| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۴۱۳: از مقام گھو، گھو ڈاک خانہ اسٹیٹ ضلع دینا جپور ڈاکخانہ خاص مسئولہ حاجی سیدنورالحسن صاحب بہاری ۱۶ محرم ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک لڑکی نابالغہ جس کے دو نابالغ بھائی حقیقی ہیں اور ایک حقیقی ماں اور ایک حقیقی چچا اور اور ایک حقیقی ماموں ہیں، لڑکی نابالغہ اور دونوں بھائی اور اس کی ماں یعنی ان چاروں کی کفالت بعد فوت باپ وشوہر، بھائی شوہرکا وبھائی ماموں کا یعنی ماموں حقیقی وچچا حقیقی کر رہاہے، ماموں وچچا حقیقی اور دو بھائی نابالغ حقیقی پردیس میں چچا وماموں کے ساتھ ہیں، ماموں وچچا وبھائی کی عدم موجودگی میں غیر اقربا اورلڑکے کی ماں نے بہکا کر لڑکی کی ماں کو راضی کرکے چچیرے چچا کی اجازت سے نکاح کردیا، اس نکاح سے ماموں اور چچا دونوں سخت ناراض ہیں اور کفالت کرنے سے دست بردار ہیں، لڑکی ہمیشہ سے جب سے اپنی ماں کے ساتھ اپنے حقیقی چچا کے مکان میں رہتی ہے شوہر مجازی سے کوئی تعلق نہیں ہوا صرف عقد ہوا ہے رسم بارات وغیر ہ باقی ہے نکاح جائز ہوا یا نہیں؟ اگر ناجائز ہوا تو دوسرے کے ساتھ یا شوہر اول کے ساتھ دوبارہ جائز ہوگا یا نہیں؟
الجواب: یہ شخص جس سے نکاح ہوا اگر لڑکی کا کفونہیں یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایسا کم ہے کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے دختر کے لئے باعث ننگ وعار ہے تو یہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔ نہ جب تک لڑکی نابالغہ ہے کسی ایسے شخص سے کوئی اس کا نکاح کرسکتاہے، اور اگر جس سے نکاح ہوا وہ کفو ہے یعنی کسی بات میں ویسا کم نہیں تو یہ نکاح لڑکی کے حقیقی چچا کی اجازت پر موقوف رہا ، اگر اس نے جائز کردیا اگرچہ ناراضی کے ساتھ، مثلا کہے ''خیر نکاح تو ہوگیا مگر ہم کفالت سے دست بردارہیں'' تو نکاح نافذ ہوگیا، چچا یا ماموں کسی کو اختیار نہیں کہ وہ دوسری جگہ نکاح کردے، ہاں لڑکی کو اس پر اعتراض کا حق ہوگا اگر بالغ ہوتے ہی فوراً فوراً اپنی ناراضی کا اظہار کرے، اور اگر چچا نے خبر سن کر رد کیا تو رد ہوگیا، چچا کو اختیارہے جس کفو سے چاہے نکاح کردے اگرچہ اسی شوہر سے، غرض ان الفاظ پر مدار ہے جو چچا نے خبر سننے پر پہلی پہل کہے ایماناً وہ پورے الفاظ بے کم وبیش تبدیلی معلوم ہونا ضروری ہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۴ : از موضع آچورہ ڈاکخانہ بیجاری ضلع فریدپور ملک بنگال مسئولہ حاجی عبدالغنی صاحب ۲۱ محرم ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زیدکی لڑکی بالغہ ہندہ نےبلااجازت زید کے اپنے کفو بکر کے ساتھ نکاح کیا، زید سن کر نہایت ناخوش ہوکر بکر کے مکان سے حیلہ وبہانہ کرکے ہندہ کو اپنے مکان میں لے آیا، پھر ہندہ سے کہا کہ یہ نکاح جائز نہیں ہوا اس لئے کہ میں تیرا باپ ہوں بلااجازت باپ کے نکاح صحیح نہیں۔ اس حال میں ایک سال سے زیادہ گزرگیا، پھر زید نے ہندہ کانکاح عمرو کے ساتھ کیا، اب دریافت طلب امریہ ہے کہ نکاح ثانی صحیح ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو جو اولاد عمرو سے ہوئی اس کا اور زید کے شرع شریف میں کیا حکم ہے زید امام ہوسکتاہے یا نہیں؟ اور اگر نکاح ثانی صحیح ہے تو بکر پر مہر مثل لازم ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: پہلا نکاح عورت نے جس سے کیا تھا اگر وہ کفو شرعی تھا یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایسا کم نہ تھاکہ اس کے ساتھ عورت کا نکاح ہونا عورت کے باپ کے لئے باعث ننگ وعار ہو تو وہ پہلا نکاح ہوگیا اور یہ دوسرا نکاح باطل ہوا، عورت کا باپ اور یہ دوسرا شوہر دونوں سخت کبیرہ کے مرتکب ہیں، اور بچہ جو پیدا ہوا وہ پہلے شوہر کا ہے، اس صورت میں زید کو امام کرنا گناہ ہے جب تک توبہ کرے، اور اگر پہلا نکاح عورت نے جس سے کیا وہ بمعنی مذکور کفو شرعی نہ تھا تو وہ پہلا نکاح باطل ہوا دوسرا نکاح صحیح ہوا، بچہ اس دوسرے شوہر کا ہے، زید وعمرو پر کوئی الز ام نہیں ان کے پیچھے نماز اس وجہ سے ممنوع نہیں،پہلا نکاح جس سے ہوا تھا اگر وہ قربت کرچکا ہے تو اسے مہر مثل دینا آئے گا یعنی ایسی عورت کا جتنا مہر ہو جو مہر بندھا تھا اس کا لحاظ نہ کیا جائے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۵: از موضع اٹریا ضلع بریلی مسئولہ قمرالدین صاحب یکم صفر المظفر ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت رانڈ تھی اور بالغہ تھی کیونکہ اس کے ایک لڑکا پیدا ہوچکا تھا اس رانڈ نے عقد ثانی کے واسطے ایک شخص کو جو اسی کی ذات کا تھا اور جوان بھی تھا اور علم دار بھی تھا اورر وٹی کپڑے سے خوش تھا تجویز کی مگر اس جوان کے واسطے اس رانڈ کا والد نکاح کرنے کو راضی نہ تھا، زیدنے کچھ لالچ پاکر اس شخص کی طرف سے جس کے ساتھ رانڈ کا والد راضی بریلی سے تعویز اور مٹھائی لے جاکر کھلایا تاکہ اس کا خیال اس جوان کی طرف ہو جس سے اس کا والد راضی تھا، اور زید نے مٹھائی کھلاتے وقت اس شخص کا نام لیا کہ وہ رانڈ جس سے راضی تھی کہ تم کو میں اس شخص کی طرف سے مٹھائی کھلاتاہوں جس سے کہ تم راضی ہو، اس کے بعد میں اس رانڈ کا نکاح اس شخص کے ساتھ زبردستی کرادیا جس سے وہ رانڈ ناراض تھی اور زبردستی چندآدمی پکڑکر اس شخص کے یہاں پہنچا آئے، یہ نکاح درست ہے یا نہیں؟ اور زید کو انجمن کی طرف سے صدربنایا ہے اب زید کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ انجمن والوں نے زید کو صدر ممبر بنایا تو ان کو یہ قصہ معلوم نہیں تھا اور یہ نکاح زبردستی زید ہی کی کوشش سے ہواتھا ، بینوا تو جروا
الجواب: سائل نے بیان کیا کہ عورت کو اذن دیتے وقت بتایا گیاتھا کہ یہ نکاح دوسرے سے ہوتاہے جس سے وہ راضی نہیں لیکن کسی نے ہاتھ پکڑے کسی نے پاؤں اور اس سے جبراً اذن دلوایا، صورت مذکورہ میں نکاح صحیح ہوگیا کہ نکاح وطلاق میں اکراہ کو دخل نہیں، جس طرح خوشی سے ہوجاتے ہیں یونہی جبر سے بھی، حدیث میں ارشاد ہوا:
ثلاث جدھن جدو ھزلھن جدا لنکاح والطلاق والعتاق ۱؎۔
تین چیزیں جن میں سنجیدگی اور مذاق سنجیدگی ہے نکاح، طلاق اور عتاق۔ (ت)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الطلاق باب ماجاء فی الھزل والجد فی الطلاق امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/۱۴۲) (سنن ابی داؤد کتاب الطلاق باب الطلاق فی الھزل آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۲۹۸) (الدرالمنثور زیرآیۃ ولاتتخذوا آیات اللہ ھزوا مکتبہ آیۃ اللہ العظمی قم ایران ۱/۲۸۶)
ف: درمنثور کے الفاظ یہ ہیں: ثلاث من قالھن لاعبا اوغیر لاعب فھن جائزات علیہ الطلاق والعتاق والنکاح۔ اور جامع الترمذی اور سنن ابی داؤد میں العتاق کے بجائے الرجعۃ کا ذکر ہے، نصب الرایۃ میں ان دونوں لفظوں سے متعلق تفصیلی بحث کی ہے مطالعہ کے لئے جلد سوم کتاب ایمان صفحہ ۲۹۳ و ۲۹۴ ملاحظہ ہو۔ نذیر احمد )
باقی رہا کہ مجبور کرنا شرعاکوئی وجہ الزام رکھتاہے یا نہیں۔ ممکن نہ رکھتا ہو بلکہ عورت کی خیر خواہی ہو عورتیں ناقصات العقل ہوتی ہیں، اور باپ سے زیادہ اولادپر کون مہربان ہے سوا اللہ ورسول کے، ظاہریہی ہے کہ جہاں وہ چاہتی تھی اس میں شرتھا اور جہاں باپ نے چاہا ا س میں خیر، تو ایسے احتمال قوی کی حالت میں اس جبر کو بوجہ الزام نہیں ٹھہرا سکتے جیسے مریض کو بالجبر دوا پلانا، لہذا اس وجہ سے امامت زید میں کوئی خلل نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