Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
209 - 1581
باب الکفاءۃ فی النکاح

(نکاح کے سلسلہ میں کفو کا بیان)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۴۲۹: از مرا د آباد محلہ قانونگویاں مرسلہ محمد نبی خاں صاحب رئیس اوائل جمادی الاولٰی ۱۳۰۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بالغہ شریف زادی جس کے باپ نے انتقال کیا اور بھائی کوئی نہیں صرف عمرو اس کا حقیقی چچا ولی شرعی ہے، مادرہندہ نے غیبت عمرو میں باذن ہندہ بے اطلاع عمرو اس کا نکاح زید کم قوم غیر کفو یعنی قصاب مالدار سے کردیا، جب عمرو آیا اور مطلع ہوا اس خیال سے کہ نکاح تو ہوہی گیا مصلحۃً منظور کرلیا اور ہندہ کی رخصتی کردی برضائے ہندہ وطی بھی واقع ہوئی، اب ہندہ اپنے باپ کے یہاں چلی آئی اور تا ادائے مہر معجل زید کے یہاں جانا یا اسے اپنے نفس پر قدرت دینا نہیں چاہتی، اس صورت میں شرعاً کیا حکم ہے اورہندہ کوناشزہ کہا جائے گا یا نہیں؟ اور اسے زید کے یہاں نہ جانے اور اپنے نفس کے بچانے کا اختیار ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:صورت مستفسرہ میں نہ ہندہ ناشزہ اور نہ زید کو اس پر دسترس ، نہ زنہار اسے قدرت دیں گے کہ ہندہ کو اپنے یہاں بلائے، نہ ہر گز ہندہ کو اجازت دیں گے کہ بطور زوجیت اس کے یہاں جائے بلکہ شرعاً دونوں پر واجب ہے کہ اس نکاح فاسد وواجب الفسخ سے دست برداری کریں اور زید نہ مانے تو ہندہ پر لازم ہے کہ بطور خودفسخ کردے صرف اسی کے فسخ کئے سے فسخ ہوجائے گا، اور یہ بھی نہ کرے تو حاکم پر واجب ہے کہ ان میں تفریق کردے اور ہندہ کے لئے مہر مثل اتنا کہ مہر مسمی پر زیادہ نہ ہو زید پر لازم آئے گا، وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ نکاح غیر ولی یعنی ماں نے چچا کے ہوتے اسے ولایت نہیں بے رضائے ولی باذن ہندہ کیا تو درحقیقت یہ زن بالغہ کا بطورخود نکاح کرناہوا کہ بسبب اذن ولایت متحقق ہوئی اور فعل وکیل بعینہ فعل موکل ہے۔
فی الخیریۃ سئل فی بکربالغۃ زوجھا اخوھا لامھا من غیر کفو باذنھا اجاب تزویجھا لھا باذنھا کتزویجھا بنفسھا وھی مسئلۃ من نکحت غیر کفو بلارضا اولیائھا۱؎ اھ ملخصا۔
فتاوی خیریہ میں ہے ، سوال ہوا کہ ایک بالغہ باکرہ کا نکاح اس کی اجازت سے اس کی والدہ کی طرف سے بھائی نے غیر کفو میں کیا؟ جواب میں فرمایا کہ مذکورہ لڑکی کی اجازت سے نکاح ایسے ہی ہے جیسے اس نے بذات خود نکاح کیا ہو تویہ مسئلہ لڑکی کا خود کوغیر کفو میں اپنے اولیاء کی مرضی کے بغیر نکاح کرنیکا ہوا اھ ملخصا (ت)
(۱؎ فتاوی خیریۃ        باب الاولیاء والاکفاء    دارالمعرفۃ بیروت    ۱/۲۵)
اور روایت مفتی بہا مختار للفتوی یہ ہے کہ بالغہ ذات الاولیاء جو اپنا نکاح غیر کفو سے کرے وہ اس وقت صحیح ہوسکتاہے کہ ولی شرعی پیش ازنکاح صراحۃً اپنی رضامندی ظاہرکرے اور وہ جانتا بھی ہو کہ یہ شخص کفو نہیں ورنہ اگر عدم کفاءت پر مطلع نہ تھا یا تھا مگر پیش از نکاح اس نے تصریحات اظہار پسند ورضانہ کیا تو ہر گز نکاح صحیح نہیں اگرچہ ولی مذکور نکاح کے وقت ساکت بھی رہا ہو اگرچہ باوجود اطلاع اصلاً انکار نہ کیا ہو اگرچہ بعد وقوع نکاح صاف صاف تصریح رضامندی بھی کردی ہو اگر چہ اس کی رخصت وغیرہ خود ہی کی ہو، یہ سب باتیں بیکارہیں اور اس نکاح کی کہ شرعاً صحیح نہ ہوا اصلا ح نکاح  نہیں کرسکتیں،
