| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۴۰۹: از بمبئی جیل روڈ پوسٹ نمبر ۹ معرفت خلیفہ احمد اللہ صاحب مرسلہ جمیل محمد خان صاحب دہلوی ۱۳ رمضان ۱۳۳۸ھ ایک بالغہ شیعہ لڑکی نے برضا ورغبت خود بلااجازت والدین ایک سنی المذہب افغانی النسب سے چار گواہ اور ایک وکیل کی موجودگی میں قاضی کے سامنے بمعرفت قاضی نکاح کردیا۔ منکوحہ کے والدین بوجہ شیعہ ہونے کے اس کایہ نکاح فسخ کرانا چاہتے ہیں اور عذر یہ پیش کرتے ہیں کہ چونکہ خلوت صحیحہ نہیں ہوئی اس لئے نکاح کے فسخ کرانے کا استحقاق ہمیں حاصل ہے، دوسرے یہ کہتے ہیں کہ چونکہ نکاح ہم کفو سے نہیں ہوا لہذا ہمیں فسخ کا اختیارہے، وکیل جومجلس نکاح میں لڑکی کی جانب سے مقرر ہواتھا وہ اس بات کا اقرار کرتاہے کہ نکاح ہوا میں وکیل بھی بنا مگر لڑکی کے ایجاب وقبول کی آواز نہیں سنی، قبل از نکاح لڑکی نے گواہان کے سامنے اقرار کیا ہے کہ میں اہلسنت و جماعت حنفی مذہب اختیار کرچکی ہوں، نکاح کے گواہ موجود ہیں وہ مقر ہیں کہ ہمارے سامنے نکاح ہوا ایجاب وقبول کی آواز ہمارے کانوں تک آئی، اور قبل از نکاح لڑکی نے کہا کہ میں اہلسنت وجماعت ہو چکی ہوں۔
الجواب:بالغہ پر ولایت جبریہ کسی کی نہیں خصوصاً اس حالت میں کہ وہ سنیہ ہے اور باپ رافضی ، عدم کفاءت کی وجہ کوئی سائل نے نہیں لکھی، اگر صرف بربنائے تخالف مذہب ایسا کہا جاتاہے تو سنی لاکھوں درجے رافضی سےاعلٰی ہیں، اور مغل پٹھان باعتبار قوم ہم کفو ہیں، اس کے باپ کا اعتراض باطل ہے اور اسے کوئی اختیار فسخ نہیں، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: الایم احق بنفسھا ۱؎ (بے نکاح عاقلہ بالغہ کو اپنے نفس پر زیادہ اختیار ہے۔ ت)
(۱؎ مؤطا امام مالک کتاب النکاح میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۴۹۸)
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
لن یجعل اﷲ للکٰفرین علی المؤمنین سبیلا ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی کافروں کو مومنوں پر ہر گز ولایت نہیں دے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴/۱۴۱)
مسئلہ ۴۱۰: کوہ رانی کھیت متصل جامع مسجد مسئولہ عبدالرحمان صاحب خانساماں ۹ محرم ۱۳۳۰ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک شخص اہلسنت وجماعت نے ایک رافضی کی بیوی سے کہا کہ تو مجھ سے مل، تو اس رافضی کی عورت نے کہا کہ اس شرط پر ملوں گی اگر تو اپنی بیٹی کی شادی میرے بیٹے سے کرے، اس شخص مذکور نے اس شرط کو قبول کیا اورمدت دراز تک زناکاری رہی اور ابھی تک موجود ہے، اب وہ لڑکی اہلسنت کی جوان ہوگئی ہے اور شخص مذکور اس کی شادی اس رافضی سے کرنے کو تیار ہے، اور اس لڑکی سنیہ کا نانا موجود ہے وہ بھی منع کرتا ہے اور تمام اہلسنت وجماعت منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نکاح جائز نہیں، مگر شخص مذکور کہتا ہے کہ جائز ہے، اب اس صورت میں یہ لڑکی اپنے نانا کو مل سکتی ہے یا نہیں؟ اور یہ نکاح جائز ہے یا ممنوع شرعاً اس میں گناہ ہوگا یا نہیں؟
الجواب: یہ نکاح حرام قطعی اور زنائے خالص ہے،
عالمگیری میں ہے:
لایجوز لہ ان یتزوج امرأۃ مسلمۃ ولامرتدۃ ولاذمیۃ لاحرۃ ولامملوکۃ ۳؎۔
مرتد کو کسی مسلمان عورت، مرتدہ، ذمیہ، آزاد یا لونڈی عورت سے نکاح جائز نہیں ہے۔ (ت)
(۳؎ فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/۲۵۵)
جبکہ وہ لڑکی جوان ہے اور باپ اسے معاذاللہ زنا کے لئے دینا چاہتاہے تو نانا وغیرہ دیگر اولیاء پر لازم ہے کہ لڑکی کو اس کے قبضہ تصرف سے نکال کر فوراً لڑکی کی رضاسے کسی سنی صحیح العقیدہ کفو کے ساتھ اس کا نکاح کردیں واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۱ تا ۴۱۲: از مقام بلیا ڈاکخانہ رسٹرا مسئولہ مولوی حکیم عبدالشکور صاحب ۲۸ شوال ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ جس کی عمر تخمیناً دس برس کی تھی بعد انتقال اپنے والدین کے اپنے حقیقی چچا زید سے خفا ہوکر اپنے حقیقی ماموں کے گھر چلی گئی اوروہاں رہنے لگی، کچھ عرصہ کے بعد اس کے ماموں نے ہندہ کا عقد قبل بلوغ مسمی بکرسے بلااجازت حقیقی چچا کے اس شرط پر کیا کہ تم جب میری بستی میں آکر مکان بناؤ گے اس وقت ہم لڑکی رخصت کریں گے، اب بکر اس بستی میں مکان نہیں بناتا ہے اورلڑکی رخصت کراکر لے جانا چاہتا ہے اور لڑکی وہاں جانے پر راضی نہیں، کیا حقیقی چچا کے موجود ہوتے ہوئے اس کے ماموں نے عقد کردیا تو یہ عقد شرعاً درست ہوا یا نہیں؟ دوم جب بکرنے اس بستی میں مکان نہیں بنایا تو عقد فسخ ہوگا یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: بے اجازت چچا کے ماموں نے جو نکاح کیا جائزوصحیح ہوا، مگر چچا کی اجازت پر موقوف تھا، اگر وہ رد کردیتا رد ہوجاتا، مگر عبارت سوال سے ظاہر کہ اس نے رد نہ کیا نکاح پر راضی ہوا دوسری جگہ لے جانے پر راضی نہیں، جب صورت یہ ہے تو وہ نکاح نافذ بھی ہوگیا لڑکی کو خیار بلوغ ملا، عبارت سوال سے ظاہر ہے کہ لڑکی نے جسے بالغہ ہوئے کئی سال گزرے اس خیار کا استعمال نہ کیا،وہ بھی نفس نکاح سے ناراض نہیں بلکہ دوسری جگہ جانے سے۔ پس صورت مذکورہ میں نکاح لازم ہوگیا اور کسی کو اس پر اعتراض کا اختیار نہ رہا۔ اس گاؤں میں مکان بنانے کی شرط فاسد ہے، اور شرط فاسد سے نکاح فاسد نہیں ہوتا بلکہ خود وہ شرط ہی باطل ہوجاتی ہے، اسے اختیار ہے کہ عورت کو اپنے گھر لے جائے،
قال اللہ تعالٰی: واسکنو ھن من حیث سکنتم من وجد کم ۱؎۔
بیویوں کو اپنی سکونت کے ساتھ سکونت گنجائش کے مطابق دو۔ (ت)
( ۱؎ القرآن الکریم ۶۵/۶)
ہاں اگر ظاہر ہو کہ شوہر عورت کو ضرور ایذا دینے کے لئے دوسری جگہ لے جانا چاہتا ہے اوریہاں رکھنا نہیں چاہتا تولے جانے کی اجازت نہ دیں گے۔
ولاتضاروھن لتضیقوا علیھن ۲؎۔
ھذا حاصل ماحط علیہ کلام المحققین وعلیک برد المحتار۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ بیویوں کو تنگ کرنے کے لئے ضرر مت دو، محققین کے کلام کا مصداق یہی ہے، آپ پر ردالمحتار کی طرف رجوع ضروری ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲ القرآن الکریم ۶۵/۶)