Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
202 - 1581
مسئلہ ۴۰۷: از شہرمحلہ گندہ نالہ مسئولہ عبدالودود لیڈر صاحب ۲۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی واید کم بنصرہ فی یتیمۃ بلغت من عمرھا خمسۃ عشرسنین زوجتھا امھا برضاھا باحد من الاقارب ولکن لم یحضروا مجلس النکاح اولیاء الیتیمۃ المذکورۃ کالاعمام وغیرہم وما استشیروا فی ھذا الباب وتولت فی امر النکاح امھا وحدھا لانھا کانت وحدھا کفیلۃ لبنتھا الی الاٰن ھل جاز النکاح ام لا۔
علماء کرام آپ کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک پندرہ سالہ لڑکی کا نکاح اس کی والدہ نے لڑکی کی رضامندی سے رشتہ داروں میں کردیا جبکہ لڑکی کے اولیاء چچاوغیرہ مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوئے اور نہ ہی ا س نکاح سے متعلق ان سے مشورہ لیا گیا، صرف والدہ نے ہی نکاح کی تولیت کی کیونکہ لڑکی کی کفیل اس وقت والدہ ہی تھی، کیا یہ نکاح جائز ہوایا نہ؟
الجواب: ان بلغت قبل ھذ ابعلامۃ کحیض او تمت لھا قبل اذنھا بالنکاح خمس عشرۃ سنۃ کوامل وکان النکاح من کفولیس فی دینہ ولانسبہ ولاخلقہ ولاحرفتہ مایتعیربہ اولیاؤھا عرفا جاز النکاح فان وقع بعد اذنھا او رضیت بہ بعد وقوعہ قبل ردہ تم ولزم ولیس لھاولالاحدمن کان من غیر کفو بالمعنی المذکور فھو باطل رأساوان اذنت و اجازت اوبنفسھا تولت وان کان من کفو ولم تبلغ بعد توقف علی اجازۃ الولی ان اجاز جاز وان ابطل بطل وان سکت الاولیاء حتی بلغت اٰل الامر الیھا فلتمض اولترد و المسائل ظاھرۃ وفی الکتب دائرۃ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر لڑکی نکاح سے قبل بالغ ہوچکی تھی جس پر حیض یا کوئی اور علامت بلوغ ظاہر ہوچکی تھی، یا وہ نکاح سے قبل پورے پندرہ سال کی ہوچکی تھی تو اس نے نکاح کی اجازت دی اور نکاح بھی کفو میں ہواکہ لڑکے کے دین، نسب، اخلاق اور اس کے کسب پر عرفا لڑکی کے اولیاء کو اعتراض نہ ہو یعنی اس سے عار محسوس نہیں کرتے تو نکاح جائز ہے پس اگر نکاح عورت کے اذن کے بعد واقع ہویا وہ رضامندی ظاہر کرچکی ہو تو یہ نکاح نافذ ولازم ہوگا ہے اب اس کویا اس کے ولی کو نکاح پر اعتراض کا حق نہیں رہا، اگر یہ نکاح غیر کفومیں معنی مذکور میں ہوا تو وہ نکاح بالکل باطل ہے اگرچہ اجازت اور رضامندی ظاہر کرچکی ہو یا اس نے خود اپنا نکاح کیا ہو اگر نکاح کفو میں ہوالیکن ابھی بالغ نہ تھی توپھر ولی کی اجازت پر موقوف رہا اگر ولی جائزکردے تو جائز اگر باطل کردے تو باطل ہوجائے گا، اور اگر لڑکی کے بلوغ تک ولی خاموش رہے حتی کہ لڑکی خود بالغ ہوگئی تو اب اجازت لڑکی کی طرف سے ہوگی چاہے راضی ہوجائے یا نکاح کو رد کردے، یہ مسائل ظاہر ہیں اور کتب میں مذکور ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۰۸: از اجمیرشریف محلہ لاکھن کوٹھری مرسلہ مولانا مولوی مشتاق احمد صاحب صدر مدرس مدرسہ معینیہ اجمیر معلی یکم رجب المرجب ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک بالغہ لڑکی کی والدہ اور بھائیوں نے ایک میراثی کو رشتہ کے واسطے بھیجا کہ فلاں قبیلہ میں رشتہ کرآؤ، اس قبیلہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ نہ جانا، میراثی نے کچھ روپیہ رشورت کالے کر دوسری جگہ رشتہ کردیا،بعد ازیں لڑکی اور والدہ اور بھائیوں کو اطلاع ہوئی انھوں نے دو آدمیوں کو بھیجا کہ رشتہ والوں سے کہہ دے کہ ہم نہیں رشتہ کرتے، اور پھر لڑکی کے بھائی بھی گئے منع کرنے کے واسطے، آخر کار وہ باز نہ آئے، اور میراثی نے چندایام اپنی طرف سے مقرر کرکے برات منگوائی، برات آنے پر لڑکی اور والدہ بھائی نکاح سے سراسر انکار کرتے رہے، حتی کہ پانچ چھ ایام اسی طرح گزر گئے، چونکہ برات کے ساتھ چند رؤسا تھے، انھوں نے گر د ونواح کے سب رؤسا جمع کئے اور کہا کہ جس صورت سے ہوسکتاہے ہمیں نکاح دلادو، سب رؤسا نے جمع ہوکر لڑکی کے بھائیوں کو ایک مقدمہ جعلسازی میں پھانس دیا، وہ بیچارے غریب عاجز ہوکر کہنے لگے کہ اچھا نکاح ٹھہرادو، جب لڑکی سے اذن لینے کے واسطے گئے تو انکار کردیا، پھر ایک شخص نے لڑکی کو جبرا خاموش کردیا اور بہلی میں بٹھا کر لے گئے، بوقت وداع لڑکی کے بھائیوں نے لڑکی سے پوچھا تجھ کو کپڑا وغیرہ دیں، لڑکی نے انکار کیا اور کہا کہ میرا نکاح ہی نہیں ہے تم کس واسطے دیتے ہو، بعدآنے کے وہ اب تک انکار پر مصر ہے ، عرصہ پانچ سال کا ہوا، یہ نکاح عندالشرع ہوا یا نہیں؟
الجواب: جبکہ صورت واقعہ یہ ہے کہ لڑکی عاقلہ بالغہ ہے اور اس نے اذن نہ دیا جبکہ صاف انکار کردیا ور بالجبر رخصت کے وقت بھی تصریحا کہا کہ میرا نکاح ہی نہیں ہے، اور جب سے اب تک انکار پر مصر ہے تو نکاح مذکور باطل ومردود محض، اورا ن جبر کرنے والوں کا ظلم خالص ہے، بھائیوں نے یہ بجبر نہ سہی بخوشی اجازت دی ہوتی یا خود نکاح کردیا ہو تابالغہ کے انکار سے وہ بھی فوراً باطل ہوجاتا نہ کہ ان کی اجازت بھی جبر سے، یونہی اگر بعد نکاح انکار کے بعد بالغہ خود بھی راضی ہو جاتی مفید نہ ہوتا کہ باطل شدہ نکاح رضاسے صحیح نہ ہوسکے گا نہ کہ وہ اب تک انکار پر مصرہے، غرض اس باطل نکاح کو نکاح سمجھنا جہل بعید وظلم شدید ہے،
عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز احد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من اب اوسلطان بغیر اذنھا بکراکانت اوثیبا فان فعل ذٰلک فالنکاح موقوف علی اجازتھا فان اجازتھا جازوان ردتہ بطل کذافی السراج الوھاج ۱؎۔
عاقلہ بالغہ باکرہ ہویا ثیبہ اس کی مرضی کے خلاف باپ یا حاکم کسی کو بھی اس کے نکاح کا اختیار نہیں، اگر کسی نے ایسا نکاح کیا یہ نکاح لڑکی کی اجازت پر موقوف ہوگا، اگر وہ جائز کردے تو جائزاور رد کر دے تو رد ہوجائے گا۔ سراج الوہاج میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
 ( ۱؎ فتاوی ہندیہ        الباب الرابع فی الاولیاء        نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۸۷)
درمختار میں ہے:
بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب بالغہ کو نکاح کی اطلاع ملی تو اس نے رد کردیا ہو پھر بعدمیں اس نے کہامیں راضی ہوں تو جائز نہ ہوگا کیونکہ قبل ازیں رد کرنے سے نکاح باطل ہوچکاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ درمختار  باب الولی   مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
Flag Counter