Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
197 - 1581
مسئلہ ۳۸۳ تا ۳۹۰: از قصبہ اوریا ضلع اوٹاوہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ مولوی عبدالحی صاحب مدرس ۹ شعبان ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:

(۱) زید کی بیوی معہ بیٹی ہندہ کے اپنے والد کے گھرزیدکی رضامندی سے گئی زید کا خسر جو چچا بھی ہوتاہے اس نے اپنے خاندان کے لڑکے بکر کے ساتھ زید مذکور کی لڑکی ہندہ سے عقد کردیا بلااطلاع زیدا ور ہندہ ابھی نابالغ ہے، وہ عقد جائز ہوایانہیں، اس عقد کو کون اور کتنے عرصہ تک فسخ کرسکتاہے؟

(۲) اگر ہندہ بالغ ہے او روہ اپنے شوہر کے گھر پر رہی اور اس کے ہمراہ اپنے والد زید کے گھر آئی اور چندے قیام بکر یعنی ہندہ کے شوہرکا رہا، اس کے بعد وہ ملازمت پر چلا گیا، اس صورت میں یہ عقد درست ہوا یا نہیں جبکہ ہندہ بالغ ہے۔

(۳) زیدکے جائے قیام سے زید کی سسرال فاصلہ پر ہے جہاں پر ہندہ کا عقد بکر کے ساتھ ہواتھا، جس وقت زید کے ملنے والوں نے زید سے یہ سوال کیا کہ تم یہاں پر موجودرہے اور وہاں پر عقد بلااجازت جبکہ ہندہ نابالغ تسلیم کیا جاوے کیونکر ہوا، اس وقت زید مذکور نے یہ جواب دیاکہ ہم اجازت دے آئے تھے کہ آپ عقد کردیں اور ہم کو صرف اطلاع دیں تاکہ ہم اس خوشی میں میلاد شریف کریں، ایسی صورت میں اجازت صحیح ہوئی یا نہیں اور عقد جائز ہوایا نہیں؟

(۴) کچھ واقعات ایسے ہیں جس سے زید کی رضامندی کا پتا چلتاہے مثلا زید کے مکان پر تنہا آیا بکر شوہر ہندہ کا اور قیام کیا او ر زید اس کو یعنی داماد کو اکثر مجالس وبازار میں ہمراہ لے گیا، دریافت کرنے پر بھی کہا کہ یہ داماد ہے،اس کے چند یوم کے بعد وہ داماد اپنی ملازمت پر چلا گیا جس کو عرصہ ۴ یا ۵سال کا ہوا اسی قدر عرصہ عقدکو، جس وقت وہ ملازمت پر گیا تھااول تو خط کتابت کی بھی رہی سناگیا ہے، اب زیدکی زبانی معلوم ہوا کہ وہ نہیں معلوم کہاں پر ہے، نہ خط آتاہے اورنہ کچھ خرچ کی خبر لیتاہے، اول توہم کو یعنی زید کو اس لڑکے بکر کے ساتھ عقد اپنی لڑکی ہندہ کا منظور نہیں تھا، خیر اگر ہوبھی گیا تھا تو جبراً قہراً منظور کیا، اب تک اس کا راستہ دیکھا یعنی داماد کا، جس کو عرصہ ۴ یا ۵ سال کا ہوگیا، ان واقعات سے یہ عقد صحیح ہوا یا نہیں جبکہ ہندہ نابالغ تھی، 

(۵) بعض کا یہ قیاس ہے کہ ہندہ اس وقت بالغ تھی جب عقد ہوا، اور یہ واقعات جو اوپر مذکور ہیں زید یعنی ہندہ کا جائز ولی باپ کے ساتھ پیش آئے وہ عقد جائز ہوایا نہیں؟

(۶) اب زید کی نیت میں خلل آیااور وہ اب نمبر ۳ کے مضمون سے انکار کرتاہے کہ میں نے ہر گز نہیں کہا کہ اجازت دے دی تھی لیکن نمبر ۴ کے مضمون سے نہیں انکار کرسکتا کیونکہ چشم دیدواقعات ہیں، نمبر ا کی عبارت کو تسلیم کرکے سناگیا ہے کہ فتوی منگایا مگر کسی کو دکھلا یا نہیں ہے، کہ اس میں کیا سوال کیاہے محض اس بناء پر کہ وہ جائزولی نہیں تھے میں ولی جائز ہوں مجھ کو اختیار ہے، اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ۵ سال تک تو خاموش رہا زید ، اور نمبر ۴ کے واقعات اس داماد بکر کے ساتھ پیش آئے، کیا ایسی حالت میں یہ عقد اب ۵ سال کے بعدفسخ ہوسکتاتھا یا نہیں اور عقد ثانی ہوا یا نہیں؟ اگر نہیں ہوا تو کیا یہ حرام ہے اور اولاد بھی حرامی ہوگی؟

 (۷) ہم لوگ زیدکے ساتھ ربط ضبط رکھیں یا نہیں؟ اگر میل جول قائم رکھیں تو گناہگارہوں گے یا نہیں جبکہ اس نے شرع کے خلاف کیا ؟

(۸) بعد میں تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کہ ہندہ کی رخصت نہیں ہوئی اور نہ وہ اپنے شوہر کے گھر گئی اور نہ اس کے ہمراہ شوہر مذکور آیا لیکن شوہر ہندہ کا مکان پر زید کے آیا او رقیام کیا اور زید مذکور نے اپنے ملنے والوں سے کہا یہ داماد ہے اور سب کو دکھلایا، نمبر ۳ کو اس معاملہ سے علیحدہ تصور کرکے بقیہ کل نمبروں کا جواب دیجئے اور نمبر۲ کا جواب بھی علیحدہ سے دیجئے دوسرا واقعہ خیال فرماکر۔
الجواب

(۱) جبکہ ہندہ نابالغہ ہے یہ نکاح اجازت زید پرموقوف رہا، اگر جائز کردے گاجائز ہوجائے گا ردکردے گا باطل ہوجائے گا، زید اگر سکوت محض کرے کوئی قول یا فعل ایسا نہ کرے جس سے اس نکاح کا جائز یار دکرنا ثابت ہو یہاں تک کہ ہندہ بالغہ ہوجائے تو اس وقت اس کا ردیا جائز کرنا خودہندہ کے اختیار ہوجائے گا۔

(۲) درست ہوگیا اگر بکر ہندہ کا کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایسا کم نہ ہو کہ ہندہ کا

اس سے نکاح زید پدرہندہ کے لئے باعث ننگ وعار ہو۔

(۳) اجازت صحیح ہے عقدجائز ہوگیا۔

(۴) جبکہ ہندہ نابالغہ تھی اور باپ نے اسے منظور کیا اور بکر کواپنا داماد کہا نکاح نافذ ہوگیا۔

(۵) ہندہ اگر بالغہ تھی اور نکاح اس کے اذن سے ہوا یا بعد نکاح ا س نے قولا یا فعلا جائز کردیا مثلا بغیر رد کے بخوشی رخصت ہوکر گئی تونکاح نافذہوگیا، جبکہ بکر ہندہ کا کفو ہوا، اور اگر ہندہ سے کوئی قول وفعل اجازت کااب تک صادر نہ ہوا تو نافذ نہ ہوا اگرچہ اس کے باپ سے کچھ واقعات پیش آئے ہوں۔

(۶) اگر ہندہ نابالغہ تھی اور نمبر ۴ کا مضمون ثابت ہو تو وہ نکاح تام و لازم ہوگیا، زید کوکوئی اختیار اس کے فسخ کانہ رہا، یہ نکاح ثانی باطل ہوا، ا س میں قربت حرام ہوگی اور اولاد ولدالحرام، اور اگر ہندہ بالغہ تھی اور وہ کسی قول یا فعل سے نافذ کرچکی تھی جب بھی وہی جواب بکر ہندہ کا کفوہو اور اگر نافذ نہ کرچکی تھی اور رد کرکے نکاح ثانی کیا تو حرج نہیں اگرچہ بکر اس کا کفو ہو اور اگر ہندہ نے نافذ کیا لیکن بکر اس کا کفو نہ تھا تو نکاح صحیح نہ ہوا اگرچہ بعدکو زید بھی راضی ہو لان شرط صحتہ رضا الولی قبل النکاح صریحا مع العلم بانہ غیر کفو کما اوضحہ فی ردالمحتار (کیونکہ اس کی صحت کے لئے نکاح سے قبل اس بات کا علم ہوتے ہوئے صراحۃً ولی کی رضامندی شرط ہے کہ یہ نکاح غیر کفومیں ہوگا جیساکہ ردالمحتارمیں اس کی وضاحت کی ہے۔ ت) اس صورت میں اس غیر صحیح نکاح کوچھوڑ کر اگر نکاح ثانی کرلیا حرج نہ ہوا او ریہی نکاح ثانی صحیح ہوا اگرشرائط کا جامع ہو اور اولاد ولد الحلال ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

(۷) اوپر کے جوابوں سے معلوم ہواکہ زید کس صورت میں گنہگارہے اور کس میں نہیں۔ اگر صورت وہ ثابت ہو جس میں اس نے ایسے حرام کا ارتکاب کیا تو اس سے میل جول ترک کرنے میں گناہ نہیں بلکہ مناسب ہے اور نہ ترک کریں اور گناہ کو گناہ جانیں اوراس کے سبب اسے برا سمجھیں جب بھی حرج نہیں، ہاں جو سمجھے کہ میرے ترک کے سبب زید کوتوبہ کرنی ہوگی وہ ضرور ترک کرے۔

(۸) صورت واقعہ میں استفتاء کایہ طریقہ نہیں ہوتا بات پوری تحقیق شدہ پر فتوی لینا چاہئے بہر حال جواب ہر نمبر کا ہوگیا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۱: از شہر سلطان پور محلہ پرتاب گنج مرسلہ حافظ عبدالغنی وعبدالحمید صاحبان ۱۳ رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی ہندہ کا نکاح بکر کے لڑکے خالد کے ساتھ اپنے کفومیں اور مہر میں بلحاظ اپنے کفو کے کردیا، اور زید نے کئی مرتبہ ہندہ کور خصت بھی کیا اوربکر نے زید سے اقرار بھی لے لیا تھا کہ اگر ہندہ بالغہ ہے تب میں اس کا نکاح اپنے لڑکے خالد سے کردوں گا ورنہ نہیں۔ لہذا زید نے اقرار کیاکہ ہندہ بالغ ہے اس کے بعد نکاح ہوا اب بعدان واقعات کے بوجہ دنیاوی مخاصمت کے ہندہ بذریعہ نوٹس کے اطلاع دیتی ہے کہ میر ا نکاح حالت نابالغی میں ہوا تھا اب میں حد بلوغیت اور خود مختاری کو پہنچ گئی ہوں مجھ کو والدین کے کئے ہوئے نکاح کے فسخ کا حق حاصل ہے لہذا دریافت طلب یہ امرہے کہ مسماۃ مذکورہ کو حق فسخ حاصل ہے یا نہیں اوراس کے فسخ کرنے سے یہ نکاح جو باپ نے کیا ہے فسخ ہوگا یا نہیں؟
الجواب

ہندہ کو اصلا نکاح مذکور کے فسخ کا اختیارنہیں، نہ اس پر کچھ اعتراض کرسکتی ہے، اگر وہ نابالغہ ہی تھی جیساکہ اس کا بیان ہے ، توباپ کے کئے ہوئے نکاح پر نابالغہ بعد بلوغ معترض نہیں ہوسکتی۔
درمختار میں ہے:
لزم النکاح ولو بغبن فاحش او بغیر کفو ان کان الولی المزوج ابااوجدالم یعرف منھما سوء الاختیار ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر نکاح دینے والے باپ داداہوں اور و ہ سوء اختیار سے معروف نہ ہوں تو انتہائی کم مہر اور غیر کفومیں نابالغہ کا نکاح لازم ہوجاتاہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ درمختار        باب الولی    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
مسئلہ ۳۹۲: از پیلی بھیت مرسلہ واحد اللہ صاحب ۲۷ ذی قعدہ ۱۳۳۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید شدت مرض میں تھا اس حالت میں اس کے حقیقی بھائی نے اس سے اس کی کم سن لڑکی کا نکاح اپنے لڑکے کے ساتھ کرنے کی اجازت لے لی اور نکاح کردیا، زید تین روز کے بعد انتقال کرگیا، اب لڑکی کی عمر سات برس کی اور لڑکے کی چوبیس سال بر س کی ہے تو یہ نکاح ہوگیا یا نہیں؟ مکرر عرض یہ ہے کہ لڑکا لڑکی کاکفو نہیں کہ وہ ذلیل عورت کی نسل سے ہے۔ لڑکی کے باپ کا بھی انتقال ہوگیا۔
الجواب: شدت مرض صحت اجازت کو مانع نہیں،
ھذا القدر ماذکرہ السائل فتجیب علیہ ولانزید مایکون تعليما۔
یہ سائل کے ذکر کردہ پر ہم جواب دے رہے ہیں، اورتعلیم کے طورپر ہم زیادہ بات نہیں کرتے۔ (ت)

ماں کا غیر کفو ہونا اولاد کوغیر کفو نہیں کردیتا کہ نسب باپ سے ہے نہ کہ ماں سے
قال اﷲ تعالٰی: وعلی المولود لہ رزقھن ۲؎
 (اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: اورجس کا بچہ ہے اس پر عورتوں کا کھانا ہے۔ ت)
 (۲؎ القرآن الکریم                ۲/۲۳۳)
اور بالفرض کفاءت نہ بھی ہو تو باپ ایک بارغیر کفو سے بھی نکاح کرسکتاہے لہذا صور ت مستفسرہ میں وہ نکاح صحیح ولازم ہوگیا جس کے فسخ کا کسی کوبھی اختیارنہیں، واللہ تعالٰی اعلم،
مسئلہ ۳۹۳ـ: از ریاست رامپور محلہ زینہ عنایت خاں مدرسہ عزیزیہ مرسلہ محمد سفیر الرحمان صاحب بنگالی ۳ ذیقعد ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ ایک لڑکی بالغہ او رسن بھی چودہ برس کاہے، اس کے باپ نے جس لڑکے کے ساتھ اس کی شادی مقرر کردی ہے وہ ہونے والا شوہر نہ کہ باپ کے ذکر کرنے سے بلکہ اور کسی طریقہ سے لڑکی کو معلوم ہے کہ میری شادی اس شخص کے ساتھ مقرر کرادی ہے اور وہ دوسرے شہر میں رہتا ہے ، جب باپ عقد پڑھانے کو لڑکی کے مکان کو چلا، نہ اس وقت لڑکی سے اجازت لی اورنہ کچھ کہا بلکہ ویسے ہی وہاں جاکر مجلس میں کہہ دیا میں نے اپنی لڑکی تمھارے نکاح میں دے دی، یہ نکاح نافذ ہوا یا نہ ؟ بینوا تو جروا
الجواب:اگر بالغہ نے پہلے اجازت نہ دی تھی نکاح اس کی اجازت پر موقوف رہا، جائز کردے گی جائز ہوجائیگا جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو، رد کردے گی باطل ہوجائے گا اگرچہ کوئی مانع شرعی نہ ہو،
درمختارمیں ہے:
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بالغہ باکرہ لڑکی کو نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اب اس پر کسی کی کوئی ولایت نہ رہی، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الولی    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)
Flag Counter