Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
180 - 1581
سوال چہارم

اس مسئلہ میں اگر ولی ابعد نے غیر برادری میں نکاح کردیا توکیا حکم ہوگا؟
الجواب:ولی اقرب کہ غائب ہے پدر یا جد صحیح ہے ہر ایک غیر معروف بسوء اختیار یا معروف کہ اس سےپہلے اپنی اولاد سے کسی بچے کا نکاح غیر کفو سے یامہر مثل میں غبن فاحش کے ساتھ کرچکا ہو یا ان دونوں کا غیر، اور جبکہ غائب پدر ہوتو ولی ابعد جد معروف بسوء اختیار یا غیر معروف یا کوئی اور، یہ نوصورتیں ہوئیں اور ہر تقدیر پر غیبت منقطعہ ہے یا غیر، وہ غیربرادری والاکفو ہے یا غیر یعنی نسب یا مذہب یا حرفت یا روش یا مال غرض کسی بات میں اس سے ایسی کمی رکھتاہے کہ اس سے نکاح اس کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار ہے، نکاح مہر مثل میں غبن فاحش کے ساتھ ہوا مثلا دختر کا مہر مثل ہزار تھا پانسو باندھے یا زوجہ پسر کا پانسو تھا ہزار باندھے یا غیر، یہ جملہ بہتر ۷۲ صورتیں ہوئیں، ان کے حکم کا ضابطہ بتوفیق اللہ تعالٰی یہ ہے کہ اگر غیبت غیر منقطعہ تھی اورولی غائب پدر یا جد  غیر معروفین بسوء اختیار ہیں تو یہ نکاح مطلقا ان کی اجازت پر موقوف ہے اگرچہ غیر کفو غبن فاحش سے ہو، اور اگر غائب مذکور معروف بسوء اختیار تو نکاح مطلقا باطل محض ، اگرچہ غیبت پدر میں جد صحیح غیر معروف بسوء اختیار نے کیا ہو۔
والوجہ فی ذٰلک ان الغیبۃ اذالم یکن منقطعۃ لاتکون الولایۃ لغیرہ کما قدمنا فی مسئلۃ الاولی والاب والجد لھما التزویج بغیر الکفو وبالغبن الفاحش اذالم یعرفا بسوء الاختیار لااذا عرفا بہ کما فی الدرالمختار ۱؎ وغیر ہ من الاسفار
اس میں وجہ یہ ہے کہ جب تک غیبت منقطعہ نہ ہو تو غیر کو ولایت حاصل نہیں ہوتی جیسا کہ پہلے مسئلہ میں ہم نے ذکرکیا ہے، اور باپ اور دادا کو اس وقت غیر کفو اور گراں مہر یا انتہائی کم مہر کے ساتھ نکاح کی اجازت ہے جب  وہ سوء اختیار میں معروف نہ ہوں، اس میں معروف ہونے کی صورت میں جائز نہیں،
 (۱؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
وقد قال فیہ وفی متنہ تنویرالابصار فی فصل الفضولی کل تصرف صدرمنہ کتزویج ولہ مجیزای من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا ومالامجیز لہ حالۃ العقد لاینعقد ۲؎ اھ ،
جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے جبکہ درمختار اور اس کے متن تنویر الابصار میں فضولی کی بحث میں مذکور ہے کہ تمام وہ تصرفات جن کے صادر ہونے پر وہ کسی کی اجازت پر موقوف ہوں تو اجازت دینے والے کی موجودگی میں وہ تصرفات موقوف قرار پائیں گے اور اگرایسے تصرفات کی اجازت دینے والاموجود نہ ہو تو پھریہ تصرفات منعقد ہی نہ ہوں گے اھ،
(۲؎ درمختار شرح تنویرالابصار    فصل فی الفضولی     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/۳۱ )
فاذالم یعرفا بہ فھذا عقد وقع ولہ من یملک تنفیذہ فوقف وان عرفا فلا فلا  عہ  فلا توقف بتزویج جد لم یعرف بہ بغیبۃ اب معروف بہ وان کان الجدیملکہ اذالم یعرف بہ فان ھذا انما ھو حین قیام ولایتہ وھو عند غیبۃ للاب غیبۃ غیر منقطعۃ لایلی اصلا ولومن کفو فضلاعن غیرہ۔
تو جب با پ دادا سوء اختیار سے معروف نہ ہوں تو یہ عقد درست ہوکر اجازت پر موقوف رہے گا کیونکہ اس عقد کو جائز کرنے والا خود موجود ہے، اور اگر سوء اختیار میں معروف ہوں تو منعقد نہ ہوگا اور نہ موقوف ہوگا، تو اس صورت میں سوء اختیار میں غیر معروف دادا اگر اس باپ کی غیبت غیر منقطعہ میں جو سوء اختیارمیں معروف ہو نکاح کردے تو یہ نکاح موقوف نہ رہے گا اگرچہ دادا غیر معروف بسوء اختیار خود نکاح  کر دینے کا مالک ہوتاہے مگریہاں اس لئے نہیں کہ باپ غیبت منقطعہ میں غائب نہیں بلکہ وہ غیر منقطعہ غیبت میں غائب ہے تو ایسی صورت میں دادا کو ولایت منتقل نہیں ہوتی اگر چہ دادا کفو میں بھی کرے چہ جائیکہ غیر کفو میں کرے۔ (ت)
 (عہ: ای ان عرفا بسوء الاختیار فلامجیز فلاتوقف بل یبطل ثم فرع علیہ فقال فلاتوقف بتزویج جد الخ ۱۲ منہ (م)
یعنی اگر وہ معروف بسوء اختیار ہیں تو یہ نکاح موقوف نہیں بلکہ باطل ہوگا، پھر اس پر تفریعاً کہا فلاتوقف بتزویج جدا لخ ۱۲ منہ (ت)
اور اگر ولی غائب غیر اب وجد ہے تو کفو سے بے غبن فاحش اجازت غائب پر موقوف لقیام ولایتہ بعدم الانقطاع (عدم انقطاع کی بناپر ولایت باقی رہنے کی وجہ سے۔ ت)او رغیر کفو یاغبن فاحش سے مطلقا باطل لعدم المجیز (جائز کرنے والا نہ ہونے کی وجہ سے مطلقا باطل ہے۔ ت) اگرچہ اس ولی غائب بغیبت غیر منقطعہ کے سوا صغیرو صغیرہ کا باپ یا دادا غیر معروف بسوئے اختیار غائب بغیبت منقطعہ زندہ موجود ہوں کہ غیبت منقطعہ مثل موت ہے۔
بناء علی ماصحح فی البدائع انھا تنقل الولایۃ عن الاقرب الی من یلیہ فی القرب حتی لوزوجھا حیث ھو لم یجز والیہ یمیل کلام المبسوط و الھدایۃ والفتح بل ھما مصرحان بہ وسیأتی نصوصھما فی جواب الخامس وقواہ الزیلعی روایۃ ودرایۃ و علیہ فرع فی محیط السرخسی وذکر الشامی انہ الذی فی اکثر الکتب وقد قال فی الھدایہ والبحر ففوضناہ الی الابعد کما اذامات الاقرب ۱؎ اھ
بدائع میں مذکورہ تصحیح کی بناپر کہ ولایت اقرب سے منتقل ہوکر اس کے بعد والے قریبی کو حاصل ہوگی، حتی کہ اگراقرب نے جہاں پر وہ ہے وہاں نکاح کردیا ہو تو نافذ نہ ہوگا، اسی کی طرف مبسوط، ہدایہ اور فتح کا کلام مائل ہے، بلکہ آخری دونوں نے اس کی تصریح کی ہے ا ور ان کی بعض نصوص پانچویں سوال کے جواب میں آئیں گی اور اس کو زیلعی نے قوی قرار دیا ، درایۃً و روایۃً اور اس پر محیط سرخسی میں تفریع قائم کی اور شامی نے کہا کہ یہی اکثر کتب میں ہے جبکہ ہدایہ اور بحر میں کہا کہ ہم یہ ولایت ہمیشہ کے لئے دوسرے مرتبہ والے کو سونپ دیں گے جیساکہ اقرب کے فوت ہوجانے پر ہوتاہے اھ
 (۱؎ الہدایہ    باب الاولیاء والاکفاء    مکتبہ عربیہ کراچی    ۲/۲۹۹)

(بحر الرائق   باب الاولیاء والاکفاء    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۳/۱۲۶)
اما علی ما استظھر فی الخانیہ والظھیریۃ والتنویر والدر وعلیہ فرع الاسبیجابی فی شرح مختصر الطحاوی وعلیہ مشی فی البحر من انھا لاتنفی ولایتہ وانما تحدثھا لمن یلیہ فیکون کان ھنا ولیین مستویین کاخوین اوعمین فایھما عقد نفذ فالظاھر فیما ذکرنا التوقف اذالم یکن الاب اوالجد معروفا بسوء الاختیار لانہ وقع وھو مجیز فافھم۔
لیکن خانیہ ،ظہیریہ، تنویر اور در نے جس کو ظاہر قرار دیااور شرح مختصر الطحاوی میں اسبیجابی نے جس پرتفریع قائم کی ہے اور بحر نے اس کو اپنایا، وہ یہ ہے کہ اقرب غائب کی ولایت ختم نہ ہوگی،ہاں قربت میں دوسرے مرتبہ والے کے لئے بھی ولایت ثابت ہوجائے گی، گویا یوں دو مساوی قرار پائیں گے جیسے دو بھائی یا دو چچے برابر ہوں تو دونوں کو ولایت نفاذحاصل ہوتی ہے، جو بھی عقد کرے گانافذہوگا، تو ظاہر وہی ہے جو ہم نے ذکرکیا کہ باپ یا دادا  سوء اختیار سے معروف نہ ہوں تو نکاح موقوف رہے گا کیونکہ یہ حضرات نکاح کو جائز کرنیوالے موجود ہیں۔ غور کرو۔ (ت)
اور اگر غیبت منقطعہ تھی تو غیر کفویا غبن فاحش سے مطلقا بالکل مگر اس صورت میں کہ غائب پدرہو اور مزوج جد صحیح کہ نہ معروف بہ سوء اختیار ہو نہ اس تزویج کے وقت نشے میں کہ اس تقدیر  پر  یہ عقد نہ صرف صحیح ونافذبلکہ لازم ہوگا جو کسی طرح رد نہیں ہوسکتااو راگر نکاح کفو سے بے غبن فاحش ہے تو مطلقا تام ونافذ مگر ولی مزوج اگر جد ہے تو لازم بھی ہوگیا ورنہ غیر لازم کہ قاصروقاصرہ کو اگر پیش از بلوغ نکاح کی خبر ہے تو بلوغ ہوتے ہی ورنہ بعد جب خبر  پائیں اختیار ملے گا کہ اس پر معترض ہو کر قاضی شرع سے نکاح فسخ کرالیں۔
والمسائل ظاھرۃ وفی کتب المذھب دائرۃ وقد قال فی الخیریۃ قد نصوا علی ان غیر الاب والجد اذا زوج الصغیر او الصغیرۃ مع وجود احد ھما ان کان بغیبۃ وثبوت الولایۃ لہ بالغیبۃ المجوزۃ لذٰلک فلھما خیار البلوغ لانہ زوج بالولایۃ۱؎ اھ
یہ مسائل واضح اور مذہب کی کتب میں مذکور ہیں جبکہ خیریہ میں کہا کہ فقہا نے تصریح کی ہے کہ باپ اور دادا کی غیر موجودگی میں اگر کسی نابالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح کردیا تو اگر باپ اور دادا ایسے غائب ہیں جس کی بنا پر ا س غیر کو ولایت اور اجازت ہوسکتی ہے تو لڑکے اور لڑکی کو خیار بلوغ حاصل ہوگا کیونکہ غیر نے یہ نکاح اپنی ولایت سے کیا ہے اھ
(۱؎ فتاوٰی خیریہ        باب الاولیاء        دارالمعرفۃ بیروت    ۱/۲۵)
تنبیہ: کتبت ھھنا علی ھامش ردالمحتار مانصہ وانظر ھل اذا عادالاب اوالجد حتی عادت ولایتہ کما نصوا علیہ ھل یکون لہ ایضا الاعتراض قبل بلوغ الصغیرین ام ھو لھما خاصۃ حتی یبلغا والظاھر ھوالاول لانہ لدفع ضرر خفی کما فی الھدایۃ اوضرر غیر متحقق کما فی الفتح فینبغی ثبوتہ لمن لہ النظر وانما النظر لدفع الضرر فلم ذایؤخر مع امکان الدفع قبل ان یتقرر ثم ان قلنا بحصول ذلک للاب والجد ولم یعارضا حتی بلغ الصغیران فھل یکون ھذا الاعتراض عن الاعتراض مبطلا لخیار الصغیرین کما لوزوج الابوان بانفسھما الظاھر لالان النکاح اذا وقع لغیبتھما فقد نفذ غیر موقوف علی اجازتھما فلم ینسب الیھما ایقاعا ولانفاذ ا و اعراضھما عن اعتراضھما لایوجب ابطال حق الصغیرین کما اذالم یزاحما ظالما یتصرف فی مالھما فلیتأ مل ولیحرر ۱؎۱ھ ماکتبت۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تنبیہ: میں نے یہاں ردالمحتار کے حاشیہ پرلکھا ہے جس کی عبارت یوں ہے کہ غور کرنا ہوگاکہ کیا باپ یا دادا واپس آگئے تو لڑکے یا لڑکی کے بالغ ہونے سے قبل ان کو دوبارہ ولایت لوٹ آئیگی جس کی وجہ سے لڑکے اور لڑکی کے کئے ہوئے نکاح پر ان کو اعتراض کا حق ہوگا یا اب ان کو اعتراض کاحق نہیں بلکہ لڑکے یا لڑکی کو ہی اپنے بلوغ پر اختیار رہے گا جیساکہ عام فقہاء نے تصریح کی ہے جبکہ ظاہر پہلی صورت ہے کیونکہ کسی مخفی ضرر کی بناء پر جیساکہ ہدایہ میں ہے یا احتمال ضرر کی بنا پر جیساکہ فتح میں ہے صاحب شفقت کو اختیارولایت ثابت ہے جبکہ ولایت شفقت دفع ضرر کے لئے ہوتی ہے، تو بچوں کے بـلوغ کی انتظا رتک کیوں مؤخر کی جائے جبکہ ضرر واقع ہوجانے سے قبل اس کے دفاع کا امکان موجود ہے، پھر قابل غور یہ ہے کہ جب ہم تسلیم کرلیں کہ باپ دادا کو ولایت دوبارہ مل گئی ہے اب وہ نابالغ کے نکاح پر تعرض نہ کریں حتی کہ وہ بچے بالغ ہوجائیں تو کیا باپ دادا کا تعرض نہ کرنا بچوں کے خیا ر بلوغ کو ختم کردے گا جیساکہ خو د باپ دادا نے نکاح کیا ہو تو بالغ کا خیار بلوغ باطل ہوتاہے،تو ظاہر یہی ہے کہ والدین کے عدم تعرض سے خیار بلوغ ختم نہ ہوگا کیونکہ نکاح کے وقت ان کے غائب ہونے کی بناپر ان کی اجازت پر موقوف نہ تھا تو نکاح کا نفاذ ان کی طرف منسوب نہ رہا، تو اب عدم تعرض او راعتراض نہ کرنے کی وجہ سے بچوں کو حاصل شدہ اختیار باطل نہ ہوگا، جیساکہ ظالم نے بچوں کے مال میں تصرف کیا اور باپ دادا نے تعرض نہ کیا ہو، اس میں غور چاہئے اور واضح کرنا چاہئے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 ( ۱؎ جدالممتار    باب الولی قول ۵۶۹    المجمع الاسلامی مبارکپور    ۲/۳۶۹)
Flag Counter