| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
تنبیہ نفیس: اقول وباللہ التوفیق، یہ تمام کلام فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے کلمات علمائے کرام کے اس ظاہری مفاد پر مبتنی کیا کہ بادی النظر میں اذہان عامہ اس طرف جائیں اور اگرحق تحقیق وعین تدقیق چاہئے تو نگاہ مقصود وشناس جزم وقطع کے ساتھ اسی ابتدائی بات پر حکم کرے گی جسے ہم نے اولا ظاہر صورت سوال بناکر دوبارہ فرضاً اس سے تنزل کیا تھا یعنی اس غیبت کا غیبت منقطعہ نہ ہونا اور ولایت پدرکا بدستور باقی رہنا اور اگر یہ نکاح منعقد واقع ہوا تو مطلقا بلااستثناء ہر حال وہر صورت میں اجازت ولی اقرب پر توقف پانا اورا س کے رد کئے سے فوراً ردہوجانا، جب مذہب معتمد میں بناء کار اس پرٹھہری کہ ولی اقرب کے ایاب وجواب کے انتظار میں کفو فوت ہوتا اور موقع ہاتھ سے نکلا جاتا ہو کیا معلوم پھر کفو ملے یا نہیں تو یہ بات ہمارے اعصار وامصار میں کنواری لڑکیوں کے حق میں جبکہ ولی اقرب کا پتا معلوم اور وہاں تک ڈاک کی آمدورفت بے وقت مرسوم ہو متصور نہیں، ادھر توازمنہ سابقہ میں نہ راہیں ایسی آسان تھیں نہ ڈاک کے ایسے انتظام، مدتوں میں منزلیں طے ہوتیں، خط جاتاتوآدمی لے جاتا، پھر تنہا کی گزر دشوار، نہ ہر وقت قافلے میسر نہ ہر شخص قاصد بھیجنے پر قادر، ادھر ان بلاد طیبہ میں نکاح کی یہ رسم کہ آج خطبہ ہوا کل نکاح ہوگیا، وہ ایک روز کی دیر لگی تودوسری جگہ موجود ،یہاں یہ رواج کہ مہینے کی آمد ورفت پیام سلام میں کسی کا نکاح ہوگیا تو لوگ تعجب کر تے ہیں کہ ہیں جھٹ منگنی پٹ بیاہ، پھر خطوط کی آمدورفت وہ کہ تیسرے دن کلکتہ خط پہنچے چوتھے دن بمبئی،وہ کون سا جلد باز ہوگا کہ آج پیام دے او رآج ہی نکاح چاہے ایک ہفتہ کا انتظار ہو تو نکاح ہی نہ کرے یا صبح وشام دوسری جگہ نکاح ہوجائے۔ ہندوستان کی لڑکیاں سہل نہیں ملتیں ایک ایک بڑھیا کے منہ سے سن لیجئے کہ میاں لڑکیاں آندھی کی بیر تو نہیں۔ نہ جوتیاں ٹوٹیں، نہ چادریں پھٹیں، کیا کوئی پھٹ سے ہاں کہہ دیتاہے ، تومقاصد علماء پر نظر شاہد عدل کہ یہاں غیبت منقطعہ وہی کہی جاسکتی ہے کہ یاتو ولی اقرب کا پتا نہ معلوم ہو آخر بے نشان کا کب تک کوئی انتظار کرے یاکسی ایسے دور دراز ملک غیر میں جہاں ڈاک پر اطمینان نہ ہو خطوط جائیں اورپتا نہ چلے، آدمی بھیجو تو صرف کثیر، دو ایسی صورتوں میں کفو کا یہ عذر ہوسکتاہے کہ کب تک بیٹھیں، اور ممکن کہ زبان نہ دو توانتظار میں وہ مد تیں گزریں کہ دوسری جگہ اس کی ٹھیک ٹھاک ہوجائے ورنہ ہندوستان بلکہ آج کل برہما میں بھی جو موجود اور پتا معلوم ہے اس کی نسبت عادۃً کوئی کفو یہ تقاضانہ کرے گا کہ ہم آٹھ دس رو زکا انتظار ہر گز نہ کریں گے کرناہے تو آج کردو، اور بالفرض کوئی زبان دینے میں جلدی بھی کرے تو یہاں کفو کی روک تھام کے لئے منگنی وہ عمدہ صیغہ ہے جس سے اس کا اطیمنان ہوجائے اور رائے ولی اقرب فوت نہ ہونے پائے۔ منگنی کے بعد مدتوں دونوں طرف ساز وسامان کی درستی میں گزرتے ہیں بلکہ یہاں کے رواج سے اپنی منگیتر کو بھی من وجہ گویا اپنی ناموس جانتے اور دوسری جگہ اس کے نکاح سے برا مانتے اور اس کے انتظار میں سال گزارتے ہیں منگنی کے بعد خدا جانے کتنی بار ولی اقرب کی رائے لے سکتے ہیں اس کے جواب ملنے تک انتظار نہ ہونا کیا معنٰی، یہ عذر مصنوع وہیں پیش ہوگا جہاں اپنی اغراض فاسدہ سے ولی اقرب کے خلاف رائے بالا بالا کارروائی کرنی ہوگی جو شرع مطہر کے بالکل نقیض مراد ہے اور اس کی توسیعوں میں انھیں آفات کا دروازہ کھلنا جوابھی ہم ذکر کرآئے ، شاید شاذ ونادر برخلاف عادت ملک اگر کہیں ایسی جلدی پائی جائے توا مور نادرہ مبنائے احکام فقہیہ نہیں ہوسکتے بلکہ عادت شائعہ پر حکم دینا واجب ،
کما نصوا علیہ فی غیر مامسئلۃ منھا مسألۃ دخول النساء الحمام فی الدرالمختار وغیرہ ومنھما مسألۃ جوار الحرمین فی فتح القدیر ومنھا مسألتنا ھذہ بناء علی ماکان معتادا عندھم علی خلاف ماھو العادۃ عندنا فیہ ایضا الی غیر ذلک ممالایخفی علی من خدم کلماتھم الطیبۃ۔
جیسا کہ انھوں نے بہت سے مسائل میں تصریح کی ہے، ان میں سے ایک مسئلہ حمام میں عورتوں کے داخلہ کا ہے جس کو درمختار وغیرہ میں بیان کیاہے، انہی مسائل میں سے فتح القدیر میں حرمین شریفین میں رہائش کا مسئلہ ہے، ان مسائل میں سے ایک ہمارا مسئلہ جو ان کی عادت کے مطابق تھا اور ہماری عادت کے خلاف ہے، اس کے علاوہ اور بھی ہیں جو کہ فقہاء کے کلمات طیبات پر اطلاع رکھنے والا جانتا ہے۔ (ت)
بلکہ انصافاً وہ علماء بھی جنھوں نے مسافت قصر اختیار فرمائی، اگر ریل اور ڈاک اور یہاں کے عادات ملاحظہ فرماتے ہر گز حکم نہ دیتے، بریلی کا ساکن مراد آباد تک گیا اور اس کی ولایت اپنی اولاد پر سے سلب ہوئی جس کے دن میں دو پھیرے ہوسکتے ہیں بالجملہ جب مدار کا انتظار کے سبب فوت کفو پر ٹھہرا تو اس مناط کو تحقق ضروری، جب تک یہ حالت نہ ہو غیبت منقطعہ ہر گز نہیں، اس پر نظر کا مل رکھنا اور اصحاب اغراض کے فریبوں سے بچنا لازم، ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل (جو اپنے زمانہ کے عرف سے ناواقف ہو وہ جاہل ہے۔ ت) ہاں کوئی بیوہ سن رسیدہ باختیار خود کسی سے شرعی نکاح خالی از رسوم کرلینا چاہے تو وہاں جلدی متصور،وہ اول تو ہندیوں کی عادت نہیں اور ہو بھی تو ہماری بحث سے خارج کہ یہاں کلام قاصرہ میں ہے اور قواصر کے باب میں ضرور وہی عادت، لہذا فقیر ان صُوَرِ مذکورہ بالا کے سوا یہاں غیبت منقطعہ کے حکم پر زنہار جسارت روانہیں رکھتا، یہ بعونہٖ تعالٰی فقہ انیق وحق تحقیق ہے،
وباﷲ التوفیق وھدایۃ الطریق والحمد ﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا محمد واٰلہٖ وصحبہ اجمعین اٰمین، واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی کی مدد سے توفیق اور راستہ کی راہنمائی ہے۔ الحمدللہ رب العالمین وصلی اللہ تعالٰی علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ اجعمین آمین، واللہ تعالٰی سبحانہ وتعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۳۴۳: کلکتہ دھرم تالہ اسٹریٹ ٹیپوسلطان مرسلہ حافظ محمدعظیم صاحب ۲۴ شعبان المعظم ۱۳۱۵ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی ایک لڑکی بعمر سہ سال تھی زید نے اس کی منگنی عمرو سے کردی، بعدہ زیدکا انتقال ہوگیا، جب لڑکی تیرہ برس کی ہوئی کوئی علامت بلوغ کی اس سے ظاہر نہیں۔ زید کے پدر خاص نے لڑکی کی عدم موجودگی میں اس کا نکاح عمرو سے کردیا، چار مہینے کے بعد زید متوفی کے چچا نے لڑکی کی موجودگی میں اس کا نکاح عقد بکر سے کردیا بخیال اس کو بالغہ ٹھہرانے کے، مگر کوئی نشانی بلوغ کی آج تک لڑکی سے ظاہر نہیں، اس صورت میں شرعا کون سا نکاح معتبر ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:یتیمہ بالغہ کا سب سے زیادہ ولی اقرب واقدم اس کا حقیقی دادا یعنی اس کے باپ کا باپ ہے، اس کے ہوتے باپ کے چچا خواہ کسی کو کچھ اختیار نہیں ہے، اس کے دادا کا کیا ہوا نکاح کسی کے ردکئے رد نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اگر وہ خود بالغہ ہوکر نکاح کو رد کرے ہر گز رد نہ ہوگا، نہ ولی کے نکاح کرتے وقت نابالغہ کا موجود ہونا درکا رہے کہ نابالغ پر ولایت جد جبری ہے اور اس کاحاضر ہونانہ ہونا سب یکساں ، تو اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ نابالغہ اس چار مہینے میں بالغہ ہوگئی اور باپ کے چچا نے اس کی موجودگی میں ا س کی رضا سے اس کے بالغہ ہونے پر اس کا نکاح بکر سے کردیا جب بھی یہ نکاح محض باطل ونامعتبر ہے، وہ لڑکی عمرو کی زوجہ ہے جب تک موت یا طلاق نہ ہو، دوسرے سے اس کا نکاح نہیں ہوسکتا،
قال اﷲ تعالٰی والمحصنت من النساء
(اللہ تعالٰی نے فرمایا: اورآزاد پاکیزہ عورتیں۔ ت)
ردالمحتار میں ہے:
لزم النکاح بلاتوقف علی اجازۃ احد وبلاثبوت خیار فی تزویج الاب والجد ۱؎ الخ۔
باپ یا دادا کے دئیے نکاح کسی کی اجازت پر موقوف ہوئے بغیر اور ثبوت خیار بلوغ بغیر فوراً نافذ اور لازم ہوجاتے ہیں۔ (ت) واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
)۱؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۰۴(