Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
208 - 1581
مسئلہ ۴۲۶: از شہر مین پوری دریبہ مکان مولوی حکیم محمد عباس مسئولہ نثار احمد صاحب ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوجہ زید نے چند لڑکے چھوڑ کر انتقال کیا، زید نے اپنا عقد ثانی ہندہ سے کیا، ہندہ سے بھی چند لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی، پھر زید نے بھی انتقال کیا، ہندہ اپنی اولاد کو لے کر اپنے میکے چلی گئی، اس کے سوتیلے لڑکے اس کو اپنے حسب مقدرت ماہانہ خرچ خوردونوش پہنچاتے رہے، پھر ہندہ بھی مرگئی، اور اس کا بھائی ان بھانجی بھانجوں پر قابض ہوگیا اور اپنی بھانجی کا عقد خالد سے بلا صلاح ومشورہ اس کے علاتی بھائیوں کے پوشیدہ طورپر کردیا۔ جب یہ خبر عالم آشکار ہوئی تو بالا بالا اس کے علاتی بھائیوں کو بھی خبر پہنچی، تو کسی ترکیب سے اپنی سوتیلی بہن کو خالد کے مکان سے بلوالیاا ور اب یہ چاہتے ہیں کہ اپنی سوتیلی بہن کا کسی معزز سے نکاح کردیں اوروہ لڑکی بھی اپنے شوہر خالد سے نہایت بدظن ہے، بوقت عقد اس کی عمر آٹھ سال کی تھی اب گیارہ سال سے زائدنہیں، اس صورت میں کیا حکم ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب: صورت مستفسرہ میں جبکہ دختر ہندہ نابالغہ کا کوئی حقیقی بھائی بالغ نہ ہو تو ا س کے علاتی بھائیوں میں جو بالغ ہوں اس کے ولی نکاح ہیں، وہ نکاح کہ اس کے ماموں نے ان بھائیوں سے چھپاکر دیا فسخ ہوگیا، ان بھائیوں کو اختیار ہے کہ حسب اجازت شرع کسی کفو شرعی سے بغیر مہر مثل میں کمی فاحش کئے ہوئے اس کا نکاح کردیں، اگر وہ اب بھی نابالغہ ہے، اور اگر اب بالغہ ہوگئی یعنی عارضہ ماہواری آنے لگا تو کسی کفو شرعی سے نکاح کرلینے کا اسے خود اختیار ہے، بہر حال طلاق کی کچھ حاجت نہیں کہ بھائیوں کے رد کئے سے ماموں کا کیا ہوا نکاح سرے سے فسخ ہوگیا، اور خالد کو اس دختر سے کچھ تعلق نہ رہا پھر طلاق سے کیا علاقہ!
درمختار میں ہے:
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر ولی ابعدنے اقرب کی موجودگی کے باوجود نکاح دیا تو اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۴)
مسئلہ ۴۲۷: مرسلہ سید امداد علی صاحب مختار عالم ساہوان ٹھاکر دروازہ محلہ پیرزاد گان ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے شریعت محمدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ا س مسئلہ میں ایک شخص کی لڑکی اپنے نانا کی زیر پرورش ابتداء سے ہے باپ نے روز اول سے اس سے تعلق قطع کررکھا ہے اور مطلق کسی بات کی خبر نہیں لیتا ہے مرض دکھ درد ورنج راحت وغیرہ کونہیں پوچھتا، ایسی حالت میں ان لڑکیوں کا نانا عقدکردے تو جائز ہوگا یا نہیں؟ حال یہ ہے کہ وہ لڑکی جس کا عقد کرنا چاہتاہے تیرھویں سال میں ہے اگر کوئی صورت جواز ہو تو بیان فرمائیے کیونکہ جب باپ کسی حالت کا شریک نہیں تو لڑکی کے عقد کی کیا سبیل کی جائے اور یہ بیان فرمائیے کہ لڑکی کس سن پربالغ ہوئی اور بروئے فقہ اس کی کیا کیا شرائط اور نشانیاں ہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: باپ کے ہوتے ہوئے نانا کو ولایت نہیں ہوسکتی، باپ کا بے علاقہ رہنا اس کی ابوت کو زائل نہیں کرتا، 

ولم یذکر فی السؤال صورۃ العضل وفیھا الولایۃ للقاضی دون اب الام کما حققہ المولی الشرنبلالی فی کشف المعضل۔

