شرع مطہر اس نکاح کے فسخ کرانے کا اختیار دے گی، اگرلیلٰی ہنگام نکاح صغیرہ تھی تو بعدبلوغ اسے اعتراض وانکار کا اختیار ہوا یا ہوگا، اور بالغہ تو جس وقت فریب زید کھلا اسے اور اس کے اولیاء سب کو اخیتار دعوی فسخ ملا،
ردالمحتار میں ہے:
فی النوازل لوزوج بنتہ الصغیرۃ ممن ینکرانہ یشرب المسکر فاذا ھو مدمن لہ وقالت لاارضی بالنکاح ای بعدماکبرت ان لم یکن یعرف الاب بشربہ وکان غلبۃ اھل بیتہ صالحین فالنکاح باطل لانہ انمازوجہ علی ظن انہ کفو اھ ثم معناہ انہ سیبطل کما فی الذخیرۃ لان المسئلۃ مفروضۃ فیما اذ الم ترض البنت بعدما کبرت کما صرح بہ فی الخانیۃ والذخیرۃ وغیرھما ولا فرق فی عدم الکفاءۃ بین کونہ بسبب الفسق اوغیرہ ۱؎ اھ ملتقطا۔
نوازل میں ہے اگر اپنی نابالغہ بیٹی کا نکاح ایسے شخص سے کردیا جو شراب نوشی کا انکار کرتاتھا حالانکہ وہ شراب کا عادی تھا، تولڑکی نے بالغ ہونے پر کہا میں اس نکاح سے راضی نہیں اگر والدکو شراب نوشی کا علم نہ تھا اورو الد کا غالب خاندان صالحین لوگ ہیں تو یہ نکاح باطل قرار پائے گا، کیونکہ والد نے کفو سمجھتے ہوئے نکاح دیا تھا اھ پھر اس باطل کامطلب یہ ہے کہ اس نکاح کو باطل کیا جائے گا جیساکہ ذخیرہ میں ہے، کیونکہ مسئلے کا تعلق اس صورت سے ہے کہ لڑکی نے بالغ ہوجانے پر عدم رضا کااظہار کیا ہو جیساکہ خانیہ میں ہے، ذخیرہ وغیرہما میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ اورعدم کفاءت میں فرق نہیں خواہ فسق کی وجہ سے ہویا کسی اور وجہ سے ہو، اھ ملتقطا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۰۴)
درمختار میں ہے:
لوزوجوھا برضاھا ولم یعلموا بعدم الکفاءۃ ثم علموا ،لاخیار لاحد الا اذاشرطوا الکفاءۃ اواخبرھم بھا وقت العقد فزوجوھا علی ذٰلک ثم ظہر انہ غیر کفو لھم الخیار ولولوالجیۃ فلیحفظ ۲؎۔
جب اولیاء نے لڑکی کا نکاح اس کی رضامندی سے غیرکفو میں لاعلمی کی بناپر کردیا اور بعد میں کفو نہ ہونا معلوم ہوا تو اب کسی کو فسخ کا اختیار نہیں۔ مگر جب نکاح کے وقت اولیاء نے کفو ہونے کی شرط پر نکاح دیا ہو یا خاوند نے نکاح کے وقت اپنے کفو ہونے کا اظہار کیا ہو تو اس کے اظہار پر انھوں نے نکاح کردیا ہو پھر بعدمیں معلوم ہوا ہو کہ یہ غیر کفو ہے تو اب ان کو فسخ کا اختیار ہے، ولوالجیہ، پس اسے یاد کرلو۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۴)
ۤشامی میں ہے:
ۤفی البحر عن الظھیریۃ لو انتسب الزوج لھا نسبا غیر نسبہ فان ظھردونہ وھو لیس بکفو فحق الفسخ ثابت للکل۳؎۔
بحر میں ظہیریہ سے منقول ہے کہ اگر خاوند نے نکاح کے وقت لڑکی پر اپنے نسب کو بدل کر کسی اور کی طرف منسوب کیا تو بعد میں اگر اس کا نسب گھٹیا جو کہ کفو نہیں ہے، معلوم ہوا تواب سب کو فسخ کاحق ہے۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۱۷)
مگر اس اختیار کے یہ معنی نہیں کہ عورت یا اولیاء خود ہی فسخ کرلیں کہ یہ تو ہر گز جائزنہیں اور اس پر قناعت کرکے نکاح ثانی کرلیں گے تو زنہار نہ ہوگا بلکہ اس کے یہ معنی کہ قاضی شرع کے یہاں رجوع لائیں جب اس کے نزدیک آفتاب روشن کی طرح ثابت ہوجائے کہ واقعی زید رافضی تھااور اس نے ان لوگوں کو دھوکا بھی دیا یہ اس وقت تک کہ اس کے احوال سے آگاہ نہ تھے۔ نہ اب زید کاپتاہے (کہ اسے بلا کر اس کے حضور مقدمہ سنا جائے) یا پتا معلوم ہے تو وہ ایسی جگہ ہے جہاں قاضی نہیں (کہ مقدمہ ترتیب دے کر گواہ سن کر بلحاظ شرائط کتاب القاضی الی القاضی وہاں بھیج دیں کہ وہ قاضی اسے دارالقضا میں حاضر کرکے بمواجہہ فریقین حکم فسخ سنادے) اور زید کو یہاں بلاتے ہیں توآتا نہیں اور اس پر جبرکا کوئی طریقہ نہیں، غرض ہر طرح قاضی مذکور ضرورت ومجبوری ملاحظہ کرلے اس وقت زید کے عزیزوں یادوستوں سے کسی کو اور وہ نہ ملیں تو اور کسی بے لگاؤ متدین آدمی کو زید کانائب ووکیل قرار دے کر اس کے حضور مقدمہ سنے اور بعد ثبوت کامل نکاح فسخ کردے اور از انجا کہ حسب تصریح سوال ہنوز زید ولیلٰی میں خلوت نہ ہوئی تھی اصلا انتظار و عدت کی حاجت نہیں حکم قاضی ہوتے ہی فوراً جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے،
کفو نہ ہونے کی وجہ سے فسخ صرف قاضی کی موجودگی میں ہوسکتاہے کیونکہ یہ اجتہادی مسئلہ ہے۔ الخ (ت)
(۱فتاوی قاضی خاں فصل فی الاکفاء نولکشور لکھنؤ ۱/۱۶۲)
درمختار میں ہے:
شرط للکل القضاء لا ثمانیۃ۲؎ الخ۔
ہر فسخ کے لئے قضا شرط ہے ماسوائے آٹھ صورتوں کے الخ۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۳)
ردالمحتار میں ہے:
فیہ ایماء الی ان الزوج لو کان غائبا لم یفرق بینھما مالم یحضر للزوم القضاء علی الغائب نھر ۳؎۔
اسی میں اشارہ ہے کہ اگر خاوند حاضر نہ ہو تو اس کی حاضری تک تفریق نہ کی جائے گی تاکہ قضاء علی الغائب لازم نہ آئے ۔ نہر (ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۰۷)
اور اسی میں ہے:
قال فی جامع الفصولین الظاھر عندی ان یتأمل فی الوقائع ویحتاج ویلا حظ الحرج والضرورات فیفتی بحسبھا جوازاً اوفساداً مثلا لو طلق امرأتہ عندالعدل فغاب عن البلد ولایعرف مکانہ او یعرف ولکن یعجز عن احضارہ اوعن تسافر الیہ ھی اووکیلھا لبعدہ اولمانع اخرففی مثل ھذا لوبرھن علی الغائب وغلب علی ظن القاضی انہ حق لا تزویر ولا حیلۃ فیہ فینبغی ان یحکم علیہ ولہ وکذا للمفتی ان یفتی بجوازہ دفعا للحرج والضرورات مع انہ مجتھد فیہ ذھب الیہ الائمۃ الثلثۃ وفیہ روایتان عن اصحابنا وینبغی ان ینصب عن الغائب وکیل یعرف انہ یراعی جانب الغائب ولایفرط فی حقہ اھ واقرہ فی نورالعین قلت ویؤیدہ مافی الفتح من باب المفقود لایجوز القضاء علی الغائب الا اذارأی القاضی مصلحۃ فی الحکم لہ وعلیہ فحکم فانہ ینفذ لانہ مجتھد فیہ ۱؎ اھ ملخصاً۔
جامع الفصولین میں کہاہے کہ میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ واقعہ پر غور کیا جائے اور احتیاط کی جائے اور حرج اور ضروریات کا اندازہ کیا جائے تاکہ اس لحاظ سے صحت وفساد کا فتوی دیا جائے، مثلا اگرکسی نے عادل شخص کی موجودگی میں بیوی کو طلاق دی او رشہر سے چلا گیا اس کی جگہ معلوم نہ ہو یا علم ہو لیکن وہاں سے اس کو یہاں حاضر کرنا یا وہاں خود پہنچنا دشوار ہو اور خود بیوی یا اس کے وکیل کا دوری کی وجہ سے سفرکرنا مشکل ہو یا کوئی اور وجہ ہو تو ایسی صورت میں اس غائب خاوند کے خلاف شہادت گزرے اور قاضی کو اس کے حق ہونے کا ظن غالب ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ اس میں کوئی حیلہ اورفریب نہیں ہے تو وہ خاوند کے حق میں یا اس کے خلاف فیصلہ دے دے، یونہی مفتی کو چاہئے کہ اس غائب کے بارے میں فیصلے کا فتوی دے دے تاکہ حرج اور ضرورت ختم ہوسکے جبکہ یہ مسئلہ بھی اجتہادی ہے اور ائمہ ثلاثہ امام مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ اس کے جواز کے قائل ہیں، او رہمارے ائمہ کے اس میں دو قول ہیں، اور مناسب یہ ہے کہ غائب شخص کی طرف سے کوئی وکیل مقرر کردیا جائے جس کے متعلق معلوم ہوکہ یہ غائب کی رعایت کرتے ہوئے کوتاہی نہیں کرے گا اھ اس کو نورالعین میں ثابت رکھا ہے، میں کہتاہوں اوراس کی تائید فتح میں باب المفقود کے اس جزئیہ سے ہوتی ہے کہ قضاء علی الغائب ناجائز ہے مگر جب قاضی غائب کے حق یا خلاف فیصلہ دینے میں کوئی مصلحت سمجھے تو فیصلہ دے دے تونافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ اجتہادی مسئلہ ہے اھ ملخصا (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب القضاء مطلب المسائل التی یکون القضاء فیہا الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/۳۳۹)
تنویر میں ہے:
العدۃ سبب وجوبھا النکاح المتاکد بالتسلیم وماجری مجراہ ۱؎۔
عدت کے وجوب کاسبب وہ نکاح ہے جس میں رخصتی ہوچکی ہو یا اس کے قائم مقام کوئی معاملہ ہو۔ (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۵۵)
اور اگر لیلٰی کے شہر میں کوئی قاضی نہ ہو تو اس کی تدبیر ہم مسئلہ مفقود میں لکھ چکے ہیں واﷲ اعلم بالصواب والیہ سبحانہ وتعالٰی المرجع والماٰب (اللہ تعالٰی ہی درستی کو جانتا ہے اور اس کی پاک ذات کی طرف ہی پناہ اور لوٹنا ہے۔ ت)