اس کا ولی ا س کا باپ ہے، پھر باپ نے جس کواپنا وصی بنایا ، پھر وصی کا وصی، پھر دادا ترتیب وار اوپر تک۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب المأذون مطبع مجتبائی دہلی ۲/۲۰۳)
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث ولیس للوصی ان یزوج الیتیم مطلقا وان اوصی الیہ الاب بذلک علی المذھب ۲؎ (ملخصا) واﷲ تعالٰی اعلم۔
نکاح کا ولی عصبہ بنفسہ وراثت کی ترتیب پر، اور وصی کو مطلقاً یتیم کے نکاح کی ولایت نہیں ہے اگرچہ باپ نے اسے وصیت بھی کی ہو، مذہب یہی ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۹۴۔ ۱۹۳)
مسئلہ ۴۰۱ تا۴۰۴: ا زبریلی محلہ پھوٹادروازہ مسئولہ فخر الدین صاحب ۳۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) ایک شخص رنڈوا ہے اس نے نکاح ثانی کیا، بعدہ اس شخص کے پہلے بیٹے نے اپنی سوتیلی ماں کی حقیقی بہن سے نکاح کرلیا جو اس کی سوتیلی خالہ ہے یہ جائز ہے یا نہیں؟
(۲) وہ لڑکی عرصہ دو سال سے دوسرے لڑکے کو والدین نے دی ہوئی ہے موافق رواج کے روبرو گواہوں کے والدین نے دی ہے مگر جو رخصتی کے وقت نکاح ثانی ہوتاہے وہ باقی ہے۔
(۳) جبکہ لڑکی کے والدین زندہ ہیں اور لڑکی کنواری ہے تو بغیر رضامندی والدین کے کیا وہ غیر شخصوں کو ولی بناسکتی ہے اپنے نکاح میں؟
(۴)قاضی جس کو پورا علم ہو کہ اس لڑکی کے والدین حقیقی زندہ ہیں اور موجود ہیں تو وہ بلادریافت اس کے والدین ان کی بے علمی میں غیر شخص کو ولی مقرر کرکے لڑکی کا نکاح کرسکتا ہے؟ اگر نہیں تو ایسے قاضی کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب
(۱) سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائز ہے، کچھ حرج نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) دو نکاح کہیں نہیں ہوتے، پہلی منگنی ہوتی ہے وہ نکاح نہیں ہوتا، بات زبان پھیر کر کہنا کچھ مفید نہیں۔ دو سال سے دی ہوئی ہے، وہ جلسہ نکاح کرنے کے لئے تھا یا منگنی کا؟ اور کیا لفظ طرفین نے کہے تھے؟ پوری بات بیان کی جائے۔
(۳) لڑکی اگر بالغہ ہے تو اسے خود اپنے نکاح کا اختیار ہے او رنابالغہ ہے تووہ باپ کے ہوتے کسی کو ولی نہیں بناسکتی، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۴) بالغہ کا نکاح اس کی اجازت سے پڑھا جاسکتاہے، اگرچہ والدین کو علم نہ ہو، ہاں ہاں یہ ضرور ہے کہ جس سے یہ نکاح ہو وہ بالغہ کا کفو ہو یعنی مذہب، نسب، چال چلن، پیشے کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہونا لڑکی کے باپ کے لئے باعث ننگ وعار ہو ورنہ نکاح نہ ہوگا۔ اور اگر نابالغہ ہے تو یہ نکاح باپ کی اجازت پر موقوف رہے گا، قاضی نے بد نیتی نہ کی تو الزام نہیں ورنہ الزام ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۰۵ تا ۴۰۶ـ: از شہر محلہ گندہ نالہ مسئولہ عبدالودود لیڈرصاحب ۲۶ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) بالغ لڑکی اگر نکاح کے وقت بوجہ شرم وحجاب اپنی زبان سے ایجا ب وقبول کے الفاظ ادا نہ کرے صرف یہ ہوکہ اس کے عزیز وقریب مستورات جو اس کے گردوپیش موجود ہیں وہ کہہ دیں کہ ہاں لڑکی کومنظور ہے اور بالعموم اکثرنکاحوں میں اسی طرح کی صورت واقع ہوا کرتی ہے لڑکیاں بوجہ شرم وحجاب خود نہیں بولتی ہیں ایسی صورت میں نکاح جائز ہوا یا نہیں اور اس کا اقرار سکوتی ایجاب وقبول کے قائمقام سمجھا جائے گا یا نہیں؟
(۲) لڑکی بالغ ہے مگر یتیم ہے اس کی ماں نے اس کا نکاح کیا متوفی باپ کے بھائی یعنی چچا تائے موجود نہ تھے آیا ان کی عدم موجودگی نکاح کے جواز پر شرعا کچھ مؤثر ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب
(۱) اگر ولی اقرب مثلاً باپ وہ نہ ہو تو دادا، وہ نہ ہو تو بھائی، وہ نہ ہو تو بھتیجا، وہ نہ ہو تو چچا، وہ نہ ہو تو چچا کا بیٹا اگرخود جاکر بالغہ دوشیزہ سے اذن لے یا اپنی طرف سے کسی کو اذن لینے کے لئے اس کے پاس بھیجے اور وہ طلب اذن پر سکوت کرے تویہی اذن ہے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصماتھا اذنھا ۱؎۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: باکرہ کی خاموشی ہی اذن ہے۔ (ت)
(۱؎ مؤطا امام مالک کتاب النکاح مطبع میر محمد کتب خانہ کراچی ص۴۹۸)
اور اگر نہ ولی اقرب خود گیا نہ اپنی طر ف سے کسی کو اذن لینے کے لئے بھیجا بلکہ اور شخص بے اس کے بھیجے بطور خود اس سے اذن لینے گیا تو اس کا سکوت اذن نہ ہوگا اگرچہ یہ اذن لینے والاکیسا ہی قریب رشتہ دار ہو جبکہ ولی اقرب نہ ہو مثلا باپ کے ہوتے ہوئے دادا یا حقیقی بھائی اپنی طرف سے اذن لینے جائیں تو ضرور ہوگا کہ عورت خود ہاں کہے اپنی زبان سے اذن دے، پاس بیٹھنے والیوں کایہ ظلم ہوتاہے کہ وہ دھوکا دینے کو ہوں یا ہاں کردیتی ہیں، اس صورت میں نکاح فضولی ہوگا جبکہ کفو کے ساتھ ہو دختر کی اجازت پر موقوف رہے گا، اگر خبر سن کر اس وقت یا بعد کو بے اظہار نفرت جائز کردے جائز ہوجائے گا رد کردے رد ہوجائے گا، اگر اپنے کسی قول یافعل سے صراحۃً دلالۃً اب تک ردنہ کیا ہو توبخو شی رخصت ہوکر جانا اذن ہے اس وقت نکاح نافذ ہوجائے گا، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) چچا کے ہوتے ہوئے ماں اگر یتیمہ بالغہ کا نکاح یتیمہ سے اذن لے کر دے یا بعد نکاح وہ دختر اذن قولاً یا فعلاً دے دے تو نکاح صحیح ونافذ ولازم ہے، چچا تھا یا بھائی کسی کو گنجائش اعتراض نہیں جبکہ نکاح کفو میں سے کیا ہو یعنی وہ شخص مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایساکم نہیں جس کے ساتھ اس دختر کا نکاح اس کے ولی کے لئے باعث ننگ وعار وبدنامی ہو، اگر ایسا ہے تو نکاح ہوگا ہی نہیں اور اگر یتیمہ نابالغہ ہےکہ حقیقۃً یتیمہ وہی ہوتی ہے تو اگر ماں نے غیر کفو بہ معنی مذکور سے نکاح کردیا تو ہوا ہی نہیں او رکفو سے کیا تو چچا وغیرہ جو ولی اقرب ہو اس کی اجازت پر موقوف رہے گا رد کردے گا رد ہوجائے گا جائز کردے گا جائز ، واللہ تعالٰی اعلم۔