Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
194 - 1581
مسئلہ ۳۷۳: از موضع پکریا ڈاک خانہ بانکی ضلع ڈالٹن گنج مرسلہ سید منہاج الحق صاحب احراری ۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

ہندہ کے شوہر نے قضاء کیا اور عمرو سے بیوہ کا ناجائز تعلق ہوا، بعد خبر پانے کے بکر نے جو ہندہ کا چچا ہے بساسرزنش گھر میں بند رکھا اور کچھ دنوں باہر نکلنے نہ دیا اور بزور اپنے لڑکے زید سے جس کی بی بی موجود ہے بے رضامندی جو بخوف ہلاکت ہندہ نے قبول کیانکاح کردیا، وکیل نکاح واقعہ معلومہ نے بمقابلہ شاہدین اجہل جو چچازاد بھائی بیوہ کے ہیں برضامندی اجازت عقد نکاح چاہی، بخوف جان ہندہ نے قبول کیااو راذن دیا، بعد دوچار ماہ کے موقع وقت پاکر عمرو کے یہاں چلی آئی اور ہنوز اس کے مکان میں موجود ہے۔ ہندہ سے بمقابلہ چند گواہاں پوچھا گیا حلفاً بیان کیا کہ ہم کو ہرگز ہر گز منظور نہ تھا جبر سے بکر وغیرہ کے جو دھمکی ہلاکت دیا تھا اقبال کیا بعدہ ہم دونوں کو یعنی ناکحین کو لوگوں نے ایک مکان میں بند کردیا، چنانچہ خلوت صحیحہ بھی اسی قاعدہ مسطورہ صدر سے ہوا پس صورت مستفسرہ میں امید وار جواب باصواب کاہوں، ایسا نکاح جائز ہوسکتا ہے یا نہیں کیونکہ ہندہ نے اقرار زبانی کیا دِلی حالت کسی کو معلوم نہیں، صورت مذکورہ بالا میں طلاق کی بھی ضرورت ہوگی یا نہیں؟ حسب بیان وخواہش ہندہ بغیرطلاق عمرو سے نکاح یا بعد طلاق وعدت؟ بینوا تو جروا
الجواب:اگر واقعی اکراہ ومجبوری کی صورت نہ تھی صرف دھمکی تھی اور اسے بھی صحیح طورپر اندیشہ جان نہ تھا جب تو وہ اذن صحیح ہوگیا اور اگر اس وقت واقعی اکراہ تھا اور شوہر کے پاس جانا بلااکراہ ہوا تو اگر پہلے نہ بھی تھی اب ہوگئی، ان دونوں صورتوں میں نکاح ہوگیا اور بغیر موت یا طلاق شوہر وانقضائے عدت دوسرے سے نکاح نہیں ہوسکتا، او ر جانا بھی باکراہ تھا اور جیسا کہ ہندہ کا بیان ہے خلوت بھی باکراہ ہوئی، تو یہ مسئلہ شدید الاشکال ہے کتابوں میں اس کا جزئیہ کہیں نہیں، علامہ خیرالدین رملی کی نظر حاشیہ بحرالرائق میں صحت توکیل کی طرف گئی اور حاشیہ منح الغفار میں عدم جواز کی طرف علامہ شامی نے کتاب الاکراہ میں اول کی طرف میل فرمایا اور آخر میں بھی لکھاکہ:
الحاصل ان المحل محتاج الی زیادۃ التحریر وھذا غایۃ ماوصل الیہ فھمنا القاصر، واﷲ تعالٰی اعلم۔
حاصل یہ کہ یہ مقام زیادہ تحریر وتحقیق کا محتاج ہےاور جہاں ہمارا قاصر فہم پہنچاوہ یہی ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
فقیر نے اس پر تعلیقات میں ان کی ابحاث سے جواب دئے اور تعلیقات کتاب الطلاق میں اولا وجوہ جواز لکھ کر انھیں رد کیااور عدم جواز کی ترجیح بیان کی اور آخر میں یہی لکھا کہ:
بالجملۃ محل اشتباہ ولابد من تحریر فوق ذٰلک ،و اﷲ تعالٰی اعلم۔
غرض یہ کہ محل اشتباہ ہے تو اس کی صفائی کے لئے اس سے زائد تحقیق کی ضرورت ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
ایسی شدید مشتبہ حالت میں بھی احتیاط یہی ہے کہ بلاطلاق ومرور عدت نکاح ثانی کی جرأت نہ کی جائے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۷۴: ا زسہسرام ضلع گیا مرسلہ حکیم سراج الدین احمد صاحب ۳ جمادی الآخر ۱۳۳۶ھ

نابالغ کے نکاح میں اس کے ولی سے ایجاب کے کرانے کی نوبت پہنچے گی تب تعین مہر بحیثیت ولی کے ہوگی پس بعد بلوغ اقبا ل سے وہ نابالغ مہر کے ناراض ہو اور نکاح کرے تو کیا حکم ہوگا، بینوا تو جروا
الجواب: وہ ولی جس نے نابالغ کا نکاح کیا اس کا باپ نہ ہونے کی حالت میں دادا ہے ایسا جو اس سے پہلے کوئی نکاح اپنی ولایت سے مہر میں ایسے فرق کثیر پر یا غیر کفو سے نہ کرچکاہو نہ اس نکاح کے وقت نشہ میں ہو جب تو نکاح صحیح اور مہرلازم ہوگیا، نابالغ کو کسی وقت کوئی حق اعتراض نہیں، اور اگر نکاح کرنے والا اَب وجَد کے سوا اور کوئی ولی ہے یا اب وجد ہیں اور اس وقت نشہ میں تھے یا اس سے پہلے بھی کوئی نکاح اپنی ولایت سے ایسا کرچکے تھے اورمہر مثل سے فرق کثیر ہے مثلا پسر کا نکاح ہے اور عورت کا مہر مثل دس ہزار تھا انھوں نے پندرہ ہزاربندھوایا یا دختر کا نکاح ہے او رمہر مثل دس ہزار تھا انھوں نے پانچ ہزار بندھوایا تو اس صورت میں نکاح سرے سے ہوگا ہی نہیں فسخ کی کیا حاجت ہے، اور اگر فرق فاحش نہیں مثلا پسرکے نکاح میں دس ہزار کا گیارہ ہزار یا دختر کے نکاح میں دس ہزار کا نوہزار، تو نکاح ہوگیا، پھر اگر وہ ولی جس نے نکاح کیا غیر اب وجد ہے تو صغیر وصغیرہ کو خیار بلوغ ملے گا جو غیر اب وجد کے نکاح کرنے میں مطلقاً ملتا ہے اگرچہ مہر مثل میں کوئی کمی بیشی نہ ہوئی ہو، صغیرہ اگر بکر ہے تو بالغہ ہوتے ہی فورا یا اس کے بعد علم نکاح ہو تو علم پاتے ہی معاً اگر اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے گی تو دعوی کرکے قاضی سے فسخ کراسکے گی اور صغیرہ اگر ثیب ہے یاصغیرہ کا نکاح ہے تو انھیں بعد بلوغ مطلقاً اختیار اعتراض رہے گا جب تک صراحۃً اپنی رضا ظاہر نہ کریں یا کوئی فعل ایسا نہ کریں مثلا بوسہ وکنار جو رضا پر دلیل ہو،
درمختار میں ہے:
لزم النکاح ولوبغبن فاحش بنقص مہرھا و زیادۃ مہر ہ اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج ابا اوجدا لم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا وکذا لو کان سکران وان کان المزوج غیرھما لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولھما خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ وبطل خیار البکر بالسکوت عالمۃ بالنکاح ولایمتد اٰخر المجلس وخیار الصغیر والثیب اذا بلغا لایبطل بالسکوت بلاصریح رضا اودلالۃ کقبلۃ ولمس ولابقیامھا عن المجلس لان وقتہ العمر فیبقی حتی یوجد الرضا۱؎ اھ ملتقطا۔
اگر نکاح دینے والا باپ یا دادا ہو تو انتہائی کم یا زیادہ مہر یا غیر کفو میں نکاح لازم ہوجائے گا بشرطیکہ یہ باپ یا دادا سوء اختیار میں معروف نہ ہوں، اور اگر وہ اس میں معروف ہو ں تو کم مہر اورغیر کفو میں ان کا دیا ہوا نکاح بالاتفاق صحیح نہ ہوگا، اور ایسے ہی اگر وہ نشہ میں ہوں تو صحیح نہ ہوگا، اور باپ دادا کا غیر نکاح دے تو غبن فاحش یعنی انتہائی کم مہر اور غیر کفو میں نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا، اورا گر انھوں نے مہر مثل اور کفو میں کیا ہو تو صحیح ہوگا لیکن نابالغ لڑکے اور لڑکی کو بالغ ہونے پر یا بلوغ کے بعد نکاح کے علم پر فسخ کا اختیار ہوگا، اور اگر لڑکی باکرہ بالغہ ہو تو غیر کے کئے ہوئے نکاح پر خاموشی سے اس کا خیار فسخ  ختم ہوجائے گا بشرطیکہ ا س کو اپنے نکاح کا علم ہو اور خاموشی کے بعد مجلس کے اختتام تک یہ اختیار باقی نہ رہے گا، اور نابالغ لڑکے اور ثیبہ کا اختیار محض خاموشی پر ختم نہ ہوگا جب تک بالغ ہونے پر صراحۃً اظہار رضامندی نہ کردیں، یا دلالۃً مثلا بوس وکنار وغیرہ سے رضاظاہر نہ ہوجائے اور ان دونوں کے، اختیار والی مجلس سے اٹھ جانے سے بھی ان کا اختیار باطل نہ ہوگا، کیونکہ اظہار رضا کے لئے ان دونوں کو عمر بھر اختیار باقی رہتا ہے جب تک کہ راضی نہ ہوجائیں یا رد نہ کردیں اھ ملتقطا (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۹۳۔ ۱۹۲)
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے: اذا زوج الرجل ابنہ بامرأۃ باکثر من مھر مثلھا او زوج ابنتہ الصغیرۃ باقل من مھر مثلھا اووضعھا فی غیر کفو او زوج ابنہ الصغیر اَمَۃً اوامرأۃ لیست بکفولہ جاز فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی وقال صاحباہ رحمہما اﷲ تعالٰی لایجوز ان فاحش واجمعوا علی انہ لایجوز ذلک من غیرالاب والجد ولامن القاضی ۱؎۔

جب کوئی شخص اپنے بیٹے کا مہر مثل سے زائد مہر پر یا نابالغہ لڑکی کا مہر مثل سے کم مہر پر یاغیر کفو میں نکاح دے یا نابالغ بیٹے کا نکاح لونڈی سے یا غیر کفو والی عورت سے کردے تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی کے قول کے مطابق یہ نکاح جائزہونگے، اور صاحبین رحمہما اللہ تعالٰی کے قول پر جائز ہوگا، جبکہ باپ داد ا کے غیر حتی کہ قاضی کے دئے ہوئے یہ نکاح ناجائز ہونے پر اجماع ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوی قاضی خاں    فصل فی الاولیاء    نولکشور لکھنؤ        ۱ /۱۶۴)
عالمگیری میں ہے:
لو زوج ولدہ من غیر کفو بان زوج ابنہ امۃً او ابنتہ عبدا اوزوج بغبن فاحش بان زوج البنت ونقص من مھرھا اوزوج ابنہ وزاد علی مھرا مراتہ جاز عند ابی حنیفۃ تبیین وعندھما لاتجوز الزیادۃ والحط الابما یتغابن الناس فیہ قال بعضھم فاما اصل  النکاح فصحیح والاصح ان النکاح باطل عندھما کافی والخلاف فیما اذالم یعرف سوء الاختیار الاب امااذا عرف فالنکاح باطل اجماعا وکذا اذا کان سکران السراج الوھاج۲؎ اھ ملخصا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر اپنے بیٹے کا نکاح غیر کفو مثلا لونڈی سے یا نابالغہ بیٹی کا نکاح غلا م سے کردیا، یاا س کا نکاح انتہائی کم مہرپر کردیا، یا بیٹے کا نکاح کرکے اس کی بیوی کا مہر زائد کردیا، تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی کے قول پر جائزہوگا، تبیین، اور صاحبین رحمہما اللہ تعالٰی کے قول پر اتنی زیادتی یا کمی پر نکاح کیا جو مروج کے مطابق نہ ہو تو یہ جائز نہیں ہے، بعض کے نزدیک صاحبین کے قول پر اصل نکاح صحیح ہوجاتا ہے ، کافی، یہ امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ باپ سوء اختیار سے معروف نہ ہو اور اس میں مشہور ہو  تو بالاجماع باطل ہے، اور یو ں ہی اگر وہ نشہ میں  ہو تو بھی باطل ہے،سراج الوہاج، اھ ملتقطا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ٹ)
 (۲؎ فتاوی ہندیہ    الباب الخامس فی الاکفاء    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۲۹۴)
الجواب: اس صورت میں اس نابالغہ کے نکاح کا ولی نہ اس کا حقیقی چچاہوسکتاہے نہ بہن نہ بہنوئی نہ ماں بلکہ لڑکی کا سوتیلا بھائی کہ سولہ سال کاہے اس کے نکاح کا ولی ہے، اور دوسرا کہ چودہ سال کاہے اگر وہ بالغ ہے تووہ بھی ہے،
درمختار وغیرہ میں ہے:
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث اوالحجب ۱؎۔
نکاح کا ولی عصبہ بنفسہٖ وراثت اورمانع ہونے کی ترتیب پر ہوتے ہیں۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۳)
لہذا لڑکی کا نکاح کفو میں مہر مثل یا زائد پر جو ان سوتیلے بھائی کی اجازت سے ہونا چاہئے، اگر ماں حقیقی بھی ہوتی تو اس کا کیا ہوا نکاح بھی اس بھائی کی اجازت پر موقوف رہتا، اور جبکہ اس کا بھائی کی اجازت  سے ہو یابعد نکاح قبل رد یہ اسے جائز کردے اور نکاح میں مہر مثل سے کمی فاحش نہ کی گئی ہو او رجس سے نکاح ہوا وہ کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایساکم نہ ہو کہ اس سے نکاح ان بھائیوں کے لئے وجہ عار وبدنامی ہو تو وہ نکاح صحیح ہوجائے گا اور چچا اس میں کسی طرح  خلل انداز نہیں ہوسکتا، ہاں لڑکی کو اختیار ہوگا کہ بالغہ ہوتے ہی اگر فوراً ا س نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے تو دعوی کرکے فسخ کراسکے گی، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter