Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
206 - 1581
مسئلہ ۴۱۸: ضلع ہوگلی ڈاک خانہ تیلن پاڑہ باڑی عجب میاں مسئولہ سلطان احمد خاں صاحب مرزا پوری ۴ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک لڑکی بعمر بارہ برس کی ہے، اس کا عقد کرنے کو اس کا باپ ایک مرد نابالغ سے کرنے کو وعدہ کیا کہ ہم تمھارے ساتھ اپنی لڑکی کی شادی کریں گے، اور رسم دنیاوی بھی کردیا گیا کہ لڑکا لڑکی کے واسطے کپڑا اور مٹھائی وغیرہ اور دس پانچ برادری کے لوگوں کو ساتھ لے کر گیا، لڑکی کے باپ نے برادری کے روبرو سب سامان لیا اور اقرار کیا کہ فلاں تاریخ میں نکاح کردوں گا کہ درمیان میں لڑکی کا باپ بیمار ہوگیا اور زیادہ علیل ہوگیا سو وہ مکان پر چلا گیا، جس کو عرصہ چھ ماہ کا ہوگیا، لڑکی اور اس کی ماں یہیں پر رہ گئیں ا ور اب بھی وہ موجود ہیں، جب سے لڑکی کا باپ مکان گیا وہی لڑکا برابر خرچ وغیرہ کا بھی بار اٹھاتاہے، اب وہ لڑکا لڑکی کی ماں سے بہت زور کرتاہے کہ میرا نکاح کردو۔ عورت نے کئی مرتبہ خط بھی مکان پر لکھا مگر کچھ جواب نہیں آیا کہ زندہ ہے یا مرگیا، لڑکی کی ماں پہلے راضی نہ تھی مگر جب لڑکے نے کہا کہ اگر تم نکاح نہیں کرتی ہو تو جو کچھ روپیہ میرا اتنے عرصہ میں خرچ ہوا اس کو دو ورنہ ہم نالش کریں گے، سواب لڑکی کی ماں نکاح لڑکی کا کرنے پر راضی ہے اور کہتی ہے کہ ہم راضی ہیں نکاح پڑھوالو، اور یہ کہا کہ شوہر میرا کہہ گیا تھا کہ ہم مکان سے واپس آکر شادی کریں گے اس وجہ سے ہم نہیں راضی ہوئے تھے، سو اب ان کا کچھ پتہ نہیں ہے، میں خوشی سے کہتی ہوں کہ قاضی کو بلاکر ایجاب وقبول کرکرالو، اور لڑکی بھی اپنے برے بھلے کو پہچانتی ہے، سو وہ بھی رضامند ہے،اور عرصہ چھ ماہ سے اسی مرد کے ہمراہ گویا رہتی ہے، جو باتیں حق حق تھیں ان کو لکھ کر علمائے دین کے حضور میں پیش کردیا جو کچھ حکم شریعت مطہرہ کاہوبیان فرمائیں، اورذیل میں جو علامات انگوٹھا ہے وہ ان برادریوں کاہے جن کے سامنے لڑکی کے والد نے اقرار کیا اورکپڑا وغیرہ لیا، ان لوگوں کے سامنے یہ سوال لکھاگیا اور دستخط لیا گیا لہذا عدم موجودگی اس کے والد کے نکاح ہونے یا نہ ہونے سے یا جس طرح اور جس قاعدہ سے نکاح ہو اس مسئلہ کو حضور تحریر کریں۔ بینوا توجروا
الجواب: لڑکی اگر نابالغہ ہے تو اس کے نکاح کے لئے ولی کی ضرورت ہے۔ ولی اس کا باپ ہے، بے اجازت پدر کسی کو لڑکی کے نکاح کرنے کااختیار نہیں ، اورپہلے اس کا راضی ہونا اور وعدہ کرنا اجازت کے لئے کافی نہیں کہ اس نے کسی کو وکیل نہیں کیا، اب اس سے اجازت لی جائے۔اگر اس کا پتہ نہ چلے تو لڑکی کا جوان بھائی ا س کا ولی ہے وہ نہ ہو تو بھتیجا، وہ نہ ہو تو چچا کا بیٹا، اس طرح جو عصبہ ہو، اگر عصبات میں کوئی نہ رہا ہو تو البتہ ا س وقت ماں کو ولایت ہوگی اور اس کی اجازت سے نکاح ہوسکے گا،۔ اور اگر لڑکی بالغہ ہے یعنی اسے ماہواری عارضہ آچکاہے تو خود اس کی اپنی اجازت کافی ہے۔ مگر بہر حال باپ کے سوا جو دوسرا شخص اس کا نکاح کرے یا بالغہ ہوکر خود کرے یہ ضرور ہوگا کہ جس سے نکاح کیا جائے وہ اس لڑکی سے مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہونا لڑکی کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعارہو ورنہ نکاح ہوگاہی نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۹: از پیلی بھیت محلہ غفار خان مسئولہ حکیم سعید الرحمن خاں صاحب ۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ رفیق بیگم کا نکاح اس کی نابالغی میں جبکہ اس کا باپ دادا زندہ نہ تھے اس کے چچا نے اپنے پسر کے ساتھ کردیا، نابالغہ مذکورہ نے بالغ ہوتے ہی اعلان کردیا کہ اس نے نکاح مذکور کو نامنظور وناپسند کرکے فسخ کردیا اور بذریعہ نوٹس رجسٹری شدہ شوہر کو جو ہنوز نابالغ ہے اور اس کے والد کو بھی اطلاع دے دی، نوٹس یہ لکھ کر واپس آیا بعدا زاں رفیق بیگم نے دیوانی میں نالش کی اور حسب ذیل استدعائے داد رسی کی: ''استقرار اس امرکا فرمادیا جائے کہ جو نکاح مدعیہ کا اس کی نابالغی میں ہوا تھا اور جس کو مدعیہ نے بعد بلوغ شرعی کے مسترد کردیا ہے مدعیہ بوجہ مصرحہ عرضی نالش نکاح مذکور کی فسخ اور کالعدم ہوجانے کی وجہ سے پابند نہیں ہے اوراب مدعیہ زوجہ مدعاعلیہ کی نہیں ہے۔'' ہنوز اس نالش کا فیصلہ نہ ہونے پایا تھا کہ رفیق بیگم فوت ہوگئی، ایسی حالت میں نکاح مذکور وقت وفات رفیق بیگم کے قائم وبرقرار متصور ہوگا یا فسخ ومسترد، اور شوہر کو ترکہ رفیق بیگم کا پہنچے گا یا نہیں؟
الجواب: رفیق بیگم کی اخیر سانس تک نکاح برقرار تھا، وہ اپنے شوہر کی زوجیت ہی میں مری، شوہر اس کے نصف ترکہ کا وارث ہوگا اور نصف مہربھی ساقط ہوگیا، نصف مہر بحق دیگر ورثادے گا، خیار بلوغ سے عورت کو یہ حق نہیں ہوتا کہ اپنا نکاح خود فسخ کرلے، نہ اس کے فسخ کئے فسخ ہوسکتاہے، بلکہ اسے صرف دعوی فسخ کا اختیار ملتاہے، بعد دعوی قاضی شرع کے فسخ کئے سے فسخ ہوگا، اگرقبل فسخ مرجائے تو زوجیت ہی میں مرے گی، ردالمحتار میں ہے:
قولہ فیفسخہ القاضی فلایثبت ھذہ الفرق الابالقضاء لانہ مجتھد فیہ وکل من الخصمین یثبت بدلیل فلا ینقطع النکاح الابفعل القاضی ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ماتن کا قول کہ ''قاضی اس کو فسخ کرے'' تو فرقت قضاء کے بغیر ثابت نہ ہوگی، کیونکہ یہ مسئلہ اجتہادی ہے اور ہر فریق اس میں دلیل کا سہارا لیتا ہے اس لئے نکاح قاضی کی کارروائی کے بغیرفسخ نہ ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ردالمحتار    باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۲۹۷)
مسئلہ ۴۲۰: ضلع سکھر سندھ اسٹیشن ڈھرکی ڈاکخانہ خیرپور ڈھرکی خاص دربار معلی قادریہ پر چونڈی شریف از طرف ابوالنصر فقیر سردار شاہ ۱۷ جمادی الاُخرٰی ۱۳۳۹ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی، شخصے بحین حیات پدر خود بلارضامندی وشمولیت وے نکاح خواہر صغیرہ بمعاوضہ بازوبجائے کردہ پدرش بعد خبریافتن انکار کرد وبعد چند مدت راضی شدہ باز معاوضہ رادر نکاح پسر خود گرفت وبازانکار کرد، آیا از انکا راول نکاح باطل شد یا نہ؟محض اقبال بعد انکار تجدید ایجاب وقبول فائدہ دارد یا نہ ؟بینواتوجروا

علماء کرام اللہ تعالٰی تم پر رحم فرمائے، آپ کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ باپ کی زندگی میں باپ کی رضامندی اور شمولیت کے بغیر بھائی نے اپنی نابالغہ بہن کانکاح بدلے کی شرط پر کردیا، اور کچھ مدت بعد باپ ا س نکاح پر راضی ہوگیا اور بدلہ میں لڑکے کے لئے رشتہ لے لیا اور دوبارہ پھر انکار کردیا، کیا پہلے انکار پر نکاح باطل ہوا یا نہ؟ انکار کے بعد صرف ایجاب وقبول سے نکاح ہوگا یا نہیں؟  بیان کرو اجرپاؤ ۔ (ت)
الجواب:نکاح بالغہ کہ برادرش بے اجازت پدر کر د نکاح فضولی بود براجازت پدر موقوف چوں پدر باستماع خبر انکار کرد فوراً باطل شدوباطل راعود نیست باز راضی شدن پدر بکار نیاید تااز سرنو ایجاب وقبول پیش شہود نہ کنند در درمختار است بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ۱؎ در ردالمحتار ست لان نفاذ التزویج کان موقوفا علی الاجازۃ وقد بطل بالرد ۲؎ ،

بھائی نے باپ کی اجازت کے بغیر نابالغہ کا جو نکاح کیا وہ فضولی کا نکاح ہے اور باپ کی اجازت پر موقوف ہے جب باپ نے خبر سنتے ہی انکار کردیا تو نکاح فوراً باطل ہوگیا اور باطل شدہ دوبارہ صحیح نہیں ہوسکتا ہے اس کے بعد باپ کا راضی ہونا بے فائدہ ہے جب تک دوبارہ گواہوں کی موجود گی میں نیا ایجاب وقبول نہ کریں صحیح نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے کہ اگر لڑکی نے خبر ملنے پر نکاح رد کردیا پھر کہاکہ میں راضی ہوں تو جائز نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ردکی وجہ سے پہلے باطل ہوچکاہے، ردالمحتار میں ہے کیونکہ نکاح کا نفاذ اجا زت پر موقو ف تھا جبکہ رد کرنے سے باطل ہوچکاہے،
(۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۲)

(۲؎ ردالمحتار   باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۰۰)
در بحر الرائق ست الاجازۃ شرطھا قیام العقد ۳؎ ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
بحرالرائق میں ہے اجازت کے لئے عقد نکاح کاباقی ہونا شرط ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎ بحرالرائق    باب فی الاولیاء والاکفاء    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۳/۱۱۴)
مسئلہ ۴۲۱ تا ۴۲۲: از ضلع بلاسپور امام مسجد اکلترا

ایک بڑھیا کی لڑکی تھی اس کی برادری والے بلارضامندی شادی کرنے لگے، بڑھیا مذکور نکاح کے وقت نامناسب رہنے پر دوسری کوٹھری پر روتی تھی اور یہ خبر نہیں کہ میری لڑکی کا کیا ہو رہا ہے، لڑکی کی عمر پانچ یا چھ سات سال کی تھی، اس لڑکی کو یہ کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہو رہایا کیا ہوا، اس لڑکی مذکور کے وارث سوائے بڑھیا ماں کے کوئی اس کے باپ دادا کی شاخ میں بھی نہ تھے، بلکہ بلاوارث والوں نے نکاح طفلیت میں پڑھایا تو کیا یہ نکاح صحیح ہوسکتا ہے یا نہیں سوائے اس کے جولوگ نامناسب نکاح بنایا ہو ا داماد نکاح بے کئے تو بڑھیا مذکور غریب بیوہ منہاری بیچنے والی بچی کو کوئی گزر کرتی تھی بعض وقت یہ بنایا ہوا داماد دو تین بار گیا تو بڑھیا بطورمہماں نوازی کے کھلاتی پلاتی بطور برادرانہ، لیکن کچھ بڑھیا کی بچی سے سروکار بات چیت دیگر حرکات سے پاک رکھتی تھی، جاتے وقت بڑھیا جب روکتی تھی تو بناہوا داماد برائے نام کھلے الفاظ میں یہ صاف صاف کہتا تھاکہ مجھ کوکیوں روکتی ہے میں نہ رہوں گا اور نہ کسی کو چاہتاہوں اور یاد نہ رکھوں گا، پس یہ نمبر۲ کے متعلق ایک تو نکاح ہی درست نہیں ہوا اور جو بنائے ہوئے داماد والوں کی طرف سے نکاح بھی مغالطاً ثابت کریں، تو جب دو ایسا الفاظ کھلا ہوا سے کہے کہ نہ رکھوں گا نہ چاہتا ہوں، توبھی نکاح والے کا نکاح ساقط ہوجاتاہے تو اب لڑکی کا نکاح بڑھیا بالغی میں پڑھاوے تواولاد بھی ہوتی تو جو اولاد مسلمان ہوں۔ فقط
الجواب

دوسرا سوال مہمل ہے، اتنی باتوں کا جواب لکھاجائے تو اس کا جواب ہو:

(۱) اس لڑکی کے دادا پردادا نزدیک دور کی اولاد میں کوئی مرد اس نکاح کے وقت تھا یا نہیں۔ بے تحقیق کوئی نہ تھا نہ کہہ دیا جائے کہ تحقیق کے بعد نکلتے ہیں۔

(۲) اگر ایسا کوئی مرد تھا تو اس نے نکاح کی خبر سن کر کیالفظ کہے۔

(۳) اگر ایسا کوئی مرد نہ تھا تو ماں نے نکاح ہوجانے پر کیالفظ کہے اور اس کے بعد کیا لفظ کہے یا کچھ نہ کہا۔

(۴) جب وہ شخص آتا تھا تو ماں اس کی خاطر داماد کی سی کرتی تھی یا عام مہمانوں کی سی۔

(۵) لڑکی کو اب ماہواری عارضہ آتا ہے یا نہیں۔ اس کی عمر اب کیا ہے، عارضہ ماہواری آتاہے تو کب سے آتاہے۔

(۶) ماں کو اس نکاح سے وجہ ناراضی کیا تھی۔

(۷) لڑکی کو اگر عارضہ ماہواری آیا تو فوراً ا س کے آتے وقت اس نکاح کے بارے میں کچھ کہا یا کتنی دیر بعد کچھ کہا یا کچھ نہ کہا اور اگر عارضہ ماہواری اب تک نہ آیا اور لڑکی کی عمر پندرہ برس کی ہوگئی توجس وقت عمر پندرہ برس کی ہوئی تھی اس وقت یااس کے دیر کے بعد لڑکی نے اس نکاح کے بارے میں کیا کہا تھا یاکچھ نہ کہا۔

(۸) یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ جس سے نکاح ہوا اس کی قوم کیاہے اور لڑکی کی کیا قوم ہے اور اس کا چال چلن کیساہے اور اس کا مذہب کیاہے کیاپیشہ کرتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter