Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
192 - 1581
مسئلہ ۳۶۹: مسئولہ خان بہادر مولوی محمد خلیل اللہ خان ڈاک خانہ  گولہ ضلع کھیری

مسماۃ ہندہ نے انتقال کیااور اولاد دختری سے دو لڑکیاں چھوڑیں وقت انتقال میں مسماۃ مذکورہ کی لڑکیوں نے اپنے حقیقی نانا کی پرورش ہرقسم کی اس وقت تک پائی، دختران کی عمرسن بلوغت کو پہنچی ہے، والد لڑکیوں کا اپنے وطن میں موجود ہے او رکسی قسم کی امداد پرورش دختران مذکور نہیں کرتا، والد والدہ دختران مذکور کا شادی کا انتظام کرتاہے تو والد منع آتاہے، والد شریک شادی دختران مذکور بوجہ اس کے کہ صرفہ شادی سے علیحدہ رہے، نہیں ہوتا ہے، توایسی حالت میں حقیقی نانا بحیثیت ولی کے نکاح کرسکتا ہے اگر نکاح دختران مذکور کا حقیقی نانا ایسی حالت مذکور میں کردے تو کیا مناسب ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب:لڑکیاں جبکہ بالغ ہوگئیں ان پر ولایت جبریہ کسی کی نہ رہی، ان کی رضاسے جو نکاح ان کا ہو صرف دو حالت میں ولی یعنی ان کے باپ کو ان پر اعتراض کا حق ہوگا، اول یہ کہ جس سے نکاح کیا جائے وہ اس دختر کا کفو یعنی نسب یا مذہب یا چال چلن یا پیشہ وغیرہ کسی بات میں اس سے اتنا کم ہو کہ اس سے نکاح ہونا پدر دختر کے لئے باعث ننگ وعار ہو، اس صورت میں توجب تک باپ پیش از نکاح اس شخص کوغیر کفو جان کر صراحۃً اجازت نہ دے نکاح ہوگا ہی نہیں محض باطل ہوگا۔ دوم یہ کہ دختروں کے مہر میں کمی فاحش کی جائے مثلا اس کا مہر مثل ہزارروپے ہو اور پانسو باندھا جائے، اس صورت میں باپ کو اعتراض کا حق ہوگا یہاں تک کہ شوہر مہر پورا کردے اور جب ان صورتوں سے پاک ہویعنی جس سے نکاح کیا جائے وہ نسب ومذہب وغیرہ میں دختر سے ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہوناپدر دختر کے لئے باعث مطعونی وبدنامی ہو ، اور مہر مثل میں بھی کمی فاحش نہ کی جائے ، تو لڑکیوں کی اجازت سے نانا کا ایسا کیا ہوا نکاح صحیح وتام ونافذ ولازم ہوگا جس پر پدر دختران کو کوئی اعتراض نہیں پہنچتا،
درمختار میں ہے:
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ۲؎۔
باکرہ بالغہ پر ولایت اجبار نہیں کیونکہ اس کے بالغ ہوجانے پر ولایت ختم ہوچکی ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)
اسی میں ہے:
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ولہ اذاکان عصبۃ الاعتراض فی غیر الکفو ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا ۱؎۔
آزاد عاقلہ بالغہ کا اپنا کیا ہوا نکاح ولی کی رضا کے بغیر بھی نافذ ہوگا ، ولی اگر عصبہ ہو تو اس کو غیر کفو کی صورت میں اعتراض کا حق ہے اور غیر کفو میں نکاح کے عدم جواز کا فتوی دیا جائے گا۔ (ت)
(۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)
اسی میں ہے:
لونکحت باقل من مھرھا فللولی العصبۃ الاعتراض حتی یتم مہر مثلھا ویفرق القاضی بینھما دفعاللعار ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر لڑکی نے انتہائی کم مہر پر اپنا نکاح کیا تو ولی عصبہ کو حق اعتراض ہے حتی کہ مہر مثل پور ا کریں، اور قاضی ولی کی عار کو ختم کرنے کے لئے نکاح کو فسخ کرسکتا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ درمختارباب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۹۵)
مسئلہ ۳۷۰: از موضع ساندھن ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ محبوب احمد صاحب ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

والدِ ہندہ نابالغہ کے فوت ہونے پر ہندہ کے شرعی وارث موجود ہیں مگر ولی بننے سے انکار کرتے ہیں ہندہ کی ماں حقیقی جس نے اب عقد ثانی کرلیا ہے وہ یا اس کا شوہر ثانی ولی بن سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب: ولی بننا نہ بننا اختیاری نہیں۔ جس کو شرع مطہر نے ولی کیا وہ ولی ہے اس کے انکار سے کچھ نہیں ہوتا، ہاں اگر صورت یہ ہے کہ کفو موجود ہے اور ولی بلاوجہ شرعی اس کے نکاح کرنے سے انکار کرتا ہے اور اس انکار میں کفو کے فوت ہونے کا اندیشہ صحیح ہے تو جوولی ابعد ہے اگرچہ ماں ہو اگرچہ نکاح کرچکی ہو وہ وہاں کے عالم دین سنی صحیح العقیدہ کے صوابدید سے نابالغ کا نکاح کرے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۷۱: از افضل گڑھ ضلع بجنور محلہ قاضی سرائے مرسلہ راغب الدین صاحب ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

زید نے ہندہ سے نکاح کیا، ایک دختر پیدا ہوئی، جب عمر دختر کی تین سال کی ہوئی زید نے ہندہ کو طلاق دی، وہ دختر بھی ہندہ کے پاس رہی، بعد ختم ہونے عدت کے ہندہ نے اپنا نکاح بکر سے کیا، جب دختر کی عمر قریب نو سال کے ہوئی تب اس کا نکاح ہندہ نے اور بکر نے ایک سے کردیا وہ شخص بالکل اسلام سے واقف نہیں، نہ روزہ رمضان شریف نہ نماز کبھی ادا کرتا ہے، اب عمر دختر کی پندرہ سال ہے وہ پابند صوم وصلوٰۃ ہے اور کلام مجید اور دو چار کتاب مسائل کی جانتی ہے وہ اس کے یہاں رہنا نہیں چاہتی ، اور ولی اصلی زندہ ہے اس نے اجازت نکاح نہیں دی، یہ نکاح عندالشرع درست ہے یا نہیں؟
الجواب: اتنے گول سوال کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا ، نکاح بکر وہندہ نے کیا، اس وقت لڑکی کی عمر نو برس کی تھی۔
معلوم ہونا چاہئے کہ بالغہ تھی یا نابالغہ، نو برس کی لڑکی بھی بالغہ ہوسکتی ہے، اس نکاح کی خبر زید کو کب پہنچی، اور اس نے اس وقت یا اس کے بعد کیا کہا، وہ لفظ لکھے جائیں، رخصت کس کے اختیار سے ہوئی، شوہر کے یہاں سے باپ کے یہاں بھی آنا جانا رہا یانہیں۔ لڑکی اگر اس وقت نابالغہ تھی تو کب بالغہ ہوئی، اس کو کتنا زمانہ گزرا پھر وہ جو شوہر کے یہاں نہیں رہنا چاہتی یہ کتنے زمانہ سے ہے، او ریہ کراہت صرف قلب سے ہے یا زبان سے بھی کچھ کہا، کہا تو کیالفظ کہے اورکب کہے، شوہر سے اس کے کوئی اولاد بھی ہوئی یا نہیں، ان سب باتوں کا مفصل جواب لکھنے پر حکم لکھا جاسکتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter