مسئلہ ۳۴۷: از عظیم آبادپٹنہ لودی کٹرہ مرسلہ جناب مولٰنا مولوی قاضی عبدالوحید صاحب رحمہ اللہ تعالٰی سلخ ربیع الآخر ۱۳۱۷ھ
عمرو نامی ایک شخص نے بوقت انتقال اپنے، ایک لڑکی ہندہ نامی، ایک بی بی زبیدہ ، ایک بھائی حقیقی خالد، ایک بھائی علاتی بکر چھوڑا، ہندہ ہمراہی اپنی مادر اور نانی کے پرورش پاتی رہی، اب وہ بالغ ہے سن اس کا زائد چودہ سال سے ہے، ہندہ کی ولایت کا سارٹیفیکیٹ گورنمنٹ سے ہندہ کی ماں کو ملاہے، اس وقت تک ہندہ نے مادر ونانی کے مکان میں ابتدائے پیدائش سے رہ کر پرورش وتعلیم پائی ہے، خالد نے یعنی چچا حقیقی ہندہ کے براہ چالاکی وبخیال نفع معاش بلاعلم ورضامندی ہندہ وچچا علاتی ومادر ونانی وغیرہ کے ایک شخص غیر کے مکان میں اپنے بیٹا سے بولایت اپنے ایک شخص کووکیل مقرر کرکے ہندہ کا عقد کردیا ہے اور کوئی خبر ہندہ کو نہیں دی گئی، جس وقت ہندہ کو افواہاً خبر نکاح کی پہنچی اس وقت اس نے نکاح کو نامنظور کیا اور بہت بیزار ہوئی، علماء بدلائل کتاب جواب سے سرفراز فرمائیں، فقط
الجواب: شرعاً عورت کے بالغہ ہونے کے لئے پندرہ سال کامل عمر ضرور ہے یااس سے پہلے حیض وغیرہ علامات کا ہونا بغیر اس کے صرف چودہ سال سے زیادہ عمر کا ہونا کافی نہیں۔ ہاں نو سال کے بعد سے پندرہ سال کے قبل تک جو عورت کے لئے امکان واحتمال بلوغ کی عمر ہے اگر عورت اپنا بالغہ ہونا ظاہر کرے تو بے حاجت شہادت بغیر قسم لئے اس کا قول مان لیا جائے گا جبکہ اس کے جسم وقوٰی کی حالت اس دعوی کی تکذیب نہ کرتی ہو، اور وہ بالغہ ہونے کی وجہ بھی بیان کردے، یعنی مثلا کہے مجھے حیض آیا، خواب میں احتلام ہوا اس سے میں نے اپنا بلوغ جانا۔ خالی دعوی بے بیان معنی بلوغ مقبول نہیں، اور اگر بدن وقوٰی کی حالت ظاہر وقابلیت بلوغ نہ بتاتی ہو تو اس کا دعوٰی اصلا مسموع نہ ہوگا جب تک دلیل شرعی سے بلوغ ثابت نہ ہو، یہی احکام بارہ سال کے بعد سے پندرہ سال کے قبل تک پسر کے لئے ہیں۔
فی الدرالمختار بلوغ الغلام بالاحتلام والاحبال والانزال والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل فان لم یوجد شیئ فحتی یتم لکل منھما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی وادنی مدتہ لہ اثنتا عشرۃ سنۃ ولھا تسع سنین ھو المختار فان بلغنا بلغا ھذا السن فقالابلغنا صدقا ان لم یکذبھما الظاھر وھوان یکون بحال یحتلم مثلہ والا لایقبل قولہ شرح وھبانیۃ وفی الشرنبلالیۃ یقبل مع تفسیر کل بماذا بلغ بلایمین ۱؎ اھ مختصرا،
درمختار میں ہے کہ لڑکے کا بلوغ احتلام، حاملہ کردینا اور انزال ہے، اورلڑکی کا بلوغ احتلام، حیض اور اس کا حاملہ ہونا ہے، اگر دونوں کے لئے مذکورہ علامات میں سے کوئی نہ پائی جائے تو بلوغ ہر ایک کی عمر کے پندرہ سال پورے ہونا ہے، اسی پر فتوی ہے، اورلڑکے کے بلوغ کے لئے کم از کم بارہ سال اورلڑکی کے لئے کم از کم نو سال کی عمر ہے، یہی مختارہے، اگریہ عمر پوری ہوجائے تو ان کا کہنا کہ ہم بالغ ہیں، تسلیم کیا جائے گا بشرطیکہ کوئی ظاہر امران کی بات کو نہ جھٹلائے ، مثلا یہ کہ ان جیسے عمروالوں کو احتلام ہوسکتا ہو، ورنہ ان کی بات قبول نہ کی جائے گی، شرح وہبانیہ وشرنبلالیہ میں ہے کہ ان کی بات بلوغ کی علامت کی وضاحت کرنے پر تسلیم کی جائے گی اور قسم نہ لی جائے گی اھ مختصرا،
(۱؎ درمختار کتاب الحجر فصل فی البلوغ مطبع مجتبائی دہلی ۲/۱۹۹ )
وفی ردالمحتار عن جامع الفصولین عن الفتاوی النسفی عن القاضی محمود السمر قندی ان مراھقا اقرفی مجلسہ ببلوغہ فقال بما ذابلغت قال باحتلام قال فماذا رأیت بعد ماانتبھت قال الماء، قال ای ماء فان الماء مختلف قال المنی قال ماالمنی قال ماء الرجل الذی یکون منہ الولد قال علی ماذا احتلمت علی ابن اوبنت اواتان قال علی ابن فقال القاضی لابد من الاستقصاء فقد یلقن الاقرار بالبلوغ کذبا قال شیخ الاسلام ھذا من باب الاحتلام وانما یقبل قول مع التفسیر وکذا جاریۃ اقرت یحیض ۱؎ اھ۔
اور ردالمحتار میں جامع الفصولین کے حوالے سے فتاوی نسفی سے منقول قاضی محمود سمرقندی کے بارے میں حکایت کی ایک قریب البلوغ نے ان کی مجلس میں اپنے بالغ ہونے کا اقرار کیا تو قاضی نے پوچھا تو کیونکر بالغ ہوا، ا س نے جواب میں احتلام کا ذکر کیا تواس پر قاضی نے پوچھا کہ تو نے نیند سے بیدار ہوکر کیا دیکھا تو جواب میں کہا کہ تری دیکھی، تو پھر سوال کیا کہ رطوبت تو کئی قسم کی ہوتی ہے تو نے کون سی دیکھی ہے، تو اس نے کہا منی دیکھی ہے، پھر سوال کیاکہ منی کیا ہوتی ہے، تو جواب میں کہا کہ مرد کا وہ پانی جس سے بچہ پیدا ہوتاہے تو سوال کیا کہ تجھے احتلام میں کیا شکل نظر آئی جس پر تجھے احتلام ہوا، لڑکی ، لڑکا، گدھی وغیرہ کیا تھا ، جواب میں کہاکہ لڑکا تھا، توقاضی محمود سمرقندی نے کہا کہ یوں پورے سوال کرنے ضروری ہیں کیونکہ کبھی کسی کے سکھانے پر جھوٹا اقرار کردیتے ہیں، شیخ الاسلام نے کہا یہ احتلام کے بارے میں تفسیر ہے، اگر لڑکی حیض کے ذریعہ بلوغ کا اقرارکرے تو پھر بھی ایسے ہی اس سے تفسیر کرائی جائے اھ (ت)
( ۱؎ ردالمحتار کتاب الحجر فصل فی البلوغ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۹۷)
پس صور ت مستفسرہ میں اگر وقت نکاح ہندہ کا بلوغ ثابت ہو خواہ شہادت شرعیہ خواہ ہندہ کا بیان مفصل سے جسے ظاہر حال ہندہ تکذیب نہ کرتا ہو، نہ صرف اتنی بات سے کہ اس کی عمر چودہ سال سے زائد ہے، بیشک اس پر چچا خواہ ماں کسی کی ولایت جبر یہ نہ تھی اس کا نکاح بے اس کی اجات کے نافذ نہیں ہوسکتا، جب اس نے خبر پا کر نامنظور کیارد وباطل ہوگیا،
فی الدرالمختار الولایہ نوعان ولایۃ ندب علی المکلفۃ ولوبکرا و ولایۃ اجبار علی الصغیرۃ ولوثیبا ۲؎ وفیہ بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ۳؎۔
درمختار میں ہے کہ ولایت کی دو قسمیں ہیں، ایک محض فضیلت کے طورپر جو کہ بالغہ پر ہوتی ہے اگرچہ باکرہ ہو، اور دوسری ولایت اجبار جوکہ نابالغہ پر ولی کو حاصل ہوتی ہے اگرچہ نابالغہ ثیبہ ہو اسی میں ہے کہ اگربالغہ کو نکاح کی اطلاع ملی تو اس نے نکاح کو رد کردیا بعد میں اس نے کہا کہ میں راضی ہوں تو نکاح جائز نہ ہوگا کیونکہ پہلے رد کرچکی جس کی وجہ سے نکاح باطل ہوچکا ہے۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۱)
(۳؎درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۲)
اور اگر اس وقت ہندہ بالغہ نہ تھی اگرچہ بعد نکاح معاً بلوغ ہوگیا ہو تو بلاشبہ اس کا ولی شرعی وہی عم حقیقی تھا اس کے ہوتے ماں یا علاتی چچا کوئی چیز نہیں، نہ سارٹیفیکیٹ شرعا کچھ اثر رکھتاہے۔
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام۱؎۔
درمختار میں ہے کہ نکاح کا ولی عصبہ وراثت اورحجب کی ترتیب پر بنتے ہیں، اگر عصبہ نہ ہو تو پھر ماں ولی ہے۔ (ت)
(۱؎درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۳)
اس حالت میں یہ چچاکابیٹا جس کے ساتھ چچا نے اس نابالغہ کا نکاح کردیا، اگر مذہب یا اطوار یا پیشے وغیرہ کی رو سے ایسا نقص رکھتا ہو جس کے سبب اس کے ساتھ ہندہ کا نکاح ہونا عرفاً موجب عار ہو یاچچا نے ہندہ کے مہر مثل میں کمی فاحش کی مثلامہر مثل ہزار روپے کا تھا پانسو باندھا تو ان صورتوں میں وہ نکاح سرے سے مردود وباطل محض ہوا، اور ان نقائص سے پاک تھا تو بیشک نکاح صحیح ونافذ ہوگیا جسے نہ ماں یا علاتی چچا کی ناراضی سے ضرر نہ قبل بلوغ ہندہ کی نامنظوری وبیزاری کا اثر، ہاں بعدبلوغ اسے اختیار ملے گا کہ نکاح سے ناراضی ظاہر کرکے حاکم شرع سے بحضور شوہر نکاح فسخ کرالے۔
فی الدرالمختاران کان المزوج غیر الاب وابیہ لایصح النکاح من غیر کفو او بغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ ۲؎ اھ مختصرا،
درمختار میں ہے کہ اگر باپ دادا نہ ہو تو غیر کفو اور انتہائی کم مہر کی صور ت میں غیر کا دیا ہوا نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا، اور اگر کفو میں اورمہر مثل سے ہو تو پھر نکاح صحیح ہوگا، اورلڑکے لڑکی نابالغہ کو بلوغ پر یا بلوغ کے بعد جب نکاح کا علم ہو فسخ کا اختیار ہوگا بشرطیکہ فسخ قاضی کی نگرانی میں ہو، اھ مختصرا،۔
(۲؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۹۳۔ ۱۹۲)
وفی ردالمحتار فیہ ایماء الی ان الزوج لوکان غائبا لم یفرق بینھما مالم یحضر للزوم القضاء علی الغائب نھر ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے کہ اس میں اشارہ ہے کہ اگر خاوند غائب ہو تو قاضی فسخ کی کارروائی نہ کرے کیونکہ اس سے قضا علی الغیب لازم آتی ہے نہر، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۰۷)
مسئلہ ۳۴8: ۲۶ محرم الحرام ۱۳۱۸ ھ
