Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
189 - 1581
مسئلہ ۳۵۶: مسئولہ شاہ معین احمد صاحب از ڈاک خانہ نگر اسٹیشن فتوحہ ضلع پٹنہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زینب کی کل ایک اولاد ہے یعنی ہندہ دختر بالغہ ہے ہندہ کے باپ نے قضا کیا، زید ہندہ کا بھائی ہے، زینب ہندہ کی ماں ، اور زید برادر علاتی نے ہندہ کی نسبت خالد بن بکر ساکن فلاں جگہ سے مقرر وپختہ پزکیا، اس کی خبر ہندہ کو بخوبی ہوگئی اس طرح سے کہ ہندہ اسی مکان میں رہتی تھی اور اس کے سامنے نسبت کی گفتگو ہوئی اور اس پر ثابت ہوگیا کہ میری نسبت فلاں جگہ فلاں شخص سے ہے گو اس سے خاص کر کسی نے نہ کہا اور پوچھا نہیں اس کے بعد رقعہ تقرری تاریخ آمد برات کا خالد بن بکر کے یہاں سے آیا اس کی اطلاع بھی ہندہ کوہوئی چنانچہ اس روز وہ سنواری بھی گئی اور جومراسم کہ قبل نکاح اس طرف رائج ہیں مثلا مانجہ وغیرہ میں بیٹھنا اس سب کو اس نے انجام دیااور کسی طرح کی نارضامندی نہیں ظاہر کیا یہاں تک کہ تاریخ مقررہ پر برات آئی اوراحباب واقر با اندر باہر جمع ہوئے، اس کی اطلاع بھی ہندہ کو ہوئی اس وقت بھی ہندہ نے کسی طرح نارضامندی ظاہر نہیں کی ، زید اور برادر علاتی نے چند شخصوں کے سامنے عمرو کو وکیل بالنکاح مقرر کیا اور عمرو نے جہاں برات کا قیام تھا وہاں جاکر سب لوگوں کے سامنے خالد بن بکر سے ہندہ کا نکاح مہر مثل پر کرادیا مگر اس کی اطلاع ہندہ کو عمرو وکیل نے یازید برادر علاتی نے نہیں دیا بلکہ عورتوں میں کہہ دیا گیا کہ نکاح ہوگیا ____ اور یہ بات مشتہر ہوگئی کہ نکاح ہوگیا، اس کے بعد جو جومراسم شادی اس طرف رائج ہیں ان سب کو ہندہ نے بخوبی ادا کیا اور کسی طرح کی ناراضامندی نہیں ظاہرکیا یہاں تک کہ رخصتی بھی ہوئی او رنوبت استراحت کی بھی آئی ان تمام متذکرہ بالا زمانہ میں کبھی ہندہ نے اپنی نارضامندی ظاہر نہیں کی اور نہ اس وقت تک کسی طرح کی نارضامندی ظاہر کرتی ہے تویہ نکاح صحیح ہوا یا کسی طرح کا شبہہ یا نقص رہ گیا، یہ شبہہ صرف اس وجہ سے  پید ا ہے کہ ہندہ بکر بالغہ تھی اس سے قبل نکاح زید برادر علاتی یا کسی شخص نے صراحۃً استمزاج نہیں لیا اورنہ بعد نکاح صراحۃً اس کو خبر دیا، گو اس کو خارجی طریقہ سے سب باتیں معلوم تھیں او ر معلوم ہوئی اور نہ اس وقت تک اپنی رضامندی ظاہر کرتی ہےبلکہ ظاہراً خوش معلوم ہوتی ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب: ا س صورت میں یہ نکاح فضولی تھا اگر خبر نکاح سن کر ہندہ نے کوئی قول یا فعل اظہار ناراضی کا نہ کیا بلکہ عادل ثقہ سے نکاح کی خبر سن کر خاموش ہی ہورہی یا خبر کسی عادل سے نہ سنی نہ ولی نے اسے اطلاع کرابھیجی تو ساکت رہی یہاں تک کہ شوہر سے برضا ہم خواب ہوئی تو نکاح نافذ وتام ہوگیا۔
فی الھندیۃ اذا مکنت الزوج من نفسھا بعد مازوجھا الولی فہورضا ۱؎ وفی الدرالمختار زوجھا ولیھا واخبرھا رسولہ اوفضولی عدل فسکتت فھواذن ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں ہے کہ جب بالغہ نے خاوند کو جماع کا موقعہ دے دیا تو یہ ولی کے نکاح پر اس کی رضامندی ہوگی، درمختار میں ہے کہ اگر ولی نے نکاح دیا تو ولی کے قاصد نے یا کسی عادل اجنبی نے بالغہ کو اطلاع دی اور وہ اس پر خاموش رہی تو یہ رضامندی ہوگی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    الباب الرابع فی الاولیاء    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۸۷)

(۲؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)
مسئلہ ۳۵۷: از صاحب گنج گیا مرسلہ مولوی امیرالدین صاحب ۴ شعبان ۱۳۲۴ھ

علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید اور اس کی زوجہ ہندہ میں جنگ باغوائے مفسدان بدکاران پیدا ہوا، اور ہندہ کے بطن سے ایک لڑکی زید کی جس کا نام سعیدہ تھا اور عمر گیارہ برس گیارہ مہینے کی تھی بکر نے اپنے لڑکے خالد کی منسوب سعیدہ سے چاہا زید کو منظور نہ ہوا تب بکر نے ہندہ زوجہ کو برہم کرایا اور ہندہ نے اس قدر فساد مچایا کہ زید کو مجبوری ہوئی بمجبوری وتاکید وبخوف حکام ضلع بخیال اس کے کہ رفع جملہ فساد وقصہ ہوجائے گا اور یہ ثابت بھی کیا گیا تھا کہ اگر یہ عقد ہوگا تو قصہ سب دفع ہوگا صلح سے زمانہ گزرے گا اس منسوب کو منظور کیا اور سعیدہ نے اپنی لڑکی کا نکاح خالد سے بلااذن کردیا لیکن خالد و سعیدہ سے آج تک ملاقات نہ ہوئی اور نہ سعیدہ سے کسی قسم کی رضامندی لی گئی نہ سعیدہ کو سمجھا یا گیا کہ کیا ہوتاہے اور بعد نکاح کے خالد لندن چلا گیا اور بحیلہ تحصیل انگریزی وہاں فسق وفجور ولہو ولعب میں مبتلا ہوا چھ برس ہوا کہ خالد لندن میں ہے نہ پڑھتا ہے نہ آتاہے اورنہ کسی قسم کی خبر گیری یا پرسش سعیدہ کی کرتاہے زید نے بکر کو وخالد کو یعنی دونوں پدر وپسر کو لکھا کہ شادی کرلی جائے او رخالد آئے اور اپنی منکوحہ کو لے جائے، مگر نہ خالد آتا ہے نہ کسی قسم کی کفالت خرچہ کی سعیدہ کی خالد یا بکر اس کے باپ کی طرف سے ہوتی ہے اور بلکہ زید سےخرچہ لندن کے قیام کا طلب کیا جاتاہے ان حالتوں سے فسخ ہوگایا نہیں؟ اور سعیدہ مجاز ہے کہ اپنے باپ کے نکاح کو جو بخوشی نہیں بلکہ محض بمجبوری وبخوف حکام وقت وتوقع رفع خر خشہ کیا تھا اور رفع بھی نہ ہوا بلکہ بعد از بسیاری جنگ کے خلع وجدائی درمیان زید وہندہ کے ہوگئی تو ایسے نکاح کو سعیدہ توڑسکتی ہے یا نہیں او رخالد کا کب تک انتظار کیا جائے گا، نہ وہ آتا ہے اور نہ کسی قسم کی خبرگیری اخراجات کی بھی سعیدہ کی کرتاہے بدستور سعیدہ اپنے باپ کے گھر ماں سے بھی جدا پڑی ہے اور زید کو یہ بھی خیال ہے کہ خالد ہرگز نہیں آئے گا او رآئے گا تو بوجہ طرز معاشرت بدل جانے وصحبت غیر مذاہب کے حقوق کی تعمیل پوری پوری خالد سے ادا نہ ہوگی، ایسی حالت میں شریعت کیونکر سعیدہ کو مجبور کرے گی اور باپ کے ایک لغو ومجبوری سے عمل کے باعث وہ غریب بدقسمت سعیدہ پریشانی میں مبتلا رہے گی،
الجواب: باہمی جھگڑے قصے نہ حد اکراہ تک پہنچتے ہیں نہ نکاح میں اکراہ کو دخل ہے اگر ولی کسی کے جبر واکراہ ہی سے نکاح کردے نکاح ہوجائے گا
فی الھندیۃ من الاکراہ زوجھا اولیاؤھا مکرھین فالنکاح جائز ۱؎۔
ہندیہ میں ہے کہ اگر اولیاء نے کسی جبر کی بناپر نابالغہ کا نکاح دیا تو نکاح جائز ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ فتاٰی ہندیہ        کتاب الاکراہ    باب الثانی فیما یحل للمکرہ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/۴۵)
نہ نا بالغہ سے اجازت لینے کی حاجت نہ باپ کے کئے ہوئے نکاح پر عورت کا بعد بلوغ حق اعتراض، مگر اس حالت میں کہ شوہر وقت نکاح کفو نہ تھا اور باپ اس سے پہلے بھی کبھی اپنی ولایت سے کسی لڑکی کا نکاح غیر کفو سے کرچکا ہو، غیر کفو وہ جس سے نکاح ہونا عرفاً اولیائے ہندہ کے لئے وجہ ننگ وعار ہو کہ وہ نسب یا پیشے یا مذہب یا چال چلن میں رذیل وذلیل وبدنام ہو، یہاں جب یہ صورتیں نہیں نکاح بے شک نافذ وتام ولازم ہوگیا جو کسی کے رد کئے رد نہیں ہوسکتا، یہ اس حالت میں ہے کہ سعیدہ وقت نکاح نابالغہ ہو جیسا کہ بظاہر اس کی عمر مذکور سے مترشح ہوتاہے کہ ہندوستان میں اس عمر پر بلوغ نادرہے اگر نابالغہ تھی کہ لڑکی نو برس کی عمر میں بالغہ ہو سکتی ہے تو وہ نکاح کہ باپ نے اس کے لئے بے اذن کیا نکاح فضولی تھا اسے خبر پہنچنے پر اختیار تھا کہ رد کردیتی مگر یہ رد اسی جلسہ خبر میں ہو سکتا تھا اگر جلسہ بدل کر ردکرے تو مقبول نہ ہوگا۔ اور تقریر سوال سے سعیدہ کا رد کرنا اصلا ظاہر نہیں بلکہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ساکت رہی اور بکر کا سکوت بھی اذن ہے تو نکاح یوں بھی لازم ہوگیا جس کے رد کی طر ف سبیل نہیں مگر صورت مذکو ر میں عورت کاضرر صریح ہے، اور اللہ عزوجل فرماتا ہے:
فامسکوھن بمعروف اوسرحوھن بمعروف ۱؎۔
عورتوں کو یا تو اچھی طرح رکھو یا اچھی طرح چھوڑ دو۔
 (۱؎ القرآن الکریم      ۴/۲۳۱)
اور فرماتا ہے :
وعاشرو ھن بالمعروف ۲؎
(عورتوں سے اچھا برتاؤ کرو۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم     ۴/۱۹)
اور فرماتا ہے:
اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم ولاتضاروھن لتضیقوا علیھن ۳؎۔
جہاں آپ رہو وہاں عورتوں کو رکھو اپنے مقدور کے قابل اور انھیں نقصان نہ پہنچاؤ کہ ان پر تنگی لاؤ۔
 (۳؎ القرآن الکریم     ۶۵/۶)
اور فرماتاہے:
فلاتمیلو ا کل المیل فتذورھا کالمعلقۃ ۴؎۔
پورے ایک طرف نہ جھک جاؤ کہ عورت کو یوں چھوڑو جیسے ادھر میں لٹکتی۔
 (۴؎ القرآن الکریم      ۴/۱۲۹)
اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لاضرر ولاضرار فی الاسلام ۵؎۔
دین اسلام میں نہ ضرر ہے نہ مضرت پہنچانا۔
 (۵؎ المعجم الکبیر        حدیث ۵۱۸۹    مکتبۃ المعارف الریاض    ۶/۹۱)
لہذا حاکم پرواجب ہے کہ خالد پر جبرکرے کہ یا تو ہندہ کو رخصت کرائے یا طلاق دے،ا ور اگر وہاں کی صحبت سے خالد کا دین فاسدہوگیا کہ نیچریوں کی طرح ضروریات دین پر ہنسنے لگا توآپ ہی نکاح جاتا رہے گا والعیاذ باللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter