Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
205 - 1581
مسئلہ ۴۱۶: از شہر کہنہ محلہ صوفی ٹولہ مسئولہ طفیل احمد صاحب ۱۱ صفر ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک لڑکی کا نکاح اس کے والدین نے ایک لڑکے کے ہمراہ جوکہ ایک بیوی معہ دو بچوں کے چھوڑ چکاہے اور لڑکی کا خالہ زاد بھائی ہوتا ہے لڑکی کے اقربا (تایا، پھوپھا، بھائی وغیرہ) کو بغیر جمع کئے محلہ میں دھوکہ سے لے جاکر سرائے خام کے ایک طالب علم سے اس طرح پڑھوایا کہ ماموں جوکہ دونوں (لڑکے اور لڑکی) کا ہوتاہے وکیل بنایا (اور گواہ اول دونوں کا خالو ہے اور گواہ دوم لڑکے کاتایا زاد بھائی ہوتا ہے) جب ماموں اذن لینے گیا تو اس نے جواب نہ دیا مگر اصرار کرنے پر بھی جواب نہ دیا توماموں نے اس کے ایک طمانچہ مارا کہ جس کے سبب سے وہ رونے لگی اور ماموں نے باہر آکر نکاح پڑھوادیا،لڑکی جانے پر رضامندنہیں ہے کیونکہ وہ اگلی بیوی کا حال دیکھ چکی ہے، تو یہ نکاح جائزہے یا نہیں؟
الجواب :سائل نے بیان کیا کہ لڑکی کی عمر وقت نکاح دو مہینے اوپر پندرہ سال کی تھی، اگر یہ بیان اورصورت سوال واقعی ہے تو وہ نکاح فضولی ہوا، اجازت لینے والے اور گواہوں کا رشتہ دار ہونا تو کوئی مخل نہیں، اور بکر کا رونا بھی اذن میں شامل کیا جاتاہے مگر نہ وہ رونا کہ طمانچہ مارنے سے ہو، وہ ہر گز دلیل اجازت نہیں ہوسکتا، تو عقد نہ ہوا مگر عقد فضولی ، اورلڑکی کی اجازت پر موقوف رہا، اگر اس نے اظہار اجازت سے پہلے اظہار ناراضی کیا نکاح رد ہوگیا، اور شوہر کو اس پر کوئی دعوی نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۷: از حیدر آباد دکن قصبہ نارائن پینٹھ جی آئی پی ریلوے کرشنا مسئولہ سید اکرم علی عرف مطلوب شاہ صاحب مدرس فارسی مدرسہ سلطانیہ درجہ اول ۱۳ صفر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ عاقلہ بالغہ حرہ مکلفہ باکرہ نے بلااجازت ولی جائز اپنا عقد دوگواہان شرعی کے رو برو اپنے ایک ہم کفو سے کرلیا، پس یہ نکاح ازروئے مذہب حنفی ہوا یا نہیں؟ اگر ہوا تو کیا ولی جائز فسخ کرکے بلا طلاق وخلع ہندہ کا عقد کسی مالدار سے جبراً کرنا چاہتاہے اگر کردے تو اس کاوبال کس پر ہوگا؟ اور یہ فعل ا س کا کس حد تک جائز ہے؟ کیا رواج عرف عام قانون شرع شریف پر کسی حالت میں مرجح ہوسکتاہے اور ولی جائز کا جھوٹا حلف ہندہ کے مقابلہ میں معتبر ہوگا یا ہندہ کا قول؟ بینوا تو جروا
الجواب: شرعا کفوکے معنی یہ ہیں کہ مذہب یا نسب یا پیشہ یا چال چلن کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ اس عورت کا نکاح اولیائے زن کے لئے باعث ننگ وعار ہو، اگر وہ اس معنی پر کفو ہے تو حرہ مکلفہ کا برضائے خود بے اجازت ولی اس سے نکاح نافذ ولازم ہے، ولی اسے ہر گز فسخ نہیں کرسکتے، اگر بلا طلاق اس کا نکاح دوسری جگہ کردیں گے باطل محض ہوگا، اوراس میں قربت زنائے خالص جس کا وبال مرتکب تزویج پر ہوگا۔
عالمگیریہ میں ہے:
نفذ نکاح حرۃمکلفۃ بلاولی ۱؎۔
آزاد عاقلہ بالغہ کا نکاح بغیر ولی نافذ ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوی ہندیہ        الباب الرابع فی الاولیاء   نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۸۷)
درمختار میں ہے:
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا رضی ولی ۲؎
 ( ولی کی رضا کے بغیر بھی حرہ عاقلہ بالغہ کا نکاح نافذ ہے۔ ت)
 (۲؎ درمختار        باب الولی            مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)
اور اگرا س معنی شرعی پر کفو نہیں اگرچہ ہم قوم ہو جسے عوام میں کفو کہتے ہیں مثلا مذہب یا پیشہ یا چال چلن میں ایسا کم ہو کہ اس عورت کا اس سے نکاح ولی زن کے لئے باعث عار و بدنامی ہے تو زن مکلفہ کا بے اجازت ولی اس سے نکاح باطل ومردودمحض ہے،
درمختار میں ہے:
ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا ۲؎۔
غیر کفو میں اصلا نکاح نہ ہونے کافتوی ہے۔ (ت)
 ( ۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)
رواج، عرف وقانون کوئی چیز شرع مطہر پر مرجح نہیں۔
قال اﷲ تعالٰی: ان الحکم الا ﷲ ۲؎
اللہ تعالٰی نے فرمایا: حکم صرف اللہ تعالٰی کا ہے۔
(۲؎ القرآن الکریم     ۶/۵۷)
وقال اﷲ: ومن لم یحکم بما انزل اﷲ فاولٰئک ھم الفاسقون ۳؎۔
اور فرمایا: جو اللہ تعالٰی کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ دے وہ فاسق ہے۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم   ۵/۴۷)
سائل نے کچھ نہیں لکھا کہ عورت اور اس کے ولی میں کس بات کا اختلاف ہے جس کا جواب دیا جائے کہ ان میں کس کا قول معتبر ہے کہیں اس کا قول معتبر ہوگا کہیں اس کا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter