Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
185 - 1581
مسئلہ ۳۴۴: از اوجین حویلی میر صاحب مرسلہ مرزا مختار علی بیگ صاحب وکیل ۱۹ شوال ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی اللہ بیلی حجام نے اپنی دختر زیتون کا نکاح ۱۳۰۶ھ میں مسمی احمد قوم حجام سے کہ اللہ بیلی کا ہم قوم ورشتہ دار ہے کیا، وقت نکاح زیتون چار پانچ سال کی تھی، اب ۱۳۱۵ھ میں جبکہ زیتون قریب ۱۳ یا ۱۴ سال کے ہوئی، احمد نے رخصت چاہی اللہ بیلی نے انکار کیا، احمد نے فوجداری میں نالش کی، اللہ بیلی نے عذر کیا کہ داماد میرا نامرد ہے، ہیجڑوں میں گاتا بجاتا ہے اگرڈاکٹر ا س کا مرد ہونا تحریر کردیں تو رخصت میں عذر نہیں، ڈاکٹر نے بعد معائنہ ظاہر کیا کہ احمد کے اعضائے تناسل کو حالت تندرستی میں پایا ہنوز فوجداری سے حکم اخیر نہ ہوا تھا کہ اللہ بیلی نے دیوانی میں دعوٰی فسخ نکاح ان وجوہ پر کیا کہ وہ نامرد ہے ہیجڑوں کے افعال قبول کرکے حالت شرمناک اختیار کرلی ہے میری برابری کا نہ رہا زیتون کا نکاح نابالغی میں ہوا ہے فسخ قرار دیا جائے، احمد کو ان الزاموں سے قطعی انکار ہے،جانبین سے شہادتیں اپنے اپنے موافق گزریں، اگر بالفرض الزامات نامردی وغیرہ تسلیم بھی کرلئے جائیں تو ایسی صورت میں حسب استغاثہ پدر زیتون یا زیتون کا نکاح فسخ ہوسکتا ہے یا نہیں یا خود بخود بوجوہات مظہرہ پدر زیتون نکاح فسخ ہے اور دعوٰی منجانب پدرزیتون بوجہ اس کے کہ عمر زیتون ۱۳، ۱۴ سال کی ہے جائز ہے یا نہیں یا ایک سال قمری کی مہلت تاریخ یکجا ہونے زن وشو سے دی جائے گی اور زوجہ رخصت پر مجبور کی جائے گی یا نہیں اور ہمبستری احمد وزیتون کی کرائی جائے گی یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: صورت مستفسرہ میں پدر زیتون کا دعوٰی اصلا قابل سماعت نہیں، زنانوں کے افعال کرلینا اگرچہ مسقط کفاءت ہے مگر کفاءت وقت نکاح درکار ہے بعد نکاح شوہر کیسے ہی شرمناک افعال اختیار کرے نکاح فسخ نہیں ہوسکتا،
درمختار میں ہے:
الکفاءۃ اعتبارھا عندابتداء العقدفلایضر زوا لھا بعد ہ فلو کان  وقتہ کفوا ثم فجر لم یفسخ ۱؎۔
نکاح کے ابتداء میں کفو کا اعتبار ہوتاہے اس کےبعد کفو  کے زائل ہونے سے کوئی ضرر نہیں، اگر نکاح کے وقت کفو تھا پھر فاسق وفاجر ہوگیا تو نکاح فسخ نہ ہوگا۔ (ت)
(۱؎ درمختار    باب الکفاءۃ        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۵ )
رہا دعوی نامردی وہ بھی منجانب پدر زیتون اصلا مسموع نہیں کہ اگر زیتون ہنوز نابالغہ ہے جب تو یہ دعوی دائر ہی نہیں ہوسکتا کہ اس کے لئے عورت کا بالغہ ہونا شرط ہے،اور اگربالغہ ہے تو خودزیتون کا مدعیہ ہونا درکار، باپ کو دعوی کا کوئی حق نہیں،
درمختار میں ہے:
فرق الحاکم بطلبھا لوحرۃ بالغۃ ۲؎.اگر حرہ بالغہ ہو تو اس کے مطالبہ پر حاکم تفریق کردے گا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    باب العنین وغیرہ       مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۲۵۴ )
ردالمحتار میں ہے:
فلو صغیرۃ انتظر بلوغھا فی المجبوب والعنین لاحتمال ان ترضی بھما بحر وغیرہ ۳؎۔
اگر نابالغہ ہو تو اس کے بلوغ تک نامرد اورشرمگاہ کٹے ہوئے خاوند کے معاملہ میں انتظار کیا جائیگا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ بالغہ ہونے کے بعد ا س پر راضی ہو جائے۔ بحر وغیرہ۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار   باب العنین وغیرہ      داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۵۹۳)
نیز درمختار وردالمحتار میں ہے:
طلبھا یتعلق بالجمیع ای جمیع الافعال وھی فرق واجل وبانت ح عن النھر ۴؎۔
عورت کے مطالبہ کا تعلق تما م افعال یعنی تفریق اور مہلت سے ہے، اس پر وہ بائنہ ہوجائے گی، نہر سے منقول ہے۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار   باب العنین وغیرہ      داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲/۵۹۶)
اور اگر فرض کیا جائے کہ زیتون نے خود ہی بعد بلوغ دعوی کیا پدر زیتون وکیل ہے جب بھی ہنوز کہ رخصت تک نہ ہوئی زن وشومیں ہمبستری واقع نہ ہوئی طلب فسخ کا کوئی محل نہیں، حکم شرعی یہ ہے کہ عورت شوہر سے ہمبستر ہو، اگر شوہر اس پرقدرت نہ پائے تو اس وقت دعوی کرے جب حاکم کو ثابت ہو کہ فی الواقع اس نے قدرت نہ پائی اس کے بعد حاکم شرع شوہر کو ایک سال کامل کی مہلت دے اور اس مدت میں عورت کو اس سے جدارہنے کو کوئی حق نہیں، جتنےدنوں خود اس سے جدا رہے گی مدت میں مجرانہ ہوں گے، سال گزرنے پر بھی اگر قدرت نہ پائے تو عورت پھر دعوی کرے اور حاکم پھر ثبوت قدرت نہ پانے کالے اگر ثابت ہوجائے تو عورت کو اختیار دے کہ خواہ شوہر کے پاس رہنا پسند کرے یا اس کے نکاح سے جد اہونا، اگر عورت فورا فورا بلا توقف جد اپسند کرلے تو حاکم شوہر کو طلاق کا حکم دے وہ نہ دے تو آپ تفریق کردے، اور اگر عورت ذرا بھی اختیار جدائی کے اظہار میں تاخیر کرے تو دعوی باطل اور اختیار زائل ،
درمختار میں ہے:
وجدتہ عنینا اجل سنۃ قمریۃ ورمضان وایام حیضھا منھا لامدۃ غیبتھا ومرضہ ومرضھا فان وطئی مرۃ فبھا والابانت بالتفریق من القاضی ان ابی طلاقھا بطلبھا وبطل حقھا لووجد منھا دلیل اعراض بان قامت من مجلسھا او اقامھا اعوان القاضی اوقام القاضی قبل ان تختار شیئا لامکانہ مع القیام ۱؎ اھ مختصرا۔
بیوی مرد کو نامرد پائے تو ایک سال بحساب قمری سے مہلت دی جائے گی، رمضان اور حیض کے دن بھی اس میں شمار ہوں گے، اور عورت کے غیر حاضر ہونے اور مرد یا بیوی کے مرض کے دن گنتی میں شامل نہ ہوں گے، ا س مدت میں خاوند نے ایک دفعہ بھی وطی کرلی تو بہتر،و رنہ سال کے بعد تفریق پر بیوی بائنہ ہوجائیگی، تفریق قاضی کرے گا، جب خاوند بیوی کے مطالبہ پر طلاق دینے سے انکار کردے اور بیوی کا مطالبہ تفریق باطل ہوجائے گا جب اس سے کوئی بھی ایسی دلیل پائی جائے جس سے مطالبہ سے اعراض سمجھا جائے جیساکہ بیوی مطالبے کی مجلس سے اٹھ کر چلی جائے، یا قاضی کا عملہ اس کوقائم رہنے پر مجبور کردے، یا قاضی کی موجودگی میں وہ فیصلہ کرسکتی تھی اس کے باوجود وہ فیصلہ نہ کرپائی تھی کہ قاضی اٹھ گیا اھ مختصراً (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الولی    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
پس صورت مستفسرہ میں پدر زیتون رخصت کردینے اورزیتون ہم بستری پر مجبور کی جائے گی، اس کے بعد اگر نامردی پائے تو طریقہ مذکورہ  عمل میں لائے ، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۵: ۲۹ شوال ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت بالغ ہے اور اس کا باپ دادا چچا بھائی وغیرہ نہیں، ایک ماموں ہے اس نے عورت سے اذن نکاح کا نہ لیا، باہر سے باہر دو گواہ کرکے نکاح کردیا، یہ نکاح ہوا یا نہیں؟ دوسری ایک عورت بالغ ہے اس کی ماں موجو دہے،نہ عورت نے اذن دیا نہ اس کی ماں نے، بلکہ سوتیلے باپ نے نکاح کاا ذن دیا، یہ نکاح ہوا یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب: دونوں صورتوں میں جبکہ عورتیں بالغہ ہیں او ران سے بغیر اذن لئے نکاح کردئے گئے تو وہ نکاح ان عورتوں کی اجازت پر موقوف رہے، اگر انھوں نے خبر سن کر جائز رکھے جائز ہوگئے اور اگرر د کردئے رد ہوگئے، اور اگر اب تک ساکت ہیں نہ رد کئے نہ جائز رکھے تو اب انھیں اختیار ہے چاہے جائز کردیں چاہے باطل۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۶: از کان پور مدرسہ احسن المدارس مرسلہ محمد عبدالحلیم صاحب ۱۳ رجب ۱۳۱۶ھ

چہ می فرمایند علمائے محققین وفضلائے مدققین اندریں مسئلہ کہ باوجود برادر حقیقی مخطوبہ عم حقیقی مخطوبہ استیذان نکاح از مخطوبہ کرد ومخطوبہ بالغہ باکرہ است صامت ماندہ آں صموت رااذن دانستہ عم حقیقی بہ وکالۃ نکاح او رامنعقد کرد و بااوخلوت صحیحہ ھم گردید دریں صورت نکاح باطل خواہد شد یا چہ؟ بینوا تو جروا

کیا فرماتے ہیں علمائے محققین اور فضلائے مدققین ا س مسئلہ میں کہ حقیقی بھائی موجود ہونے کے باوجود حقیقی چچا نے لڑکی سے نکاح کی اجازت طلب کی جبکہ لڑکی باکرہ بالغہ ہے اور اجازت کے وقت خاموش رہی، اس خاموشی کو چچا نے اجازت سمجھ کر بطور وکالت ا س کانکاح کردیا خلوت صحیحہ بھی ہوچکی ہے تویہ نکاح باطل ہوگیا یاکیا صورت ہوگی؟ بینوا توجروا۔ (ت)
الجواب: سکوت بکر کہ بجائے اذن داشتہ انددران صورت ست کہ استیذان خود ولی اقرب یا وکیل یا رسول اوکردہ باشد کما فی الدر وغیرہ اینجا کہ استیذان ولی ابعد قیام اقرب کردہ است اگرنہ بروجہ وکالت ورسالت از اقرب بود بسکوت زن اصلاکارے نکشود نکاح نکاح فضولی شدہ براجازتے دیگر قولا یا فعلا یا سکوتا چنانکہ درفتاوائے خود وجہ آنہا روشن کردہ ایم از زن قولے یا فعلے مظہر رد نکاح بمیان نیامدہ بود واین خلوت برضائے او روئے نمود نکاح موقوف نفاذ یا فت فی الدرالمختار ان استأذنھا غیر الاقرب کولی بعیدفلاعبرۃ لسکوتھا بل لابد من القول اوماھوفی معناہ من فعل یدل علی الرضا کتمکینھا من الوطئ ۱؎ (ملخصا)،
باکرہ کی خاموشی وہاں اجازت قرار دی جاتی ہے جب اجازت طلب کرنے والا خود یا ولی اقرب ہو یا اس کا وکیل یا قاصد ہو، جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے، یہاں کی صورت میں ولی ابعد نے اجازت ولی اقرب کی موجودگی میں طلب کی ہے تو اگر اس نے ولی اقرب کی وکالت یا قاصد ہونے کی حیثیت سے اجازت نہ طلب کی ہو تو اس صو رت میں باکرہ کی خاموشی رضا کے لئے کارآمد نہیں ہے، یہ نکاح نکاح فضولی ہوا جو کہ عورت کی اجازت پر موقو ف تھا، اگر باکرہ نے خلوت سے قبل قولا یا فعلا یا خاموش رہ کر کسی قول یافعل کے ذریعے نکاح کو رد نہ کیا ہو (جیسا کہ رد کے وجوہ ہم نے اپنے فتاوی میں واضح کئے ہیں)تو یہ خلوت جوباکرہ کی رضامندی سے ہوئی ہے اجازت قرار پائے گی اور موقوف نکاح نافذ ہوجائیگا، درمختارمیں ہے کہ اگر لڑکی سے غیر اقرب مثلا ولی ابعد نے اجازت طلب کی ہو تو لڑکی کے سکوت کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ لڑکی کی طرف سے صراحۃً قول یا اس کے قائم مقام کسی اپنے فعل، جو رضا پر دلالت کرتاہو، کا اظہار ضروری ہے مثلا وہ خاوند کو وطی کی جازت دے دے۔
 (۱؎ درمختار    باب الولی    مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۲)
وفی ردالمحتار عن الظھیر یۃ لوخلابھا برضاھا ھل یکون اجازۃ لاروایۃ لھذہ المسألۃ وعندی ان ھذا اجازۃ اھ قال البزازیۃ الظاھرانہ اجازۃ ۲؎ اھ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور ردالمحتار میں جو بحر سے منقول انھوں نے ظہیریہ سے نقل کیا کہ اگر لڑکی کی رضامندی سے خلوت کی ہوتو کیا یہ رضا ہوگی، تو اس مسئلہ میں روایت نہیں ہے، جبکہ میرے نزدیک یہ اجازت ہے اھ، اور فرمایا کہ بزازیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ اجازت ہے اھ، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    باب الولی    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۰۱)
Flag Counter