فان الرضی الاحق انماینفع فی الموقوف دون الفاسد۔
بعد کی رضا موقوف نکاح کے لئے تو مفیدہے مگر فاسد  نکاح کے لئے مفید نہیں۔ (ت)
درمختار میں ہے:
یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھوالمختار للفتوی لفساد الزمان فلاتحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ۲؎۔
غیر کفو میں نکاح اصلا جائز نہ ہونے کا فتوی دیا جائے گا فساد زمان کی وجہ سے فتوی کے لئے یہی مختار ہے تو مطلقہ ثلاثہ اگر غیر کفو میں نکاح کر ے گی تو وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوسکے گی بشرطیکہ اس کے اولیاء اس غیر کفو پر مطلع ہونے پر رضامند نہ ہوں، ا س کو محفوظ کرلو۔ (ت)
 (۲؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)
اسی طرح فتح القدیر و فتاوی خیریہ ومجمع الانہر شرح ملتقی الابحر وغیرہا میں ہے:
وفی ردالمحتار ھذہ روایۃ الحسن عن ابی حنیفۃ وھذا اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلایفید الرضی بعدہ ۱؎۔
اور ردالمحتارمیں ہے یہ امام ابوحنیفہ سے امام حسن کی روایت ہے، یہ جب ہے کہ اس کے ولی ہوں اور وہ نکاح سے قبل راضی نہ ہوچکے ہوں تو بعد کی رضا مندی مفید نہیں ہوگی۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/۲۹۷)
اسی میں ہے:
السکوت منہ لایکون رضی کما ذکرنا ۲؎ ۔
اس موقع پر ولی کی خاموشی، رضا نہ قرار پائے گی جیساکہ ہم نے ذکر کیاہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/۲۹۷)
درمختارمیں ہے:
یجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطء فی القبل لابغیرہ کا لخلوۃ لحرمۃ وطئھا ولم یزد علی المسمی ویثبت لکل واحد منھما فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولا فی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینا فی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما ۳؎ اھ ملخصا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۔
نکاح فاسد میں وطی فی القبل ہوجانے پر مہر مثل لازم ہو جائے گا اور کسی عمل مثلا خلوت وغیرہ سے لازم نہ ہوگا کیونکہ یہاں وطی حرام ہے، اور یہ مہر مثل مقرر شدہ سے زائد نہ ہوگا، اور خاوند بیوی دونوں کو ایک دوسرے کی موجودگی کے بغیر بھی نکاح کو فسخ کرنیکاحق حاصل ہوگا، خواہ وطی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو تاکہ گناہ سے بری ہوسکیں، اسی لئے مہر کاوجوب فسخ کے منافی نہیں ہوگا بلکہ بہرصورت قاضی پر واجب ہے کہ وہ اس نکاح سے دونوں کی تفریق کرے، اھ ملخصا۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
 ( ۳؎ درمختار    باب المہر        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۲۰۱)
Flag Counter