| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۳۷۲: از چھاؤنی ملتان مرسلہ کریم بخش صاحب خانساماں ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ حسین بخش خانساماں کی دختر کی شادی پیر بخش خانساماں ازکوہ سپاٹو ضلع شملہ عرصہ گیارہ بارہ برس کا ہوا کہ جس وقت برخورداری کی نسبت پیر بخش خانساماں کے ساتھ بندوبست کیا گیا تھا تو اس وقت پیربخش خانساماں کی پہلی زوجہ جوکہ شادی کی ہے سبب نہ اولاد ہونے کے دوسری شادی کا انتظام کیا دختر حسین بخش کے ساتھ، پیر بخش اقرار گھر دامادی کا کیا جو رجسٹر مسجدکوہ سپاٹو ضلع شملہ میں موجود ہے، او رپیش امام مسجد کے جنھوں نے نکاح پڑھایا تھا وہ بھی اسی وقت موجود ہیں، جس وقت نکاح وغیرہ سے فارغ ہوئے تو دوسرے دن پیر بخش نے جھگڑنا شروع کیا کہ میری زوجہ میرے ہمراہ بھیج دو، لڑکی کے والدین نے پنچ کی رو سے انکار کیا کہ چند عرصہ تم ہمارے ہمراہ رہو جب تمھاری بی بی کی رضا تمھارے ساتھ جانے کی ہوجائے لے جاؤ، اس شخص نے اصرار کیا کہ میرے ہمراہ ابھی بھیج دو، یعنی شروع سے جھگڑا یہاں کئی ایک ماہ ان کا جھگڑا رہا، چند عرصہ کے بعد جوکہ زوجہ پیر بخش کا چھوٹا بھائی تھا اس نے فیصلہ کیا کہ پیربخش کی زوجہ کو پیر بخش کے ہمراہ کردیا، بعد عرصہ کے لڑکی حمل سے ہوئی تواپنی ماں کے پاس آئی، لڑکی پیدا ہوئی جو اس وقت تیرہ چودہ برس کی ہے، جس وقت لڑکی دو ماہ کی ہوئی تو زوجہ پیر بخش اپنے خاوند کے ساتھ چلی گئی، بہ سبب نااتفاقی ان دونوں عورتوں میں جھگڑا رہا، چھ ماہ کے بعد زوجہ پیربخش پھر اپنے والدین کے پاس آگئی پھر ان کا اتفاق کردیا گیا، پھر زوجہ پیر بخش اپنے خاوند کے ہمراہ چلی گئی، عرصہ تین ماہ بعد پھر واپس بھیج دی، پیر بخش کے پھر بعدکو لڑکا پیدا ہواجوکہ عمر گیارہ بارہ برس کا ہے، نہ تو اس شخص نے کھانا کپڑا دیا نہ اپنے بچوں کو لے گیا، چار دفعہ پنچایت میں فیصلہ ہوا کہ جو کچھ زربچوں کی پرورش کرنے میں ہوا وہ ادا کردو اور اپنے بال بچوں کو لے جاؤ، مگریہ شخص پنچوں میں بھی اقرار کرگیا وہ پورا نہ کیا نہ جوا ب دیا یعنی بہتیرا کچھ اس شخص کو سمجھا یا گیا لیکن اس عرصہ گیارہ بارہ برس میں کوئی خیال نہ کیا، پچھلے سال اس لڑکی کے ماموں نے منگنی بھی کردی اس وقت بھی کوئی خیال نہ کیا بلکہ خود جاکر لڑکی کے ماموں نے کہا کہ یا تو تم لڑکی کی شادی کرو اگر تم لڑکی کی شادی نہیں کرسکتے تو تم لادعوی ہو، کوئی جواب نہیں دیا، اب لڑکی کے ماموں نے چاہا کہ شادی کردی جائے، توپیر بخش نے اپنے خسر کے نام نوٹس دی کہ تم لڑکی کی شادی نہ کرنا ورنہ ہم کچہری میں دعوی کریں گے آپ کی زیرباری ہوگی اس لڑکی کا ماموں ملتان گیا پیچھے نوٹس دی، ا س گیارہ بارہ برس کے اندر ایک پیسہ اپنے بال بچوں کو نہیں دیا گواہ موجود ہیں، یہ فیصلہ آپ کے پاس بھیجا جاتا ہے کہ آپ شریعت کی رو سے فتوی عنایت فرمائیں۔
الجواب: لڑکی بالغہ ہے یعنی اسے ماہواری عارضہ آتاہے جب تو نکاح میں خود لڑکی کی اجازت کافی ہے، بشرطیکہ کسی غیر کفو سے نکاح نہ ہو، یعنی ایسے نہ ہو جو مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں اتنا کم ہو جس سے نکاح اس دختر کا پیر بخش کے لئے باعث ننگ وعار ہو، اور اگر لڑکی نابالغہ ہے تو ضرور اس کے باپ کی اجازت درکار ہے بے اس کی اجازت کے اگر ماں یاماموں یاکوئی نکاح کردے گا توپیربخش کی اجازت پرموقوف رہے گا، وہ جائز کردے گا جائز ہوجائے گا ردکردے گا باطل ہوجائے گا، ہاں اگر کفو کے ملتے ہوئے پیر بخش نکاح میں تاخیر کثیر کرے جس سے ضرر کا اندیشہ ہو نہ آپ نکاح کرے نہ دوسرے کو اجازت دے تو اس وقت پیر بخش سے اترکرنابالغہ کاجوولی ہوگا مثلا دادا پھر سگا بھائی پھر سوتیلا پھر سگا بھتیجا پھر سوتیلا پھر سگا چچا پھر سوتیلا پھر سگے چچاکا بیٹا پھر سوتیلے کا ، غرض دادا کی اولاد میں کوئی مرد عاقل بالغ کہ باپ کے بعد اس سے قریب تر کوئی نہ ہواسے اختیار ہوگا کہ لڑکی کا نکاح کسی کفو بمعنی مذکور سے کردے اور اس وقت باپ کو اعترض کا کوئی حق نہ ہوگا اگر دادا پردادا دور ونزدیک کی اولاد قریب وبعید میں کوئی ایسا مرد نہ ہو اس وقت ماں کو اختیار ملے گا،
درمختارمیں ہے:
ان لم تکن عصبۃ فالولایۃ للام ۱؎۔
اگر عصبات نہ ہوں تو ولایت ماں کو حاصل ہوگی۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۳)
اسی میں ہے:
یثبت للابعد التزویج بعضل الاقرب ای بامتناعہ عن التزویج اجماعا خلاصۃ ۱؎۔
اقرب کے نکاح نہ کرنے پر ابعد کو نکاح دینے کا بالاجماع اختیار ثابت ہے۔ خلاصہ۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۴)
ردالمحتار میں ہے:
بامتناعہ عن التزویج من کفو بمھر المثل امالو امتنع عن غیر الکفو اولکون المھر اقل من مھر المثل فلیس بعاضل ۲؎۔
مہر مثل اور کفو میں اقرب کے نکاح نہ کرنے پر ابعد کو اختیار ہے ورنہ اگر اقرب کم مہر اور غیر کفو میں نکاح سے انکار کرے تو پھر اس کومانع قرار دینا درست نہیں ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۱۶)
یہاں ضرر سے مرادیہ ہے کہ کفو ملتا ہو اوراس کے ساتھ اس نابالغہ کا نکاح کسی وجہ سے خلاف مصلحت نہ ہو مہر مثل بھی پورا دینے کا کہتا ہو اور بلاوجہ باپ نہ مانے اور نکاح نہ کرے نہ کوئی دوسرا کفو موجود ہو جس سے وہ نکاح کرنا چاہتا ہو توا س حالت میں اور جو اولیا ہم نے شمارکئے ان میں سے جو قریب تر ہو اس سنی دیندار عالم کی رائے سے جو وہاں سب سے زیادہ فقیہ ہو اس کفو موجود سے مہر مثل یا اس سے زائد پر نکاح کردے۔
ۤوذٰلک لانھم اختلفوا فی المراد بالا بعد الذی یثبت لہ التزویج بعضل الاقرب فذھب فی شرح الوھبانیۃ ان المراد لابعد من اولیاء النسب وبہ جزم فی البحر ونقلہ فی الدرثم استدرک علیہ بما فی القھستانی عن الغیاثی لو لم یزوج الاقرب زوج القاضی عند فوت الکفو ۳؎ اھ قال ش ای خوف فوتہ ۴؎ ثم نقل عن رسالۃ العلامۃ الشرنبلالی کشف المعضل فیمن عزل نصوصا وافرۃ متظافرۃ علی ان المراد بالابعد القاضی ولاقاضی ھٰھنا فقد تدارکنا بماذکرنا من جمیع النظرین، واﷲ المستعان واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ اس لئے کہ اس ابعد کے بارے جن کو اقرب کے انکار پر نکاح دینے کا جواز ہے میں فقہاء کا اختلاف ہے، تو وہبانیہ میں اس طرف رجحان ہے کہ ابعد اولیاء سے مراد نسبی اولیاء ہیں اور بحر میں اسی پر جزم کیا ہے، اور در میں اس کو نقل کیا اور پھر اس پر استدراک کرتے ہوئے قہستانی میں غیاثی کے حوالے سے کہا کہ اگر اقرب نکاح نہ کرے تو کفو کے فوت ہونے کی صورت میں قاضی نکاح کردے اھ شارح نے کہا کہ کفو کے فوت ہونے کا خطرہ ہو تو قاضی نکاح کردے، پھر انھوں نے علامہ شرنبلالی کے رسالہ کشف المعضل فیمن عزل سے بہت سی نصوص نقل کیں کہ ابعد سے مراد قاضی ہے اور یہاں قاضی نہیں ہے اس لئے ہم نے نقصان کا تدارک کرتے ہوئے مذکور اولیاء کو ذکر کیا ہے تاکہ دونوں مصلحتیں جمع ہوجائیں، اور اللہ تعالٰی سے ہی امداد طلب کی جاتی ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۴) (۴؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۱۶)