Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
181 - 1581
سوال پنجم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سو کوس سے زائد سفر میں گیا ہے اس کے مکان پر ا س کی والدہ اور اس کی دختر زینب نامی اور اس کا پھوپھی زاد  بھائی خالد موجودہیں، زید نےاپنی والدہ کو لکھا کہ زینب کانکاح بغیر میری اجازت کے نہ کرنا میں خود سفر سے آکر  اپنے برادر کے  پسر کے ساتھ کروں گا، مگر اس کی والدہ نے بغیر دریافت کئے زید کے اور بغیر دریافت کئے خالد کے جوموجود تھا اپنی رائے سے اپنی پوتی زینب نابالغہ کا نکاح بہت دور کے عزیزوں میں کردیا اس صورت میں زید سفر سے آنے کے بعد فسخ نکاح کراسکتا ہے یا نہیں؟ اور خالد جو بحالت عقد اپنے مکان پر موجود تھا اور اس کی رائے کے خلاف نکاح ہوگیا توآیا یہ بھی زینب نابالغہ کا نکاح فسخ کراسکتاہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: الد تو یہاں کوئی چیز نہیں۔ نہ اسے کچھ اختیار ہے کہ ابن عمۃ الاب ذوی الارحام سے ہے۔ اور دادی بالاتفاق ان پر مقدم۔
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالو لایۃ للام ثم لام الاب الی قولہ ثم ذوی الارحام ۲؎.
درمختار میں ہے: نکاح میں ولی، وراثت وحجب کی ترتیب پر عصبات بنفسہٖ ہوتے ہیں، اگر عصبات نہ ہوں تو پھر ولایت ماں کو پھر داد ی کو ہوتی ہے، ان کا بیان ذوالارحام تک ہوا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    باب الولی       مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۳)
مگر تقریر سوال سے جو صورت ظاہر ہو وہ صاف شہادت دے رہی ہے کہ یہ نکاح اس وجہ پر واقع نہ ہوا جو شرع مطہر نے غیبت ولی اقرب میں ولی ابعد کے لئے رکھی ہے قطع نظر اس سے یہاں دادی ولی ابعد ہے بھی یا نہیں۔ (کہ ابعد وہ جو اقرب کے بعد مرتبہ ولایت میں ہو غیبت پدر میں دادی اس وقت ولی ابعد ہوسکتی ہے کہ دادا، بھائی، بھتیجا، چچا، چچا کا بیٹا سگے سوتیلے، غرض داداپردادا کی اولاد کو کوئی مرد عاقل بالغ کتنے ہی دور کے رشتے کا اصلا موجود نہ ہوں،  نہ زینب کی ماں حاضر ہو کہ یہ سب مراتب ولایت میں دادی پر مقدم کماتقدم وقد حققنا تقدم الام علی ام الاب فیما علقنا علی ردالمحتار) (جیساکہ پہلے گزر چکااور ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں تحقیق کی ہے کہ ماں کو دادی پر تقدم حاصل ہے۔ ت) مذہب معتمد میں بحالت غیبت اقرب ولی ابعد کو بے اجازت اپنی رائے سے صغیر ہ کانکاح کردینے کا اختیار صرف اس ضرورت سے دیا جاتاہے کہ سردست صغیرہ کے لئے کوئی کفو خواستگار حاضر وموجود ہے اور اسے اتنی مہلت منظور نہیں کہ ولی اقرب واپس آئے یا اس کا جواب لیاجائے۔ اگر اتنا انتظار کرتے ہیں تو اس دیرکے باعث کفو موجود نکاح پر راضی نہ ہوگا اور موقع ہاتھ سے نکل جائے گا فوات کفوکے سبب صغیرہ کو نقصان پہنچے گا کہ کفو ہر وقت میسر نہیں آتا، کیامعلوم پھر ہاتھ نہ لگے ، لہذا بضرورت اس ولی اقرب کے بعد کے درجے کا جو ولی حاضر ہے شرع مطہر اسے اجازت دیتی ہے کہ تو کردے وجہ یہ کہ احراز کفو شرع مطہر میں سخت مہم ومہتم بالشان ہے اور کفو حاضر کاہاتھ سے کھودینا ضرور نقصان، بلکہ سرے سے نابالغ پر ولایت تزویج کی تشریع اگرچہ باپ ہی کی ہو اسی حکمت کے لئے واقع ہوئی ورنہ بچپن میں نکاح کی کیا ضرورت،
فتح القدیرمیں ہے:
النکاح یراد لمقاصدہ ولاتتوفر الابین المتکافئین عادۃ ولایتفق الکفؤ فی کل زمان فاثبات ولایۃ الاب بالنص بعلۃ احراز الکفؤ اذا ظفر بہ لحاجۃ الیہ اذ قد لایظفر بمثلہ اذا فات بعد حصولہ ۱؎
نکاح بعض مقاصد کے لئے ہوتاہے جو عادتاً دوہم مثل حضرات سے پورے ہوتے ہیں، اور یہ مماثلت اورکفؤ ہر وقت میسر نہیں ہوتی، اور باپ کو ولایت نص سے ثابت ہوئی ہے تاکہ وہ ضرورت کے وقت کفؤکو حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے، کیونکہ ہر وقت کفو میسر آنے کے بعد ضائع ہوجانے  پر حاصل نہیں ہوتی۔ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر    باب الاولیاء        المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ سکھر        ۳/۱۷۳)
حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
یاعلی ثلاث لاتؤخرھا الصلٰوۃ اذا اٰنت والجنازۃ اذا حضرت والایم اذا وجدت لھا کفواً ۱؎۔ رواہ الترمذی والحاکم عن امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ۔
اے علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرنا، نماز جب اس کا وقت آئے، اور جنازہ جب حاضر ہو، او رزن بے شوہر جب ا س کے لئے کفو پائے (اس کو ترمذی اور حاکم نے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
 (۱؎ جامع الترمذی    ابواب الصلوٰۃ ص۲۴،     ابواب الجنائز ص، ۱۲۷     امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی     ج ۱)

(المستدرک للحاکم    کتاب النکاح    باب تزوجواالودود والولود    دارالفکر بیروت    ۲/۶۳۔ ۱۶۲)
دوسری حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذاجاء کم الاکفاء فانکحوھن ولاتربصوا بھن الحدثان ۲؎۔ رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جب تمھارے پاس کفو آئیں تو لڑکیاں بیاہ دو اور ان کے لئے حادثوں کا انتظار نہ کرو (اس کو مسند فردوس میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے۔ ت)
 (۲؎ کنزالعمال بحوالہ فر    عن ابن عمر حدیث ۴۴۹۳    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۶/۳۱۷)
یعنی دیر میں شاید کوئی حادثہ پیش آئے کہ فی التاخیر اٰفات (تاخیر میں کئی آفتیں ہیں۔ ت) چند حدیثوں میں ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا اتاکم من ترضون خلقہ ودینہ فزوجوہ الاتفعلوا تکن فتنۃ فی الارض وفساد عریض ۳؎۔ رواہ الترمذی وابن ماجۃ والحاکم عن ابی ھریرۃ وابن عمر والترمذی والبیھقی فی السنن عن ابی حاتم المزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
جب تمھارے پاس وہ شخص آئے جس کا چال چلن اور دین تمھیں پسند ہو تو اس سے نکاح کردو، ا یسا نہ کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ (اسے ترمذی، ابن ماجہ اورحاکم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اورابن عدی نے ابن عمر، اور ترمذی اوربیہقی نے سنن میں ابوحاتم المزنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
 (۳؎ جامع الترمذی ابواب النکاح     باب ماجاء من ترضون دینہ الخ    امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی     ۱/۱۲۸)

(المستدرک            کتاب النکاح        دارالفکر بیروت        ۲/۱۶۵)
Flag Counter