Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
195 - 1581
مسئلہ ۳۷۶، ۳۷۷: از بلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدان مرسلہ سید محمد تقی صاحب قادری ۲۶ صفر ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی عمر چارپانچ سال کی تھی کہ اس کے ماں باپ نے قضا کی اور ہندہ کو اس کی حقیقی نانی نے پرورش کیا جبکہ ہندہ کی عمر آٹھ سال کی ہوئی تو اس کی حقیقی نانی نے ہندہ کا عقد اپنے دوسرے نواسے کے ساتھ کردیا، گو ہندہ کے بھائی حقیقی تھے مگر اس موقع پر موجود نہ تھے جبکہ اس کا عقد اس کی نانی نے کیا تھا، لہذا شادی ہونے کے بعد سے پانچ چھ برس کامل تک ہندہ کو نہ ا س کے شوہر نے روٹی کپڑا دیا اور نہ اس کے ساس سسر نے، بدستور سابق ہندہ اپنی نانی کے پاس رہی اس نے اس کو روٹی کپڑا دیا جبکہ ہندہ کی عمر چودہ سال کچھ ماہ کی ہوئی اور اس کو پہلا ایام ہوا، اس وقت ہندہ مع اپنی نانی کے اپنے محلہ کے ایک گھرمیں آئی اور اس نے دومرد او ر تین عورتوں کے روبرو کہا کہ میری شادی میری نانی نے جس کے ساتھ کی تھی اس سے میں رضامند نہیں ہوں اور میں اس کے ساتھ اپنی عمر کسی طرح بسر نہیں کرسکتی ایسی حالت میں وہ نکاح ہندہ کا رہا یا ٹوٹ گیا؟

(۲) اس کے پانچ ماہ بعد ہندہ کادوسرا نکاح ہندہ کی رضامندی سے دوسرے شخص کے ساتھ کردیا گیا جبکہ وہ بالغ ہوچکی تھی اس صورت میں یہ نکاح جائزسمجھا جائے گا یا نہیں؟ اگر ہندہ کا پہلا شوہر عدالتی لڑائی فساد سے اپنی عورت کو لینا چاہے تو ان تمام امورات کو مدنظر رکھ کر ہندہ کو لے سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب: جس سے ہندہ کا پہلا نکاح ہوا اگروہ ہندہ سے مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایسا کم تھا کہ اس کے ساتھ ہندہ کا نکاح ہونا برادران ہندہ کے لئے باعث ننگ وعاروبدنامی ہو تو وہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔
یفتی بعدم الصحۃ فی غیر الکفو لفساد الزمان ۱؎ درمختار وغیرہ۔
فتوی یہ ہے کہ غیر کفو میں زمانہ کے فساد کی بناپر اصلا نکاح نہ ہوگا درمختار وغیرہ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)
اور اگرایسا نہ تھا وہ نکاح صحیح ومنعقد ہوگیا لصدورہ من فضولی ولہ مجیز (فضولی سے صادر اور اس کو جائز کرنے والا موجود ہونے کی وجہ سے۔ ت) ہندہ اگر بالغ ہوتے ہی ناراضی ظاہر کرتی اس نکاح کو فسخ کراسکتی اب کہ دیرلگائی وہاں سے دوسری جگہ جاکر وہ الفاظ کہے اب نکاح لازم ہوگیا بے موت یا طلاق شوہر اول اس سے جدا نہیں ہوسکتی، 

(۲) دوسرا نکاح جو کیا باطل محض ہے اس پر فرض ہے کہ فوراً اس سے جدا ہوجائے،
درمختار میں ہے:
بطل خیار البکر بالسکوت مختارۃ عالمۃ بالنکاح ولایمتدالٰی اٰخر المجلس ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
باکرہ بالغہ کو جب علم ہوجائے تو خاموشی پر اس کا اختیار فسخ ختم ہوجاتاہے او رخاموشی کے بعد مجلس کے اختتام تک باقی نہ رہے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۳)
مسئلہ ۳۷۸: از موضع سموال ڈاکخانہ سیگتر ریاست جموں ضلع میر پور ملک پنجاب براستہ جہلم مرسلہ حافظ مطیع اللہ صاحب ۱۸ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صو رت میں مثلا زید کی لڑکی نابالغہ کا بعد وفات زید لڑکی کی والدہ نے کسی جگہ ناتا یعنی ساک کردیا اور ان نے لڑکی مذکورہ کو کسی قدر زیور اور کپڑا دیا، اپنے زعم میں انھوں نے لڑکی اپنی منکوحہ سمجھ لی، بعد گزرنے دوتین سال کے والدہ لڑکی کے پاس گئے تاکہ شادی کردیوے، اس نے کہا مجھے فرصت نہیں، پھر چلے گئے ، دوبارہ جس کے ذریعہ سے منگنی کی تھی بھیج کر سوال کیا، پھر والدہ لڑکی نے انکار کردیا، منگنی والوں نے کہا زیور وغیرہ واپس کردو ہم اس سے رہے، غرض وہ اپنے زیورات وغیرہ لے کر واپس چلے آئے اور دعوی ناتا چھوڑ دیا، اب لڑکی بالغ ہے اور اس کی والدہ مرگئی ہے دوبارہ ناتے والے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم نے ناتا نہیں چھوڑا اور نہ ہم نے زیورلیا وکیل نے لیا ہوگا، آیا بروقت منگنی نابالغ کا اس کی والدہ یا چچایا برادر نے کردیا اس کو بموجب شریعت اختیار فسخ ہے بحکم ولھما الخیار فی غیر الاب والجد (نابالغ اور بالغہ کو غیر باپ دادا کے دئے ہوئے نکاح میں اختیار ہوتا ہے، ت) لیکن بروقت بلوغ قاضی کے نزدیک بیان دیوے اور قاضی حکم فسخ کرے، چونکہ اس ولایت میں کوئی قاضی نہیں تو کیا اس ملک میں اعلم علماء فسخ کرسکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب: محض منگنی کوئی چیزنہیں اور ان کا منکوحہ سمجھ لینا باطل ہے جبکہ ایجاب وقبول نہ ہوا ہو، اس صورت میں فسخ کی کیا حاجت کہ نکاح ہی نہ تھا جسے فسخ کیا جائے، ہاں اگر ایجاب وقبول ہوگیا تو بے شک صورت مذکورہ میں نابالغہ کو خیار فسخ ہے، اگر بالغہ ہوتے ہی فوراً ا سی مجلس میں انکار واعتراض کرے تو دعوی فسخ کرسکتی ہے،اعلم وافقہ اہل بلد بحضور زوج فسخ کرے او راس کی تنفیذ بذریعہ کچہری کرالے، اور اگر مجلس بلوغ میں سکوت کیا تو اب دعوی فسخ نہیں کرسکتی نکاح لازم ہوگیا جبکہ کفو سے ہوا ہو یعنی زوج زوجہ سے مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے اس کا نکاح اولیاء کے لئے عرفاً باعث ننگ وعار ہو کہ اس صور ت میں غیر اب وجد کاکیا ہوا نکاح باطل محض ہوتاہے، جب سرے سے ہواہی نہیں فسخ کی کیا حاجت،
والمسائل کلھا مصرحۃ بھا فی عامۃ زبر المذھب کالدرالمختار وغیرہ ومسألۃ العالم فی الحدیقۃ الندیۃ عن فتاوی الامام العتابی وقد فصلنا الکل فی فتاوٰنا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ تمام مسائل مذہب کی عام کتب میں تصریح شدہ ہیں جیسے درمختار وغیرہ۔ اور عالم فقہیہ والامسئلہ حدیقہ ندیہ میں امام عتابی سے منقول ہے، ہم نے ان تمام کی تفصیل اپنے فتاوی میں ذکر کی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۳۷۹: از شہر بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ حمید اللہ صاحب یکم جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکی کی عمر ۱۴ سال کی ہے اور اس کے والد نے خط اپنی بیوی کے نام اس مضمون کا بھیجا ہے کہ جس طرح چاہو کرو تمھیں اختیار ہے، ماں نکاح کرنا چاہتی ہے اور والد اس کے یہاں موجود نہیں ہیں عدم موجودگی میں والدکے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب: اگر ثابث ہوکہ خط اس کا ہے تو ماں کو اختیار ہے اگر لڑکی نابالغہ ہو اور بالغہ کی خود اپنی اجازت معتبر ہوتی ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter