اصح یہ ہے کہ اگرا یسے مقام پر ہو کہ اس کی واپسی کے انتظار اوراس کی رائے حاصل کرنے سے موجودہ کفو فوت ہوجائے گا تو ایسے مقام پر ولی اقرب کی غیبت منقطعہ ہوگی، اوراسی کی طرف کتاب میں اشارہ ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۱۵)
یہ بات فقہ سے اقرب ہے کیونکہ یہاں اقرب کی ولایت کو باقی رکھنے میں بچی پر شفقت نہیں ہے۔ (ت)
(۳؎ الہدایہ باب فی الاولیاء والاکفاء المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲/۲۹۹)
تو ابعد کے لئے حصول ولایت تین شرط پر مشروط:
اول یہ ابعد بغیبت اقرب جس کے نکاح میں دے صغیرہ کا کفو ہو،
فانہ ان لم یکن کفوا فای شئی یفوت بفوتہ والام تمس الحاجۃ۔
اگر وہ کفو نہ ہو تو پھر کس چیز کے فوت ہونے کا خطرہ اور ماں کو کس کی حاجت محسوس ہوئی۔ (ت)
دوم ہو کفو ولی اقرب کا جواب آنے تک نہ رکے ورنہ ہرگز ابعد کو اختیار نہ ہوگا، جامع الرموز ومجمع الانہر میں ہے:
لو انتظرہ الخاطب لم ینکح الابعد ۴؎.
اگر منگنی طلب کرنے والا ولی اقرب کا انتظار کرتاہے تو پھرولی ابعد نکاح نہ کرے۔ (ت)
(۴؎ مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر باب فی الاولیاء والاکفاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۳۳۹)
منحۃ الخالق میں ہے:
ان رضی الخاطب ان ینتظر الی استیذان الولی الاقرب لم یصح للابعد العقد ۵؎۔
اگر منگنی والا ولی اقرب سے اجازت حاصل کرنے پر راضی ہے تو ابعد کا نکاح درست نہ ہوگا۔ (ت)
(۵؎ منحۃ الخالق حاشیۃ علی البحرالرائق باب الاولیاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/۱۲۶)
سوم اس جاری کرنے والے کفو کے سوااورکوئی کفو خواستگار نکاح ایسا حاضر نہ ہو جو جواب آنے تک انتظار پر راضی ہو۔
فانہ حینئذ لایفوتھا الکفوالخاطب بالفعل انما یفوت ان فات احد ھما ولیس فی ذلک ابطال حقھا ولاتفویت مصلحتھا حتی تسلب الولایہ من قریب شفیق الی بعید سحیق وھذا ظاھر لاسترۃ علیہ۔
کیونکہ اس صوت میں لڑکی کے لئے کفووالا رشتہ فوت نہ ہوگا۔ ہاں دونوں میں سے کوئی ایک فوت ہوا، مگر اس سے لڑکی کا حق باطل ہوا نہ اس کی مصلحت فوت ہوئی جس کی بناپر اقرب ولی کی ولایت سلب کی جائے جو کہ نہایت شفیق ہے اور بعید غیر شفیق کو دی جائے ، یہ بالکل ظاہر بات ہے۔ (ت)
یہاں اولا زیدکا بھتیجا جس کے ساتھ تزویج زینب کا ارادہ وہ اپنے خط میں لکھ چکا ظاہراً صریح کفو خواستگار موجودہے یہ دوسرا جس کے ساتھ نکاح کیا گیا اگر کفو بھی تھا اور اتنی دیر میں ہاتھ سے نکل جاتا تو دوسرا توموجود تھا تو وہ ضرورت جس کے لئے ولی ابعد کو اختیار ملنا متحقق نہ ہوئی، ولہذا علامہ خیر الدین رملی حاشیہ بحرالرائق مسئلہ عضل ولی اقرب میں فرماتے ہیں:
الولایۃ بالعضل نیابۃ انما انتقلت للقاضی لدفع الاضرار بھا ولایوجد مع ارادۃ التزویج بکفؤ غیرہ ۱؎۔
رکاوٹ کی وجہ سے ولایت قاضی کو بطور نیابت منتقل ہوتی ہے تاکہ وہ لڑکی کےضرررسانی کا دفاع کرسکے، جبکہ ایک کفو کی بجائے دوسرے کفو کو نکاح دینا لڑکی کے لئے ضرر نہیں ہے۔ (ت)
:ان کان الکفو الاٰخر حاضرا وامتنع الاب من تزویجھا من الاول واراد تزویجھا من الثانی لایکون عاضلا لان شفقتہ دلیل علی انہ اختار لھا الانفع ۲؎۔
اگر دوسرا کفوموجود ہے اور باپ پہلے کو نکاح نہ دے اور وہ دوسرے کو دینا چاہتاہے تو اس کو باپ کی رکاوٹ نہ کہا جائے گا کیونکہ اس کی شفقت پدری اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بچی کے لئے زیاد مفید کوپسند کرتاہے۔ (ت)
(۲؎ منحۃ الخالق حاشیہ علی البحرالرائق فصل فی الاکفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/۱۲۷)
ثانیاً جب خط مذکور آنے اورارادہ زید ظاہر ہوجانے کے بعد یہ نکاح واقع ہوا تو ظاہر کہ یہ جلدی اس لئے نہ تھی کہ کفؤ حاضر کو اتنی مہلت نہیں زیدکا جواب آنے تک بیٹھا نہ رہے گا بلکہ قصداً اس کی رائے کے خلاف جان کر بالا کارروائی کرلی گئی کہ وہ نہ آنے پائے اور اپنامطلب ہوجائے یہ ہر گز نہ ضرورت نہ مصلحت نہ مراد شرع سے اسے مناسبت بلکہ مقصود شرع سے صاف مناقضت شرع مطہر نے مراتب ولایت کی ترتیب اسی دن کے لئے رکھی تھی کہ جس کی عقل کامل صغیر السِّن پر شفقت وافران بے چاروں کے کام آرام کا انتظام اہتمام اس کے ہاتھ میں دیا جائے نہ کسی کم شفقت یا ناقص العقل کے قبضے میں، اگر ترک انتظار اسی کا نام رکھا جائے کہ ولی اقرب کی رائے اپنے خلاف معلوم ہے لہذا اس سے دریافت کا انتظار نہیں کرتا کہ وہ پوچھے سے منع کردے گا تو ایسی غیبت توہروقت نقد وقت ہوسکتی ہے، آخر مذہب معتمد پر غیبت منقطعہ میں سفر درکنار شہر سے باہر ہونابھی شرط نہیں کما فی الخانیۃ والبحر والدرر وغیرھا (جیساکہ خانیہ، بحر اور درر وغیرہ میں ہے۔ ت) صغیرہ کا مہربان باپ اس کی مصلحت کاخواہاں اس کی مضرت سے ترساں جب مسجد میں نماز کو جائے گھر میں کوئی عورت ناقصۃ العقل والدین اپنی خواہش کے مطابق جس کفو کو چاہے بیٹی دے دے اگرچہ باپ جانتا ہو کہ اس سے رشتہ میں صغیرہ کی شامت ہے توشرع مطہر میں باپ کی تقدیم اور اس کی رائے وشفقت پر اس قدر اعتماد عظیم (کہ اگر وہ ایک بارکفو کے ہوتے غیر کفو سے بیاہ دے تو تمام جہان میں کسی کو اختیار اعتراض نہیں کہ اس نے کفاءت سے بڑھ کر کوئی مصلحت سوچ لی ہوگی۔
فی ردالمحتار انہ لوفور شفقتہ بالابوۃ لایزوج بنتہ من غیر کفو اوبغبن فاحش الالمصلحۃ تزید علی ھذا الضرر کعلمہ بحسن العشرۃ معھا وقلۃ الاذی ونحو ذٰلک ۱؎
ردالمحتار میں ہے کہ وہ پدری شفقت کی بنا پر اپنی بیٹی کا نکاح غیر کفو اور انتہائی کم مہر سے نہیں کریگا مگر جبکہ اس ضرر کی نسبت سے زیادہ فائدہ اور مصلحت پیش نظر ہو مثلا لڑکی کے لئے اچھی معاشرت اور لڑکی کو اذیت سے تحفظ وغیرہ مقصود ہو (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۰۵)
سب بیکار ومعطل ہوکر رہ گئے ان ھذا البعید من الفقہ ای بعید (یہ فقہ سے بہت بعید ہے۔ ت)بلکہ ایسی باگ چھوڑنے میں سخت فتنوں کا احتمال قوی ہے مثلا زن بے خرد اپنے کسی عزیز کے ساتھ بوجہ قرابت خواہ کسی طمع سے یادلالہ خبائث کی باتوں میں آکر کسی شخص سے دختر کا نکاح چاہتی ہو پدر شفیق ہو آگاہ ہو کہ یہ بد مذہب یاکم نسب ہے اورکسی وجہ سے کفو نہیں وہ منع کردے اس کے جاتے ہی یہ ناقصۃ العقل اس بُری جگہ لڑکی اٹھادے اوردعوی کرے کہ یہ کفو تھا انتظار میں فوت ہوجاتا لہذا مجھے ولایت ملی اب کہیں یہ ہوگا کہ ذی عزت آدمی معاذاللہ ایسے معاملات کچہری تک لے جاتے غیرت کرے اور قہر درویش برجان درویش کہہ کر خاموش رہے تو نابالغہ کو کیسا ضرر عظیم پہنچا اگر دعوی کرے توعدم کفاءت کا ثبوت دینا دشوارہو خصوصا مثل مذہب میں کہ بہت بد مذہب خصوصا روافض ایسی جگہ تقیہ کی بڑی ڈھال رکھتے ہیں توایسی اجازتوں میں کیسی آفتوں کا فتح باب ہے والعیاذ باﷲ العزیز الحکیم (عزت وحکمت والے اللہ کی پناہ۔ ت)۔