Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
196 - 1581
مسئلہ ۳۸۰: از کوٹیلی ڈاک خانہ خاص ضلع مظفر پور مرسلہ عبدالعلیم شاہ صاحب ۱۵ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید کو تین شادی محل اولٰی (مرحوم) سے دولڑکے ایک لڑکی او رمحل ثانی لاولد مرحوم، محل سوم (قائم) سے دولڑکے او ر ایک لڑکی، زید نے محل اولی کی اولاد کو  اپنی حیات میں علیحدہ کردیا، جوکہ زید کو بدرمیاں اولاد محل اولٰی کے کوئی سروکار نہیں بلکہ سننے میں آتا ہے کہ زیدنے محل اولٰی والی اولاد کو عاق کیاتھا او رزید محل سوم کے ساتھ مع اولاد کے رہتے تھے، زید نے اپنی حیات میں محل سوم کی لڑکی کی نسبت بکر کے لڑکے سے کی تھی یعنی نسبت شادی کی مقرر ہوئی تھی، چونکہ عمر لڑکی کی  دس بر س کی تھی بعدمقرر کرنے نسبت مذکور کے زید نے قضا کیا، بعد قضا کرنے زید کے ایک سال بعدمسماۃ محل سوم نے اپنی لڑکی کی شادی بولایت خاص بکر کے لڑکے کے ساتھ کردی، اس درمیان میں محل اولٰی والی اولاد سے جوکہ عاق شدہ ہے اس سے معاملہ حقداری کا ساتھ محل سوم مسماۃ کے تھا، بعد شادی ہونے تھوڑے زمانہ کے اور اٹھ جانے معاملہ کے محل اولٰی والی اولاد نے محل سوم والی مسماۃ کواپنی رائے میں یعنی میل میں لے آئے، اب محل اولی والی اولاد کی جانب سے یہ کہا جاتاہے کہ عقد ناجائزہوگا کیونکہ اس لڑکی کا وارث میں ہوسکتاہوں یعنی اس کا ولی میں ہوں گا بلکہ اس لڑکی کو اپنی سسرال سے لاکر اپنے گھرمیں رکھ لیا ہے اور دوسری شادی کرنے پر لڑکی  آمادہ ہے آیا یہ عقد جوکہ مسماۃ محل سوم والی نے بولایت اپنے کیا ہے کیا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: فی الواقع بھائی اگرچہ سوتیلا ہو اس کے ہوتے ماں کو ولایت نہیں، جو نکاح ماں نے کیا او رکسی جوان بھائی کاا ذن نہ تھا، نہ بعد نکاح کسی جوان بھائی نے جائز کیا اسے جو جوان بھائی فسخ کرے فسخ ہوجائے گا، اور عاق کردینا شرعا کوئی چیز نہیں، نہ اس سے ولایت زائل ہو،
درمختارمیں ہے:
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر ولی ابعد ولی اقرب کی موجودگی میں نکاح کردے تویہ نکاح اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۴)
مسئلہ ۳۸۱: از بسولی ضلع بدایوں مرسلہ محمد ایوب حسن صاحب سلمہ، ولد قاضی محمد یوسف صاحب ۲۱ رجب ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہاجرہ خاتون  عرف بنو دختر راحت حسین مرحوم کا جس کی عمر اس وقت پندرہ برس چھ ماہ ہے اس کی ماں بساز اپنے بھائی اولاد حسین اور بھانجے قطب الحسن (قطب الحسن کو ہاجرہ کی بڑی بہن بیاہی ہے) جبکہ مکان پرکوئی شخص از ذکور موجود نہ تھا اپنی بہن کے لڑکے عزیز الحسن سے جوقطب الحسن مذکور سے چھوٹے ہیں بوکالت اپنے بھائی حقیقی اولاد حسین مذکور وبگواہی بندہ حسن جو قطب الحسن وعزیزالحسن مذکورکے عم زاد ہیں وبگواہی احمد حسین جو قطب الحسن کے قریبی رشتہ دار ہیں نکاح پڑھوادیا، بیان ہاجرہ خاتون جو کہ بموجودگی ممتاز حسین وفرحت حسین وصولت حسین کلام پاک پر ہاتھ رکھ کر بیان کیا میرے سامنے قبل نکاح کے واقع کے چند مرتبہ میری بہن زوجہ قطب الحسن نے عزیز الحسن سے میرا نکاح کئے جانے کا تذکرہ کیا مگر میں نے قطعی انکار کیا اور میرے اس انکار کی خبر قطب الحسن وعزیز الحسن اور ان کی والدہ اورمیری ماں اور بہنوئی کو کماحقہ ہوچکی تھی اب بوقت نکاح جب مجھ سے اذن طلب کیا گیا میں بوجہ لحاظ شرم بآواز بلند اس مجمع میں انکار نہ کرسکی مگر انکاری سرہلایا اور اُوں ہونھ جو انکار تھا کیا تھا میری آواز نکلتے ہی میری بہنوں اور خالہ وماں نے غل وشور مچادیا کہ ہوگیا ہوگیا، میں عزیز الحسن کے ساتھ نکاح کئے جانے کہ نہ قبل اس واقعہ کے نہ اس وقت اورنہ اب رضامند ہوں مجھ پر خدا اور اس کے رسول کی پھٹکارہو جو اس وقت ایک لفظ بھی غلط کہتی ہوں، بیان گواہ بندہ احسن جو تحریر کرالیاگیاہے، بتاریخ ۲۹ دسمبر ۱۹۱۸ء بوقت ۵ بجے شام قطب الحسن مجھ کو قاضی ٹولہ بغرض نکاح عزیز الحسن کے لئے گئے وہاں پر جاکر مجھ کو معلوم ہو اکہ تم گواہ ہو کہ مسماۃ بنو دختر راحت حسین کے گیاتھا وہاں جاکر مجھ کو گواہ بنایا گیا میں نے اندر جاکر اس کی والدہ سے دریافت کیا اس نے اقرار کیا اور اجازت نکاح کی دی پھر میں نے لڑکی سے اذن طلب کیا وہ پردہ میں تھی اندر سے اُوں کی آواز آئی پھر نکاح پڑھوادیا گیا فرحت حسین بوقت نکاح موجود نہ تھے، دستخط احمد حسین، وکیل صاحب مسمی قاضی اولاد حسین علیل تھے اور اس کے بعد زیادہ علیل ہوگئے اور انتقال ہوگیا، کوئی بیان تحریری حاصل نہ ہوسکا، قاضی صاحب نے جنھوں نے کہ نکاح پڑھایا ہے مکان پر یا اس موقع پر قسم ذکور سے کسی کو نہ پاکر قطب الحسن سے کہا گیا کہ ایسانکاح پڑھوا کر مجھ کو کسی مقدمہ میں ماخوذ تو نہ کراؤ گے جوکوئی مرد مکان پرموجود نہیں ہے جس کا جواب قطب الحسن نے یہ دیاکہ کسی مرد کی کچھ ضرورت نہیں ہے لـڑکی خود بالغ ہے قاضی صاحب نے لڑکی سے ایجاب قبول کرادیا، اندر کا کچھ حال اس وقت قاضی صاحب کو گواہان او ر وکیل صاحب کے بیانات سے طرح طرح کے شکوک عدم جواز نکاح کے پیدا ہوئے جس کی وجہ سے ضرورت فتوی لینے کی ہوئی، معروضہ احقر، اب وہ لوگ طرح طرح کے دباؤ رخصت کے ڈالتے ہیں اورلڑکی بالکل قطعی انکار کرتی ہے حتی کہ جان دینے پر آمادہ مگر وہاں رخصت کئے جانے کو منکر ہے، معاملہ مذکور بالا کو غور فرماکر حکم شرع شریف سے سرفراز فرمائیں۔
 الجواب: اللہ واحد قہار عالم الغیب والشہادہ ہے۔ یہ معاملہ حلال حرام او ر وہ بھی خاص شرمگاہ کاہے جس کی حرمت سخت اشد ہے، اگر واقع میں ہاجرہ بالغہ نے اذن دے دیاتھا اگرچہ دباؤ سے اگرچہ جبراً تو نکاح صحیح ہوگیا اور اب اسے انکار کا کچھ اختیار نہیں اگر نہ مانے گی اور دوسری جگہ نکاح کرے گی تو زنا ہوگا زنا زنا، اور اگر واقع میں اس نے انکار کیا تھا اور اسے اذن بناکر ہوگیا ہوگیا اڑایا تو حرام حرام سخت حرام ہے کہ اسے عزیزالحسن کی زوجہ سمجھا جائے پہلی صورت میں ہاجرہ اور دوسری میں عزیزالحسن وغیرہ اس کے ساعی مستحق لعنت الہٰی و عذاب شدید ہوں گے باقی جوشہادتیں مذکورہوئیں ثبوت اذن کے لئے محض ناکافی ہیں ان کی بناپر ہاجرہ کہ اذن سے منکر ہے مجبور نہیں کی جاسکتی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۸۲: ا زپیلی بھیت محلہ شیخ چاند متصل سرائے پختہ مرسلہ حافظ ولایت احمد صاحب ۸ شعبان ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح چچا حقیقی کی ولایت سے جو اس کے علم میں نابالغہ تھی بعدم موجودگی ہندہ ومادر ہندہ  زید نابالغ کے ساتھ بولایت دادا حقیقی زید عرصہ پانچ سال کا گزرا ہواتھا، دوسال سے زید بالغ ہے اب رخصت کرانا چاہتاہے تو مادر ہندہ سے معلوم ہواکہ ہندہ وقت نکاح کے بالغہ تھی ماں ہندہ کی رخصت نہیں کرتی ہے اور کہتی ہے کہ نکاح صحیح نہیں اور مادر ہندہ کے بیان کی تصدیق کرلی گئی کہ صحیح ہے،
الجواب: اگر یہ بیان واقعی ہے کہ ہندہ بالغہ تھی اورا س سے اذن نہ لیا گیا اور چچا نے نابالغہ سمجھ کر بے اذن لئے خود پڑھادیا تو یہ نکاح اجازت ہندہ پر موقوف رہا، اس پانچ برس کے عرصہ میں اگر اس نے اگرچہ اپنی ہم عمر لڑکیوں میں کوئی کلمہ ا س کی اجازت کا کہا ہے جائز ہوگیا، رد کہا رد ہوگیا، اب تک کچھ نہیں کہا ہے تو اب اگر رد کردے گی رد ہوجائے گا، جائز کردے گی جائز ہوجائے گا، یہ خوب یادر رہے کہ اعتبار سب میں پہلی بارکا ہے، نکاح کی اطلاع کے بعد سب میں اول اگرکلمہ ردکہا ہے رد ہوگیا، اس کے بعد ہزار بار اجازت دے بیکار ہے، اور سب میں اول اگر کلمہ اجازت کہا ہے جائز ہوگیا، اس کے بعد لاکھ بار ردکردے بے اثر ہے، اللہ واحد قہار سے ڈرے، یہ معاملہ حلال حرام ونکاح و زنا کاہے، جو بات واقعی ہو ظاہر کردے، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter