ثالثاًمذہب معتمدہ بلکہ قول مقابل پر بھی ولی اقرب کی غیبت منقطعہ میں ابعد کو ولایت دینے کا منشا صرف یہ کہ ولایت اس لئے رکھی ہے کہ اس کی رائے سے نابالغ کو نفع پہنچے اور جب وہ ایسا غائب ہے تو اس کی رائے سے نفع معدوم۔ لہذا جو اس کے بعد درجہ رکھتا ہے اس کی رائے پر رکھیں گے،
ہدایہ میں ہے:
ان ھذہ ولایۃ نظریۃ ولیس من النظر التفویض الی من لاینتفع برأیہ ففوضناہ الی الابعد والغیبۃ المنقطعۃ ان یکون بحال یفوت الکفؤ باستطلاع رأیہ ۱؎ اھ ملتقطا۔
یہ نکاح کی ولایت شفقت پر مبنی ہے تو جس کی رائے سے انتفاع نہ ہوسکے ایسے کو ولایت سونپنا شفقت نہ کہلائے گی، لہذا ہم یہ ولایت اس کے بعد والے ولی کو سونپتے ہیں، اور غیبت منقطعہ یہ ہے کہ وہ اقرب ایسی جگہ ہو کہ اس کی رائے حاصل کرنے میں کفو فوت ہوجائے۔ اھ ملتقطا۔ (ت)
(۱؎ الھدایہ با ب الاولیاء والاکفاء المکتبہ العربیۃ کراچی ۲/۲۹۹)
فتح القدیر میں ہے:
لانظر فی التفویض الی من لاینتفع برأیہ لان التفویض الی اقرب لیس لکونہ اقرب بل لان فی الاقربیۃ زیادۃ مظنۃ للحکمۃ وھی الشفقۃ الباعثۃ علی زیادۃ اتفاق الرائی للمولیۃ فحیث لاینتفع برأیہ اصلاسلبت الی الابعد ۲؎۔
جس کی رائے سے انتفاع ممکن نہ ہو اس کوولایت سونپنا شفقت نہیں ہے کیونکہ اقرب کو ولایت اس لئے نہیں کہ وہ اقرب ہے بلکہ اس لئے کہ اقرب ہونے میں زیادہ شفقت کا پہلو ہے جو کہ لڑکی کے لئے فوائد سے اتفاق ہے، تو جہاں اس کی رائے سے انتفاع ممکن نہ ہو وہاں اسے ابعد کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر باب الاولیاء المکتبۃ النوریہ الرضویہ سکھر ۳/۱۸۳)
بحرالرائق میں ہے:
قولہ وللابعد التزویج بغیبۃ الاقرب مسافۃ القصر ای ثلثۃ ایام فصا عدالان ھذہ ولایۃ نظریۃ ولیس من النظر التفویض الی من لاینتفع برأیہ ففوضناہ الی الابعد ۱؎۔
ماتن کاقول کہ'' ابعد کو نکاح کردینے کی ولایت ہے جبکہ اقرب اتنی مسافت پر ہوجس سے قصر لازم ہو'' یعنی تین دن یا زیادہ مسافت ، کیونکہ یہ ولایت شفقت پر مبنی ہے، تو ایسے کو ولایت سونپنا جس کی رائے قابل انتفاع نہ ہو تو وہ شفقت نہ ہوگی، اس لئے ہم نے یہ ولایت ابعد کوسونپی ہے۔ (ت)
(۱؎ بحرالرائق باب الاولیاء ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳/۱۲۶)
یہاں کہ ولی اقرب کی رائے سے انتفاع بالفعل حاصل وہ خط لکھ چکا اپنی رائے ظاہر کرچکا تو اب ابعدکی رائے پررکھنے کا کیا منشا ا س کی رائے تو اس لئے لی جاتی ہے کہ اقرب کی رائے سے انتفاع معدوم، نہ اس لئے کہ اس کی رائے سے جو نفع حاصل ہے اس کے ردو ابطال کے واسطے یہ سراسر عکس مقصود ہے تو بنظر بحالات واقعہ صاف ظاہر ہے کہ یہ اس صورت سے بہت ابعد ہے جس میں شرع مطہر اقرب سے ابعد کی طرف ولایت نقل فرمائے، لاجرم غیبت زیدغیبت منقطعہ نہیں اور وہی اقرب ہے، اس کے سوا دادی وغیرہا کسی کا کیا نکاح نکاح فضولی ہے کہ زید کی اجازت پر موقوف توفسخ کراسکتا کیا معنی، زید خود اپنے قول سے فسخ کرسکتا ہے زبان سے کہہ دے ''میں نے یہ نکاح رد کیا'' فوراً رد وباطل ہوجائے گا۔
محیط وہندیہ وشرح تنویر وغیرہا میں ہے:
واللفظ للاخیر لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۲؎۔
عبارت آخر ی کتا ب کی ہے کہ اگر ابعد نے اقرب کی موجودگی میں نکاح دیا تو اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا (ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الاولیاء مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۴)
یہ سب کلام اس حالت میں ہے کہ جس سے زینب کا نکاح ہو ا زینب کا کفو ہو اور اگر کفو نہیں یعنی نسب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن یا مال غرض کسی بات میں ایسا کم ہے کہ اس سے اس کا نکاح ہونا زید کے لئے باعث عار ہو جب تو حکم بلادقت ظاہر کہ مذہب معتمدہ پریہاں سرے سے غیبت منقطعہ کی پہلی ہی شرط متحقق نہ ہوئی تو ایسا نکاح قطعاً اجازت پر موقوف ہے اگرچہ ہزار کوس پر ہو وہ بھی جبکہ زید اس سے پہلے اپنی ولایت سے کوئی نکاح غیر کفو سے نہ کرچکا ہو ورنہ نکاح زینب اس کی اجازت پر بھی موقوف نہ رہا، سرے سے خود ہی باطل محض ہوا لصدورہ من فضولی ولامجیز (فضولی سے صادر ہونے اور اس کو جائز کرنے والانہ ہونے کی بنا پر۔ ت)
ظاہر حال صورت سوال تویہ ہے اور اگرفرض کیجئے کہ جدہ زینب کی یہ جلدی اور جس سے نکاح ہوا اس کی بے انتظاری اس بناپر نہ تھی بلکہ واقعی ہی امر تھا کہ صرف یہی کفو خواستگار ہے بھتیجا وغیرہ یا تو خواستگار ہی نہیں یا ہیں تو کفو نہیں، اور یہ کفو اپنی کسی ضرورت کے باعث اس درجہ مستعجل ہے، زید نے کہ خط لکھا اس وقت کوئی کفو خواستگار نہ تھا، اب اگر اسے اطلاع ہوکہ یہ موقع ہاتھ آیا اورایسا خواستگار پایا عجب نہیں کہ وہ بھی رضامندہو مگر بے مہلتی کے باعث خط یاآدمی بھیج کر دریافت کرنے کا وقت کہاں انتظار میں کفو فوت ہوگا زینب کو ضرر پہنچے گا فی الواقع اگر حالت یہ تھی تو بیشک زید کی غیبت پر غیبت منقطعہ کی تعریف مذکور صادق نظرآئے گی اور کہا جائے گا کہ اب جو ولی حاضردرجات ولایت میں ا س کے بعد ہے اس نے ولایت پائی، اب اول تو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس نکاح میں زینب کے مہر مثل میں کمی فاحش نہ ہوئی مثلا اس کامہر مثل پچاس ہزار تھا پچیس ہزار بندھے، اگرایسا ہے تو یہ نکاح مطلقا باطل محض ہوا کہ اب باپ بھی جائز کرے تو جائز نہ ہوگا، مگریہ کہ باپ کی غیبت منقطعہ میں زینب کا جد صحیح ولی حاضر ہو جو اس سے پہلے کوئی نکاح اپنے کسی زیر ولایت کاایسی بے شفقتی کا نہ کرچکا ہو، اور یہ نکاح دادی نے اس کی اجازت سے کیا یا بعد وقوع اس نے جائز رکھا اور نافذ کردیا، اوراس اجازت سابقہ یا لاحقہ کے وقت نشے میں نہ تھا البتہ جائز بلکہ لازم ہوگا کہ پھرکسی طرح رد نہیں ہوسکتا، مگر تقریر سوال سے زینب کا دادا موجود ہونا مفہوم نہیں۔
اگر باپ یادادا نکاح دینے والاہو جس کے بارے میں سوء اختیار معروف نہ ہو تو ا س کا غیر کفو اور انتہائی کم مہرسے کیا ہو نکاح بھی لازم ہوگا، اور اگر وہ سوء اختیار سے معروف ہوں تو بالاتفاق یہ نکاح نہ ہوگا۔ یوں ہی اگر وہ نشہ میں ہوں تو بھی صحیح نہ ہوگا اھ اور خیریہ میں ہے پہلی وکالت کی طرح ہی بعد والی اجازت کا حکم ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتائی دہلی ۱ /۱۹۲)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ باب الاولیاء والاکفاء دارارلمعرفۃ بیروت ۱/۲۵)
اور اگر یہ نکاح اس عیب سے بھی خالی ہے یعنی مہر مثل میں کمی فاحش نہ ہوئی تو اب دیکھنا ضروریہ ہے کہ باپ اور جدہ کے درمیان جس قدر اولیاء ہیں جن کا ذکر ہم اوپر کر آئے ان میں سے کوئی موجود تھا یا نہیں، اگر تھا تو دادی نےاس سے اجازت لے لی تھی یا نہیں۔ اگر نہ لی تھی تو بعد وقوع نکاح قبل واپسی پدر اس نے اجازت دے دی تو بیشک یہ نکاح صحیح وتام ونافذ ہوگا کہ باپ اسے رد نہیں کرسکتا۔
فی الفتح القدیر لوحضر الاقرب بعد عقد الابعد لایرد عقدہ وان عادت ولایتہ بعودہ ۱؎۔
فتح القدیر میں ہے کہ اگر ابعد کے نکاح کردینے کے بعد اقرب آجائے تو ابعد کے نکاح کو رد نہ کرسکے گا اگرچہ اقرب کے واپس آنے پر اس کی ولایت لوٹ آئی ہے۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیرباب الاولیاء والاکفاءالمکتبۃ النوریہ الرضویہ سکھر ۳/۱۸۴)
مگر یہ ولی جس نے اول یا بعد اجازت دی، اگر زینب کا دادا نہیں جیسا کہ صورت سوال سے یہی ظاہر ہے تویہ نکاح اس کی اجازت سے نافذ سہی لازم اب بھی نہ ہوا زینب کو بعد بلوغ اختیار ملے گااگر پہلے سے نکاح کی خبرہے تو بالغہ ہوتے ہی فوراً فوراً ورنہ بلوغ کے بعد جس وقت خبر ملے اسی وقت معاً اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کردے کہ اس صورت میں حاکم اس نکاح کو فسخ کردے گا اگرچہ پیش ازبلوغ زینب ہمبستری بھی واقع ہولی ہو مگر ازانجا کہ زینب دوشیزہ ہے دیر لگانے کا اختیار نہ ہوگا اگر پہلے سے خبرہے تو بالغہ ہونے پر ورنہ خبر پانے پر بلاعذر ضرورت ایک لمحہ کی دیر کرے گی تو اختیار ساقط اور نکاح لازم ہوجائے گا اگرچہ وہ اس مسئلہ سے ناواقف ہو اور انجانی کے سبب فوراً مبادرت نہ کی ہو،
درمختار میں ہے:
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام من کفو وبمھر المثل صح ولکن لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ ولوبعد الدخول بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکر بالسکوت لومختارۃ عالمۃ باصل النکاح ولایمتدالٰی اٰخر المجلس وان جھلت بہ۲؎ اھ ملتقطا۔
اگر باپ دادا کے غیر نے نکاح دیا خواہ ماں ہو بشرطیکہ کفو میں اور مہر مثل سے کیا ہو تو وہ نکاح صحیح ہے لیکن لڑکی اور لڑکے کو بالغ ہونے کے بعد فسخ کا اختیار ہوگا فسخ کا اختیار لڑکی کو دخول کےباوجود بلوغ پر یا بلو غ کے بعد نکاح کے علم پر بھی ہوگا اور فسخ کے لئے قضاشرط ہے، اور باکرہ کا اس موقعہ پر خاموش رہنا اس کے اختیار کو باطل کردے گا بشرطیکہ وہ اپنے نکاح کاعلم رکھتی ہو اور عاقلہ ہو، اس کا یہ اختیار مجلس علم کے آخرتک باقی رہے گا اگرچہ وہ اس مسئلہ سے جاہل ہو، اھ ملتقطاً (ت)
( ۲؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۹۳۔ ۱۹۲)
اور اگر دادی سے بالاتر جوولی موجود تھا باپ کے آنے سے پہلے اس نے رد کردیا تو باطل ہوگیا باپ کو فسخ کی کیا حاجت، اور اگر ہنوز نہ اس ولی نے اجازت دی نہ رد کیا تھاکہ زید آگیا تو اب وہ توقف اس ولی سے منتقل ہوکر خود زید کی اجازت پر رہے گا اگر رد کردے گا اسی وقت باطل ہوجائے گا۔
درمختار اور تبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے زیلعی کی عبارت میں، اورہندیہ میں زیلعی سے منقول کہ اقرب کے واپس آنے پر ابعدکی ولایت باطل ہوجائے گی، اور ابعد کاکیاہوا نکاح باطل نہ ہوگا کیونکہ یہ اس کی کامل ولایت میں حاصل ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۸۵)
(تبیین الحقائق باب الاولیاء والاکفاء مطبعہ امیریہ کبرٰی مصر ۲/۱۲۷)