مسئلہ ۳۹۶: از جاورہ مرسلہ مولوی مصاحب علی صاحب امام مسجد چھیپیان ۲۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کا والد زید قریبا ایک ہزار میل کی مسافت پر تھا، والدہ اور چچا بکرنے رضامندہوکر ہندہ کے والد کی تحریر ی اجازت حاصل کرکے مفتی شہر کو بتاکر خود نکاح خالد کے ساتھ کردیا، نکاح کے ڈھائی مہینے بعد زید اپنے مکان پر آیا، چنانچہ خالد نے اپنے خسر کی دعوت دی اور زید نے جلسہ دعوت میں نکاح کی رضا مندی ظاہر کی، ساڑھے چار ماہ تک رسومات عیدی و دیگر رسومات دامادی خسری خالد کے ساتھ رکھے، اب باہمی رنجش ہونے پرخالد نے زید سے اپنی زوجہ رخصت کرنے کو کہا، زید کہتاہے میں نے خط نہیں لکھا تھا، یعنی نکاح کرنے کی اجازت اپنے بھائی کو نہیں دی تھی، اور نکاح فسخ کرنا چاہتا ہے، تو کیا ا س خط کے انکار سے باوجود یکہ بعد آجانے کے ساڑھے چار ماہ تک رسومات مذکورہ برتے گئے نکاح فسخ ہوسکتاہے ؟ ہندہ کی عمر وقت نکاح بارہ برس کی تھی اور اب ساڑھے بارہ برس ہے۔
الجواب
صورت مستفسرہ میں انکار خط اسے کچھ مفید نہیں انکار خط سے اتنا ہواکہ اجازت سابقہ ثابت نہ ہوگی اور غایت درجہ نکاح نکاحِ فضولی ٹھہرے گا اگر یہ صورت غیبت منقطعہ کی نہ لی جائے علی مافصلناہ فی فتاوٰنا (جس طرح ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاوی میں کی ہے۔ ت) مگر نکاح فضولی بعد اجازت نافذ ولازم ہے اور اجازت لاحقہ مثل وکالت سابقہ کما فی الفتاوی الخیریۃ وغیرہا (جیساکہ فتاوی خیریہ وغیرہ میں ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۷: از علی گڑھ محلہ بیرم بیگ مدرسہ عربی عائشہ خاتون مرسلہ محمد صدیق حسین صاحب ۲۸ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بھتیجی کا نکاح اس کی نابالغی میں کردیا۔ جس وقت وہ بالغ ہوئی اس وقت اس لڑکی نے اس نکاح اور شوہر کے مکان جانے سے انکار کیا، اب اس لڑکی کا نکاح باقی ہے رہا یا نہیں اور دوسری جگہ اس کانکاح ہوسکتاہے یا نہیں؟ اور مہر لازم آوے گا؟ بینوا تو جروا
الجواب: یہ معاملہ حلال وحرام بلکہ نکاح وزنا کا ہے، اللہ سے ڈریں، اور جو واقعی بات ہو ا س کے حکم پر عمل کریں، غلط بیان پر فتوی لینا حشرمیں نفع دے گا نہ زنا کو حلال کردے گا، غیر اَب وجد نے جو نکاح کفو سے کیا ہو اس کا حکم یہ ہے کہ نابالغہ بفور بلوغ معاً بلاتاخیر انکار کرسکتی ہے اور ذرا بھی دیر لگائی تو نکاح لازم ہوگیا انکار کا اصلاً اختیار نہیں اور یہاں فور محض بلاتاخیر بہت نادرہے، اللہ واحد قہار سے ڈر کر زنا کو نہایت بدتر خبیث سمجھ کر دیکھیں اگر بالغہ نے جس گھنٹے منٹ سیکنڈ میں اسے پہلا حیض آیا تو فوراً فوراً معاً معاً اسی وقت اس نکاح سے انکار کیا تو البتہ وہ دعوی کرکے اس کو فسخ کراسکتی ہے بشرطیکہ کفو سے ہوا ہو، اور اگر چچا نے غیر کفو سے کیا جومذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں وقت نکاح ایسا کم تھاکہ اس سے نکاح اس کے لئے باعث ننگ وعار ہو تو نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں فسخ کی کیا ضرورت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۸ــ: یکم ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سعیدہ بی بی کا عقد اول موضع گورا میں بشیر الدین کے ساتھ ہوا، ایک لڑکی پیداہوئی، جب لڑکی قریب ڈیڑھ سال کے ہوئی سایہ پدری سرسے جدا ہوا، اب بیوہ اپنی لڑکی کو لے کر باپ اور بھائیوں کے یہاں آرہی، سوا چار برس کے بعد نکاح ثانی موضع کرگہنا میں عبدالصمد سے ہوا، خاوند دیگر کا ایک لڑکا جس کی عمر چھ سا ل کی تھی بیوی سابق سے تھا بصد سختی وتشدد وبہزار زجر وتوبیخ بی بی سے اذن لے کر اپنے لڑکے کا عقد بیوی ثانی کے ہمراہ جولڑکی آئی تھی جس کی عمر چھ سال کی تھی جبریہ کرادیاگیا، لڑکی کا نہ کوئی چچا نہ بھائی صرف چچا اور چچازاد بھائی اور دو پھوپھیاں حقیقی اور نا نا اور ماموں حقیقی ہیں اور وہاں موجودنہ تھے اور نہ اطلاع ، جب لڑکی سن بلوغ کو پہنچی اور اس کا اظہار ہوا فوراً پکار اٹھی یعنی منٹ بھی پورا نہ ہونے دیا کہ مجھ کو شوہر کے یہاں کسی نوع جانا منظورنہیں اور ہر گز نہ جاؤں گی، دن کے سات یا آٹھ بجے کا واقعہ ہے معزز اشخاص شاہد ہیں۔
الجواب:سوال میں یہ فقرہ کہ فوراً پکار اٹھی حکم شرعی سننے کا نتیجہ ہے اور آگے اس کی تفسیر نے کہ یعنی منٹ بھی
پورا نہ ہونے دیاکہ اسے پھر بگاڑ دیا۔
فانہ ان بقی تمام الدقیقۃ ثانیۃ اوثانیتین صدق انھا لم تتم ولکن این الفور۔
کیونکہ اگر منٹ میں سے ایک سیکنڈ یا دو سیکنڈ رہتے تو کہا جاسکتاہے کہ منٹ پورا نہ ہو، لیکن یہ فوراً نہیں ہے۔ (ت)
یہ معاملہ حلال وحرام نکاح وزنا کاہے، بات بناکر کچھ حکم لے لینا زنا سے نہ بچا لے گا، پھر اگر تمام شرائط شرعیہ متحقق ہو بھی لیں تو عورت کے کہے سے نکاح فسخ نہیں ہوجاتا بلکہ اس کو دعوی کا اختیار ملتاہے حاکم مجاز کے یہاں دعوی کرے، وہ تحقیق شرعیہ کا گواہان عادل سے ثبوت لے، جب ثبوت ہوجائے تو حاکم نکاح فسخ کرے ویسے نہیں ہوسکتا، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۹:از لاہور سٹی بازار انار کلی مدرسہ تعلیم القرآن معرفت مولوی احمد الدین صاحب مرسلہ جناب مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
بجنا ب مستطاب حضرت عالم اہلسنت وجماعت مجدد مائۃ حاضرہ زید فضلہم بعدنیاز مندی عقیدت مندانہ
ولی کو غیر کفومیں اعتراض کا حق ہے جب تک بچہ پیدا نہ ہو (اس کے بعد نہیں) تاکہ بچے کا نسب ضائع نہ ہو، (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۱)
طحطاوی وابوالمکارم حاشیہ شرح وقایۃ وبنایہ علی الہدایہ وحاشیہ شلبی علی الزیلعی وہندیہ میں لکھا کہ بعدولادت بھی بناء بر ظاہر الروایات ولی کو اعتراض ہے فسخ کے لئے، اور امام حسن رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کی روایت مفتی بہا پر ابتداء ہی سے بطلان نکاح کا حکم باقی ہے، اس سے معلوم ہوتاہے کہ ولادت ،حق اولیا کی مسقطہ نہیں اور یہی خادم الاقدام کامقصود بھی ہے، اس بارہ میں حضور کو تکلیف تو ہوگی مگر حضور کے توکل اوقات ہی اس کام کے لئے وقف ہیں، ثبوت تفریق واعتراض بعد الولادۃ کے لئے حضور سے جہاں تک توثیق ہوسکے بہتر ہے بشرطیکہ خادم کا اعتقاد خدام عالی شان کے اعتقاد سے مطابق ہو ورنہ خیر، خادم نے ثبوت تفریق کا دعوی کیا ہے وان ولدت (اور اگر بچہ پیدا ہوجائے۔ ت) اور دوسری جانب کے مولوی لوگ اس کے عدم پر ہیں، آج ۲۶ اس مہینے انگریزی اورآئندہ دسمبر مہینے کی ۸ لاہور میں جج کے پاس مقرر ہے فقیر کو بھی جاناہوگا، سید زادی کہ ایک مردغیر سید غیر قریشی نے نکاح کرلیا ہے اور مقدمہ بازی میں اس کا بچہ بھی ہوگیا ہے دوسری جانب کے مولوی کہتے ہیں کہ علویات کا نکاح مع تراضی اولیا ء یا بلاتراضی باطل کہنا شیعہ کا مذہب ہے اور بنایہ کی عبارت سے مستند ہے:
وفی البسیط ذھب الشیعۃ الی ان نکاح العلویات ممتنع علی غیر ھم مع التراضی قال السروجی وھما قولان باطلان ۱؎۔
بسیط میں ہے کہ رضامندی کے باوجود علویات (سید زادیوں) کاغیر سے نکاح شیعہ لوگوں کے ہاں ناجائز ہے سروجی نے کہا کہ دونوں قول باطل ہیں۔ (ت)
(۱البنایۃ فی شرح الہدایۃ فصل فی الکفاءۃ المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۲/۱۰۲)
اس قولان باطلان سے کون سے دو قول مرادہیں، یہ عبارت تفسیر طلب ہے، حضور فیض النورا س عریضہ کا جواب اس پتہ پر ارشاد فرمائیں، ۸ تاریخ سے اگرایک دو روز اول جواب پہنچے تو فقیر اس تحریر منیر کا جلسہ علماء میں پیش کردے، امید تو پختہ ہے کہ علماء بھی مان لیں گے ورنہ حاکم فیصلہ تسلیم کرلے گا، ایسی حالت میں کہ مقدمہ ہوتے ہوتے اولادپیدا ہوگئی اور چند روز میں مرگئی تو اب بھی حق اعتراض للاولیاء ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم، بملاحظہ مولانا المکرم ذی المجد والکرام والفضل اتم مولانا قاضی غلام گیلانی صاحب اکرم اللہ تعالٰی وتکرم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،مجھے ۲۷ محرم سے یکم ربیع الاول شریف تک بخار کے دورے ہوئے جن میں بعض بہت شدید تھے، اب تین روز سے ببرکت دعاء جناب بخار تو نہیں آیا مگر ضعف بدرجہ غایت ہے، اسی حالت حمٰی میں پہلے سوال سامی کا جواب حاضر کردیا تھا اور رسالہ دربارہ ذبیحہ پہلے جبل پور جانے اور اب اس بخار کے دوروں کے سبب مکمل نہ ہوسکا طالب عفو و دعاہے بنایہ او رابوالمکارم میرے پاس نہیں شلبی علی الزیلعی وہندیہ میں بعد ولادت بھی بقاء حق اعتراض صرف شیخ الاسلام سے نقل کی ہے اور اس کی طرف سے کوئی میل ان کی عبارت سے نہیں پایا جاتا اکابر ومشاہیر کا جزم اسی پر ہے کہ مالم تلد (جب تک بچہ پیدا نہ ہو۔ت)
زیلعی میں تھا:
الااذا سکت الی ان تلد فیکون رضادلالۃ ۲؎۔
مگر جب ولی خاموش رہا حتی کہ لڑکی نے بچہ کو جنم دیا، تو یہ دلالۃ رضامندی ہوگی۔ (ت)
(۲؎ تبیین الحقائق فصل فی الکفاءۃ مطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۲/۱۲۸)
اسی پرشلبی نے کہا:
وعن شیخ الاسلام ان لہ التفریق بعد الولادۃ ایضا اھ کمال منقول عنہ ۱؎۔
شیخ الاسلام سے منقول ہے کہ بچہ کی پیدائش کے بعد بھی تفریق کا حق ہے اھ کمال سے منقول ہے۔ (ت)
(۱؎ حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق فصل فی الکفاءۃ مطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۲/۱۲۸)
کمال کی عبارت یہ ہے: لایکون سکوت الولی رضا الاان سکت الی ان ولدت فلیس لہ ح التفریق وعن شیخ الاسلام ان لہ التفریق بعدالولادۃ ایضا ۲؎۔
ولی کا سکوت رضا نہیں ہوگا مگر جبکہ سکوت لڑکی کے ہاں بچے کی پیدائش تک جاری رہا تو اب ولی کو اختیار تفریق نہیں اور شیخ الاسلام سے منقول ہے کہ اس کو ولادت کے بعد بھی تفریق کا اختیار ہے۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/۱۸۷)
ہندیہ میں پہلے شرح جامع صغیر قاضی خاں سے نقل کیا:
لایبطل حقہ فی الفسخ وان طال الزمان حتی تلد ۳؎۔
اس کا حق فسخ باطل نہ ہوگا اگرچہ مدت تک وہ فسخ نہ کرے حتی کہ لڑکی بچہ کو جنم دے۔ (ت)
(۳؎ فتاوی ہندیہ بحوالہ شرح جامع الصغیر قاضیخاں باب الکفاءۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۹۳۔ ۲۹۲)
پھر نہایہ سے نقل کیا:
اذا ولدت منہ فلیس للاولیاء حق الفسخ ۴؎۔
جب لڑکی نے اپنے خاوند سے بچہ جنم دیا پھر اولیاء کو حق فسخ نہیں۔ (ت)
حکم اس میں بھی یہ ہی لکھا ہے آگے استدراکاً قول شیخ الاسلام ذکر کیا اور طحطاوی میں تو اس قول کا ذکر تک نظرنہ آیا ایک عبارت شارح سے ابہام ہوتا تھا کہ اگر ولی کو خبر نکاح نہ ہو تو بعد ولادت بھی معترض ہوسکتا ہے اس پر اعتراض کردیا، متن میں تھا: لہ الاعتراض مالم تلد ۵؎ (بچہ جننے تک اس کو اختیار ہے۔ ت)
(۵؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۱)
اسے شارح نے یوں بنایا: مالم یسکت حتی تلد ۶؎ (بچے کے جنم تک خاموش نہ رہے۔ ت)
(۶؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۱)
اسی پر محشی نے فرمایا:
الاولٰی حذف مافی الشرح لانہ یفھم منہ ان ذلک عن علم فلو کان عن غیر علم یکون لہ اعتراض وان ولدت والعلۃ تنفی ذٰلک فالاولی ابقاء المصنف علی ظاھرہ فتامل ۱؎۔
جو کچھ شرح میں ہے اس کو حذف کرنا بہتر ہے کیونکہ اس سے یہ سمجھا جارہاہے کہ علم کے باوجود ایسا ہے اگر علم کے بغیر ہو توا سے اعتراض کا حق ہے اگرچہ اس نے بچے کو جنم دیا ہو، حالانکہ علت اس کی نفی کرتی ہے، لہذا بہتر ہے کہ مصنف کی عبارت کو ظاہر پر باقی رکھا جائے،غور کرو۔ (ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الولی دارالمعرفۃبیروت ۲/۲۶ و ۲۷)
روافض کے نزدیک کوئی قرشی غیر علوی علویہ کا کفو نہیں اور ہمارے نزدیک "قریش بعضہم اکفاء بعض "میرے پاس بنایہ نہیں کہ دوسرا قول معلوم ہو، یہ صورت کہ یہاں واقع ہوئی کہ ولی دعوی تفریق کرچکا اس کے بعد ولادت ہوئی اختلاف سے برکراں ہے مسقط حق تفریق، سکوت حتی تلد تھا، وہ نہ پایا گیا قبل ولادت دعوی دائر ہوچکا، پھر ان تکلفات کی ضرورت کیاہے جبکہ مفتی بہ مطلقا فساد وعدم انعقاد ہے، والسلام۔