Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
190 - 1581
مسئلہ ۳۵۸: مرسلہ حاجی احمد اللہ خان صاحب مرحوم از پیلی بھیت ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۲۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایک عورت ہندہ جس کی عمر ۱۳ برس کی تھی باپ اس کا فوت ہوگیا اب ہندہ  کے نکاح کی اجازت اس کی ماں نے ہندہ کی سوتیلی بہن جس کی عمر تخمیناً قریب چالیس کے ہوگی ا س بہن نے ہندہ کو بچپن سے مثل اولاد کے پالا تھا اجازت دی تھی بلکہ ہندہ نے خود ہی اقرار کیا تھا ہندہ کی بہن نے سوتیلی بہن سے یہ کہلا بھیجا تھا کہ تم کو اختیار ہے جہاں چاہو اس کا نکاح کردو ہندہ کی بڑی بہن اور بہنوئی نے اپنے کفو میں ایک شریف خاندان کے لڑکے کے ساتھ بلکہ رشتہ داری میں نکاح کردیا اب بعد دو برس کے کچھ جھگڑا عورات میں باہم کسی بات پر ہوا یعنی ہندہ کی ساس اور ہندہ کی بڑی بہن میں، اس پر مسماۃ ہندہ کی ماں اور بہن دونوں اب یہ کہتی ہیں کہ ہندہ کا نکاح اس وجہ سے کہ اس عمر تک بالغ نہیں ہوئی تھی وقت نکاح کے ہندہ کے چچا اور بھائی نہیں موجود تھے مگر ان کو علم تھا اور ہندہ کی ماں اور بہن میں ایک مدت سے رنج تھا آمد ورفت نہیں تھی جس پر ہندہ کی ہمشیرہ نے اس کی والدہ سے اجازت چاہی تھی قبل از مہینہ بیس روز آگے دونوں میں صلح ہوگئی اور والدہ کی لڑکی کو دو چار روز آگے اپنے مکان میں لے گئی تھی جب تاریخ نکاح قریب آئی توپھر ہندہ کو اس کی بڑی بہن جس نے کہ اس کوپالا تھا اس کے مکان پر بھیج دیا واسطے نکاح کے، اب ہندہ کی والدہ اپنے مکان پر ہندہ کو لے گئی بڑی بہن کے مکان سے بخوشی۔ ہندہ کی بڑی بہن کے خاوند اب ہندہ کے بہنوئی ہندہ کے نکاح میں گواہ تھے، اور بہنوئی کے بڑے بھائی وکیل نکاح کے تھے، نکاح خواں نابینا تھے، توایسی صورت میں نکاح ہندہ صحیح قرار پائے گا یا باطل ؟ بینوا تو جروا
الجواب:اگرہندہ وقت نکاح فی الواقع نابالغہ تھی اوراس کے نکاح کی اجازت اس کے جوان بھائی نے نہ دی تھی تو جو نکاح بڑی بہن نے ماں کی اجازت سے کیا بھائی کی اجازت پر موقوف رہا، اگر بھائی نے نکاح کی اطلاع پاکر انکار کردیا تو وہ نکاح باطل ہوگیا اور اگر پسند کیا اجازت دی تو نافذہوگیا، اور اگرہنوز کچھ نہ کہا اور ہندہ اب بھی نابالغہ ہے توا ب بھی بھائی کی اجازت پر موقوف ہے اگرجائز کردے گا تو جائز ہوجائیگا رد کردے گا تو باطل ہوجائے گا۔ اور اگر ہندہ کے بالغہ ہونے تک بھائی نے  نہ رد کیا نہ اجازت دی اور اب ہندہ بالغ ہوگئی یعنی اس کی عمر پورے پندرہ سال کی ہوگئی یا اسے حیض آنے لگا تو اب وہ نکاح خود ہندہ کی اجازت پر موقوف ہے اگر جائز کردے گی جائزہوجائے گا اور اگر رد کردے گی باطل ہوجائے گا، اور اگر نکاح بھائی کی اجازت سے ہوا تھا یا بعد نکاح بھائی نے قبل بلوغ ہندہ اجازت دے دی تو نکاح نافذہوگیا مگر ہندہ کو خیار بلوغ ملے گا یعنی بالغہ ہوتے ہی فوراً فوراً اگر اس نکاح سے اس نے انکار کردیا ایک لفظ کی دیر نہ لگائی تو دعوی کرکے اس کو فسخ کراسکتی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۵۹ تا ۳۶۶: مرسلہ حکیم محمد علی حسین خان صاحب جاگیر دار ریاست گوالیار صدر لشکر نیابازار ۱۸ ذی القعدہ ۱۳۲۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین سوالات مندرجہ ذیل کی نسبت:

(۱) لڑکی کے والد نے مظہر کو دہلی سے واسطے عقد لڑکی اپنی کے بہ مقام بھوپال طلب کیا او ربعد پہنچنے برات کے سرکار عالیہ میں ایک درخواست تحریر کرکے پیش کی کہ میں نے لڑکے کو بلایا ہے سرکار عالیہ خداوندی فرماکر اس کار خیر کو اپنے روبکاری سے اہتمام فرمائیں، میں نے تاریخ عقد ۴ رمضان المبارک ۱۳۲۷ھ یوم دوشنبہ مقرر کردی ہے

(۲) سرکار عالیہ نے یہ درخواست منظور فرماکر جملہ انتظامات ضرورری کیا تب حکم نافذ فرمادیا اور صاحبزادگان دام اقبالہ اور قاضی صاحب وغیر ہ کوبلاوا بھی پہنچ گیا۔

(۳)لڑکی اپنے ماموں کے یہاں تھی، لڑکے کے والد عقد کے دن لڑکی کو لانے کی غرض سے ماموں کے مکان پرگئے، ماموں نے عین وقت پر بھیجنے لڑکی سے قطعی انکار کیا، بیچارے شریف باپ نے اس غیرت کی وجہ سے زہر کھاکر اپنی جان کوہلاک کیا۔

(۴) باپ ولی جائزکی اجازت تحریری بعد فوتی اس کے یہ عقد کیا تب کچھ وقعت اور اثر رکھتی ہے یا نہیں؟

(۵) اب ماموں لڑکی کا بوجہ نفسانیت مظہر کے ساتھ عقد کرنے سے انکاری ہے اور اسی کے قبضہ میں لڑکی ہے۔

(۶) لڑکی کا سن گیارہ سال کچھ ماہ کا ہے۔

(۷) ورثاء میں لڑکی کے ایک چچا حقیقی اور ایک ماموں حقیقی، ایک بھائی حقیقی نابالغ اور والدہ ومطلقہ یہ شخص غیر کے نکاح میں ہیں۔

(۸) لڑکی کے چچا صاحب اس لڑکی کے مظہر سے عقد کرنے پر رضامند ہیں ان کی یعنی چچا صاحب موصوف کی محض اجازت سے عدم موجودگی اور بغیر اطلاع لڑکی کے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں یا کہ لڑکی کا موجود ہونا وقت نکاح لازمی ہے؟ فقط۔
الجواب: صورت مذکورہ میں جب تک لڑکی نابالغ ہے (یعنی) اسے حیض شروع نہ ہوایا پندرہ سال کا مل کی عمر نہ ہوئی اس وقت تک اس کا ولی نکاح اس کا چچا ہے اور لڑکی کے بلوغ سے پہلے اس کا بھائی بالغ ہوجائے تو ولایت چچا سے بھائی کی طرف منتقل ہوجائے گی بہر حال ماموں یا ماں کو اس کے نکاح کا کچھ اختیار نہیں،
تنویر الابصار میں ہے:
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالو لایۃ للام ثم للاخت ثم لولدالام ثم لذوی الارحام العمات ثم الاخوال ۱؎۔
نکاح کا ولی، وراثت اور مانع ہونے کی ترتیب کے مطابق عصبات بنفسہ ہوتے ہیں، اگر یہ نہ ہوں تو پھر ولایت ماں کو حاصل ہوگی، پھر بہن کو پھر والدہ کی طرف سے بھائی پھر ذوی الارحام میں پھوپھی پھر ماموں کو حاصل ہوتی ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۳)
دختر کی نابالغی میں چچا یا بالغ ہوکر بھائی ا گر اس کانکاح ایسے شخص سے کردے گا جو اس لڑکی کا کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا پیشہ یا چال چلن وغیرہ میں اتنا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ اس دختر کا نکاح باعث ننگ وعار ہو نہ دختر کے مہرمثل میں کمی فاحش کرے مثلا لاکھ روپیہ مہر مثل ہو یہ پچاس ہزار باندھ دیں، جب ان دونوں نقصانوں سے خالی ہو تو چچا یا بھائی کا وہ کیا ہوا نکاح نافذ ہوگا نہ لڑکی سے اذن لینے کی  ان کو حاجت نہ اطلاع دینے کی نہ وقت نکاح لڑکی کے وہاں موجود ہونے کی، یہ سب بے ضرورت امورہیں۔
درمختار میں ہے:
للولی انکاح الصغیر والصغیرۃ جبرا۱؎۔
باپ دادا کو نابالغہ پر جبری نکاح کی ولایت ہے۔ (ت)
 ( ۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
اسی میں ہے:
لوزوجھا الاقرب حیث ھو جاز النکاح ۲؎۔
اقرب جہاں بھی نکاح کرے جائز ہوگا۔ (ت)
(۲؎درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۴)
ماں یا ماموں کو اس نکاح پر اصلاً اعتراض نہیں پہنچ سکتا، ہاں لڑکی کہ دوشیزہ ہے اگر بالغہ ہوتے ہی معاً کہہ دے گی کہ میں اس نکاح سے راضی نہیں، یا اول سے اسے اطلاع نکاح نہ تھی تو بعد بلوغ جس وقت خبر پائی فوراً نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے تو اس صورت میں البتہ خود اس کو اختیار ہوگا کہ حاکم شرع کے حضور رجوع کرکے چچا یا بھائی کا کیاہوا نکاح فسخ کرالے ،
درمختارمیں ہے:
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ان کان من کفو وبمھر المثل صح ولھما ای لصغیر وصغیرۃ خیا ر الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکربالسکوت لو  عالمۃ بالنکاح ولایمتد الی اٰخر المجلس۳؎۔
اگر نکاح دینے والا باپ دادا نہ ہو تو کفواورمہر مثل کی صورت میں نکاح صحیح ہے لیکن نابالغ اور نابالغہ کو بلوغ پر یا بلوغ کے بعد علم ہونے پر بشرط قضاء فسخ کا اختیار ہوگا، اور بالغہ باکرہ کا اختیار اس کو علم ہوجانے پر سکوت کی وجہ سے باطل ہوجائے گا، اور مجلس کے اختتام تک یہ اختیار باقی نہ رہے گا، (ت)
 (۳؎درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۹۳۔ ۱۹۲)
ہاں چچا یا بھائی جس سے نکاح کردیں اگر وہ بمعنی مذکور دختر کا کفو نہ ہو اگرچہ ہم قوم ہو یا مہر مثل میں کمی فاحش کریں تو سرے سے نکاح ہوگا ہی نہیں۔
درمختار میں ہے:
ان کان المزوج غیرھما لایصح النکاح من غیرکفو، او بغبن فاحش اصلا۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر غیر باپ دادا نے نابالغہ کا نکاح غیر کفو میں یا انتہائی کم مہر سے دیا تو بالکل جائز نہ ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ درمختار     باب الولی    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
باپ کی اجازت تحریری کی عبارت محتاج نظرہے، دیکھا جائے گا اور اب اس کا کیا اثر ہے اور اس کی چنداں حاجت بھی نہیں کہ ولی شرعی موجود ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter