Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
177 - 1581
تجویز الرد عن تزویج الابعد (۱۳۱۵ھ)

(ولی اقرب کی غیبت میں ولی ابعد کے نکاح پڑھانے کا حکم)
بسم اللہ الرحمن الرحیم

مسئلہ ۳۳۸ تا ۳۴۲: از پیلی بھیت محلہ منیر خاں مرسلہ حضرت مولانا مولوی وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ ۱۰ رجب ۱۳۱۵ھ

سوال اول

ولی ابعد، ولی اقرب کی غیبت میں اگر نکاح کردے تو ولی اقرب در صورت خلاف مرضی اس کے فسخ کرسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب: ہاں جبکہ غیبت منقطعہ نہ ہو،
فی الدرالمختار فلو زوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 درمختارمیں ہے اگر بعید ولی نے قریب ولی کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نکاح کیا توقریب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؂درمختار     باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۴)
سوال دوم

غیبت کی تفاسیر میں سے کہ مدت قصر یا دشواری استطلاع رائے یا ا س بلد میں قافلہ سال بھر میں ایک مرتبہ جاتا ہو، میں کون سی تفسیر معتمد علیہ ہے؟
الجواب: اول پر بھی فتوی دیا گیا اور ثالث اختیار امام قدوری ہے اور کتاب التجنیس والمزید میں یک ماہہ راہ کو اختیار اکثر مشائخ واعدل الاقاویل فرمایا کما فی مجمع الانھر ۱؎ (جیسا کہ مجمع الانہر میں ہے۔ ت)
 (۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب الاولیاء والاکفاء    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/۳۲۹)
اور امام سغدی نے مفقود الخبری اختیار فرمائی، امام محمد سے ایک روایت بیس ایک پچیس منزل کی آئی کما فی جامع الرموز ۲؎ (جیسا کہ جامع الرموز میں ہے۔ ت)
 (۲؎ جامع الرموز  باب الولی والکفو    مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۴۶۹)
تویہ سات قول ہیں جن میں اقوی واوثق ومذیل بآکد الفاظ فتیا صرف اول ودوم ہیں مگراصح التصحیحین وارجح الترجیحین وماخوذ ومعتمد علیہ یہی ہے کہ جب اس کی رائے لینے تک کفو حاضر انتظار نہ کرے اورا س پر اٹھا رکھنے میں یہ موقع ہاتھ سے جاتا ہے تو غیبت غیبت منقطعہ ہے یہاں تک کہ اگر ولی اقرب شہرہی میں روپوش ہو اور پتا نامعلوم یا رسائی نہیں اور انتظار باعث فوت کفو ہو توغیبت منقطعہ سمجھی جائے گی اور ولی بعید کو جو مراتب ولایت میں اس اقرب کے متصل ہے ولایت ہاتھ آئے گی اور اگر اقرب ہزار کوس دور ہے اور کفو حاضر نہیں یا انتظار پر راضی، تو یہ غیبت منقطعہ نہیں، ولی بعید نکاح کرے گا تو نافذ نہ ہوگا بلکہ اجازت اقرب پر موقوف رہے گا۔
فی تنویر الابصار للولی الابعد التزویج بغیبۃ الاقرب مسافۃ القصر ۳؎ اھ
تنویر الابصار میں ہے ولی اقرب سفر کی مسافت  پر غائب ہو تو ولی ابعد  کو نکاح کردینا جائز ہے اھ
 (۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۴)
فی رد المحتار نسبہ فی الھدایۃ لبعض المتاخرین والزیلعی لاکثر ھم قال وعلیہ الفتوی ۴؎ اھ
ردالمحتار میں ہے کہ ہدایہ میں اس کو بعض متاخرین کی طرف منسوب کیا ہے اور زیلعی میں اس کو اکثر کی طرف منسوب کیا اور کہا کہ اس پر فتوی ہے اھ
 (۴؎ ردالمحتار              باب الولی        داراحیار التراث العربی بیروت    ۲/۳۱۵)
قلت وکذا قال علیہ الفتوی فی الولوالجیۃ کما فی مجمع الانھر قال القھستانی فی جامع الرموز ھو الصحیح وبہ یفتی ۱؎ اھ
قلت (میں کہتا ہوں) یوں ہی  ولوالجیہ میں کہا اس پر فتوی ہے جیساکہ مجمع الانہر میں قہستانی نے جامع الرموز میں کہا: یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے اھ،
 (۱؎ جامع الرموز  باب الولی والکفاءۃ0 مکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۴۶۹)
فی الدرواختار فی الملتقی مالم ینتظر الکفؤ الخاطب جوابہ واعتمدہ الباقانی ونقل ابن الکمال ان علیہ الفتوی وثمرۃ الخلاف فی من اختفی فی المدینۃ ھل تکون غیبۃ منقطعۃ ۲؎ اھ
درمیں ہے: اور اس کو ملتقی میں پسندیدہ قرار دیا ہے منگنی کرنے والاکفو کے جواب کا انتظار نہ کرے ، اور باقانی نے اس کو معتمد قرار دیا،اور ابن کمال نے اس پر فتوی کو نقل کیا اور ثمرہ اختلاف اس شخص کے متعلق ظاہر ہوگا جو شہر میں چھپ گیا ہو، توکیا اس صورت میں غیبت منقطعہ ہوگی اھ
 (۲؎ درمختار باب الولی   مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۴)
قال الشامی قال فی الذخیرۃ الاصح انہ اذاکان فی موضع لوانتظر حضورہ واستطلاع رأیہ فات الکفؤ الذی حضر فالغیبۃ منقطعۃ والیہ اشارفی الکتاب اھ وفی البحر عن المجتبٰی والمبسوط انہ الاصح وفی النھایۃ واختارہ اکثر المشائخ وصححہ ابن الفضل وفی الھدایہ انہ اقرب الی الفقۃ وفی الفتح انہ الاشبہ بالفقہ وانہ لاتعارض بین اکثر المتاخرین واکثر المشائخ ای لان المراد من المشائخ المتقدمون وفی شرح الملتقی عن الحقائق انہ اصح الاقاویل وعلیہ الفتوی اھ وعلیہ مشی فی الاختیار والنقایۃ ویشیر کلام النھر الی اختیارہ وفی البحر والاحسن الافتاء بما علیہ اکثر المشائخ ۱؎ اھ کلام الشامی،
 شامی نے کہا کہ ذخیرہ میں کہا ہے کہ اصح یہ ہے کہ اگرایسی صورت ہو کہ حاضر کفو، اس کی انتظار اور اس کی رائے معلوم کرنے تک، ضائع اورفوت ہوجانے کا خطرہ ہو تو یہ غیبۃ منقطعہ ہوگی، اور کتاب میں اسی صورت کی طرف اشارہ ہے اھ، بحر میں مجتبٰی اور مبسوط سے منقول ہے کہ یہی اصح ہے، اور نہایہ میں ہے کہ اس کواکثر مشائخ نے اختیار کیاہے اور ابن فضل نے اس کی تصحیح کی ہے، اور ہدایہ میں ہے کہ یہ اقرب فقہ  ہے، اور فتح میں کہا کہ یہ فقہ کے اشبہ ہے اور یہ کہ اکثر متاخرین اور اکثر مشائخ میں کوئی تعارض نہیں ہے، یعنی اکثر مشائخ سے مراد متقدمین ہیں، اور شرح ملتقی میں حقائق سے منقول ہے کہ اقوال میں سے یہی اصح ہے اور اس پر فتوی ہے اھ، اور اختیار اور نقایہ میں اسی پر رجحان ہے، اور نہر کی کلام میں ا س کے مختار ہونے کا اشارہ ہے، اور بحر میں کہا کہ جس پر اکثر مشائخ ہوں اس پر فتوی بہتر ہے ، شامی کا کلام ختم ہوا،
(۱؎ ردالمحتار            باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/۳۱۵)
Flag Counter