| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۳۵۰: از ستار گنج ۲۶ ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اپنی دختر کی منگنی کرکے زوجہ اور دختر چھوڑ کر فوت ہوا، ایک دن والدہ کی غیبت میں اس لڑکی بالغہ کو چند شخصوں نے زبردستی ایک گھر میں کردیا، والدہ نے کچہری میں دعوٰی کیا، ادھر کا جواب یہ ہے کہ متوفی کا ایک بھائی جودوسرے باپ سے تھا اس نے بلااجازت دختر ووالدہ دختر کے نکاح کردیا، پس اس صورت میں ولایت نکاح ماں کو ہے یا نہیں اور کس کس رشتے دار کو ماں کے سامنے اجازت ولایت ہے، جس نے زبردستی اس لڑکی کو گھر میں رکھا ہے اس نے لڑکی کی والدہ کا دودھ پیاہے، بینوا تو جروا
الجواب:بالغہ پر ولایت جبریہ کسی کو نہیں، ولی نکاح ہر عصبہ ہے یعنی نزدیک یادور کے دادا پرداد کے اولاد میں جو مرد عاقل بالغ ہو رشتے میں سگا ہو یا سوتیلا مثلا عورت کے پردادا کے سوتیلے پردادا کی نسل میں پر پوتے کا پوتا، جب تک ان میں سے کوئی شخص عاقل بالغ موجود ہو ماں کو اصلا ولایت نہیں، اور بعد بلوغ تو ماں کو ولایت سے کوئی تعلق ہی نہیں خواہ عصبہ موجود ہو یا نہ ہو،
لان حق الاولیاء بعد ذٰلک انما ھو فی الاعتراض ان نکحت غیر کفو اوبغبن فاحش فی مھر المثل ۱؎ وابطال النکاح بغیر الکفو اذالم یرض الولی بہ قبل العقد صریحا مع العلم بعدم الکفائۃ وذٰلک انما ھو فی حق العصبۃ لاغیر ۲؎ کما نص علیہ فی الدر وغیرہ۔
کیونکہ اس کے بعد اولیاء کا حق اعتراض صر ف اس صور ت میں ہے جب لڑکی نے غیر کفو اور انتہائی کم مہر پر نکاح کیا ہو یا جب نکاح سے قبل ولی کو غیر کفو ہونے کا علم ہوا تو صراحتاً اس نے اپنی عدم رضا کا اظہار کردیا ہو تو اس کا نکاح باطل کرنے کا حق ہے، اورحق اعتراض بھی صرف اولیاء عصبہ کو حاصل ہے کسی دوسرے کونہیں، جیساکہ در وغیرہ میں اس پر تصریح ہے (ت)
(۱درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۹۲۔ ۱۹۱) (۲درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۹۲۔ ۱۹۱)
دودھ شریک بھائی سے نکاح نہ ہوسکنا خود ظاہر ہے مگر الزام اس حالت میں ہے جب انھیں دودھ شریک ہونامعلوم ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۱: از کانپور محلہ فراش خانہ عقب آبکاری سڑک جدید متصل کوڑہ گھر مکان حافظ زبیر حسن عطار مرسلہ سعید الحسن صاحب ۱۲ جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ کے ایک بیٹی مسماۃ رضیہ شوہر متوفی سے ہے، جب رضیہ کی عمر آٹھ برس دو مہینے کی تھی ہندہ نے رضیہ کا عقد بزمانہ نابالغی ساتھ خالد کے کردیا لیکن بوجہ نابالغی رضیہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رخصت ہوئی بدستور اپنی ماں کے ساتھ رہی، اب زمانہ عقد کو چار سال سے زیادہ عرصہ گزرا اور رضیہ بھی اب ہوشیار وبالغ ہوئی، اس درمیان خالد نے ایک دوسری عور ت کو رکھ لیا جس سے اطفال بھی پیدا ہوئے، خالد کی وضع اور اطوار وچال چلن ہندہ ورضیہ کو تمام تر ناگوار ہیں اور تعلق ہونا خالد سے نہیں چاہتی کمال درجہ نفرت وانکار رکھتی ہے اور خلع چاہتی ہے، بحکم شرع شریف مسماۃرضیہ کو کیا کرنا چاہئے جس سے اس کو خالد سے قطع تعلق ہوجائے اور عقد فضولی یہ عقد نابالغی کا قرار پائے گا یا نہیں؟ اور تعمیل حکم خلع کا کس طریقہ سے کیا جائے گااور مدت نابالغی ازروئے شرع شریف ہندوستان میں علی الخصوص ممالک مغرب شمال کے لئے کس سنہ وسال کی مقدار سے ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب: صورت مسئولہ میں اگر خالد رضیہ کا کفو نہیں یعنی مذہب یا نسب یاپیشے وغیرہ میں ایسا کم ہے کہ اس کے ساتھ رضیہ کا عقد ہونا اولیائے رضیہ کے لئے موجب ننگ وعار ہو جب تویہ نکاح سرے سے نہ ہوا، مگر یہ نکاح کرنے والا رضیہ کا داداہو جو اس سے پہلے اپنی ولایت سے کسی نابالغ کا نکاح غیر کفو سے نہ کرچکا ہو یہ نکاح ا س کے اذن سے ہوا یا بعد نکاح اس نے اپنی ولایت کی حالت میں نافذ کردیا جائزرکھا تو نکاح صحیح ولازم ہے کہ بعد بلوغ رضیہ کی ناراضی بھی اسے کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتی، اور اگر خالدرضیہ کا کفو بمعنی مذکور ہے مگر رضیہ کے لئے کوئی ولی عصبہ مثلا عاقل بالغ بھائی یا بھتیجا یا چچا یا چچا کا بیٹا غرض دادا کی اولاد سے کوئی مرد موجود تھا اور ماں نے بغیر اس کے اذن کے نکاح کردیا تو تین صورتیں ہیں اگر اس ولی نے نکاح کی اطلاع پاکر اپنی حالت ولایت میں رد کردیا تھا تو اس صور ت میں بھی وہ نکاح باطل ہوگیا کہ اب رضیہ کی رضابھی اسے نافذ نہیں کر سکتی اور اگر سن کر اب تک ساکت رہا نہ رد کیا نہ جائز رکھا تو وہ نکاح نکاح فضولی اور اجازت ولی پر موقوف تھا، جب رضیہ بالغ ہوئی وہ اجازت خو د اس کی طرف منتقل ہوآئی، اب اسے اختیارہے چاہے جائز کردے جائز ہوجائے گا چاہے رد کردے، مثلا کہہ دے میں نے اس نکاح کو رد کردیا میں اس نکاح پر راضی نہیں، یا مجھے یہ نکاح نا منظورہے، صر ف اتنے کہنے سے رد ہوجائے گا زیادہ کسی امر کی حاجت نہیں، اوریہ اختیار رضیہ کو ہمیشہ رہے گا جب تک نکاح کوجائز نہ کردے کہ اس کے بعد پھر اختیار رد نہیں ر ہتا اور اگر نکاح مذکور ولی غیر جد نے سن کر جائز کردیا یا ابتداءً نکاح ماں نے بے اذن ولی مذکور کیایا رضیہ کے لئے کوئی ولی عصبہ تھا ہی نہیں خود ماں ولی تھی جس نے نکاح کردیا ان سب صورتوں میں وہ نکاح صحیح ونافذ ہوگیا مگر از انجا کہ نکاح کنندہ غیر اب وجَد اوررضیہ دوشیزہ ہے اسے اتنا اختیار ملا کہ معاً بالغ ہوتے ہی فوراً فوراً اس نکاح کو فسخ چاہے توفسخ کردیا جائے گا اگر بعد بلوغ ذرادیر گزری اور اس نے فسخ کا ارادہ ظاہر نہ کیا تو نکاح تام ولازم ہوگیا کہ اب اس کی رضاو عدم رضا کچھ دخل نہ رہا، ا س صورت اخیرہ اور نیز ا س صورت سابقہ میں جبکہ نکاح دادا کے کردینے سے لازم ہوچکا ہو، رضیہ اگر جدائی چاہے تو اس کے ہاتھ کوئی ذریعہ سواخلع چاہنے کے نہیں بہ عوض مہر خواہ اور مال کے جس پر شوہر راضی ہو شوہر سے طلاق مانگے اگر وہ دے دے گا قطع تعلق ہوجائے گا ورنہ صبر لازم ہے،
فتح القدیر میں ہے:
الصبی اذاباع اواشتری اوتزوج یتوقف علی اجازۃ الولی فی حالۃ الصغر فلو بلغ قبل ان یجیزہ الولی فاجاز بنفسہ نفذ لانھا کانت متوقفۃ ولاتنفذ بمجرد بلوغہ ۱؎ اھ مختصرا وفی تنویر الابصار بطل خیار البکر بالسکوت عالمۃ بالنکاح ولایمتد الی المجلس وان جہلت بہ ۲؎ وباقی المسائل مشہورۃ وفی الکتب مذکورۃ۔
بچے نے جب خرید وفروخت یا نکاح کرلیا تو یہ امور ولی کی اجازت پر موقوف ہوں گے، اور اگر اس ولی نے بچے کے بلوغ سے قبل اجازت نہ دی ہو تولڑکا اپنے بلوغ کے بعد ان امور کو نافذ کرسکتاہے کیونکہ موقوف تھے اس لئے صرف لڑکے کے بلوغ سے نافذنہ ہوں گے اھ مختصرا۔ اور تنویر الابصار میں ہے باکرہ بالغہ اگر اپنے نکاح کا علم ہوجانے پر خاموش رہے تو ا سکا حق فسخ باطل ہوجاتاہے او رجس مجلس میں علم ہوا اس مجلس کے اختتام تک باقی نہ رہے گا اگرچہ وہ اس مسئلہ میں جاہل ہو،باقی مسائل مشہور اور کتب میں مذکور ہیں، (ت)
(۱؎ فتح القدیر فصل فی الوکالۃ بالنکاح مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/۱۹۸) (۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار با ب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۳)
نابالغی کی حد پندرہ سال کی عمر تک ہے، اس مدت سے پہلے اگر دختر کو نو بر س یاپسر کو بارہ برس کی عمر کے بعد آثار بلوغ مثل احتلام و حیض ظاہر ہوگئے تو اس وقت سے حکم بلوغ ہوجائے گا ورنہ پندرہ برس کی عمر پوری ہونے پرلڑکا لڑکی دونوں مطلقابالغ سمجھےجائیں گے اگرچہ کوئی علامت بلوغ ظاہر نہ ہو بہ یفتی کما فی الدرالمختار ۳؎ وغیرہ لقصر زماننا (اور اس پر فتوی ہے جیساکہ درمختار وغیرہ میں ہے کیونکہ ہمارے زمانے کی عمریں کم ہیں، ت)
(۳؎ درمختار کتاب الحج فصل فی البلوغ مطبع مجتبائی دہلی ۲/۱۹۹)
مسئلہ ۳۵۲: ا زاحمد آباد گجرات محلہ چکلہ کالوپور متصل پل گلیارہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب ۱۶ربیع الاول ۱۳۲۰ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی لڑکی کی منگنی کرنے کے لئے سفر سے دوسرے شخص پرلکھا کہ میری لڑکی کی منگنی فلاں لڑکے کے ہمراہ کرنا لڑکا لڑکی دونوں نابالغ ہیں یہاں اس شخص نے جس کوفقط منگنی کی اجازت دی گئی تھی خود ولی ہوکر بعد منگنی کے نکاح بھی کردیا اس کے والد کو خبر ہوئی کہ لڑکی کا نکاح جس کو منگنی کا اختیار دیا تھا کردیااس سے یہ شخص خوش ہوا اور اس کے پڑھائے ہوئے نکاح پر انکار نہ کیا، اب یہ نکاح عند الشرع منعقد ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: منگنی کی اجازت نکاح کی اجازت نہ تھی،
فان ھذا عقد وذاک وعد وقد یفعل الوعد لینتظر لخاطب ثم ینظر ویتأتی فیہ فان وافق اجیب والامنع فلایکون الرضا بالوعد رضا بالعقد وھذا ظاھر جدا۔
کیونکہ نکاح عقد ہے اور منگنی صرف وعدہ ہے جبکہ وعدہ کبھی اس لئے کرلیا جاتا تاکہ منگنی کرنے والے کا جائز ہ لیا جائے اور غور کیا جائے اور تاخیر کی جاتی ہے تاکہ وہ موافق ہو تو منگنی قبول کی جائے ورنہ انکار کیا جائے لہذا وعدہ پر رضا کو عقد نکاح پر رضا مندی نہیں قرار دیاجا سکتا، یہ معاملہ ظاہر ہے۔ (ت)
تویہ نکاح نکاح فضولی ہوا اور اجازت ولی پر موقوف رہا، بعد سماع خبر اگر ولی نے قولاً یا فعلاً اس کی تنفیذ ظاہر کی نافذ ہوگیا صرف دل میں خوش ہونا اور زبان سے انکار کافی نہیں لانہ سکوت والساکت لاینسب الیہ قول (کیونکہ یہ سکوت ہے اور ساکت کی طرف کوئی قول منسوب نہیں ہوسکتا۔ ت)
درمختارمیں ہے:قبض ولی لہ الاعتراض المھر ونحوہ مما یدل علی الرضی دلالۃ لاسکوتہ مالم تلد۱؎ اھ مختصرا۔ لڑکی کے ولی کو مہر پر اعتراض تھا اس کے باوجود اس نے مہر وصول کیا اور ایسا کام کیا جس کورضا پر دال قرار دیا جاسکتا ہے تو دلالۃً رضا ہوگی محض سکوت رضانہ قرار پائے گا جب تک لڑکی کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوجائے اھ مختصرا۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۱)
پس اگر واقع اسی قدر ہے تونکاح بدستور ا س کی اجازت پر موقوف ہے باطل کردے خواہ نافذ، واللہ تعالٰی اعلم۔