Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
188 - 1581
مسئلہ ۳۵۳: ۲۲ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بیوہ نے اپنا عقد ایک شریف اپنےخاندانی سے کرلیا ا س پر عمر وبکر وخالد نے اسے اور اس کی ماں اور شوہر کو برادری سے نکال دیا اور ایذادی ، اس میں کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: اگر ہندہ نے عقد ثانی بعد عدت گزرنے کے کیااور شوہر دوم بد مذہب نہیں جس سے نکاح باطل یا گناہ ہو اور ہندہ اگر کوئی عصبہ اپنا ولی رکھتی ہے تو شوہر دوم اس کا کفو ہوگا یاا گر کفو نہیں اور ولی نے دیدہ ودانستہ پیش از نکاح صریح اجازت دے دی ہو تو ان صورتوں میں ہندہ اور اس کی ماں اور شوہر پر کچھ الزام نہیں خالد وعمر وبکر صرف بوجہ نکاح ثانی انھیں ایذا دیتے ہیں ظالم وگنہگار اور حق العبد میں گرفتار ہیں ان پر توبہ فرض ہے، اگر نہ کریں تو خود یہی لوگ برادری سے نکال دینے کے قابل ہیں جو لوگ ان خالد وعمر وبکر کا ساتھ دیں گے وہ بھی مستحق عذاب ہوں گے،
 اللہ تعالٰی فرماتا ہے:
ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان ۱؎۔
گناہ اور زیادتی میں باہم مدد نہ کرو۔
 (۱؎ القرآن الکریم       ۵/۲)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اٰذی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اذی اﷲ ۲؎۔
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ستایا اس نے مجھے ایذا دی ا ور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ تعالی کو ایذا دی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ کنزالعمال         بحوالہ طب عن انس حدیث ۴۳۷۰۳    موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۱۶/۱۰)

(الترغیب والترھیب    الترھیب من تخطی الرقاب یوم الجمعہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۵۰۴)
مسئلہ ۳۵۴: ۲۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک لڑکی دس برس کی ہے، ماں نانی چچا میں سے کس کو اس کے نکاح کا اختیار ہے؟ اور دختر کا ایک بھائی بھی دوازدہ سالہ ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب:چچا کو ہے اگر بھائی نابالغ ہو ورنہ بھائی کو ، بار ہ برس کی عمر میں بلوغ ممکن ہے اگر وہ دعوٰی بلوغ کرے مانا جائے گا کما فی الدرالمختار (جیسا کہ درمختار میں ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۵: مسئولہ کرم الدین صاحب ساکن جلالپور جٹاں محلہ ساہدوان ضلع گجرات ملک پنجاب

کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین وفضلائے اسلام مبین اس صورت میں کہ خالد نے اپنی لڑکی نابالغہ جس کی عمر اندازی دس یاگیارہ برس کی تھی رحیم بخش بالغ کے ساتھ نکاح پڑھادیا اب بوجہ کوئی فساد کے دختر بالغہ مذکور چاہتی ہے کہ نکاح فسخ ہوجائے آیا شرعاً ممکن ہے کہ عقد مذکور باختیار دختر موصوفہ فسخ ہوجائے۔ بینوا تو جروا
الجواب: باپ دادا جو نکاح نابالغہ کا کردیں وہ لازم ہوجاتاہے۔ لڑکی بعد بلوغ کے خواہ کوئی اور اسے فسخ نہیں کرسکتا، مگر صرف دو تین صورتیں ہیں کہ جس کی اس وقت تفصیل کی حاجت نہیں ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل (جو اپنے زمانے کے عرف سے ناواقف ہے وہ جاہل ہے۔ ت) مستفتی صاحب کو چاہئے کہ مفصل کیفیت سے مطلع کریں کہ وہ کیا فساد ہے جس کے سبب اب عورت فسخ چاہتی ہے اور اس فساد پرکب اطلاع ہوئی؟ اورباپ بھی وقت نکاح اس پر مطلع تھا یا نہیں؟ وہ فساد بعد نکاح حادث ہوا یا پہلے سے تھا؟ غرض سب حال، بتفصیل تام بیان کیا جائے تو جواب دیا جائے ،
درمختار میں ہے:
لزم النکاح ولوبغبن اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج بنفسہ ابااوجدا ۱؎ الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
نکاح لازم ہوجائے گا جب نکاح دینے والا خود باپ یادادا ہواگرچہ انتہائی کم مہر سے یا غیر کفو میں ہو، الخ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 ( ۱؎ درمختار    باب الولی    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
Flag Counter