مجھے یہاں پر ردالمحتار پر اپنا حاشیہ یاد ہے جب انھوں نے بحر کے قول کہ ''اس پر فتوی ہے'' الخ کو بیان کیا حاشیہ کی عبارت یہ ہے: میں کہتا ہوں کہ خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ ریل گاڑی نے سفر کی مسافت کو ایک دوگھنٹہ کی مسافت میں تبدیل کردیا ہے تو مسافت کو بنیاد بنانا کیسے درست ہوگا، بلکہ اکثر مشائخ کے فتوی پر اعتماد ضروری ہے، میرا حاشیہ ختم ہوا،
(۴؎ جدالممتار باب الولی قول ۶۱۴ المجمع الاسلامی مبارکپور، بھارت ۲/۳۸۴)
اقول وشیئ اٰخر وھو ان القول الثانی بنی الامر علی الحاجۃ والتضررولاشک ان الولایۃ انما ھی للنظر ودفع الضرر فکان من الفقہ اثبات الولایۃ للذی یلی الاقرب عند کونہ بحیث لووقت الامر علی رأیہ لتضررت بہ القاصرۃ وعدمہ عند عدمہ کما اذا کانت صغیرۃ جد ا ولاکفو یستعجل ولاحرج فی الانتظار ففیم یفتات علی الاب الشفیق ویوکل الامر الی بعید سحیق وربما لایومن ان یترک النظر لھا لمصلحۃ نفسہ اولجلب حطام فظھران فی القول الاول سلب الولایۃ حیث یحتاج الیھا کالمختفی فی البلد واثباتھا حیث لاحاجۃ الیھا کما فی ھذہ الصورۃ ھذا،
اقول ایک اور چیز ہے وہ یہ کہ دوسرے قول کی بنیاد حاجت اور نقصان پر ہے اور اس میں شک نہیں کہ ولایت کا اثبات شفقت اور دفع ضرر پر مبنی ہے، تو فقہ یہ ہوگی کہ اقرب ولی کے بعد والے کو ولایت تب ہی ہوسکتی ہے جب ولی اقرب ایسے مقام پر ہو کہ اگر اس کی رائے اور اجازت حاصل کی جائے تو نابالغہ کو نقصان ہو اور اگر نقصان نہ ہو تو پھر بعد والے کو ولایت نہ ہوگی، مثلا ایک چھوٹی بچی ہو جس کے لئے کفو کی کوئی عجلت نہیں اور نہ ہی اس کے نکاح کے لئے ولی اقرب کے انتظار میں کوئی حرج ہے تو پھر کیونکر ولی اقرب شفیق باپ کی ولایت کوختم کر کے دوسرے بعید غیر شفیق کو ولایت سونپی جائے جبکہ یہ ممکن ہے کہ وہ بعید اپنے ذاتی فائد ہ اور اپنی مصلحت کی خاطر بچی کے فائدہ کو نظر انداز کردے، تو ظاہر ہو ا کہ پہلے قول میں اقرب کی ولایت کے سلب ہونے کی بات وہاں ہوگی جہاں حاجت اور ضرورت ہوگی جیساکہ کوئی شہر میں گم ہوجائے اور حاجت پیدا ہوجائے، اور جہاں حاجت نہیں وہاں ولایت ثابت رہے گی، جیسا کہ مذکورہ صورت ہے،
ورأیتنی کتبت علی قول الدر وثمرۃ الخلاف الخ مانصہ،اقول وحیث المدار عند اھل القول الثانی علی فوات الکفو فکما لم یعتبر مسافۃ القصر شرطا للانتقال کذٰلک لانظر الیھا(ف ) عند عدم الفوات والاستعجال فلو وجدت ولم یفت الکفؤ بانتظارہ اواستطلاع رأیہ لم یجزتزویج الابعد علی الثانی خلافا للاول فالثمرۃ غیر محصورۃ فیما قال ھذاما ظھرلی فلیحرر ۱؎ اھ وھو کما تری ظاھر محرر لما علمت،
مجھے در کے قول''ثمرۃ الخلاف'' پر اپنا حاشیہ یاد ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول (میں کہتاہوں) جب دوسرے قول والوں کے ہاں مدار کفوکا فوت ہونا ہے اس بنیاد پر ولایت کے منتقل ہونے کے لئے جیسے مسافت سفر (قصر) شرط نہیں ہے ایسے ہی یہ مسافت سفر، کفو فوت نہ ہونے کے باوجود عجلت کے لئے بھی پیش نظر نہیں ہے، تو مسافت سفر ہونے کے باوجود اقرب کی انتظار اور اس کی رائے حاصل کرنے میں کفو فوت نہ ہو تو ولی ابعد کا نکاح کرنا درست نہ ہوگا، یہ دوسرے قول کا ماحصل ہے جبکہ پہلا قول اس کے خلاف ہے، تو ثمرہ اختلاف، ان کے بیان میں محصورنہ رہا ، یہ ہے جو مجھے ظاہر ہوا تو تحقیق چاہئے اھ تو یہ بیان ظاہر ہے جیسا کہ آپ معلوم کرچکے ہیں،
(۱؎ جدالممتار باب الولی قول ۶۱۶ المجمع الاسلامی مبارکپور بھارت ۲/۳۸۴)
(فـ: جدالممتار میں خط کشیدہ عبارت یوں ہے: لاتعتبر علۃ تامۃ لہ بل ان وجدت المسافۃ الخ۔ نذیر احمد)
ولما مرمن عبارات الملتقی و الذخیرۃ وغیرھما فان مفاھیم الخلاف معتبرۃ فی عبارات العلماء بالوفاق کما نصوا علیہ بالاطباق ثم رأیت فی مجمع الانھر فلوانتظرہ الخاطب لم ینکح الابعد ۲؎ فھٰذا عین مافھمت وﷲ الحمد واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
اور ملتقٰی ذخیرہ وغیرہما کی عبارات سے گزرا، کیونکہ بالاتفاق علماء کی عبارات میں مفہوم مخالف معتبرہے، جیساکہ اس پر سب کی نص موجود ہے، اس کے بعد میں نے ،مجمع الانہر میں دیکھا کہ اگر منگنی والاانتظار کرے تو ولی ابعد نکاح نہ کر دے، یہی میرا مؤقف ہے، وللہ الحمد، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی الاولیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۳۳۹)