زید کانکاح عمرو کی لڑکی کے ساتھ قرار پایا تھا او رشرائط یہ تھیں کہ شرع پیمبری میں نکاح ومہر باندھا جائے ہنگام نکاح پڑھانے کے کچھ حجت زیادتی مہر پر زید وعمرو کے مابین ہوئی جس پر زید مجلس سے اٹھ کر مکان کو چلا گیا، عمرو نے بحالت غصہ ورنج کے اس وقت ایک موذن سے کہا کہ تم میری لڑکی کا نکاح بکر کے ساتھ کردو، چنانچہ بکر اس وقت مجلس میں موجود تھا، موذن صاحب نے جو کہ قاضی یامولوی نہیں ہیں صرف تین کلمے پڑھائے او رایجاب وقبول کرادیا، کوئی وکیل وگواہ نہیں تھا اور نہ مہر کی تعداد بکر کوبتائی، صرف یہ کہہ دیا کہ مثل لڑکی کی ماں کے مہر باندھا جائے، عمر و کی لڑکی بالغ ہے جس کی عمر پندرہ سال ہے۔ لڑکی کی ماں نے اور نہ خود لڑکی نے اجازت نکاح کی دی تھی صرف لڑکی کے والد نے اجازت نکاح کی بحالت رنج وغصہ کے دی تھی، تو ایسی صورت میں نکاح جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: سائل مظہر کہ اس جلسہ میں بہت آدمی تھے تووہی سننے والے گواہ کافی تھے نکاح ہوگیا مگر عورت جبکہ بالغہ ہے تو اگر باپ نے اس سے اجازت خاص بکرکے ساتھ نکاح کردینے کی یا مطلق نکاح کی نہ لی تھی تونکاح عورت کی اجازت پر موقوف رہا مگر وہ جائز کردے گی جائز ہوجائے گا اور رد کردے گی رد ہوجائے گا، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۹: از کان پور نئی سڑک متصل گرجاگھر متصل مکان احسان اللہ وکیل ڈاکٹر اللہ یارخاں مرسلہ خداد ادخاں صاحب ۱۱ ربیع الاول ۱۳۱۸ھ
جناب مولانا صاحب زیدت معالیکم فی الدارین، اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مجھے تعجب ہے کہ آج کل ندوہ کی ایسی خراب حالت کیوں ہوگئی ،میں نے وہاں کے مفتی صاحب کے نام سے ٹکٹ رکھ کر ایک استفتا بھیجا مگرمطلقا جواب نہیں دیا، ان سے اگر اس کا جواب نہیں ہوسکتا تھا تو واپس کردینا چاہئے تھا نہ کہ دبا بیٹھا، افسوس علماؤں کانام بدنام کرنے کو جلسہ قائم کیا گیا ہے بے شک ؎
بدنام کنندہ نکونامی چند
(نیک نامی کو بدنام کرنے والا)
میرا تو پہلے ہی سے ارادہ تھا کہ آپ کے پاس بھیجوں مگر غلطی ہوئی کہ وہاں بھیج دیا، خیر اب بعینہٖ آپ کی خدمت میں روانہ کرتاہوں کہ آپ براہ نوازش جواب سے مشرف فرمائیے، جواب کے لئے ٹکٹ پیش خدمت ہے زیادہ حدِ ادب۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ذیل کے مسئلہ میں کہ ایک لڑکی کا علاتی بھائی اس کی عینی ماں اور ماموں کے مقابلہ میں ولی جائز ہے یا نہیں؟ وبر تقدیرولی جائز ہونے کے اس کی عدم موجودگی میں بلااطلاع ورضا لڑکی بالغہ کا غیر کفو کے ساتھ ماموں اور اس کی ماں کا عقد کردینا کیسا ہے اور نیز لڑکی کی ماں اپنے شوہر کا متروکہ دین مہر میں پاچکی ہے۔بینوا تو جروا
الجواب: صورت مستفسرہ میں اس لڑکی کا ولی نکاح اس کا علاتی بھائی ہے، ماں یا ماموں اس کے ہوتے کچھ استحقاق نہیں رکھتے۔
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام (الٰی قولہ) ثم لذوی الارحام العمات ثم الاخوال الخ اھ۱ ملتقطا۔
درمختارمیں ہے: نکاح کا ولی عصبہ بنفسہٖ ہوتاہے اگر وہ نہ ہو تو پھر ولایت ماں کو ہوتی ہے، انھوں نے ذوی الارحام پھوپھیاں پھر ماموں تک بیان کیا، الخ ملتقطا (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۳)
شرع مطہر میں غیر کفو وہ ہے جس کے نسب یا مذہب یاپیشے یا چال چلن وغیرہ میں کوئی ایسا نقص ہو جس کے باعث اس عورت کا اس سے نکاح ہونا اس کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار ہو، اور یہاں عوام غیر قوم کو غیر کفو کہتے ہیں اگرچہ شرافت میں اپنا ہمسر ہو، بلکہ بعض تو یہاں تک توسیع کرتے ہیں کہ اگر اپنے سے برتر ہو شرع میں اس میں نظر نہیں، مغل پٹھان کفو ہیں، شیخ،قریشی وسادات کرام کفو ہیں، اپنا ہم قوم بد مذہب کفو نہیں، یہاں اگر عدم کفاءت یہی محاورہ عامیہ کے طور پر تھا یعنی وہ شخص اس دختر کا ہم قوم نہ تھا مگر اس طرح کا کوئی نقص نہ رکھتا تھا کہ شرعاً غیر کفو ہو جب تو یہ نکاح مطلقاً صحیح ومنعقد ہوگیا رضا واطلاع برادر کی حاجت نہیں، دختر کہ بالغہ ہے اگر اس سے اذن لے کر ہوا تو نافذ ہوگیا ورنہ دختر ہی کی اجازت پرموقوف رہا، اگر جائز کرے گی نافذ ہوگا رد کردے گی باطل ہوجائے گا برادر وغیرہ کسی ولی سے کوئی تعلق نہیں لانقطاع الولایۃ بالبلوغ کما نصوا علیہ (کیونکہ بالغ ہونے پر ولایت منقطع ہوگئی جیساکہ انھوں نے اس پر نص کی۔ ت) اور اگر عدم کفاءت بہ معنی مذکور شرعی تھا تویہ نکاح کہ بے رضائے ولی عصبہ ہوا اصلا نہ ہوا کہ اگر باجازت دختر تھا تو عورت جو نکاح غیر کفو سے بے رضا عصبہ کرے باطل ہے، او راگر ماں یا ماموں نے بطور خود بے اذن دختر کیا تو یہ وہ عقد فضولی ہوگا جسے نافذکرنے والا کوئی نہیں کہ اختیار تنفیذ عورت کو ہوتا ہے وہ خود ایسے نکاح پرقادر نہیں، اور ہر عقد فضولی کہ وقت وقوع جس کا کوئی منفذ نہ ہو باطل ہے، ولی عصبہ بھی اپنی رضاشامل کرکے اسے صحیح نہیں کرسکتا یہاں رضائے ولی قبل عقد لازم ہے بعدعقدلغو وبیکار ہے،
درمختار میں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے جائز نہ ہونے کا فتوی ہے، زمانہ فساد کی وجہ سے یہی مختارہے ،
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۱)
فی ردالمحتار ھذا اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضی بعدہ ۲؎ بحر،
ردالمحتار میں ہے کہ اگر لڑکی کا ولی نکاح سے قبل اس نکاح پر راضی نہ تھا تو بعد کی رضا مفید نہیں، بحر۔
(۲؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۹۷)
فی الدر من فصل الفضولی کل تصرف صدر منہ کبیع وتزویج وطلاق ولہ مجیزای من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا ومالامجیز لہ حالۃ العقد لاینعقداصلا ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمیں فضولی کی فصل میں ہے کہ فضولی کاہر ایسا تصرف کہ اس کے صدور کے وقت کوئی اس کو جائز کرنے پر قدرت رکھنے والا موجود ہو توفضولی کا وہ تصرف موقوف ہونے کی حد تک جائز ہوگا، جیساکہ بیع، نکاح دینا، طلاق وغیرہ، اور اگر کوئی اس وقت جائز کرنے والا موجود نہ ہو تو یہ تصرف قطعاً منعقد نہ ہوگا، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۳؎ درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۱)