| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۳۶۷: مسئولہ محمد صبور صاحب ولد منشی محمد ظہور صاحب مرحوم مغفور ساکن بریلی محلہ پل قاضی ۱۲صفر ۱۳۲۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت بیوہ نے ایسے رنڈوے شخص کے ساتھ نکاح کیا کہ جس کے دولڑکے زوجہ اولٰی سے تھے اب زن وشو سے ایک دختر پیدا ہوئی بعدہ اس شوہر ثانی کا انتقال ہوگیا،ازاں بعد اس بیوہ عورت نے پھر اپنا نکاح کرلیا اب وہ لڑکی جو شوہر ثانی سے پیدا ہوئی تھی نابالغ ہے کہ جس کانکاح اس عورت اورحال کے تیسرے شوہر نے ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ بموجودگی اس کے والدین کے کردیا جس کے اندر ابتداء قرارداد ونسبت میں قبل از نکاح دوسرے شوہر کے دونوں لڑکوں کا بھی مشورہ رضامندی تھا لیکن وقت نکاح کے یہ دونوں لڑکے موجود نہ تھے اب یہ دونوں لڑکے اس نکاح سے نارضامند ہیں۔آیا یہ نکاح جائز طریقہ سے ہوا یا ناجائز طورپر؟ اور اب قابل رہنے کے ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:شوہر دوم یعنی پدر دختر کے دونوں لڑکے کہ زوجہ اولٰی سے ہیں اگر بالغ ہیں اس دختر کے ولی ہیں، اگر ان دونوں یا ان میں سے ایک نے پیش ازنکاح عورت کے شوہر سوم یا خود عورت کواس دختر کا نکاح اس نابالغ کے ساتھ کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ نابالغ اس دختر کا کفو تھایعنی نسب وغیرہ میں ایسا کم نہ تھا جس کے سبب اس سے نکاح اس دختر کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار ہو تو یہ نکاح صحیح وجائز ونافذ واقع ہوا اور بلا وجہ صحیح شرعی اب ان لڑکوں کی ناراضی معتبر نہیں۔
فان من سعی فی نقض ماتم من جھتہ فسعیہ مردود علیہ۔
جوا پنے تام کئے ہوئے معاملہ کو توڑنے کی کوشش کرے تو اس کی یہ کوشش مردود ہے۔ (ت)
ہاں دختر کو اختیار ہوگا کہ اگر پسند نہ کرے تو بالغہ ہوتے ہی معاً انکار کردے نکاح فسخ کرادیا جائے گا "لانہ غیراب وجد" (کیونکہ یہ غیر باپ دادا ہیں۔ ت) اور اگر لڑکوں نے ان کو نکاح کرنے کی اجازت نہ دی تھی اگرچہ وقت مشورہ اپنی رضامندی ظاہر کی تھی تویہ نکاح کہ دختر کی ماں اور اس کے شوہر سوم نے بے اجازت اولیاء کیا اجازت اولیا ء پر موقوف رہا ان لڑکوں نے خبر نکاح سن کر اگر کوئی کلمہ رضا کہہ دیا یاکوئی فعل کہ رضاپر دال ہوکیا تونکاح نافذ ہوگیا، اور اب ان کی نارضامندی بلاوجہ صحیح شرعی معتبر نہیں بلکہ وہی بحال بلوغ دختر کواختیار انکار تو دعوی فسخ ہوگا اور اگر کوئی قول وفعل رضاکا بعد نکاح ان سے صادر نہیں ہوا تھا کہ انھوں نے اسے رد کردیا تو نکاح رد ہوگیا اور اب یہ دختر اس سے محض اجنبیہ ہے اور اگر وہ لڑکا اس عورت کاکفو نہیں یعنی کوئی ایسی کمی رکھتا ہے جس سے اس کے ساتھ نکاح اولیائے دختر کے لئے باعث بدنامی ومطعونی ہو تو یہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں اگرچہ خود لڑکوں نے کیا ہوتا اگرچہ دختر بعد بلوغ اس پر راضی ہوتی۔
لانہ یفتی فی غیر الکفو بعدم الصحۃ اصلا لفساد الزمان ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ زمانہ کے فساد کی وجہ سے غیر باپ دادا کادیا ہوا نکاح غیر کفو اور غیر مہر مثل میں بالکل صحیح نہ ہوگا، اسی پر فتوی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
( ۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۱)
مسئلہ ۳۶۸: ازبدایوں براہم پور مرسلہ عظیم اللہ خاں صاحب ۲۲ جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید پدر ہندہ نابالغہ کو بکر نے ازراہ فریب یہ یقین دلایا کہ خالد اس کا ہم قوم اور شریف الخاندان ہے اور اس طرح زیدکواس امر کی ترغیب دی کہ وہ اپنی نابالغہ دختر ہندہ کا نکاح نابالغ سے کرے، چنانچہ خالد کے ساتھ زید نے اپنی دختر نابالغہ کا عقدکرادیا ،ہندہ بعد عقد خالد کے ماموں زاد ہمشیر کے گھر جس کے زیر پرورش خالد بیان کیا گیا تھار ہی صغیرہ ہندہ کو اب علم اس بات کا ہوا کہ خالد اس کا ہم قوم وکفو نہیں ہے بلکہ ولدالحرام وذلیل قوم ہے تو ہندہ نے خالد کو اپنا شوہر نہیں جانا اور نہ اس کے پاس آئی گئی اور معاہدہ نکاح جو مرتب ہواتھا بوقت بلوغ فسخ کردیا، یہ انفساخ مطابق شرع محمدی ہوسکتاہے یا نہیں؟
الجواب: ہاں صورت مستفسرہ میں نکاح فسخ کیا جائے گا یعنی ہندہ کو اختیار دعوی اور بعد دعوی حکماً فسخ ہوگا قاضیخاں و فتح القدیر وبزازیہ وردالمحتار وغیرہ میں ہے:
زوج بنتہ من رجل ظنہ مصلحا لایشرب مسکرافاذا ھو مدمن فقالت بعد الکبر لاارضی بالنکاح ان لم یکن ابوھا یشرب المسکر ولاعرف بہ وغلبۃ اھل بیتھا مصلحون فالنکاح باطل بالاتفاق ۱؎ اھ۔
کسی شخص نے اپنی بیٹی کا نکاح ایسے شخص سے کردیا جس کے متعلق باپ کو گمان تھاکہ صالح ہے اور شراب نہیں پیتا تو بعد کو معلوم ہوا کہ وہ شراب کاعادی ہے بیٹی نے بلوغ پر باپ کے کئے ہوئے نکاح کے بارے میں کہا کہ میں راضی نہیں ہوں تو اگر باپ شرابی نہیں اور لڑکی کاخاندان غالب طورپر صالح لوگ ہیں تو بالاتفاق یہ نکاح باطل ہے اھ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۲۱) (فتاوی قاضی خاں فصل فی الکفاءۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۱۶۲) (فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/۱۹۵)
ردالمحتار میں ہے:
معناہ انہ سیبطل کما فی الذخیرۃ لان المسألۃ مفروضۃ فیما اذالم ترض البنت بعد ماکبرت کما صرح بہ فی الخانیہ والذخیرۃ وغیرھما وعلیہ یحمل مافی القنیۃ زوج بنتہ الصغیرۃ من رجل ظنہ حرالاصل وکان معتقافھو باطل بالاتفاق اھ وعلم من عبارۃ القنیۃ بسبب الفسق انہ لافرق فی عدم الکفاءۃ بسبب الفسق اوغیرہ حتی لوزوجھا من فقیر اوذی حرفۃ ولم یکن کفوالھا لم یصح افادہ فی البحر ۲؎۔
اس کا معنی یہ ہے کہ وہ باطل کیا جاسکتاہے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے، کیونکہ مسئلہ کی صورت اس مفروضہ پرہے کہ لڑکی نے بالغ ہونے کے بعد عدم رضا کا اظہار کیا ہو جیساکہ ذخیرہ اور خانیہ وغیرہما میں اس کی تصریح کی ہے، اور قنیہ کے اس مسئلہ کو کسی نے اپنی نابالغہ لڑکی کا نکاح ایسے شخص سے کردیا جس کے بارے میں اسے گمان تھاکہ یہ اصلی آزاد ہے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کسی کا آزاد کردہ ہے تو یہ نکاح بالاتفاق باطل ہے بھی اسی پر محمول کیا جائے گا اھ اور قنیہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر کفو فسق یا کسی اور وجہ سے ہو دونوں میں فرق نہیں۔ حتی کہ کسی نے نابالغہ کا نکاح فقیر یا کسی کسبی سے کردیا اور یہ کفو نہ تھا، تو بھی نکاح صحیح نہ ہوگا۔ اس کا افادہ بحر میں ہے۔ (ت)(۲؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۰۵)
درمختار میں ہے:الفرقۃ ان من قبلھا ففسخ وان من قبلہ فطلاق وشرط للکل القضاء الاثمانیۃ ۳؎. اگر لڑکی کی طرف سے تفریق کی وجہ ہے تو فسخ ہوگا، اورا گر خاوند کی طرف سے ہو تو وہ طلاق ہے اور ہر صورت میں قضا شرط ہے ماسوائے آٹھ صورتوں کے۔ (ت)
(۳؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۳)
خانیہ میں ہے:
لایکون الفسخ لعدم الکفاءۃ الاعند القاضی لانہ مجتھد فیہ ۱؎ اھ۔
کفونہ ہونے کی بناپر فسخ صرف قاضی کے ہاں ہی ہوسکتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ اجتہادی ہے۔ اھ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ فتاوی قاضی خاں فصل فی الکفاءۃ نولکشور لکھنؤ ۱/۱۶۲)