Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
207 - 1581
مسئلہ ۴۲۲: ازلکھنؤ چھتر منزل کلب مسئولہ عبدالرحیم خان صاحب قادری رضوی ۶ رجب ۱۳۳۹ھ پنجشنبہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید کسی وجہ سے اپنا نکاح پڑھانے نہیں جاسکتا تو اپنے پیر بھائی کو اپنا ولی بنالیا تو ولی نکاح پڑھاکر لاسکتاہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: اسے ولی نہیں وکیل کہتے ہیں کسی کو اپنا وکیل کردے کہ میری طرف سے ایجاب وقبول کرآؤ، نکاح پڑھانے والا اس سے کہے کہ فلاں بن فلاں بن فلاں کی سب سے بڑی یا سب سے چھوٹی لڑکی (یا جس طرح تعیین ہو) میں نے تیرے موکل فلاں بن فلاں بن فلاں کے نکاح میں اتنے مہر پردی، وکیل کہے کہ میں نے اپنے موکل مذکور کی طرف سے اس کے لئے قبول کی، یاوکیل خود عورت یا اس کے وکیل یا نابالغہ ہے تو اس کے وکیل سے کہے کہ میں نے تجھے یا فلانہ بنت فلاں بن فلاں کو تیری موکلہ ہے یا جس کا تو ولی ہے اپنے موکل فلاں بن فلاں بن فلاں کے نکاح میں لیا عورت یا اس کا وکیل یا ولی کہے میں نے قبول کیا نکاح ہوجائے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۳: از تلہر ضلع شاہجہان پور محلہ عمر پور مسئولہ شیخ سلامت اللہ صاحب پارچہ فروش ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کتنی عمر میں لڑکی کا نکاح جائز اور کتنی عمر کا ہو تو ناجائز یعنی لڑکا سن بلوغ بحکم شرع کتنی عمر میں ہوتاہے، کتنی عمر مدت سال کی ہوتو نکاح جائز ہوتا ہے جب کہ اس کا کوئی حقیقی شخص وکیل مطلق نہ ہو، بینوا تو جروا
الجواب:جب آثار بلوغ ظاہر ہوں لڑکے کو احتلام لڑکی کو حیض، اس وقت سن بلوغ ہوتاہے، اوراگر آثار نہ ہوں تو پندرہ برس پوری عمر ہونے پر حکم دیا جائے گا، اگر لڑکی نو برس کامل یا لڑکا بارہ برس کامل کاہوچکاہے اور وہ دعوی بلوغ کریں اوران کی ظاہری حالت اس دعوے کی تکذیب نہ کرتی ہو تو ان کا قول مان لیا جائے گا جب تک ان صورتوں میں سے کسی صورت پر بلوغ ثابت نہ ہو وہ بغیر اذن ولی کے اپنا نکاح نہیں کرسکتے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۴: از لصرات پر گنہ پڑادہ ریاست علاقہ ٹونک محلہ سلطانپورہ مسئولہ ابراہیم صاحب ۲۸ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اپنی بیوی سے ۱۴سال سے علیحدہ  رہتا ہو عورت حاملہ تین ماہ کی ہواسی حمل سے لڑکی پیدا ہوئی اور لڑکی نے چودہ سال تک اپنی ماں کے پاس پرورش پائی باپ نے کسی قسم کی امدا د نہیں دی نہ کبھی لڑکی کو بلواکر دیکھا، ایسی صورت میں جوان لڑکی ۱۴ سال کی بالغ ہوگئی ہے لڑکی نے اپنی خوشی اور اس کی والدہ نے اپنی اجازت سے لڑکی کا نکاح کردیا باپ موجود نہ تھانکاح بھی ہم قوم سے ہوا یعنی غیر قبیلہ میں نہیں ہوا، یہ نکاح جائز رہا یا نہیں۔ بینوا تو جروا
الجواب:شرعاً وہ لڑکی اسی کی ہے اگرچہ کتنے ہی برسوں سے عورت سے علیحدہ ہو فقط چودہ برس کی عمرہونا بلوغ کے لئے کافی نہیں۔ اگر حیض نہ آیا ہو نا بالغہ ہے، نکاح کےلئے اس کی اجازت کوئی چیز نہیں، اور ماں کا کیا ہوا نکاح باپ کی اجازت پر موقوف رہے گا، اگر جائز کردے گا جائز ہوجائے گا رد کردے گا باطل ہوجائے گا، اور اگر لڑکی واقعی بالغہ ہوگئی تھی حیض آچکا تھا تو وہ کفو میں اپنے نکاح کی مختار ہے غیر کفو میں  بغیر اجازت باپ کے کہ اس نے پیش از نکاح غیر کفو جان کر صراحۃً اجازت دی ہو لڑکی کا نکاح اس کی اجازت سے باطل ہے، غیر کفو ہونے کے لئے یہی ضروری نہیں کہ کم قوم ہو بلکہ مذہب یا پیشہ یا چال چلن میں ایسا کم کہ اس کے ساتھ نکاح ہونا لڑکی کے لئے باعث بدنامی ہو یہ بھی غیر کفو ہونا ہے اگرچہ خاص اسی خاندان کا ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۵: از سمیتہ ڈاکخانہ دراپختہ تحصیل ڈیرہ غازی خان مسئولہ اللہ بخش صاحب ۵شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید ایک عورت زینب پر عاشق ہوا باوجود اہل وعیال کے اس کے عشق میں مغلوب ہو کر اپنی دختر صغیرہ چارسالہ کا نکاح حق مہر زینب پر برادر زینب عمرو زوجہ سے کردیا بعداس کے زیدنے زینب سے عقد کرکے سرمیل کیا اور اس وقت بیمار ہوا، بعد ہفتہ کے فوت ہوگیا، اب وہ لڑکی بالغہ ہوکر کہتی ہے کہ میرے باپ نے مرض عشق میں جو میرا نکاح نااہل غیر پردہ دار سے کردیاہے مجھے منظور نہیں،آیا یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: صغیرہ کا نکاح کہ اس کے باپ نے کیالازم ہے، صغیرہ کو بعد بلوغ اس کے فسخ کا کوئی حق نہیں اور عذرات کہ سوال میں لکھے مہمل وبے معنٰی ہیں شرع میں ان کی کوئی اصل نہیں۔
درمختار میں ہے:
لزم النکاح ولوبغبن فاحش او من غیر کفو ان کان المزوج ابااوجد الم یعرف منھما سوء الاختیار ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
نکاح کردینے والا باپ یا دادا ہو اگرچہ یہ نکاح غیر کفو یا انتہائی کم مہر پر کیا ہو تو بھی لازم ہوجائے گا بشرطیکہ باپ دادا سوء اختیار سے معروف نہ ہوں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
Flag Counter