سوال میں لا تعلقی کی صورت بیان نہیں کی جبکہ اس میں ولایت قاضی کو ہے نا نا کونہیں ہے جیساکہ مولٰنا شرنبلالی نے اپنی کتاب ''کشف المعضل'' میں اس کی تحقیق کی ہے۔ (ت)
لڑکی کم سے کم نو برس کامل اور زیادہ سے زیادہ پندرہ سال کامل کی عمر میں بالغہ ہوتی ہے۔ اس بیچ میں آثار بلوغ پیدا ہوں تو بالغہ ہے ورنہ نہیں۔ آثار بلوغ تین ہیں: حیض آنا یا احتلام ہونا یا حمل رہ جانا، باقی بغل میں یا زیر ناف بال جمنا یا پستان کا ابھار معتبر نہیں،
تنویر میں ہے:
بلوغ الجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل فان لم یوجد فحتی یتم خمس عشرۃ سنۃ وادنی مدتہ لھا تسع سنین ۱؎ (ملخصا)
لڑکی کا بلوغ احتلام، حیض یا حمل سے ثابت ہوتاہے اگر ان میں کوئی علامت نہ ہو تو جب عمر پورے پندرہ سال کو پہنچ جائے اور اس کے بلوغ کی کم از کم مدت نو سال ہے (ملخصا) (ت)
 (۱؎ درمختارشرح تنویر الابصار    فصل فی البلوغ    مطبع مجتبائی دہلی        ۲/۱۹۹ )
ردالمحتار میں ہے:
لااعتبار لنبات العانۃ ونھود الثدی فذکر الحموی انہ لا یحکم بہ فی ظاھر الروایۃ وکذا ثقل الصوت کما فی شرح النظم الھاملی ابوالسعود وکذا شعر الساق والابط والشارب ۲؎ (ملخصا) وھو تعالٰی اعلم۔
لڑکی کے بلوغ کے لئے زیر ناف بال اگنے اور پستان کے ابھار کا اعتبار نہیں ہے تو حموی نے ذکر کیا کہ اس پر حکم نہیں کیا جاسکتا ظاہر روایت کے مطابق، اور یوں ہی  آواز کا بھاری ہونا بھی معتبر نہیں ، جیساکہ ابوالسعود ہاملی کے منظوم کی شرح میں ہے، اوریوں ہی پنڈلی، بغل، مونچھوں کے بالوں کا بھی اعتبار نہیں۔ (ملخصا) وھو تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار        فصل فی البلوغ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/۹۷)
مسئلہ ۴۲۸: ازمبارکپور ڈاکخانہ خاص محلہ رانی پورہ ضلع اعظم گڑھ مرسلہ نثار احمد صاحب درزی 

زید بیمار ہوا اپنی حالت بیماری میں اپنی لڑکی کو ا س کے ماموں کے سپرد کیا، لڑکی کا سن پندرہ برس کا تھاپھر لڑکی کا والد قضا کر گیا اور دادا بھی موجود ہے اور لڑکی کی اب تک اپنے ماموں کے یہاں پرورش پاتی ہے، بعد کچھ روز کے لڑکی کے دادا نے کہیں نکاح کردیا یعنی کفو میں، اس نکاح کو نہ تو اس کا ماموں جانتاہے نہ لڑکی جانتی ہے، بعد کچھ روز کے لڑکی نے سنا تو کہا ہم کو نکاح منظور نہیں، اور لڑکی کا ایک چچابھی موجود ہے وہ بھی نکاح میں شریک نہیں وہ بھی نہیں جانتا اور نہ اس کی رائے سے نکاح ہوا، صرف دادا نے اپنی خودی سے نکاح کیا تھا اس نکاح کو کوئی نہیں جانتا، نہ ماموں نہ لڑکی کا چچا، آیا وہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب

غیب کاعلم اللہ عزوجل پھر اس کے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ہے، اگر فی الواقع جس وقت دادا نے اس کانکاح کیا اس کی عمر کامل پندرہ برس کی یا اس سے زائد تھی یا آثار بلوغ مثل حیض وغیرہ ظاہر تھے تو دادا نے جو نکاح کیا عورت کی اجازت پر موقوف رہا، اگر عورت نے خبر سن کر نامنظور کیا رد ہوگیا اور اگر وقت نکاح عورت کی عمر پوری پندرہ سال کی نہ تھی نہ آثار بلوغ ظاہر تھے اور دادا نے نکاح کردیا تولازم ہوگیا اب رد نہیں ہوسکتا، عورت اگر دوسرا نکاح بحیات شوہر کرے گی زنا ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter