Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
179 - 1581
سوال سوم

یہ جو فقہاء لکھتے ہیں کہ ولی ابعد غیبت میں اقرب کے، نکاح کراسکتا ہے، یہاں ولی ابعدسے کیا مراد ہے عصبہ یا مطلق وارث؟ گوذوی الارحام میں سے ہو، اگر مراد عصبہ ہے تو حدیث عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے جو موطائے امام محمد کے باب الرجل بجعل امرامرأتہ بیدہا میں مخرج ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اپنی بھتیجی عبدالرحمن بن ابی بکر کی بیٹی کا نکاح عبداللہ بن زبیر سے کرادیا باوجود یکہ عبدالرحمن شام میں تھے، کیا جواب ہے کہ عمہ ذوی الارحام سے ہے۔

الجواب: ابعد میں افعل التفضیل اپنے باب پر نہیں بلکہ اس سے ہر ولی بعید مراد ہے مگر نہ مطلقا بلکہ وہی جو اس ولی اقرب کے متصل ہو یعنی باقی تمام اولیاء میں کوئی اس سے اقرب نہ ہو سب اس سے نیچے ہوں یا برا بر، مثلا باپ غائب اور جد وبرادران وعم موجود ہیں تو ولایت جد کے لئے ہے، نہ برادران وعم کے واسطے، اور جد نہ ہو تو سب برادران ہمسر کو، نہ عم کو،
فی ردالمحتار المراد بالابعد من یلی الغائب فی القرب کماعبربہ فی کافی الحاکم وعلیہ فلو کان الغائب اباھا ولھا جدوعم فالولایۃ للجد لاللعم ۱؎.
ردالمحتارمیں ہے کہ ابعد سے مراد ولی اقرب کے بعد دوسرے مرتبے والا ہے جیسا کہ اس کی تعبیر امام حاکم کی کافی میں ہے، اس بناپر اگر والد غائب کے بعد لڑکی کا دادا اور چچا دونوں موجود ہوں تو ولایت داداکو ہوگی ،چچا کو نہ ہوگی۔ (ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار    باب الولی    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۱۵)
اور جبکہ ذوی الارحام بلکہ مولی الموالاۃ بھی ہمارے نزدیک سلسلہ اولیاء میں داخل تو من یلی الغائب فی القرب (جو قرب میں  بعد والے مرتبہ پر ہو۔ ت) انھیں بھی شامل، مثلا والد ولی اقرب غائب ہے تو اس کے من یلی فی القرب یہی ذوی الارحام ہیں، اور ذوی الارحام اقرب الاولیاء الموجودین ہوں تو ان کی غیبت میں من الموالاۃ من یلی ہے کما ھو قضیۃ الترتیب وھو ظاھر جدا (جیسا کہ ترتیب کا تقاضا ہے، یہ بالکل ظاہر ہے۔ ت)
درمختار میں ہے:
ثم لولدالام ثم لذوی الارحام ثم مولی الموالاۃ ثم للسلطان ۲؎ الخ۔
پھر والدہ کے بیٹے اور پھر ذوی الارحام کو پھر معاہدہ والے کو پھر سلطان کو حق ولایت ہے الخ (ت)
 (۲؎درمختار   باب الولی    مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۳)
اور ردالمحتار میں اختیار سے ہے:
ولاتنتقل الی السلطان لان السلطان ولی من لاولی لہ وھذہ لھا اولیاء ۳؎۔
سلطان کو ولایت منتقل نہ ہوگی کیونکہ سلطان اس وقت ولی بنتا ہے جب دوسرا کوئی ولی نہ ہو جبکہ ا س کے اولیاء موجود ہیں۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار   باب الولی    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۱۵)
جب ہمارے نزدیک ذوی الارحام ومولٰی الموالاۃ بھی سلطان پر مقدم تو بحکم ھذہ لھا اولیاء (یہ اس کے اولیاء ہیں۔ ت)یہاں بھی لاتنتقل الی السلطان (سلطان یعنی حکم کو منتقل نہ ہوگی۔ ت) کا حکم محکم مگر صرف اس قدر کہ ذوی الارحام بھی کبھی بحالت غیبت اقرب ولایت پاتے ہیں، حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے رفع شبہہ مذکورہ نہ کرے گا۔ اوپر معلوم ہوچکا کہ مطلقا ہر بعید ولی نہیں ہوجاتا بلکہ وہی جو اس اقرب کے بعد سب سے اقرب ہے، پدر وعمہ کے درمیان تمام عصبات وتمام اصحاب فروض وبعض ذوی الارحام بکثرت اولیاء ہیں، حضرت حفصہ بنت عبدالرحمن بن الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہم کے لئے بحالت غیبت پدر ان میں کسی کااصلا موجود نہ ہونا یہاں تک کہ ولایت حضر ت عمہ رضی اللہ تعالی عنھا کے لیے ثابت ہو بہت مستبعد ہے ،بلکہ جواب یہ ہے کہ واقعۃ  عین لا عموم لھا (یہ خاص واقعہ ہے اس میں عموم نہیں ہے۔ ت) وقائع عین ہر گز نہ احتمال کے محل ہوتے ہیں، ممکن کہ حضرت حفصہ وقت نکاح بالغہ ہوں توان پر ولایت مجبرہ کسی کو نہیں۔ ممکن کہ حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی تزویج کے لئے تجویز وپسند فرمایا اور اقرب الاولیاء الحاضرین کو ان سے نکاح کردینے کا حکم کیا اور انھوں نے حسب حکم والا نکاح کردیا ہو تو نکاح ہوا تو ولی مستحق ہی کی ولایت سے، مگر حضرت کے حکم حضرت کی رائے حضرت کی تجویز سے ہونے کے باعث حضرت کی طرف منسوب ہوا ایسی نسبتیں شائع وذائع ہیں جیسے:
فتح الامیر الحصن وقطع السلطان اللص وغسل علی فاطمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
امیرنے قلع فتح کیا، سلطان نے چور کا ہاتھ کاٹا، علی نے فاطمہ کوغسل دیا رضی اللہ تعالٰی عنہما (ت)
جب منذر بن زبیر نے حضرت عبدالرحمن کی ناراضی پاکر انھیں اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو تفریق کردیں حضرت عبدالرحمن نے اس پر اپنی خواہر مطہر ہ سے عرض کی ماکنت لااردامرا قضیتہ ۱؎ مجھے نہیں پہنچتا کہ اس بات کو رد کروں جس کاآپ نے حکم فرمایا،
 (۱؎ مؤطا الامام مالک کتاب الطلاق مالایبین من التملیک   میرمحمد کتب خانہ کراچی    ص۵۱۳)
اور اگر" انھا زوجت حفصۃ" کے معنی یہی رکھے جائیں کہ ام المومنین نے بنفس نفیس تزویج فرمائی تو ممکن کہ ولی مستحق سے ذکر فرماکر اجازت لے لی ہو، اب یہ صورت تو کیل کی ہوجائیگی بہر حال کوئی مقام شبہہ واشکال نہیں۔ یہ وہ وجوہ ہیں کہ خاطر فقیر میں آئیں، او رامام مالک رحمہ اللہ تعالٰی عنہ نے ام المومنین کے خصائص سے شمار فرماکر بوجہ اس قرب کے جو حضرت قدسی منزلت کو حضرت پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے تھا، ان کی یہ تزویج جائز رہی،
زرقانی علی مؤطا للامام مالک میں ہے:
قال مالک فی الموازیۃ انما کان ذلک لمثل عائشۃ لمکانہا من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۲؎ الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
امام مالک نے موازیہ میں فرمایا: یہ صرف حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو حق تھا کیونکہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے خاص تعلق تھا الخ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک    کتاب الطلاق        مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر    ۳/۱۷۲)
Flag Counter