مسئلہ ۳۹۴: ۱۳ ذی قعدہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا دادا جمال الدین شاہ مرحوم ایک درویش شخص تھا چنانچہ اس نے اپنی عمر زہد وعزلت میں ایک جگہ میں بسر کردی اور زید کا باپ فرید الدین مرحوم ایک متورع اور عالم شخص تھا اور زید خود بھی بحمدہٖ تعالٰی ایک متقی اور عالم اور صوفی اہل وعیال کے تین چار برس کے نفقے کا مالک شخص ہے اور مکان مملوک رکھتا ہے، اور زید کی بیوی ہندہ ایک پا بند صوم وصلوٰۃ اور تالیہ قرآن پاک اور قاریہ اور اد و وظائف عورت ہے، اور زید کی لڑکی زینب بھی ایک صوم وصلوٰۃ کی شائق اور اوراد ووظائف کی جانب راغب اور کذب وغیرہ امورنا مشروع سے محترز بہت نیک اور سیدھی لڑکی ہے، اسی وجہ سے زید باوجود زینب کی نسبتیں متعدد جگہ سے آنے کے زینب کے بلوغ کے بھی سات آٹھ بلکہ اور زیادہ سال بعد تک کسی شریف عالم متقی شخص کی تلاش میں تھا اور ان نسبتوں کو بوجہ ان میں سے کسی کے موافق مرضی نہ ہونے کے منظور نہیں کیا تھا کہ یکایک عمرو (کہ جس کی بابت چار پانچ سال پیشتر خالد نے اس کا بہت متقی ہونا ظاہر کیا تھا چنانچہ کہا تھا کہ میں نے ایک حلقہ مسمی حلقہ حبیب جاری کرر کھا ہے جس میں ایک خاص طریقے سے درود شریف پڑھا جاتا ہے اس کا عمرو سر حلقہ ہے) آگیا اور اس نے زید وہندہ کو یہ دھوکا دے کر کہ میں اخبار شائع کرتا ہوں اس میں دو سو روپیہ ماہوار نفع ہے اس میں سے پچاس روپیہ ماہوار اپنی والدہ کو ان کے خرچ کے لئے دیتاہوں، حالانکہ تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ جس مقام میں اخبار شائع کرتا تھا وہاں کئی سو روپیہ کا قرضدار تھا اور کرایہ ریل تک پاس نہ تھا دوسرے شخص کے کرایہ سے زید کے شہرتک آیا تھا اور اپنی والدہ کو ایک حبہ بھی ماہوار نہ دیتاتھا، او راب جو زید کے شہر سے اپنے وطن میں جاکے رہا ہے کسی طرح کچھ نہیں کماتا کمال عسرت میں ہے ایک مہینہ توکیسا ایک ہفتہ کی بھی قوت کامالک نہیں اورنیز یہ فریب دے کر کہ میرے رہنے کی موروثی پختہ حویلی ہے حالانکہ کرایہ کے مکان میں رہتاہے، اور وہ کرایہ بھی اس کی والدہ اپنی محنت مزدوری سے اداکرتی ہے اور نیز یہ فریب دے کرکہ میں عالم ہوں میں نے حدیث شریف کی سند فلاں عالم سے حاصل کی حالانکہ یہ بالکل غلط کہ فارسی عربی کی ابتدائی کتابوں کی بھی لیاقت نہیں رکھتا اور نیز اپنے تقوی و ورع کا فریب دے کرکہ میں مشائخ وقت میں سے فلاں کا خلیفہ طریقت ہوں حالانکہ نماز پنجگانہ کا بھی پابند نہیں بلکہ لونڈے بازی وغیرہ امور شنیعہ کا عادی اور اشد فاسق ہے چنانچہ عقد کے پانچویں روز شب کے وقت ایک لونڈے سے پکڑا گیا پس اس کی صبح ہی کو جوگیا تو آج عرصہ قریب ڈیڑھ سال کے ہوتاہے نہ ایک پیسہ خرچ بھیجا اور ایک ہفتہ کے وعدہ پر ما/ص ۱۵۰ روپیہ قرض لے گیا تھا نہ ایک پائی اس کا دیا، زید کی لڑکی زینب بالغہ کے ساتھ عقد کرلیا، پس عقد کے بعد جب سے حالات معلوم ہوئے، تب سے زینب اور زید اور ہندہ عمرو سے سخت متنفرہیں اور زینب ا س کے یہاں جانا اور زیدوہندہ اس کے یہاں جانے دینا ہرگز منظور نہیں کرتے تویہ ظاہر ہے کہ عمرو مالا اور دیانۃً زینب کا کفو ہر گزنہیں،
غیر کفو میں نکاح کے اصلا عدم جواز کا فتوی دیا جائے گا یہی فتوی کے لئے مختارہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۱)
پس دریافت طلب یہ بات ہے کہ صور ت مرقومہ میں عام اس سے کہ خلوت صحیحہ ہوئی یا نہ ہوئی ہو، درمختار کی اس عبارت کے بموجب بطلان نکاح کا حکم دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر اس عبارت کے بموجب حکم بطلان نہیں دیاجاسکتا تو کسی اور عبارت کے مطابق زینب ا ور اس کے اولیاء کو حق فسخ ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو فسخ کی کیا صورت ہے؟
الجواب:نکاح مذکورہ اصلامحتاج فسخ نہیں، فسخ تو وہ ہوجو منعقد ہوا ہو یہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں، باطل محض ہے، ظاہر ہے کہ زینب عاقلہ بالغہ ہے اس کا نکاح بے اس کے اذن کے نفاذ نہیں پاسکتا
لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ۱؎ درمختار
(بالغ ہوجانے کی وجہ سے ا س پرولایت منقطع ہوجانے پر ، درمختار۔ ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۱)
اگر یہ نکاح بے اس کی اجازت کے ہوا اور اس نے خبر پاکر رد کردیا تو اگر کفو ہوتا جب بھی رد وباطل ہوجاتا لانہ نکاح فضولی (کیونکہ یہ نکاح فضولی ہے۔ ت)
عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز نکاح احد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من اب اوسلطان بغیر اذنھا بکر اکانت اوثیبا فان فعل ذلک فالنکاح موقوف علی اجازتھا فان اجازتہ جاز وان ردتہ بطل، کذا فی السراج الوھاج ۲؎۔
عاقلہ بالغہ باکرہ ہو یا ثیبہ اس کی مرضی کے خلاف کسی کا نکاح کرنا صحیح نہیں۔ یہ باپ ہو یا حاکم اوراگر کسی نے ایسا کیا تو یہ نکاح عاقلہ کی اجازت پر موقوف ہوگا اس کی مرضی ہے کہ جائز کرے تو جائزہوگا اگر رد کردے تو باطل ہوجائے گا۔ سراج الوہاج میں یونہی ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۸۷)
اور اگر اس کے اذن سے ہوا تو خود زینب کا کیا ہوا ہے کہ غیر کفو سے کیا،
فتاوی خیریہ میں ہے:
تزویجہ لھا باذنھا کتزویجھا بنفسھا وھی مسئلۃ من نکحت غیر کفو ۳؎۔
بالغہ کی اجازت سے نکاح ایسا ہے جیساکہ اس نے خود کیا ہو، یہ مسئلہ غیر کفو میں اس کے نکاح کرنے کا ہے۔ (ت)
(۳؎ فتاوی خیریہ باب الاولیاء والاکفاء دارالمعرفہ بیروت ۱/۲۵)
اور اگر بلااذن کیا تھا اس نے بعد کو اجازت دی جائز رکھا تو اب بھی زینب ہی کا کیاہوا ہے۔
فان الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ ۴؎ خیریۃ وغیرھما عامۃ الکتب۔
بعد کی اجازت ایسے ہی ہے جیسے پہلے اجازت دے رکھی ہو، خیریہ وغیرہ کتب۔ (ت)
(۴؎ فتاوی خیریہ باب الاولیاء والاکفاء دارالمعرفہ بیروت ۱/۲۵)
بہر حال یہ وہ نکاح ہے کہ زن عاقلہ بالغہ نے غیر کفو سے کیا کہ فاسق ہر گز صالحہ بنت صالح کا کفونہیں۔
درمختار میں ہے:
لیس فاسق کفو الصالحۃ اوفاسقۃ بنت صالح معلنا کان اولاعلی الظاھر نھر ۱؎۔
فاسق صالحہ لڑکی ایسی فاسقہ جو صالح کی بیٹی ہو کا کفو نہیں ہے، وہ فاسق اعلانیہ فسق کرتاہو یا مخفی طورپر ظاہرروایت پر یہی حکم ہے ، نہر۔ (ت)
( ۱؎ درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۵)
عامہ شروح میں ہے:
لایکون الفاسق کفوا لبنت الصالحین ۲؎۔
فاسق نیک لوگوں کی بیٹی کا کفو نہیں۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۲۰)
متن مجمع میں ہے:
لایکون الفاسق کفوا للصالحۃ ۳؎۔
فاسق صالحہ کا کفو نہیں ہے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار بحوالہ المجمع باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۲۰)
فتاوی امام فقیہ النفس میں ہے:
قال بعض المشائخ رحمہم اﷲ تعالٰی الفاسق لایکون کفوا لبنت الصالحین معلنا کان اولم یکن وھو اختیار الشیخ الامام ابی بکر محمد بن الفضل ۴؎۔
بعض مشائخ رحمہم اللہ تعالٰی نے فرمایا: فاسق معلن ہویا غیر معلن وہ صالحین کی بیٹی کا کفو نہیں ہے، یہی امام شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل کا مختار ہے۔ (ت)
(۵؎ ردالمحتار بحوالہ خانیۃ باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۲۰)
نیز ایسا معسر کہ نہ روز انہ کماتاہو نہ ایک مہینے کے اپنے ہی قوت کا مالک ہو نفقہ درکنار کفو نہیں ہوسکتا اگرچہ عورت بھی فقیرہ ہو،
درمختارمیں ہے:
تعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی ومالابان یقدر علی المعجل ونفقۃ شھر لوغیر محترف ۱؎۔
کفومیں جس چیز کا عرب وعجم میں اعتبار کیا جاتا ہے وہ دیانت یعنی تقوی، اور مال جس سے مہر معجل اور ایک ماہ کا نفقہ دینے پر قادر ہو اگر کاریگر نہ ہو۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الکفاۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۵)
ردالمحتارمیں ہے:
شمل مالوکانت فقیرۃ بنت فقراء کما صرح بہ فی الواقعات معللا بان المھر والنفقۃ علیہ فیعتبرھذا الوصف فی حقہ ۲؎۔
یہ فقیر کی بیٹی کو شامل ہے، جیساکہ واقعات میں تصریح کی گئی ہے کہ وجہ یہ ہے کہ مہر اور نفقہ خاوند پر ہی ہوتا ہے لہذا اس کا مالدار ہونا معتبر ہوگا۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۳۱)
اور بالغہ کہ اپنا نکاح غیر کفو سے کرے باطل محض ہے جبکہ ولی رکھتی ہو مگر اس صورت میں کہ ولی نے پیش از نکاح اسے غیر کفوجان کر صراحۃً اجازت دے دی ہو، ان میں تین شرطوں سے ایک بھی کم ہوگی نکاح اصلا نہ ہوگا،
درمختار میں ہے:
یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا فلا تحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفۃ ایاہ فلیحفظ ۳؎۔
غیر کفو میں نکاح کے اصلا عدم جواز کا فتوی دیا جائے گا، لہذا تین طلاق والی نے اگر اپنے ولی کی مرضی کے خلاف غیرکفومیں نکاح کیا جبکہ ولی کو غیر کفو کا علم ہو تو وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی، اس کو محفوظ کرو۔ (ت)
(۳؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۱)
ردالمحتار میں ہے:
یصدق بنفی الرضا بعد المعرفۃ وبعدمھا وبوجوہ الرضا مع عدم المعرفۃ ففی ھذہ الصور الثلاث لاتحل وانما تحل فی الرابعۃ وھی رضی الولی بغیر الکفو مع علمہ بانہ کذلک ۴؎ اھ ح۔
ولی اگر کہے کہ معلوم ہونے پر میں راضی نہ ہوا یا مجھے معلوم نہ ہوا، یا معلوم ہونے کی وجہ سے میں راضی ہواتھا تو ان تینوں صورتوں میں ولی کی تصدیق کی جائے گی اور وہ مطلقہ ثلاثہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی، ہاں چوتھی صورت میں حلال ہوجائے گی وہ یہ کہ ولی کہے کہ غیر کفو کا علم ہونے کے باوجود میں راضی ہوں اھ ح۔ (ت)
(۴؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۹۷)
اسی میں ہے:
لابد حینئذ لصحہ العقد من رضاہ صریحا وعلیہ فلو سکت قبلہ ثم رضی بعدہ لایفید فلیتا مل ۱؎ اھ
اس لئے ا س عقد کی صحت کے لئے ولی کا صراحۃً اظہار رضامندی کرنا ضروری ہے او راسی بناپر اگر پہلے وہ خاموش رہااور بعد میں راضی ہوا تو نکاح کے بعد کی رضا معتبر نہیں ہے، غور چاہئے اھ،
(۱؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۹۷)
اس پر میں نے حاشیہ لکھا، خیریہ میں اس پر جزم بحر کی اتباع میں کیا ہے او ر وجہ وہی ہے جو ہم ذکرکریں گے الخ۔ (ت)
(۲؎ جد الممتار حاشیہ ردالمحتار باب الولی حاشیہ ۵۰۲ المجمع الاسلامی مبارکپور ۲/۳۴۵)
یہاں رضا ئے ولی غیر کفو جا ن کر نہ تھی بلکہ کفو سمجھ کر لہذا اصلا معتبر نہیں۔ شرط انعقاد نہ پائی گئی اور نکاح بالکل محض ہوا، زینب پر فرض ہے کہ اس سے فورا جدا ہوجائے، اگرچہ خلوت ہوچکی ہو اور زید وہندہ پر حرام ہے کہ اسے عمرو کے یہاں بھیجیں کہ وہ نرا اجنبی بلکہ اس سے بدتر ہے نسأل اﷲ العفو والعافیۃ (ا للہ تعالی ٰسے معافی اور عافیت کا سوال ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